مسلمانوں پر دہشت گردی کی چاند ماری کرنے والے ہی اصلاً دہشت گرد ہیں

آج کے دور منافقت میں اصول و قوانین کے بجائے طاقت و دھونس اور موقع پرستی کوجائز ناجائز اور حق و باطل کامعیار مان لیا گیا ہے اور یہی آج کے دور میں فتنہ و فساد کی اہم وجہ ہے ۔’آزادی اظہار رائے ‘،’اسلامی دہشت گردی ‘،’بربریت‘،‘خواتین کے حقوق کی پامالی ‘چند ایسے بکثرت استعمال ہونے والے الفاظ ہیں جن کے ذریعے دوہرے پیمانے اپنا کر اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کیا جارہا ہے اور اس کام میں مسلمانوں کا نام نہاد روشن خیال در حقیقت ایمان فروش طبقہ دشمنان انسانیت کا پورا ساتھ دے رہا ہے ۔ایک ہی طرح کے حادثات پر طرح طرح کے لیبل لگا کر پروپگنڈا کر کے مسلمانوں کو بدنام کیا جا تا ہے۔امریکہ میں گولہ باری میں ۲۶ ؍بچے مارے گئے کوئی لیبل نہیں لگا۔ایک ملالہ کو گولی ماری گئی اسلامی دہشت گردی ہو گئی۔مالیگاؤں مکہ مسجد ،اجمیردرگاہ وغیرہ وغیرہ میں بھی بم پھٹے بے گناہ شہید ہوئے خون بہا عورتیں بیوہ ہو گئیں ،بچے یتیم ہوئے اس کو انجام دینے والے ہندو دہشت گرد تھے ان سب کے تار حکومت ہند کے داخلہ سکریٹری کی رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس یا اس کی ذیلی تنظیموں سے جڑے ہوئے تھے ۔اس کے بعد بھی ہندو یا BJPکی دہشت گردی کہنے پر سارا ہندوستان کا فرقہ پرست اور لبرل طبقہ بلبلا اٹھا۔جو میڈیا ،دانشور،خود اڈوانی ،توگڑیا وغیرہ وغیرہ دن رات اسلامی آتنکواد کا فلسفہ بگھارتے تھے۔Channelsپر بیٹھنے والے دہلی پولیس کے سابق سربراہ ڈڈوال ،سابق سربراہ بی ایس ایف پرکاش سنگھ اور نہ جانے کون کون ماہرین دہشت گردی، ہتھے سے اکھڑ گئے کہ ہندو دہشت گردی کیوں کہا ،جبکہ جو کچھ بھی ہندو دہشت گردیوں نے کیا وہ دوہرا جرم ہے ایک تو بے گناہوں کو شہید کیا دوسرے سازشاًاپنی کرتوت بے گناہوں کو سر منڈھنے کی ذلیل اور مجرمانہ حرکت بھی کی ان کو ہندو دہشت گرد نہ کہو۔جبکہ ان کے گرو سنگھ پریوار کے سائنسداں کا یہ مقولہ میڈیا اور عوام میں قبول عام حاصل کر چکا ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے مگر ہر دہشت گرد ضرور مسلمان ہوتا ہے ۔ اس لئے مسلم یا اسلامی دہشت گردی کہا جاتا ہے۔مگر ہندو دہشت گردی کہنے پر آسمان سر پر اٹھا لیا گیااور وزیر کو کوئی بھی حمایتی نہیں ملا۔
مگر جیسے ہی دل آزار فلم میں مسلمانوں اور اسلام کی شناخت کو داغدار کرنے کی حرکت پر مسلمانوں کا رد عمل سامنے آیا تو اظہار رائے کی آزادی خطرہ میں پڑ گئی ۔وزیر داخلہ سے لے کر تمام ہندی انگریزی اخبارات اور بعض ایمان فروش اردو اخبارات کے علم بردار مل کر مسلمانوں پر دشمن کی طرح ٹوٹ پڑے۔ کل تک جوہندو دہشت گردی کہنے پر (جو کہ ثبوتوں کے ذریعہ ثابت ہے )بھڑک گئے تھے اور آزادی اظہار رائے کے حق پر حملہ کر رہے تھے آج ایک دم سے حق اظہار رائے کے چیمپین ہیں اور مسلمانوں کو صبر و حکمت کا پاٹھ پڑھارہے ہیں۔یہی روگ منافقت دنیا بھر میں بد امنی کو جنم دے رہاہے۔جہاں طاقت ور کے مفادات یا مقامات یا شعائر کو ٹھیس پہونچے تو فوراًقومی سلامتی ،نقض امن اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جاتا ہے ،مگر یہی ظالم طاقتیں دن رات کمزوروں کے شعائر ،ان کے اعتقادات ،مقامات مقدسہ اور مذہبی شخصیات کی دانستہ اور منظم سازشیں کرتی رہتی ہیں ،جب سے ہالی ووڈ نے جنم لیا ہے تب سے اسلام اورمسلمانوں کی نہایت غلط ،مسخ شدہ صورت فلموں میں لگاتار پیش کی گئی ہے۔ہر دوسری تیسری فلم میں خراب کردار کے عرب،کالے یا افغان مکمل شناخت کے ساتھ دکھائے جا رہے ہیں ۔انہیں مذہبی اعمال خصوصاًنماز ادا کرتے ہوئے بار بار دکھایا جائیگا۔جیسا کہ کمل ہاسن نے دکھایاہے اس سے پہلے Gang of Wassaypurوغیرہ سینکڑوں فلموں میں دکھایا گیا ہے کہ مجرم، بھائی یا دادا ،عربی رومال پہنتا ہے ،نماز پڑھتا ہے مگر یہ سب شناختی علامات دیگرغیر مسلم مجرموں کے ساتھ عموماًنہیں چپکائی جاتیں۔Holly Woodکو مسلمانوں نے دنیا بھر میں چیلنج نہیں کیا امریکہ میں چیلینج نہیں کر سکتے تھے باقی مسلمان ذہنی یا جسمانی غلامی میں مبتلا تھے ہی نتیجہ یہ ہے کہ آج پورے عالم میں عموماً اور یورپ و امریکہ میں خصوصاًمسلمانوں کی ایکStereo Typeشناخت خونخوار و جاہل ، مجرم ذہن کی بنا دی گئی ہے ۔اگر ہالی ووڈ کو اسی طرح چیلنج کیا جاتا اور بالی ووڈ کو بھی جیسا آج کیا جا رہا ہے تویہ نوبت نہیں آتی۔ مسلمانوں نے دہائیوں تک نہ ہالی ووڈ کی شیطانی صہیونی سازش کو چیلنج کیا نہ بالی ووڈمیں۔ وشوروپم میں مسلمان کردار تلاوت اور نماز ادا کرتے کرتے جا کر بم پھوڑتے دکھا یا گیا ہے کیا مسلمان Criminalsیا غنڈہ عناصر سب ایسے ہی عربی رومال،داڑھی ٹوپی،تسبیح کا استعمال کرتے ہیں جیسا کہ بالی ووڈ دکھاتا ہے تو پھر کرمنل اور مجرمانہ کرداروں کو مسلمان نام کے ساتھ اسلامی شناخت کو کیوں قصداًہائی لائٹ کیا جاتا ہے ۔آج بھی تمام میڈیااسلامی دہشت گردی لفظ استعمال کرتا ہے ۔ TOIکا 31/01/13کا ایڈیٹورئیل دیکھیں Islamist Terroristلفظ اداریہ میں استعمال کیا ہے۔مگر اسی منافق ایڈیٹر کو ہندو دہشت گردی پر اعتراض تھا۔دنیا میں کہیں بھی اسلام اور مسلمانوں کے علاوہ مذہب سے جوڑ کر دہشت گردی کی اصطلاح نہیں استعمال کی گئی ،سری لنکا میں تمل ہندؤوں کی دہشت گردی یا آزادی کی لڑائی ۳۰ سال سے بھی زیادہ چلی ۔دور جدید میں خود کش بمباری کے وہ موجد بھی ہیں مگر ان کے نام کے ساتھ کبھی بھی ہندو دہشت گرد نہیں لگا۔اسپین کے آزادی پسندوں نے لاکھوں اسپینی باشندوں کو نشانہ بنایا ،آئرلینڈ میں عیسائی فرقہ نے دوسرے عیسائی فرقہ کے ہزاروں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ،سوڈان میں جنوبی سوڈان کے عیسائی علیحدگی پسندوں نے لاکھوں مسلمان عوام اور فوجیوں کو شہید کیا ، امریکی افواج نے ویت نام میں لاکھوں بودھوں کو قتل کیا ،ہندوستان میں ۶۵ سالوں میں ہزاروں لاکھوں مسلمان ہندو فرقہ پرست پولیس کے ذریعہ شہید کئے گئے مگر ان سب کو کبھی ہندو ،عیسائی ، بودھی دہشت گرد نہیں کہا گیا ۔زیادہ سے زیادہ علیحدگی پسند یا جنگجو کہا گیا۔مگر یہ اسلامی دہشت گردی کا ’اعزاز‘ صرف امت محمدیہ کو دیا گیا،کیوں؟
اگر تاریخ کے اوراق میں بے گناہوں کے قتل و خون اور انسانوں کو غلام بنا کر نسل و فصل کی بربادی کا حساب کتاب بنایا جائے تو پتہ لگ جائے گا کہ کس مذہب کے ماننے والوں کے کھاتا میں کروڑوں کے حساب سے بے گناہ انسانوں کے قتل وخون کا ریکارڈ مندرج ہوگا ۔یورپ کی آپس کی لڑائیاں ، امپریلزم کے نام پر کمزور قوموں کو غلام بنا نے کا دھندہ اور کروڑوں انسانوں کا قتل عام ، بے روزگاری، ظلم و استحصال پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں انسانی جانوں کا قتل اور ہیرو شیما، ناگاساکی ،عراق پر ناجائز قبضہ اور ویتنام پر حملہ کس مذہب کے کھاتہ میں جانا چاہیے ؟ ہالی ووڈ کی ایک بھی فلم ان موضوعات کے اصلی مجرموں کو صلیب ،گرجا گھر ،مریم ؑ کے مجسموں کے بیک گراونڈ کے ساتھ کیوں نہیں دکھائی جاتی ؟بالی ووڈ کی کتنی فلموں نے فرقہ وارانہ فسادات کے اصل مجرموں کو ان کی مذہبی شناخت کے ساتھ فلمایا ہے ؟ایک دو فلموں ایسی بنی بھی تو انہیں دکھانے نہیں دیا گیا ۔آج سلمان رشدی کی چہیتی …پورے میڈیا کی ڈارلنگ بنی ہوئی ہیں کل جب انہوں نے ہندی فلم’ واٹر‘ فلمانے کے لیے وارانسی میں کوشش کی جس کی ہندؤوں نے مخالفت کردی تو اس میڈیا نے اوربھارت سرکار یا یوپی سرکارنے اس کی مدد کیوں نہیں کی؟مگر آج وہ رشدی کے ساتھ ہے تو میڈیا بھی اس کے ساتھ ہے ۔
حق آزادی اظہار رائے کا تازہ ترین نمونہ برطانونی اخبارات سنڈے ٹائمز نے ایک کارٹون میں اسرائیلی وزیر اعظم کو فلسطینیوں کے خون اور لاشوں کے ساتھ دیوار بناتے دکھایا تو قیامت ٹوٹ پڑی۔برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹ رکن پارلیمان ڈیوڈ وارڈ نے اپنے بلاگ میں یہودیوں کو فلسطینیوں پر ظلم کو نازی جرمنی کے یہودیوں پر ڈھائے گئے مظالم ہولوکاسٹ کے مشابہ قرار دیا ،اس پر رکن پارلیمان کو ایک ہفتہ کے اندر معافی مانگنی پڑی ۔اگر بم دھماکہ ، قتل و خون جرم ہے تو سب کے لیے ہے صرف مسلمان کرے تو جرم ہے یہودی ،ہندو ،تمل ،عیسائی اپنی آزادی کے لیے لڑے تو مجاہد آزادی اور مسلمان لڑے تو آتنک وادی ۔مسلمانوں کی دل آزاری ،توہین رسالت ﷺ ،قرآن ،خانہ کعبہ کی توہین جیسے ابو غریب اور گوانتا ناموبے او ر وشوروپم وغیرہ میں کی گئی وہ حق اظہار آزادی ہے مگر شیواجی فلم پر پابندی ،واٹر کی شوٹنگ نہ ہونے دینا ،ہولوکاسٹ پر سوال کھڑے کرتے ہی شور مچانا منافقت ہے یا حق اظہار رائے ۔جب ہر نظام اپنی حفاظت کے انتہائی اقدامات اٹھا کر خطرہ بننے والوں قصابوں سے نبٹ رہا ہے تو اسلام کو یہی حق دفاع کیوں نہیں ملنا چاہیے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *