کھل کر کیوں نہیں کہتے کہ بھگوا دہشت گردی ہے

سوشل سائٹ ،فیس بک کے سرچ انجن پر ذرا ہندی یونیکوڈ میں لکھ دیں ،ہندو دہشت گردی ،تو کم سے کم دس ایسے ارکان کے پروفائل سامنے آجائیں گے جنہوں نے فخر سے لکھا ہے کہ وہ ہندو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں ۔جیتو مشرا ،مونیکا ،کٹر ہندو دہشت گرد…۔چلو یہ تو مجازی دنیا ہے اس میں فرضی پروفائل بننا عام بات ہے ،لیکن حکومت کی سب سے بھروسے مند ہائی ٹیک دہشت گردی مخالف تنظیم ’این آئی اے‘یعنی قومی سلامتی ایجنسی کا ریکارڈ توحکومت کے لیے قابل اعتماد ہونا چاہیے ۔مکہ مسجد ، اجمیر ،مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دھماکے اور کئی قتل کے درج معاملے اور گرفتار افراد کی فہرست صاف گواہ ہے کہ ملک میں مہاراشٹر،گجرات،مدھیہ پردیش،راجستھان،اتر پردیش،جموں ، دہلی،کیرالہ ،کرناٹک،تمل ناڈواور مغربی بنگال سمیت کم سے کم دس ریاستوں میں بابری مسجد انہدام کے پہلے سے ایک منصوبہ بند تنظیم کام کر رہی ہے جن کے تار آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور سب سے بڑی بات ان تمام کے تار بالواسطہ یا سیدھے طور پر آر ایس ایس سے متعلق ہیں ۔اسیمانند ،پرگیہ ٹھاکر،کیپٹن پروہت کی تنظیم کی طرف سے کیے گئے دھماکے کسی سے چھپے نہیں ہیں اور وہ ماڈیول کی اعلی قیادت جیل میں ہیں ،تین سال پہلے اسیمانند کے ذریعہ خود جرم قبول کرنے اور پھر مکرنے کے واقعات میں یہ سامنے آگیا تھا کہ کس طرح بنگال سے آکر گجرات کے ڈانگ ضلع میں اسیمانند نے کئی سازشوں کو عملی جامہ پہنایا تھا۔اسیمانند بنگال کے پرولیا میں پرنب کمار کے نام سے سنگھ کے سوئم سیوک تھے ،پرگیہ بی جے پی کی طالب علم تنظیم ودیارتھی پریشد کی عہدیدار ہیں اور اس ماڈیول کا سب سے اہم رکن(جس کوبعد میں دسمبر ۲۰۰۷ء میں انہی کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا )سنیل جوشی بھی قومی سوئم سیوک سنگھ کا تشہیر کار تھا ،یہی نہیں جب اسیمانند کی گرفتاری ہوئی تھی تب سنگھ نے ملک بھر میں گھر گھر جاکر اس بات کی تشہیر کی خصوصاًمہم چلائی تھی کہ کانگریس کس طرح مبینہ طور پر ہندوؤں کو بدنام کر رہی ہے۔اڈوانی جی کی قیادت میں بی جے پی کے تمام بڑے رہنما سادھوی پرگیہ کی رہائی کے لیے صدر سے ملنے گئے تھے ،ذرا سوچیں کہ اگر ملک کے کچھ مسلم ممبر پارلیمنٹ مالیگاؤں ،مکہ مسجد یا دیگر معاملات میں بے قصور جیل بھیجے گئے مسلمانوں کی رہائی کے لیے مہم چلاتے تو بی جے پی یا سنگھ پریوار کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟
جب بی جے پی لیڈر چلا چلا کر کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب یا رنگ نہیں ہوتا تو وہ کسی تنظیم خاص کے لوگوں ہی کی پیروی کرنے میں آگے کیوں آئے؟تمام بم دھماکوں کے معاملے میں فرار انجنئیرنگ کی ڈگری کے حامل سندیپ ڈانگے باقاعدہ سنگھ کے تشہیر کار تھے۔سن ۲۰۱۰ء میں فرقہ وارانہ طور پر انتہائی حساس اور کئی بار فسادات کی زد میں آچکے مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں دیوراوں پر کئی ہزار رنگ برنگے پوسٹر لگائے گئے جن میں’ ہندو جنگجو بھرتی مہم‘کے ذریعہ دو ہزار بہادروں کی بھرتی کے لیے نوجوانوں کو دعوت دی گئی ۔اس پوسٹر میں جن لوگوںکے نام داعی کے طور پر دیئے گئے وہ تمام سنگھ اور بی جے پی کے عہدیدار اور رکن رہے بعد میں ان لوگوں کے ہتھیار کیمپ بھی لگے ۔یہ بات لوکل انٹیلجنس کے روزنامچوں میں ستمبر سے دسمبر ۲۰۱۰ء کے درمیان درج ہے۔جب کہ اس تنظیم سے جڑے لوگ تو ستمبر ۲۰۰۸کے مالیگاؤں بم دھماکے میں جیل میں ہیں ،اس تنظیم کا نام پنویل ،واشی اور رتناگری دھماکوں میں بھی ہے ۔ادھر گوا کی سناتن سنستھا کئی کم طاقت والے دھماکے کر چکی ہے ،لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ان اداروں سے وابستہ لوگ کبھی نا کبھی سنگھ کے رکن رہے ہیں ۔بھگوا دہشت گردی کے سب سے بڑے کھلاڑی اور بعد میںہلاک ہوگئے سنیل جوشی کے قتل کے معاملے میں اندور کے پاس منڈولا ودا سے سنگھ کے شپر اسیکشن کے کارگزار بلویر سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے ،جب کہ ڈکاچیا میں پرہلاد پٹیل کے گھر چھاپہ مارا گیا جن کے بیٹے جیتندر پر اس نیٹ ورک میں شامل ہونے کا شک ہے ،سندر ہے کہ جیتندر کا ۲۰۱۱ء میں کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا،پرہلاد پٹیل بی جے پی کے علاقائی جنرل سکریٹری رہ چکے ہیں۔یہاں جاننا ضروری ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت مل چکے ہیں کہ دیواس ضلع کے باگلی کے قریب جنگلوں میں گراسیا پہاڑی پر دھماکہ خیز مواد کے ٹیسٹ کئے گئے تھے۔دشرتھا گاری عرف دشرتھ چودھری عرف سمندر سنگھ ،جس پر پانچ لاکھ کا انعام تھا ،سنگھ کا عہد یدار رہا ہے ساگر کے خلاف وارنٹ تک جاری تھا لیکن وہ دوسال تک ناگدا میں مزے سے رہ رہا تھا۔ساگر نے ۲۰۰۱ء میں اجین کے پاس ایک عیسائی راہبہ کو گولی ماردی تھی اور اس کا نام ۹؍جولائی ۲۰۰۴ء کو پیر میٹھا مسجد جموں میں ہتھگولا پھینکنے میں بھی تھا ابھی کوئی دو سال پہلے جھانسی سے پکڑاگیا سدھاکر راؤ مراٹھا عرف پربھانے پانچ ایسے لوگوں کے قتل کئے تھے جنہوں نے ہندو لڑکیوں سے شادی کی تھی ۔پولیس کو یہ ثبوت ملے تھے کہ فراری کے دوران مراٹھے عیش و آرام کی زندگی جیتا تھا اور اس کے پاس کوئی تین بھومک بی جے پی سے وابستہ لوگوں کے ذریعہ سے اس کے لیے پیسے اور ہتھیار وں کی مدد کرتا تھا۔چونکہ قتل کے معاملے مدھیہ پردیش کے تھے اور وہاں کی پولیس نے پر اسرار طریقے سے پوری جانچ محض مراٹھے پر چارج شیٹ کے بعدکر دی ،سو کئی ان کہی کہانیاں صرف ہوا میں تیرتی ہوئی رہ گئیں ۔بھگوا دہشت کا ایسا ہی ذرائع کرناٹک میں سرگرم پرساد اٹٹوار،ہبلی بم دھماکے کا ملزم ناگراج جامباگی ، کندھمال فسادات کا فعال مجرم منوج پردھان اورگراہم سٹینس قتل میں سزا پایا دارا سنگھ کو پر اسرار طریقے سے جوڑے رکھتا ہے ،اس سے پہلے کانپور اور ناندیڑ میں گھروں میں ہوئے دھماکوں میں بجرنگ دل سے وابستہ لوگوں کے بم خود ہی پھٹنے کی باتیں ظاہر ہو چکی ہیں ۔ایسے واقعات کا سلسلہ بہت بڑا ہے جس میں اکثریتی طبقے کے کچھ افراد کی طرف سے دہشت گردی کا سہار الینے کے درد ناک پہلو سامنے آرہے ہیں، حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ حکومت کی ایجنسیاں ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں اور میڈیا کا کردار انتہائی دبا چھپا رہتا ہے ،ایسے کیس سامنے ہیں کہ جس میں مبینہ بھگوا دہشت گردی کے لنک میں فوج کے افسر یا سابق افسر کچھ خفیہ ایجنسیوں سے متعلق لوگوں کا کردار سامنے آتا ہے ۔یہی نہیں سنگھ کے خلاف اتنے ثبوت ہونے پر بھی کانگریس کی حکومت نہ تو اس تنظیم پر پابندی کی بات کرتی ہے اور نہ ہی ان اندرونی ذرائع کو اجاگر کرنے میں دلچسپی لیتی ہے جوسنگھ اور بی جے پی کے کچھ قد آور لوگوں کی طرف سے مذہب کے نام پر بم دھماکوں کو پناہ دیتے ہیں۔اس پورے نیٹ ورک کو چلانے کے لیے کچھ غیر ملکی ادارے بھی مالی مدد دے رہے ہیں ۔سمجھوتہ ایکسپریس کیس کی تفتیش کے دوران فنڈنگ کی تفتیش میں سنگھ کے ایک بڑے عہد یدار کا نام سامنے آیا تھا لیکن پر اسرار طریقے سے وہ دبا دیا گیا ،حکومت کے وزیر داخلہ اور اس کے بعد داخلہ سکریٹری جب عوامی بیان دے دیتے ہیں کہ سنگھ سے وابستہ کچھ لوگ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہیں ،لیکن اس کے آگے نہ تو تفتیش کی بات ہوتی ہے ،نا ہی پابندی کی ایسے میں حکومت کی نیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے ۔کیا کانگریس کو یہ ڈر ہے کہ آر ایس ایس پر جب جب پابندی لگی ہے وہ طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے ؟کیا حکمراں جماعت کو یہ ڈر ہے کہ کہیں پابندی سے پیدا ہوئی ہمدردی میں کمل نہ کھل جائے؟(ہندی سے ترجمہ) [یا پھر کہیں خود کانگریس بھی اس میں چھپے طور پر ملوث تو نہیں ہے کہ کارروائی کی صورت میں اس کا بھانڈا پھوٹنے کا اندیشہ ہو؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *