کیا اعلیٰ ذات کے لوگ بدعنوان نہیں ہیں ؟

ملک میں سب سے آسان ہدف مسلمان ،دلت اور کمزور طبقات ہیں۔ ہندوستان میں یہ قدیم روایت رہی ہے کہ ہر بڑے کا گناہ چھوٹے کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ ملک میںیہ سلسلہ زمانہ طالب علمی سے شروع ہوتا ہے جب بڑے گھر کا کوئی طالب علم جرم کرتا ہے تو اپنے آپ کو پاک صاف رکھنے کے لیے اس درسگاہ میں زیر تعلیم دلت یا کمزور (مالی اعتبار سے ) طالب علم کو اس جرم کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی روش ہندوستان میں آگے بھی زور شور سے فروغ پاتی ہے۔ اس کا نظارہ آپ ہر جگہ دیکھیں گے خواہ کوئی دفتر یا کام کرنے کی کوئی اور جگہ ہو ،زندگی کے ہر شعبے میں ہر جگہ اس کا جلوہ نظر آئے گا کیوں کہ ہندوستان میں پیسے کو ایک دیوی کی حیثیت حاصل ہے اس لیے کوئی بھی اس سے روگردانی کی جرات نہیں کر سکتا۔ پیسے میں وہ طاقت ہے کہ ہر چیز کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انصاف خریدا جاتا ہے۔ تختہ دار پر ہمیشہ کمزور ،دلت اور مسلمان ہی کیوں چڑھتے ہیں۔ کیا سزا میں مسلمان، دلت اور کمزور طبقوں کا سو فیصدی ریزرویشن ہے ؟پھانسی کی سزا پانے والے اور دیگر جرائم میں سزا پانے والوں کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرورہے ۔آزادی کے بعد ہندوستان میں کمزور طبقوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت ساری اسکیمس نافذ کی گئیں لیکن اس کا فائدہ ان تک کیوں نہیں پہنچا؟ منڈل کمیشن کے بعد دلتوں کے پچھڑے پن میں کسی حد تک کمی آئی ہے اور ریزرویشن کا فائدہ انہیں مل رہا ہے اور اس طبقہ سے وابستہ لوگ جہاں سول سروس میں اپنا قدم جما رہے ہیں وہیں سیاست و قیادت کے میدان میں بھی اپنا پرچم لہرارہے ہیں ۔اس کے اتحاد نے آج انہیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اقتدار کی کنجی اس طبقے کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہے ۔آج ہندوستان کی کوئی بھی سیاسی پارٹی ان کے خلاف لب کشائی کی ہمت تو دور کی بات زبان کھولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔اس کے اتحاد اور اس کی طاقت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال لکھنؤ میں مایاوتی اور امبیڈکر کی مورتی کو نقصان پہنچایا گیا تو راتوں رات اکھلیش حکومت نے دوسری مورت نصب کروائی تھی۔یہ اس لئے ممکن ہو سکا کیوں کہ ان میں اٹوٹ اتحاد ہے ، مذہبی اور روایتی دراڑ کے باوجود وہ اپنے مسائل پر ایک ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس طبقہ کا ہر لیڈر ایک ہی زبان بولتا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو۔ مسلمان کی طرح نہیں کہ مذہب اور روایت میں اٹوٹ اتحاد کے باوجود نہ صرف منتشر نظر آتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار بھی ہوتے ہیں۔یہ ایک ڈھیڑ سال کا وقت ہندوستانی سیاست کے لیے بہت اہم ہیں ۔اسمبلیوں اور لوک سبھا کے عام انتخابات ہونے والے ہیں جس کی تیاری سبھی پارٹیوں نے شروع کر دی ہے اور ہر طبقہ پر یہ آزمودہ حربے آزمانے کا عمل شروع ہو گیا ہے ۔ایک دوسرے کے خلاف نفرت آمیز سیاست ،اشتعال انگیز تقاریر اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات ،معاشرتی اقدار اور اقتصادی حالات پر حملے کا دور شروع ہو چکا ہے ۔جے پور کے ادبی میلے میں مشہور ادیب آشیش نندی کا دلتوں کے سب سے بد عنوان ہونے کا الزام بھی اسی سلسلہ جنبانی کا حصہ ہے۔
جے پور کے ادبی میلے میں مشہور مصنف آشیش نندی نے ایک متنازعہ بیان دے کر اپنی ذہنیت کو اجاگر کر دیا ۔ان کے بیان سے ایک موٹی بات نکل کر آئی ہے کہ پسماندہ ،دلت اور قبائلی بدعنوان ہیں اور اونچی ذات کے لوگ ایماندار ۔انہوں نے کہا تھا کہ :’’زیادہ اوبی سی ،ایس سی اور ایس ٹی طبقہ سے آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا رہے گا ہندوستان کے لوگ بھگتتے رہیں گے ‘‘حالانکہ اس بیان پر شدید رد عمل کے بعد اپنی صفائی میں انہوں نے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ معاشرے کا اعلیٰ طبقہ اپنے کرپشن کو چھپاناجانتا ہے اس لیے پکڑا نہیں جاتا ،حالانکہ آشیش نندی نے یہ بات پہلی بار نہیںکہی ہے ، بلکہ انہوں نے پندرہ روزہ میگزین دی پبلک ایجینڈاکے ۲۰۱۱ء اگست کے شمارے میں بات چیت کے دوران بھی اپنے اس موقف کو منطقی انداز میں رکھا تھا:’’میں نے دلتوں میں امبیڈکر کو بھی دیکھا اور اب مایاوتی بھی ہیں ۔اسی طرح اوبی سی لیڈروں میں بھی ایماندار اور کرپٹ لوگ ہیں لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ جیسی جمہوریت ہمارے ملک میں ہے ،ویسی کہیں اور نہیں ہے اور جمہوریت میں سب کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے ۔میرا ماننا ہے کہ جمہویرت کی اسی شرکت کا بائی پروڈکٹ ہے بد عنوانی‘‘ ۔اس پر غور کیا جائے تو یہ صرف آشیش نندی کی واحد سوچ نہیں ہے ،جب بھی دلت پسماندہ طبقات کے مفاد یعنی انہیں معاشرہ اور ملک کے مین اسٹریم سے منسلک کرنے کے لیے سرکاری سطح پرکوشش ہوتی ہے تو اس کی اونچی ذات کا حامل سماج مخالفت کرنے لگتا ہے۔اسے اپنے حقوق خطرے میں نظر آنے لگتے ہیں ۔اسے لگتا ہے کہ اس کا حق مارا جا رہا ہے ۔انہیں یہ احسا س نہیں ہوتا کہ صدیوں سے اپنے حقوق سے محروم طبقوں کو ملک میں آئینی طور پر مساوی حق حاصل ہے ۔اس طبقہ کو بھی وہی اختیارات حاصل ہیں جس سے وہ صدیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کچھ دلتوں کا اپنی اصل حالت سے تھوڑا اوپر اٹھ جانا ،انتظامی کرسیوں پر بیٹھ جانا یا پارلیمنٹ میں پہنچ جانا شاید وہ ہضم نہیں کر پارہے ہیں ۔آشیش نندی براہ راست طور پر اس ذہنیت کی ہی نمائندگی کر رہے ہیں جس کا مقصد ان طبقوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھنا ہے ۔آج سے تقریباً تین ہزار سال پہلے کی ذہنیت کے ساتھ آج بھی نندی جی کھڑے ہیں۔ان کا بیان ایک غیر واجب اور دلت پسماندہ مخالف ذہنیت کی ہی نمائندگی کر رہا ہے ۔پارلیمنٹ میں تقریباً چا رسو ایم پی کروڑ پتی ہیں ،جن میں سے کچھ ارب پتی بھی ہیں ۔اس کے بر عکس ملک کے چالیس کروڑ سے زائد آبادی کو (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ورنہ حقیقت میں یہ تعداد۶۶کروڑ ہے جیسا کہ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے)پیٹ بھر اناج نہیں ملتا ۔ان میں کتنے اعلیٰ طبقے کے افراد ہیں۔گزشتہ 45-40برسوں سے متوسط طبقوں میں نوے فیصد سے زیادہ اونچی ذاتیں شامل تھیں۔
انٹرنیشنل ٹرانسپرینسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۷۵ فیصدعوام کسی نہ کسی صورت میں رشوت دیتے ہیں ایک اندازے کے مطابق ہر سال ہندوستانی عوام کو اپنے کام کروانے کے عوض پانچ ملین ڈالر سے زائد رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔بد عنوان ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام ۷۸واں تھا جب کہ ۲۰۱۰ء میں اس میں اضافہ ہو کر ۸۷ویں مقام پر پہنچ گیا ۔ہندوستان کو بد عنوانی میں نمایاں مقام دلانے میں دولت مشترکہ کھیل کا بھی بڑا اہم کردار رہا ہے ۔کہا جا تا ہے کہ اس کھیل کی تیاریوں کے دوران ایک لاکھ کروڑ روپیے خرچ کئے گئے جس میں ۷۵ ہزار کروڑ روپیے سیاست داں ، افسر شاہی اور دیگر نے مل جل کر ہضم کر لیا صرف ۲۵ ہزار کروڑ روپیے کا کام ہوا تھا۔آزاد ہندوستان کی عمر جوں جوں بڑھتی جا رہی ہے بد عنوانی اور رشوت خوری میں بھی ترقی ہو رہی ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق جہاں ۲۰۰۵ء میں ۵۰ فیصد لوگوں نے اپنے کام کروانے کے بدلے رشوت دی تھی وہیں ۲۰۱۰ء میں رشوت دینے والے ہندوستانیوں کی تعداد بڑھ کر ۷۵فیصد تک پہنچ گئی۔اسی طرح ۲۰۰۵ء میں پبلک سیکٹر کے آفس میں ملازمت حاصل کرنے والے ۵۰فیصد امید وار کو رشوت دینی پڑی تھی ۔ہندوستان میں مال برداری اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچانے میں ٹرک مالکان کو ایک ٹرک پر مختلف جگہوں پر سالانہ بطور رشوت پانچ بلین ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مذہبی ادارے بھی اس وبا سے پاک نہیں ہیں ۔مذہبی اداروںمیں سالانہ ۲۱۰۶۸؍کروڑ روپیے رشوت لیے جاتے ہیں اور یہ رشوت خوری میں ۱۳ویں مقام پر ہیں پولیس سے صرف ایک مقام پیچھے ۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے مطابق سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال بھی بد عنوانی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ یہ ایسا مرض ہے جو ناقص نظم و نسق کے ماحول میں زیادہ پھلتا پھولتا ہے ۔کرپشن کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران پا قابو پانے میں درپیش مشکلات میں سے ایک بد عنوانی بھی ہے ۔
ہندوستانی سماج کا بد عنوانی سے چولی دامن کا رشتہ ہے ۔اس سے مفر کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ،ہندوستانی معاشرہ میں کرپشن کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا ۔۱۹۴۸سے ۲۰۰۸ء تک صرف سیاست داں ہی ۲۰ لاکھ کروڑ روپیے رشوت کی صورت میں ڈکار چکے ہیں ۔اس کے بعد نوکر شاہ جو اپنے آپ کو کسی شہنشاہ سے کم تر نہیں گردانتے دوسرے نمبر پر ہیں ۔ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس حمام میں ننگی ہیں ۔لیکن ٹو جی اسپیکٹرم اور دولت مشترکہ کھیل نے بد عنوانی کے خلاف جنگ لڑنے والوں میں اچانک جوش بھر دیا ۔ہندوستان کو دونوں ہاتھوں سے کون لوٹ رہا ہے ،سیاست داں ،نوکر شاہ یا کارپوریٹ سیکٹر ۔اس کے باوجود اس نے کبھی سرمایہ داروں کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی ،کسی کے خلاف کبھی بد عنوانی پر روشنی ڈالی بھی گئی تو کسی پارٹی کے اشارے پر یا اس کے کسی حریف کے عندیہ پر۔ ہندوستان کے سیاسی نظام کے بعد سب سے زیادہ کرپٹ بد عنوان اور رشوت خور نظام ہندوستان کی بیوروکریسی ہے جسے ہم نوکر شاہ بھی کہتے ہیں ،در حقیقت یہی ملک کا نظام چلاتا ہے ،بد عنوانی میں دوسرے مقام پر فائز ہے ۔زمین و جائداد کا محکمہ رشوت خوری میں تیسرے مقام پر متمکن ہے ۔ٹنڈر اور کنٹریکٹ دینے والے محکمے کو چوتھا مقام حاصل ہے ۔جب کہ میڈیسن کا محکمہ جس پر انسانوں کی موت و حیات کا دارومدار ہے فہرست میں وہ پانچویں مقام پر ہے ۔اس سے بڑھ کر کسی ملک اور کسی شخص کی بد نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی ان کے نام پر رشوت طلب کی جائے ۔ موت کا سرٹی فیکٹ دینے والا محکمہ رشوت لینے میں چھٹے مقام پر ہے ،اس کے بعد ٹرانسپورٹ ،انکم ٹیکس ،عدلیہ ،ملک کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرنے والے آرمڈ فورس ،پولیس اور مذہبی ادارے رشوت لینے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔جولائی ۲۰۰۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ۵۴۳ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک چوتھائی ممبران پارلیمنٹ پر کریمنل چارجیز تھے جن میں سے انسانوں کی تجارت ،امیگریشن ،ریکٹ چلانا،غبن،آبرو ریزی اور دئگر جرائم کے ارتکاب کے مقدمات تھے۔
سوئس بینک کے ڈائریکٹر نے ہندوستانیوں کی غربت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی غریب ہیں لیکن ہندوستان کبھی غریب نہیں رہا۔ ان کے مطابق ہندوستان کی تقریباً ۲۸۰؍لاکھ کروڑ روپیے ان کے سوئس بینک میں جمع ہیں ۔یہ رقم اتنی زیادہ ہے کہ ہندوستان کا آنے والا ۳۰ سالوں کا بجٹ بغیر ٹیکس کے بنایا جا سکتا ہے ۔یا یوں کہیں کہ ۶۰ کروڑ روزگار کے مواقع دیے جا سکتے ہیں ۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کے کسی بھی گاؤں سے دہلی تک ۴لین روڈ بنایا جا سکتا ہے ۔ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ ۵۰۰سے زیادہ سماجی پروجیکٹ مکمل کئے جا سکتے ہیں ۔یہ رقم اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر ہندوستانی کو ۲۰۰۰؍ روپیے ہر مہینے دیے جائیں تو ۶۰ سال تک ختم نہ ہو ۔یعنی ہندوستان کو کسی عالمی بینک سے لون لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ذرا سوچیے ہمارے بد عنوان سیاست دانوں اور نوکر شاہوں نے کس طرح ملک کو لوٹا ہے اور یہ لوٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔یہ اعداد وشمار ۲۰۱۱ء کا ہے ۔انگریزوں نے ہمارے ہندوستان پرتقریباً۲۰۰؍ برسوں تک حکومت کر کے تقریباً ۱؍لاکھ کروڑ روپیے لوٹا۔ہندوستان کے اہم اقتصادی گھپلوں میںبوفورس گھپلہ ۶۴؍کروڑ روپیے،یوریا گھپلہ۱۳۳؍کروڑ روپیے،چارہ گھپلہ ۹۵۰؍کروڑ روپیے ،اسٹاک مارکیٹ گھپلہ۴۰۰۰؍کروڑ روپیے،ستیم گھپلہ۷۰۰۰؍کروڑ روپیے ،اسٹیم پیپر گھوٹالہ ۴۳ہزار کروڑ روپیے،کامن ویلتھ گیمز گھپلہ ۷۰؍ہزار کروڑ روپیے ،2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ۱؍لاکھ ۶۷؍ہزار کروڑ روپیے،اناج گھپلہ۲؍لاکھ کروڑ روپیے(اندازاً)نندی بتائیں گے کہ اس میں کتنے او بی سی اور ایس سی یا ایس ٹی کے افراد شامل تھے۔
ہندوستانی سیاست داں اب تک ۲۰ لاکھ کروڑ روپیے ہضم کر چکے ہیں آشیش نندی یہ بتائیں گے کہ ان میں سے کتنے دلت اور پسماندہ طبقات طبقے سے ہیں ۔ان میں سے دلت اور پسماندہ طبقات دو فیصد بھی نہیں ہوں گے۔بد عنوانی میں دوسرے مقام پر نوکر شاہ ہیں ان میں دلتوں کی تعداد کتنی ہے ؟ فیصلہ سازوں میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی کتنی نمائندگی ہے ؟سرکاری اسکیمیں جو آزادی کے بعد سے حکومت نے غریبوں اور پسماندہ طبقوں کو بھیجی تھی ان پر قبضہ کتنے دلتوں نے کیا تھا،مدھو کوڑا ،شیبو سورین یا دیگر افرادکے مالیات کے مینیجر کون تھے۔اگر دلت اور پسماندہ طبقات کے رہنما بد عنوان ہیں توانہیں بد عنوانی کے گر کس نے سکھائے ۔جتنے بھی دلت اور پسماندہ طبقات کے وزراء رہے ہیں یا ہیں ان کے پی ایس ،پی او،او ایس ڈی اور دیگر لین دین کے کام انجام دینے والے کون تھے؟میڈیاجس طرح آشیش نندی کے دفاع میں آیا وہ بہت افسوس ناک تھا۔میڈیانے دفاع کرتے ہوئے مایاوتی ، لالوپرسادیادو، مدھو کوڑا،ملائم سنگھ وغیرہ کے نام لیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ او بی سی میں جتنے بھی لیڈر ہیں وہ سب بدعنوان ہیں ۔بد عنوانی ، انتظامیہ اور تمام شعبہ ہائے حیات پر اب تک اعلیٰ ذات کا قبضہ تھا۔دلتوں کے آگے بڑھنے سے برہمن نظام کا تانا بانا بکھر رہا ہے ۔انہیں اپنا سامراج ٹوٹتا اور بکھرتا دکھائی دے رہا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ جب دلت اور او بی سی بھی ہر شعبے میں داخل ہوں گے تو ان میں سے کچھ بد عنوان بھی ہوں گے کیوں کہ بد عنوانی ہندوستانی نظام کا اٹوٹ حصہ ہے ۔دراصل بدعنوانی ایک ملک گیر مسئلہ ہے جس کے لئے کسی ذات خاص یا طبقۂ خاص کو نشانہ بنانا غلط ہے ۔آشیش نندی نے یقیناغلط کیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تمام وسائل اور اہم عہدوں پر اعلیٰ ذات کے لوگوںکاقبضہ ہے اور تمام انتظام و انصرام وہی سنبھالتے ہیں اس لیے بد عنوان بھی وہی ہیں ، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی طرف انگلی اٹھانا بالکل غلط ہے ۔دلتوں کو چاہیے کہ وہ حالات کو سمجھیں اور اعلیٰ ذات کے آلۂ کار بننے کی بجائے مسلمانوں کو اپنا ہمدرد سمجھیں ۔عام طور پر اعلیٰ طبقوں اور فرقہ پرست طاقتوں نے فسادات کے موقع پر دلتوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیاہے ۔گجرات یا میرٹھ یا کسی اور مقامات پر جگہ جگہ دلتوں کو پیسے دے کراعلیٰ طبقوں نے استعمال کیا ہے ۔دلتوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کچھ بھی کر لیں لیکن اعلیٰ ذات کے لوگ انہیں ’شودر‘ہی سمجھیں گے اور اسی طرح کا ہی سلوک کریں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *