اسلام اور سیکولر ازم کی کشمکش‘ چند بنیادی پہلو

اسلام اور سیکولرازم کی کشمکش عصر حاضر میں مسلم دنیا کے لیے ایک بہت بڑے فکری چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلم دنیا میں اس کشمکش کے بنیادی پہلوئوں کا شعور عام نہیں ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں سیکولرازم کے حوالے سے طرح طرح کے فکری مغالطے موجود ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان میں صحافت کے ایک اہم مؤرخ ضمیر نیازی مرحوم نے کئی سال پہلے فرائیڈے اسپیشل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیکولرازم کو لامذہبیت کہا جاتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی لغت میں غلطی سے سیکولرازم کا ترجمہ لامذہبیت کردیا، ہمارے مذہبی طبقات نے اس ترجمے کو پکڑلیا، حالانکہ یہ ترجمہ غلط ہے، کیونکہ بقول ضمیر نیازی کے، سیکولرازم کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست مذہبی امور کے سلسلے میں غیر جانب دار ہوتی ہے اور اس کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
ضمیر نیازی صاحب کی اس رائے پر ہم نے روزنامہ جسارت کے ادارتی صفحے پر کئی قسطوں میں کالم لکھا اور عرض کیا کہ ضمیر نیازی صاحب کا خیال غلط ہے، کیونکہ صرف بابائے اردو کی لغت ہی سیکولرازم کو لامذہبیت سے تعبیر نہیں کرتی، مغربی دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے معیاری لغت ’’اوکسفورڈ ڈکشنری‘‘ بھی یہی کہتی ہے کہ سیکولرازم لامذہبیت کے سوا کچھ نہیں۔ سیکولرازم کا ایک ترجمہ دنیاداری یا دنیا سے متعلق ہونا بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دنیا اور یہ دنیاداری ایسی ہے کہ اس کا خدا، مذہب اور آخرت کے تصور سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ اس اعتبار سے بھی سیکولرازم کا مفہوم لامذہبیت ہی ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ سیکولرازم صرف مذہب کے سلسلے میں ریاست کی غیرجانب داری کا نام ہے تو ایک مسلمان کے لیے اس صورت میں بھی سیکولرازم قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی ذاتی پسند یا ناپسند، یا ان کا تعصب نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل تصورِ حیات ہے۔ ایک ایسا دین جو کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، چھینکنے اور جماہی لینے کے بارے میں بھی ہدایات دیتا ہے، اس دین سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ریاست اور سیاست کے اہم ترین معاملات کو اپنے احکامات کے دائرے سے باہر رکھے گا اور اپنے ماننے والوں سے کہے گا کہ تم بے شک روزہ، نماز تو مذہب کے مطابق کرو مگر ریاست اور سیاست کو سیکولر طرزِفکر کے مطابق چلائو؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ سیکولرازم کو خواہ کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے وہ اسلام کی ضد اور اس سے براہِ راست متصادم ہے اور مسلمان اسے ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کرسکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اور سیکولرازم کے درمیان فرق کیا ہے اور ان کے مابین برپا کشمکش کے بنیادی پہلوئوں کا تشخص کیا ہے؟
زندگی اور نظاموں کا اہم ترین اور بنیادی تصور ان کا تصورِ الٰہ ہے۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ ایک ہے، وہ ہمارا خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے، اسی کی طرف سے ہم آئے ہیں، اسی کی وجہ سے ہم اس زمین پر مقیم ہیں اور اسی کی طرف ہمیں بالآخر لوٹ کر جانا ہے۔ اسلام کا خدا ایک صاحبِ ارادہ ہستی ہے۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کا سلسلہ قائم کیا اور انہیں وحی کے ذریعے وہ علم دیا جو انسانوں کی دنیاوی اور اخروی کامیابی کے لیے ناگزیر تھا۔ اسلام کا تصورِ الٰہ اتنا اہم ہے کہ اس کے بغیر کسی چیز کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
کہنے کو سیکولرازم خود کو مذہب کا دشمن کہتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے خود کو مذہب بنا لیا ہے، اور اس جھوٹے مذہب کا بھی ایک تصورِ الٰہ ہے۔ مگر سیکولرازم کا خدا کون ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سیکولرازم نے مادے کو اپنا خدا بنالیا ہے اور اس سے وہ صفات وابستہ کردی ہیں جو صرف حقیقی خدا کی صفات ہوسکتی ہیں۔
مثال کے طور پر اہلِ مذہب کا عقیدہ ہے کہ خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ خدا کے سوا کچھ قدیم نہیں، اس کے سوا کچھ بھی باقی رہنے والا نہیں۔ جدید مادہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ مادہ (بھی) ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ مادہ صرف صورت تبدیل کرتا ہے۔ وہ کبھی پانی بن جاتا ہے، کبھی برف بن جاتا ہے، کبھی بھاپ بن جاتا ہے… وہ ایک ذرہ ہوتا ہے اور ذرے سے توانائی میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ مادہ کبھی ختم نہیں ہوگا، کبھی فنا نہیں ہوگا۔ یہ مادے کو خدا بنانے کی ایک صورت ہے۔ جدید مادہ پرستوں کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ مادہ بے شعور نہیں ہے بلکہ وہ باشعور ہے اور اس دنیا میں انسانوں، حیوانات اور نباتات کی کروڑوں صورتیں اس کا ثبوت ہیں۔ مادہ صاحبِ شعور نہ ہوتا تو مادے سے اتنی انواع و اقسام کی چیزیں نہیں بن سکتی تھیں۔ یہ ٹھیک وہی بات ہے جو اہلِ مذہب خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ خدا ایک صاحبِ شعور ہستی ہے، وہ علیم ہے، خبیر ہے اور قادر مطلق ہے، اور یہ پوری کائنات اس کا ثبوت ہے۔ اگر کوئی شخص مادے سے یہ صفات وابستہ کرلے تو ظاہر ہے کہ پھر اسے خدا کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ مغرب میں خدا کے انکار اور اس پر اصرار اسی لیے سہل ہوا کہ جدید سائنسی نظریات نے مادے کو الٰہ بنالیا اور خدا کے خلا کو مادے سے پُر کرنے کی کوشش کی۔ اہم بات یہ ہے کہ خدا کا انکار کرنے والوں کے پاس خدا کے انکار کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ مغرب کی مادہ پرستی جدید سائنس پر کھڑی ہے اور جدید سائنس کہتی ہے کہ صرف وہ چیز حقیقت ہے جو سائنسی مشاہدے اور تجربے سے ثابت ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا سائنس نے کسی مشاہدے اور تجربے سے یہ ثابت کردیا کہ نعوذ باللہ خدا موجود نہیں؟ اگر نہیں تو آخر خدا کے وجود کے بارے میں اس کا مؤقف مذہب کے مؤقف سے کیونکر بہتر ہے؟
اسلام اور سیکولرازم کا دوسرا تضاد ان کے تصورِ علم کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ اسلام کا تصورِ علم یہ ہے کہ یقینی علم کا سرچشمہ صرف وحی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا انسانوں اور پوری کائنات کا خالق ہے۔ اسی کے پاس حقیقی علم ہے۔ چنانچہ صرف اسی کو معلوم ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے، کیا حلال ہے کیا حرام ہے، دنیا اور آخرت کی کامیابی کن چیزوں میں ہے اور دونوں جہانوں کی ناکامی کیونکر انسان کا مقدر بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام باتوں کا علم آسمانی کتابوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچایا ہے اور ان کتابوں میں آخری کتاب قرآن مجید ہے۔ چنانچہ انسان کو اگر فلاح درکار ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے علم پر حرف بہ حرف عمل کرے۔ سیکولر طرزِ فکر وحی کی بالادستی کے تصور کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آسمانی کتب کے آسمانی ہونے کی کوئی ’’باطنی شہادت‘‘ موجود نہیں، چنانچہ ہم اس علم کو علم تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ سیکولرسٹوں کا کہنا ہے کہ وحی سے حاصل ہونے والا علم معاذ اللہ ایک جبر ہے جو انسانوں پر خواہ مخواہ مسلط کردیا گیا ہے۔ اس کے برعکس سیکولر فکر کہتی ہے کہ علم کا حتمی سرچشمہ خود انسان کی عقل ہے، اور انسان کے پاس اتنی عقل ہے کہ وہ اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے کسی آسمانی ہدایت کا ’’محتاج‘‘ نہیں۔ مغرب میں جدید فلسفے اور سائنسی علم کی پوری روایت انسانی عقل کی پیدا کردہ ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس معاشرے میں سیکولر طرزِ فکر عام ہوگا وہ معاشرہ دیر یا سویر علمِ وحی کا منکر بن کر سامنے آئے گا جیسا کہ مغربی دنیا کے تمام معاشروں میں ہوا، اور ان کے زیراثر بہت سے مشرقی معاشروں میں ہورہا ہے۔
اسلام اور سیکولر طرزِفکر میں ایک بڑا امتیاز ان کے تصورِ تخلیق کا ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کا تصورِ تخلیق یہ ہے کہ خدا قادرِ مطلق ہے، اس نے ’’کُن‘‘ کہا اور پوری کائنات وجود میں آگئی۔ دوسری جانب اس نے حضرت آدمؑ کو انسان کی صورت میں تخلیق کیا اور آدم کے انسانی وجود میں روح پھونکی۔ پھر ان کی پسلی سے اماں حوا کو پیدا کیا اور دونوں کو جوڑے کی صورت میں زمین پر بھیجا۔ اس کے برعکس سیکولر فکر کا تصورِ تخلیق یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ یہ کائنات خودبخود وجود میں آگئی اور خودبخود چل رہی ہے۔ جدید طبیعات میں Big Bang کے نظریے کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ کائنات ایک انتہائی Density کے حامل ذرے میں اچانک ہونے والے دھماکے سے وجود میں آئی۔ دوسری جانب ڈارون کا نظریۂ ارتقاء دعویٰ کرتا ہے کہ انسان جرثومے سے ترقی کرکے بندر بنا، اور بندر ارتقاء کے مختلف مراحل طے کرتا ہوا بالاـــــــــخر انسان کی صورت میں سامنے آیا۔ ان نظریات پر کئی بڑے اور بنیادی اعتراضات کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً اس سلسلے میں سوال یہ ہے کہ جس انتہائی Density کے حامل ذرے سے یہ کائنات وجود میں آئی وہ ذرہ خود کہاں سے آیا تھا؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کائنات مادے سے وجود میں آئی، مگر اس مادی کائنات نے اپنے انتہائی مرتب و منظم قوانین خودبخود کیسے پیدا کیے؟ جرثومے کے بندر اور بندر کے انسان بننے کی سائنسی شہادت کہاں ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو محض ایک قیاس کو ’’نظریہ‘‘ کیسے تسلیم کیا جائے؟ اور اگر ڈارون کا قیاس نظریہ ہوسکتا ہے تو پھر مغرب جس مذہب کو ’’قیاس‘‘ کہتا ہے اسے ’’نظریہ‘‘ کیوں نا تسلیم کیا جائے؟
اسلام اور سیکولرازم کی کشمکش کا ایک بنیادی حوالہ دونوں کا تصورِ انسان ہے۔ اسلام کا تصورِ انسان یہ ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب ہے، اس میں ایک روح ہے، ایک نفس ہے اور ایک جسم ہے۔ اس کے برعکس سیکولر فکر نے جتنے علوم و فنون پیدا کیے ہیں انسان کی اتنی ہی تعریفیں وہاں موجود ہیں۔ مثلاً مغرب کی عمرانیات انسان کو ’’سماجی حیوان‘‘ کہتی ہے۔ مغرب کی حیاتیات کے نزدیک انسان ایک ’’حیاتیاتی وجود‘‘ ہے۔ مغرب کی سیاسیات کے نزدیک انسان ایک ’’سیاسی حیوان‘‘ ہے۔ مغرب کی نفسیات کا خیال ہے کہ انسان جبلتوں کا مجموعہ ہے۔
سیکولر فکر کے نزدیک انسان میں روح نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ سیکولر فکر نفس کے تصور کو تسلیم کرتی ہے مگر وہ نفس کو نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ کی درجہ بندی کی صورت میں تسلیم نہیں کرتی۔ فرائیڈ کی نفسیات میں ترفّع یا Sublimation کا تصور موجود ہے جو تزکیۂ نفس کے تصور سے ایک درجہ مماثل محسوس ہوتا ہے۔ مگر اسلام میں تزکیہ نفس ایک روحانی اور اخلاقی تصور ہے اور فرائیڈ کا ترفّع یا Sublimation صرف ایک جسمانی حقیقت ہے۔
انسانی زندگی کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی کی تگ و دو کا حاصل کیا ہے؟ یعنی آخر ہم کس انسان کو حتمی معنوں میں ’’کامیاب‘‘ اور کس کو حتمی معنوں میں ’’ناکام‘‘ کہیں؟ اس سلسلے میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ جس شخص سے اس کا خدا راضی ہوگیا وہی کامیاب ہے، اور جس نے اپنے رب کو راضی نہ کیا وہی ناکام ہے خواہ ناکام آدمی کھرب پتی کیوں نہ ہو اور ساری دنیا پر اس کا حکم ہی کیوں نہ چلتا ہو۔ اس کے برعکس کامیاب آدمی خواہ دنیا کا غریب ترین آدمی ہی کیوں نہ ہو، اور اس کی بات کو اس کے بیوی بچے بھی سنی ان سنی کیوں نہ کردیتے ہوں۔ اس کے برعکس سیکولر فکر کہتی ہے کہ مادی ترقی ہی انسان کی کامیابی ہے۔ چنانچہ جس کے پاس سب سے زیادہ دولت ہے وہی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ جس کے پاس سب سے زیادہ طاقت ہے اسی کو ’’نجات‘‘ حاصل ہوئی۔ سیکولر فکر نے اس بنیاد پر انسانوں کیا قوموں تک کی درجہ بندی کی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام اور سیکولرازم ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ان میں سے ایک کی کامیابی دوسرے کی ناکامی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *