ترک اسرائیل تعلقات کا نیا منظر

ترکی مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جو اسرائیل کے ساتھ گہرے سفارتی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ترکی پر طویل عرصہ تک ایک ایسا سیکولر ذہن حکمران رہا ہے جس کے لیے اسلام اور امت کے کاز کا خیال ہی ازکار رفتہ ہے۔ اس صورت حال کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ترکی امریکا کے زیر اثر رہا ہے اور وہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ناٹو کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ گزشتہ پچاس سال سے یورپی اتحاد میں شامل ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ ترکی کسی بھی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا ’’خطرہ‘‘ مول نہیں لے سکتا تھا۔ اگرچہ طیب ایر دوغان کے بارے میں ’’اسلام پسند‘‘ ہونے کا ’’تاثر‘‘ عام ہے لیکن انہوں نے بھی سات آٹھ سال تک اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کو”Enjoy‘‘ کیا ہے۔ تاہم 2010ء میں ترکی نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے فریڈم فلوٹیلاغزہ روانہ کیا۔ اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ فریڈم فلوٹیلا کو غزہ میں داخل نہ ہونے دیا بلکہ اس کے کمانڈوز نے کھلے سمندر میں فریڈم فلوٹیلا پر حملہ کیاجس کے نتیجے میں نو ترک باشندے شہید ہوگئے۔ اس واقعہ نے ترک اسرائیل تعلقات میں زلزلہ پیدا کردیا۔ ترکی نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفیر کو تل ابیب سے واپس بلالیا اور اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ اگر چہ ترکی اسرائیل سفارتی تعلقات منقطع نہ ہوئے البتہ ان کی سفارتی سطح انتہائی کم ہوگئی۔ اس منظر نامے میں طیب ایر دوغان نے اعلان کیا کہ اسرائیل جب تک واقعہ پر معافی نہیں مانگے گا اور شہید ہونے والے ترک باشندوں کا ہرجانہ ادا نہیں کرے گا اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکیں گے۔ تاہم اسرائیل نے ان دونوں مطالبات کو رد کردیا۔ اگرچہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کے سلسلے میں خفیہ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے مگر مذاکرات کا عمل کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا۔ تاہم امریکا کے صدر بارک اوباما کے حالیہ تین روزہ دورۂ اسرائیل کے بعد ترک اسرائیل تعلقات میں ایک نیا منظر طلوع ہوا۔ اس منظر کا لب لباب یہ ہے کہ اسرائیل نے فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے سلسلے میں ’’معافی‘‘ تو نہیں مانگی البتہ اس نے ترکی کی خدمت میں ’’معذرت‘‘ ضرور پیش کی اور کہا کہ وہ نوترک باشندوں کی ہلاکت کا ہرجانہ ادا کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے۔ طیب ایر دوغان نے اسرائیل کی ’’معذرت‘‘ کو قبول کرلیا ہے۔ اس صورت حال کے بعد امکان ہے کہ دیریا سویر دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آجائیں گے لیکن ترک اسرائیل تعلقات کے اس نئے منظر کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس منظر کے طلوع ہونے کا اصل سبب کیا ہے۔؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ امریکی صدر کا دبائو ہے لیکن یہ ایک سرسری رائے ہے۔ ترک اسرائیل تعلقات کے نئے منظر کا اصل سبب شام کی صورت حال ہے جس کا لب لباب مندرجہ ذیل حقائق ہیں۔ ۱) شام میں دو سال قبل بشارالاسد کے ظلم اور جبر کے خلاف تحریک مزاحمت برپا ہوئی تھی تو عام خیال یہ تھا کہ یہ تحریک دو چار ہفتوں میں ختم ہو جائے گی لیکن تحریک کا دائرہ سیع ہوتا گیا اور اس کی شدت بڑھتی گئی یہاں تک کہ اس تحریک کو برپا ہوئے دوسال ہوگئے ہیں۔ ۲)شام کی تحریک مزاحمت شروع ہوئی تھی تو اس کا کوئی ’’متعین چہرہ‘‘ نہیں تھا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ شام کی تحریک مزاحمت نے اسلام کو شام کے حال اور مستقبل کا مرکزی مسئلہ بنا دیا ہے اور شام کے لوگوں کی عظیم اکثریت کہہ رہی ہے کہ ہمیں اب اسلام کے سوا کچھ قابل قبول نہ ہوگا۔ ۳) بشارالاسد کے بارے میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ شام کا مستقبل بہرحال اس سے متعلق نہیں۔ اسے آج نہیں تو کل جانا ہوگا۔ اس کی مقبولیت عوام کیا اس کی اپنی فوج میں بھی کم ہورہی ہے اور فوجیوں کی بڑی تعداد فوج کو چھوڑ کر تحریک مزاحمت کا حصہ بن رہی ہے۔ ۴) شام میں اب تک 70 ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بشارالاسد نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف بھاری توپ خانہ استعمال کیا۔ فضائیہ استعمال کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کر ڈالے ہیں۔ لیکن تحریک مزاحمت نے اپنے بڑے نقصانات اور طاقت کے اتنے بہیمانہ استعمال کو ’’جذب‘‘ کرکے دکھا دیا ہے۔ ۵) امریکا، یورپ اور خود خطے کے مسلم ملکوں نے شام میں جعلی حزب اختلاف کو تخلیق کرنے کی بہت کوشش کی ہے اور یہ کوشش اب بھی جاری ہے مگر شام میں مصنوعی حزب اختلاف کو عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ چنانچہ امریکا اسرائیل اور ان کے کھلے اور خفیہ اتحادی محسوس کررہے ہیں کہ شام میں قیادت کا خلا صرف ’’اسلام پسند‘‘ پر کریں گے۔ یہ ہے وہ صورت حال جس نے ترک اسرائیل تعلقات کا نیا منظر تخلیق کیا ہے۔ اس کی گواہی خود اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے Face Book پر نمودار ہونے والے تبصرے میں کہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ شام میں صورت حال لمحہ بہ لمحہ خراب ہورہی ہے اور اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار ’’انتہا پسندوں‘‘ کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ چنانچہ شام کے پڑوسیوں کی حیثیت سے ترکی اور اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان ابلاغ کا عمل موجود ہو۔ اسرائیل کے ممتاز اخبارات نے بھی اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ طیب ایردوغان نے اسرائیل کے سلسلے میں اپنا موقف نرم کیا ہے تو اس کی وجہ امریکا کا دبائو نہیں، بشارالاسد ہے۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کے سابق مشیر یا کوف امدرو نے کہا ہے کہ شام کے سلسلے میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان جتنا تعاون موجود ہوگا اتناہی دونوں ملک کسی بھی وقت سامنے آنے والی دھماکا خیز صورت حال سے نمٹنے کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو مشرقِ وسطی میں نقل وحرکت کی زیادہ آزادی میسّرآگئی ہے۔ شام کی صورت حال اور ان تبصروں کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ طیب ایردوغان علاقے میں امریکا اور اسرائیل کے کھیل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ شام ترکی کا پڑوسی ہے اور شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے لاکھوں باشندوں پر ظلم وجبر کی انتہا کردی ہے۔ اس صورت حال میں قرآن مجید کہتا ہے کہ تم اپنے ان بھائیوں کی مدد کیوں نہیں کرتے جو ظلم سے نجات کے لیے تمیں آواز دے رہے ہیں۔ لیکن طیب ایردوغان کے نزدیک قرآن کے اس حکم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ چنانچہ ترکی نے دسمبر سنہ 2012 میں شام کے اندر عرب لیگ کے فاروق الشرع کو بشارالاسد کا متبادل بنا کر ابھارنے کی کوشش کی۔ حالانکہ فاروق الشرع پر امریکا کی مہر لگی ہوئی ہے۔ ترکی نے شام کی صورت حال میں ناٹو کی دفاعی شیلڈ طلب کی اور شام میں یورپی یونین کی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور اب وہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلق استوار کرکے شام میں مزاحمت کو ناکام بنانے اور امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کررہا ہے۔ شام کی صورت حال ایران اور اس کی اسلام پسندی کو بھی پوری طرح ’’آشکار‘‘ کر رہی ہے۔ بشارالاسد اب تک 70 ہزار شامیوں کو قتل کرچکا ہے مگر ایران شام اور اس کے لوگوں کے بجائے بشارالاسد کا حامی بن کر کھڑا ہے اور اس کے فوجی دستے بشارالاسد کی ڈھال کا کردار ادا کررہے ہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *