دیار غیر میں چھوت چھات

کاوینٹری ،برطانیہ کا ایک شہر ہے جس کا رقبہ تقریبا لندن کے پندرہویں حصہ کے برابر ہے ۔یہاں گرو دواروں کی ایک بڑی تعداد ہے اور یہ زیادہ عجیب اس لئے نہیں کیونکہ سکھ یہاںپر آباد سب سے بڑی نسلی اقلیت ہیں ۔لیکن یہاں بھی ذات کی بنیاد پر تقسیم کی لکیریں ان مذہبی عبادت گاہوں کے اندر اور باہر کھینچ دی گئی ہیں ۔
پچھلے مہینہ برطانیہ کے ہائوس آف لارڈس نے’’ـــ قانون مساوات ۲۰۱۰؁ء‘‘ کے حق میں ووٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ باضابطہ طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ذات کی بنیا پر تفریق یہاں بھی موجود ہے۔ اگر اس ’’قانون مساوات ۲۰۱۰ء‘‘ کو ہائوس آف کامنس کی منظوری مل جاتی ہے تو روزگار ،تعلیم اور خدمات کے شعبوں میں ذات کی بنیاد پر تفریق ایک غیر قانونی قدم سمجھا جائیگا۔
اس ترمیم کے لئے پیش پیش ایک لبرل ڈیموکریٹ لارڈ ایرک اویبری ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اگر اس قانون کو منظوری مل جاتی ہے تو ذات کو بھی نسل، جنس اور مذہب کے ساتھ ساتھ ان نو ’’محفوظ خصوصیات‘ ‘ــکی فہرست میں شامل کیا جائیگا جنہیں برطانیہ کی قانون سازی میں مساوات کا درجہ حاصل ہے ۔
واضح رہے کہ حکومت برطانیہ نے اب تک اس کے لئے کوئی قانون میں ترمیم نہیں کی ہے بلکہ صرف اس بات کی وکالت کی ہے کہ تعلیی بیداری کے ذریعہ ہی اس تعصب کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اس ترمیم کے لئے ایک طویل اور محفوظ راستہ منتخب کیا ہے کیونکہ اس کو دو بااثر ہندو تنظیموں اور اعلی ذات کے سکھوں کی طرف سے شدید مخالفت کاسامنا ہے ۔
برطانیہ میں اس تفریق کی بنیاد پر پھیل رہی نفرت کی ایک وجہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہورہے ذات پر مبنی تشخص پر اعتقاد ہے۔
اس کی ایک مثال رام لکھا ہیں جو کاوینٹری کےسابق مئیر بھی ہیں ۔یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ۶۰ کی دہائی میں یہاں پہلے گرودوارہ گرو نانک پرکاش مندر کی تعمیر ہوئی۔لیکن اس کے بعد سے ہی نچلی ذات کے لوگوں کے لئے ایک وحشت اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں نتیجتاً انہیں اپنا الگ مندر تعمیر کرنا پڑا۔ا ٓگے چل کے گروروی داس مندر، بالمیکی مندر کے ساتھ ساتھ کئی اور مندر بھی وجود میں آگئے۔
رام لکھا کہ جو ۲۳ سال تک لیبر پارٹی کے کائونسلر رہے ہیں کو بھی اس امتیازی سلوک کانشانہ بننا پڑا۔ وہ اس طرح کہ جب وہ ۱۹۸۹ء؁ میں ایک ایسے حلقہ سے جہاں جنوبی ایشیائی لوگوں کی ایک خاصی تعداد آباد تھی کائونسلر منتخب ہوئے۔وہ کہتے ہیںکہ جب مقامی برہمن رہنمائوں کو اس بات کا پتہ چلا کہ میں ایک دلت ہوں تو انہوں نے میرے خلاف لابنگ شروع کردی تو میرے لئے واحد راستہ یہ بچا کہ میں اگلے الیکشن میں ایک ایسا ہمسایہ علاقہ منتخب کروں کہ جہاں سفید فام اکثریت میں تھے۔
واضح رہے کہ ایک اندازہ کے مطابق برطانیہ میں دلتوں کی تعداد تقریبا ۴۸۰۰۰۰ ہے جو برمنگھم، لیسٹر،بیڈفورڈ،ایسٹ لندن اور سائوتھ ہال جیسے ۲۲ علاقوں میں مسکون ہیں۔جیسے ہی پچھلے مہینہ اس بات کی خبر ہوئی کہ ہائوس آف لارڈس میں اس قانون مساوات پر بحث ہونی ہے ایک قابل ذکر تارکین وطن کی تعداد جن میں زیادہ تر کا تعلق پنجاب سے تھا پارلیمنٹ پر اکھٹا ہوگئے ان کے پاس بتانے کے لئے بہت ساری باتیں تھی کہ اس کے باوجود کہ ان کے نام سے ان کی ذات کی پہچان نہیں ہوتی کس طرح انہیں گرودوارے یا مندر میں پرساد بانٹنے اور پوجا کرنے سے منع کیا جاتا ہے یا کس طرح ان کے بچوں کو اسکولوں میں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے یا جہاں وہ کام کرنے جاتے ہیں کس طرح انہیں تنہا کر دیا جاتا ہے کہ کوئی ان سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا ۔پارلیمنٹ پر اکھٹا ہوئے ان لوگوں میں کچھ کامیاب تاجر بھی تھے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی ان کے ساتھ ہورہے اس بیوجہ تعصب کو ختم نہیں کرسکتیں۔
ایک اور مثال لیسٹر کی رہنے والی انیتا کور کی ہے کہ جو برطانیہ میں ہی پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھیں۔ چونکہ ان کا نام ذات کے سماجی ڈھانچہ میں ان کی درجہ بندی کو ظاہر بھی نہیں کرتا انہیں کمیونٹی سینٹر، مندروں جیسے کئی مقامات پر ان کی ذات کے بارے میں متعدد سوالات کا سامنا رہتا ہے۔
تقریبا یہی حال ان کی بیٹی کا بھی ہے۔ انیتا کور بتاتی ہیں کہ حالانکہ سکھ مذہب ذات کو تسلیم نہیں کرتا پھر بھی ان کی بیٹی کو بھی اسکول میں دوسرے بچوں کی طرف سے اس کی ذات کے بارے میں سوالات کا سامنا رہتا ہے اور جب ان کی بیٹی کاجواب ہوتا کہ اسے پتہ نہیں تو اس پر زور ڈالا جاتا کہ وہ گھر جائے اور پوچھ کر آئے ۔
ذات کی بنیا د پر تفریق کا پہلا معاملہ کہ جس کو برطانیہ کے اخبارات نے جگہ دی وہ۲۰۱۰ء؁ میں وجے بیگراج اور ان کی بیوی امردیپ کا ہے دونوں برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے ۔ وجے بیگراج ایک قانونی فرم میں ایک بزنس اور فنانس منیجر کے طور پر چھہ سال سے کام کررہے تھے جبکہ امردیپ بھی اسی فرم میں ایک وکیل کی حیثیت سے متعین تھیں اور یہی ان کی تنہا شناخت تھی لیکن جب ان کی شادی ہوئی تو انہیں پتہ چلا کہ ان کی اصل شناخت تو کچھ اور ہے کہ وجے تو ایک ہندو دلت اور امر دیپ ایک سکھ جاٹ ہیں ۔
وجے کہ جن کے والد پنجاب سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوگئے تھے بتاتے ہیں کہ ـ ہمارے والدین کو ہماری شادی سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن جیسے ہی ہماری فرم کے تین مالکان کو یہ پتہ چلا کہ میں ان کی ذات کی ایک لڑکی سے شادی کرنے کا ارادہ کررہا ہوں تو انہوں نے امردیپ کو دھمکی بھرے انداز میںاس شادی سے باز رکھنے کی کوشش شروع کردی ۔’’ یہ لوگ مختلف مخلوق ہیں‘‘ اور اس جیسے نہ جانے کتنے صحیفوں کے حوالہ جات مجھے بھی ای میل پر بھیجنے شروع کردیے کہ جس سے مجھے میری حیثیت اور اوقات کا پتہ چل جائے۔ بعد میں جب اس سے کامیابی نہ ملی تو انہوں نے پہلے تو ہراساں کرنا شروع کیا پھر فقرہ پاس کرنا اور ہنسی اڑانا اس کے بعد تنخواہوں میں اضافہ اور ترقی دینے سے بھی انکار کردیا بالآخر مجھے نوکری سے ہی نکال دیا جب کہ امردیپ سے استعفیٰ لے لیا ۔
وجے اور امر دیپ کہ جو کسی قانونی فریم ورک کی غیر موجودگی کے باوجود برمنگھم ـکے’’ ایمپلائمنٹ ٹریبیونل‘‘ میں کیس لڑ رہے ہیں ان کے دوست ـکاسٹ واچ برطانیہ کے ستپال بیان کرتے ہیں کہ ان کے گروپ کے ایک شخص نے وجے اور امردیپ کے کیس میں عدالت میں گواہی دی تھی تو جس دن اس کی گواہی تھی اسی دن شام کو جب وہ گھر واپس آیا تو اس کے گھر کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ۔
حکومت برطانیہ کی اس تفریق کوختم کرنے کے لئے قانون بنانے میں ہچکچاہٹ دراصل برطانیہ میں بڑے پیمانہ پر اس کی موجودگی سےلاعلمی کے وجہ سے ہے ۔ حکومت کے دفتر مساوات نے اس کی حدود کو جاننے کے لئے ایک کمیشن بنایا تھا جس نے ۲۰۱۰ ء؁میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ جس میں یہ پایا گیا کہ نہ صرف ذات کی بنیاد پر تفریق موجود ہے بلکہ اس کو روکنے کے لئے ’’امتیازی سلوک قانون‘‘ اور ’’فوجداری قانون‘‘دونوں کی ضرورت ہے ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ حالانکہ ذات کے نظام کی اصل جڑیں تو ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں لیکن انہوں نے سکھ مذہب میں بھی اپنے پیر جمالئے ہیں ۔مزید اس رپورٹ میں مبینہ امتیازی سلوک اور تعصب کے کچھ ڈھکے چھپے واقعات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ جو جاٹ سکھوں کی طرف بالمیکیوں اور گرو رویداس کے عقیدتمندوں پر کئے گئے۔
۲۰۰۹ء؁ میں تین برطانوی یونیورسٹیز کی جانب سے کیے گئے مطالعہ میں پایا گیا ۵۸ فیصد لوگوں سے ان کی ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا اور انہیں تعصب کا نشانہ بننا پڑا جبکہ ۷۹ فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ برطانوی پولس کے لئے یہ ذات کی بنیا د پرتفریق ایک ناقابل فہم جرم ہے۔
ایک اور مطالعہ جو ۲۰۰۶ ء؁ میں برطانیہ دلت یکجہتی تنظیم نے کیا تھا۔اس رپورٹ کے مقدمہ میں جیریمی کوربن جو دلت یکجہتی تنظیم کے صدر اور ایم ۔پی۔ ہیں نے لکھا کہ ذات کی بنیاد پر تعصب بھارتی تارکین وطن کے ذریعہ برطانیہ میں درآمد کیا گیا ہے اور برطانیہ میں یہ ایک خارجی تصور ہے۔
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کوربن نے بتا یا کہ وہ سنٹرل لندن کے ایک حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرتے ہیں کہ جو باہر کے دوسرے مقامات سے اس معاملہ میں برعکس ہے کہ جہاں یہ ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے جبکہ یہ بات یہاں ایک غیر مقبول خیال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بغیر قانون کے اسے جرم ثابت کرنا ایک مشکل ترین کام ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *