رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتیں

(عربی زبان میں وصیت کا لفظ نصیحت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور وصیت کے معنی میں بھی۔ مولانا ابو مسعود اظہر ندوی نے ایسی سو احادیث کا ایک مربوط مجموعہ ایمانیات و عقائد، عبادات اور دعائیں اور معاملات وآداب کے تین ابواب کے تحت جمع کرکے ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتیں‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر کتاب کی صورت میں مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع کیا۔ ذیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چند وصیتیں افادۂ عام اور تذکیر و تزکیہ کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔)
٭ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے تین روز پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا:
’’تم میں سے جو بھی انتقال کرے وہ اللہ تعالیٰ سے حُسنِ ظن رکھتے ہوئے انتقال کرے۔‘‘
(مسلم و ابودائود)
٭ حضرت عمرو بن عوفؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ سے ایک دن فرمایا:
’’بلال جان لو‘‘۔ حضرت بلالؓ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا جان لوں؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جان لو کہ جس نے کوئی ایسی سنت زندہ کی (یعنی اس پر عمل کیا اور کرایا) جو میرے بعد مُردہ ہوگئی تھی تو جتنے لوگ اس سنت پر عمل کریں گے اسے ان کے برابر ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کا ثواب کچھ کم نہیں ہوگا، اور جس نے گمراہ کن بدعت ایجاد کی جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہ ہوں، تو اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اسے بھی گناہ ملے گا اور گناہ کرنے والوں کا بوجھ بھی ذرا کم نہ ہوگا۔‘‘
٭ حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت فرمائی تو ان سے ارشاد فرمایا:
’’قبروں کی زیارت کیا کرو، اس سے تمہیں آخرت یاد آئے گی، مُردوں کو نہلایا کرو کہ ویران جسم کو ہاتھ لگانا نہایت مؤثر نصیحت کا ذریعہ ہوتا ہے، جنازوں کی نماز پڑھا کرو، شاید اس سے تمہارے اندر غم و حزن پیدا ہو، کیونکہ غم زدہ شخص اللہ تعالیٰ کے سائے میں ہر بھلائی سے بہرہ اندوز ہوتا ہے۔‘‘ (حاکم)
٭ حضرت عبداللہؓ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو:
’’جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو مرض الموت سے پہلے، دولت کو محتاجی سے پہلے، فرصت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔‘‘ (رواہ حاکم)
٭ حضرت عبداللہؓ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ:
’’جس نے اس کی حفاظت (پابندی) کی اس کے لیے وہ قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات کا ذریعہ ہوگی، اور جس نے اس کی حفاظت نہیں کی اس کے لیے نہ نور ہوگا، نہ دلیل، نہ نجات، اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا‘‘۔ (احمد)
٭ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے ایک نیکی ملے گی، اور نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا۔ میں نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، میم ایک حرف ہے۔ (یعنی مجموعی طور پر تین حرف ہوئے)‘‘ (بخاری فی التاریخ)
٭ حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر (ان کی خدمت کرکے اور ان کا دل خوش کرکے) جنت میں داخل نہیں ہوا۔‘‘
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے نو باتوں کی ہدایت فرمائی ہے، میں بھی تمہیں انہی باتوں کی وصیت کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت فرمائی ہے:
’’”اخلاص کی، تنہائی میں بھی اور علانیہ بھی، اور خوشی و غضب (دونوں حالتوں میں) عدل و انصاف سے کام لینے کی، اور تونگری و محتاجی (دونوں حالتوں) میں میانہ روی اختیار کرنے کی، اور یہ کہ میں اسے معاف کردوں جو مجھ پر ظلم کرے، اور اسے دوں جو محروم کرے، اور اس سے تعلق جوڑوں جو مجھ سے کٹے، اور یہ کہ میری خاموشی غوروفکر، میرا بولنا ذکر (الٰہی) اور میری نظر عبرت (کا ذریعہ) ہو۔‘ ‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *