روسی مسلمان، نئے طوفان کا سامنا

روس میں شمالی قفقاز۔کوہ قاف کے ایک اسکول میں پچھلے ہفتہ ہیڈ ٹیچر نے پانچ لڑکیوں کے حجاب پہن کر اسکول آنے پر پابندی عاید کر دی ہے اور اسکول میں حجاب کوممنوع قرار دے دیا ہے ۔ اسکول کے ہیڈ ٹیچر کے فیصلہ پر ان لڑکیوں کے والدین نے اس علاقے کے گورنر سے سخت احتجاج کیا ہے ۔ہیڈ ٹیچر کا یہ موقف ہے کہ اسکول میں حجاب پہننے سے اسکول کے لباس کی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،لیکن مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں حجاب پہننے پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے لہذا اسکول میں حجاب پہننے پر پابندی غیر قانونی ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روس میں بھی یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح حجاب کے مسئلے پر مسلمانوں سے معرکہ آرائی کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے ۔
روس میں اس وقت مسلمانوں کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے جن میں سے اکثریت تاتاریوں کے علاقہ تاتار ستان سے لے کر قفقاز اور والگا کے طاس تک کے علاقہ میں آباد ہے ۔بہت سے لوگوں کوتعجب ہوتا ہے کہ سوویت دور میں اسلام کو کچلنے ،مساجد اور مدارس کو مسمار کرنےکے باوجود روس کے مسلمانوں نے اپنے عقیدے کو کس طرح مضبوطی سے تھامے رکھا ہے اور اسے زندہ رکھا ہے ۔سوویت یونین کی مسماری اور وسط ایشیا کی جمہوریاؤں کی آزادی کے فوراً بعد ۱۹۹۲ء میں تاشقند میں وسط ایشیا کے نوجوان مفتی اعظم محمد صادق محمد یوسف سے ملاقات میں جب میں نے یہی سوال کیا تو انہوں نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا سوویت دور کے جبر کا ہم نے اس طرح مقابلہ کیا کہ اسلام کو ہم نے اپنے دل میں اور اپنے گھروں میں محفوظ رکھا ۔گوباہر سوویت شہری تھے۔ہم نے مساجد اور مدارس کی مسماری اور ان کی تالا بندی پر شدید رد عمل ظاہر نہیں کیا کیوںکہ سوویت نظام کی طاقت کے سامنے ہم کمزور اور بے بس تھے۔ ہم نے صبر اور حقیقت پسندی سے کام لیااور ہم نے اپنے مذہب اور اسلامی تشخص کو اپنے گھروں میں محفوظ کر لیا۔مفتی اعظم نے کہا بلا شبہ یہ دوہرا پن تھا لیکن اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے اس کے علاوہ او ر کوئی چارہ نہیں تھا اور واقعی یہ بات درست تھی کہ سوویت یونین کی مسماری کے فوراً بعد وسط ایشیا اور روس میں اسلام کے پرچم لہرائے اور مسلمان جس تیزی سے اور والہانہ انداز سے ابھرے اسے دیکھ کر یہ گمان بھی نہیں ہوتا تھا کہ یہ پچھلے ۶۹سال سے کچلے ہوئے اور شکست خوردہ تھے۔سوویت یونین ہی کیا اس سے پہلے زارروس کے زمانہ میں بھی روس کے مسلمان استبداد ،ظلم و ستم اور مصائب کا شکار رہے ہیں ،حالانکہ اسلام ملک کا دوسرا بڑا مذہب رہا ہے۔روس میں اسلام کی روشنی سب سے پہلے آٹھویں صدی میں عرب فاتحین کے ساتھ داغستان کے راستے آئی تھی۔سوویت یونین کے قیام تک یہاں عربی عوامی رابطے کی زبان تھی لیکن ۱۹۲۳ء میں عربی کودیس نکالا دے دیا گیااور آذربائیجانی زبان کو فروغ دیا گیا جس پر روسی زبان چھا گئی ۔کیسپین کے ساحل پر داغستان سے اسلام قفقاز میں پھیلا۔چیچینیا میں نقشبندی صوفی شیخ منصور عشرہ نے پورے قفقاز میں اسلامی مملکت کے قیام کے لیے مسلح جد وجہد کی اور اس جنگ میں ان کے جاں بحق ہونے کے بعد امام شامل نے ۱۸۵۹ء تک جنگ جاری رکھی لیکن زار روس کے سامنے ہا ر گئے ،لیکن چیچینیوں نے ہتھیار ابھی تک نہیں ڈالے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی چیچینیا کے مسلمانوںکو موقع ملا انہوں نے روسیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔روس کے خلاف حالیہ دو تباہ کن جنگوں کے بعد چیچینیا کے مسلمان روس کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ بقائے باہمی کے حامیوں اور شدت پسندوںکی کشمکش میں گرفتار ہیں۔ادھر مشرق میں روس کے قلب میں اسلام نویں صدی میں والگا کے طاس میں تاتارستان تک پھیل گیا تھا۔لیکن تاتارستان میں مسلمانوں کو جس بڑے پیمانے پر ظلم و ستم اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثا ل اس پورے علاقے میں نہیں ملتی ۔۱۹۵۰ء میں زارروس ایوان دی ٹریبنل نے جب تاتارستان پر قبضہ کیا تو تاتاریوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک بدر کر دیا گیا اور باقی ماندہ تاتاریوں کو جبراًعیسائی بنا لیا گیا اور تمام مساجد مسمار کردی گئیں ۔مسلمانوں پر مظالم کایہ سلسلہ دو سو سال تک جاری رہا۔آخر کارجب ملکہ کیتھرین تخت نشین ہوئیں تو مسلمانوں کو ان مصائب سے نجات ملی ،لیکن مساجد کی تعمیر پر پابندی سوویت دور میں بھی جاری رہی ۔۱۹۱۸ء میں تاتاریوں نے اپنی آزادجمہوریہ قائم کرنے کی تحریک چلائی لیکن سوویت دور میں اس تحریک کو کچل دیا گیا۔اسٹالن کے دور میں دو لاکھ سے زیادہ تاتاریوںکو ازبکستان میں دھکیل دیا گیا۔اس دوران دس ہزار تاتاری فاقہ کشی کا شکار ہو کرجاں بحق ہو گئے ۔سوویت یونین کی مسماری کے بعد تاتاریوں نے ۱۹۹۲ء میں ایک ریفرنڈم میں اپنی آزاد جمہوریہ کا آئین منظور کیا جس کے تحت یہ خود مختار جمہوریہ روسی وفاق کا حصہ ہے۔
انیسویں صدی میں تاتارستان میں مسلمانوں میں جدیدیت کی تحریک اٹھی جو تمام دوسرے مذاہب کے ساتھ مفاہمت کی خواہاں تھی لیکن گزشتہ دس برس میں تاتارستان میں سلفی عقیدہ تیزی سے بڑھا ہے اور تاتاری جو اب تک عیسائی زار روس کے مظالم کا سامنا کرتے رہے اور اپنی بقا کے لیے لڑتے رہے اب اپنے اپنے مختلف مسلکوں کے درمیاں کشمکش اور معرکہ آرائی میں الجھ گئے ہیں۔گزشتہ سال جو لائی میں اسی معرکہ آرائی کا شکار تاتاری مسلمانوں کے ایک اہم رہنماولی اللہ یعقوب بوف ہو گئے جب وہ ایک بم حملہ میں جاں بحق ہو گئے۔اسی حملہ میں تاتارستاں کے مفتی اعظم ایلدوز فیضوب بال بال بچ گئے۔ پچھلے ایک عرصے سے داغستان اور تاتارستان میں وہابی مسلک کے خلاف منظم مہم جاری ہے جس کے نتیجے میں اس علاقے کے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا ہے اور ایک نئے طوفان کا سامنا ہے۔
سوویت دور میں وسط ایشیا کی تمام جمہوریاؤں میں البتہ مسلمانوں کو تاتاریوں کی طرح مظالم برداشت نہیں کرنے پڑے کیوں کہ یہاں تیموریہ سلطنت اور مغلوں کی وجہ سے اسلام کی جڑیں بہت مضبوط تھیں اور گوزارروس اور سوویت قبضہ سے قبل یہ علاقہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا۔لیکن کیسپین کے ساحل سے لے کر چین کی سرحد تک اس پورے علاقے پر اسلام کا غلبہ تھا جس کا اثر سوویت یونین کا ستر سالہ دور بھی نہ توڑ سکا۔۱۹۹۱ء میں وسط ایشیا کی سوویت جمہوریاؤں کی آزادی کے بعد اس علاقہ میں ’’مسلم بنیاد پرستی اور شدت پسندی کے خطرہ کا بے حد شور مچایا گیا تھا اور افغانستان کے جہا د سے لوٹنے والے عناصر نے جب اسلامک مومنٹ آف ازبکستان اورحزب التحریر قائم کی تو ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔۱۹۹۲ء میں بابر کے آبائی شہرنامن گاؤں میں مسلم تنظیم عدالت کے سربراہ خوجایف سے ایک ملاقات میں میں نے جب ان سے اس شور کی اصل وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھاکہ دراصل وسط ایشیا کی ان جمہوریاؤں کی قیادت اسلامی شدت پسندی کا ہوا کھڑا کر کے روس کے اثر کی مزاحمت کے لیے امریکا کی حمایت اور امدا د بٹورنا چاہتی تھی۔اس زمانہ میں وسط ایشیا میں میں جہاں جہاں گیا کہیں بھی نام نہاد مسلم بنیاد پرستی کا نشان نہیں ملتا تھا۔تاشقند ہو یا الماعطا دوشنبے ہو یا بشکیک یا عشق آباد عوام نئی آزادی پر خوش تھے اور اس سے زیادہ اس بات پر کہ انہیں اپنے مذہب کے معاملے میں کسی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا اور انہیں مکمل آزادی ہوگی۔ایک اہم پہلو یہ ہے جسے بہت سےلوگ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ سوویت یونین کی مسماری کے بعد وسط ایشیا کی ان تمام جمہوریاؤں میں سوائے تاجکستان کے سوویت دور کے کمیونسٹ رہنما برسر اقتدار ہیں اور ان کی پارٹیاں وہی پرانی کمیونسٹ پارٹیاں ہیں صرف نام انہوں نے بدل لیا ہے۔ان رہنماؤں کے خلاف جو بھی لوگ اٹھتے ہیں انہیں اسلامی شدت پسندوں کا نام دے دیاجاتا ہے۔اور انہیں کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اصل کشمکش سیاسی اور اقتصادی ہے۔پھر دراصل اقتصادی وجوہات کی بناء پر وسط ایشیا کی جمہوریاؤں میں نسلی اور علاقائی کشمکش بڑھ رہی ہے جس کا اظہار دو سال قبل کرغیزیہ میں ازبکوں کے خلاف فسادات میں نمایاں تھا۔گو وسط ایشیا کے مسلمانوں کوروس کے مسلمانوںسے وابستہ نہیں کیا جا سکتا لیکن وسط ایشیا پر اب بھی روس کا زبردست اثر اور غلبہ ہے لہذا اس علاقے کے مسلمانوں اور ان کے مسائل کو روس کے مسلمانوں اور ان کے مسائل سے جد انہیں کیا جا سکتا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *