مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں میڈیا کی دخل اندازی ناقابل برداشت

مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی میڈیا کوعادت سی پڑ گئی ہے ۔وہ کسی نہ کسی بہانے سے مسلمانوں کو ایک الگ تھلگ قوم بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں ۔اس کے لیے انہیں اسلام دشمن طاقتوں سے فنڈ حاصل ہورہے ہیں یا نہیں اس بات کی تحقیقات کی جاسکتی ہے،مگر حالیہ عرصہ کے دوران ایسے جتنے بھی واقعات جس میں ہندوستانی مسلمانوں یا ان کی مذہبی اور سیاسی قیادت کے خلاف پروپگنڈہ کیا گیا اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ایک منظم اور منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت میڈیا مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کرنا چاہتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈیا پرصہیونی طاقتوں کا کنٹرول ہے ۔یہ صہیونی طاقتیں ہندوستان کی دائیں بازو کی شدت پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازش میں سرگرم ہیں اور یہ طاقتیں ہندوستانی میڈیا پر بھی اثر انداز ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کبھی بھی میڈیا نے مسلمانوں کے مثبت اور تعمیری پہلو کو پیش نہیں کیا ۔ان دنوں کشمیری لڑکیوں کا راک بینڈ (Rock band) موضوع بحث ہے ۔کشمیر بلا شبہ ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہے یہ ہر ہندوستانی شہری کا ایقان ہے ۔اس کے باوجود کشمیر کو خصوصی دستوری موقف حاصل ہے ۔کشمیر کے لیے ہمسایہ ملک سے چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور وقتاً فوقتاًجھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔کشمیر جو کبھی جنت ارضی تسلیم کیا جاتا تھا آج جہنم ارضی بنا ہوا ہے ۔اس کاالمیہ یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔یہ سچ ہے کہ کچھ کشمیری پاکستان نواز ہیں اور اکثریت خود مختاری کا مطالبہ کر رہی ہے اور بیشتر ہندوستانی دستور اور قانون کے پابند ہیں۔کشمیر فرقہ وارانہ اتحاد کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا مگر دشمن عناصر نے منصوبہ بند طریقے سے یہاں انتشار پیدا کیا ہے ۔اکثریت پسندی کو فروغ دیا۔دہشت گردی کے واقعات پیش آئے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک منظم طریقے سے کشمیری پنڈتوں کو اپنے وطن سے جلاوطنی کے لیے آمادہ کیا گیا۔حالانکہ کشمیری مسلمانوں سے کشمیری پنڈتوں کو کبھی نقصان نہیں ہوا مگر ان کشمیری پنڈتوں کی آڑ میں کچھ عناصر کشمیر کے حالات کا استحصال کرتے رہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہندوستانی فوج اور پولیس نے مقامی عوام پر با لخصوص نوجوانوں اور خواتین پر جو مظالم ڈھائے اس پر انسانیت کی تاریخ شرمندہ ہے ۔ حقوق انسانی کی علمبردار تنظیمیں اعداد و شمار کے ساتھ دنیا کو حقائق سے واقف کراتی رہیں مگر کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔دنیا نے کشمیری نوجوانوں کے انتشار کی مذمت توکی مگر اس انتشار کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔تعلیم سے دوری ،بے روز گاری ،مسلسل کرفیو،مہنگائی ،پولیس کا متعصب رویہ ان نوجوانوں کے ذہنی انتشار کا سبب بنا ۔ہندوستان کے دوسرے خطوں میں جب نوجوان اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرتا ہے تو اسے ایک نئے انقلاب کا نام دیا جاتا ہے ،مگر جب یہی آواز بے روزگار ،حالات کا شکار ،مصیبت زدہ کشمیری نوجوان بلند کرتے ہیں تو اسے بغاوت کا نام دیا جاتا ہے ۔دہلی گینگ ریپ پر نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا تڑپ اٹھی جب کہ کشمیری دوشیزاؤں اور خواتین کی عصمتیں قانون کے مخالفین لوٹتے رہے ۔نوجوانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی ہوتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر ملک سے غداری کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس وقت بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں اور ایسا کوئی واقعہ پیش آجائے جو مسلمانوں یا کشمیری مسلمانوں کے داخلی یا مذہی معاملات سے تعلق رکھتا ہے تو یہ حقوق انسانی کے علمبردار خدائی فوج دار بن کر ان کی وکالت کرنے لگتے ہیں۔ کشمیری مسلم لڑکیوں کے راک بیانڈ کی کشمیری مسلمانوں نے مخالفت کی اور کرنی بھی چاہیے کیونکہ مذہبی اعتبار سے رقص اور گانا بجانا حرام ہے ۔خواتین کو تو ہدایت دی گئی ہے کہ ان کی آواز نا محرم نہ سنیں ۔اگر یہ راک بینڈ ہندوستان کی کسی بھی ریاست کا ہوتا تب بھی وہ مسلمان اس کی مخالفت کرتے جو واقعی مسلمان ہیں ۔صرف مسلم نام رکھنے والے نام نہاد قائدین ،سماجی خدمت گزاروں کا اسلام سے یا مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،کشمیری مسلم لڑکیوں نے مفتی اعظم کشمیر کے فتوے کا احترام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس راک بینڈ سے دستبردار کرلیا اور مبینہ طور پر ریاست سے دوسری ریاست کو چلے گئے ۔جب فنکار خود اپنے مذہبی اقدار ،اصولوں کا احترام کر رہے ہیں تو میڈیا کو خواہ مخواہ ان کی فکر اور تشویش کیوں ؟نیشنل ٹی وی چینل نے جس طرح سے اس معاملہ میں ٹانگ اڑائی ہے اورمفتی اعظم کے فتوے کے خلاف اور لڑکیوں کے گانے بجانے اور رقص کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے ،وہ قابل مذمت ہے ۔یہ سراسر مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی ہے اسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ ایسے ٹی وی چینلس کے خلاف قانونی کارروائی کرے ۔کیوں کہ یہ مسلمانوں سےمتعلق منفی رائے عامہ ہموار کرنے ،انہیں گمراہ ،جاہل ،جلا د قرار دیے جانے کی کوشش ہے۔اسلام ہر دور کا مذہب ہے اس نے عورت کے مقام کو عظمت کی بلندی تک پہنچایا۔اس نے تعلیم نسواں کو بھی فرض قرار دیا مگر(بے لگام) آزادئ نسواں کی حمایت نہیں کی۔آج تعلیم نسواں اور ترقی نسواں کے نام پر عورت کو جس طرح سے ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے ہر خطے میں عورت کو اپنے مساوی حقوق اور آزادی کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔اسلام نہیں چاہتا کہ عورت رسوا ہو بلکہ وہ قابل احترام ہستی رہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی بھی گلو کاروں اور رقاصاؤں کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ ہی کبھی انہیں قوم و ملت کا اثاثہ سمجھا۔مسلم نام کے مرد و خاتون فلمی اداکار،گلو کار اور ایسے فنکاروں پر فخر کا اظہار نہیں کیا جا سکتا جن کا فن اسلامی تعلیمات کے منافی رہا۔گلوکاراؤں ، رقاصاؤںکو مسلم معاشرہ میں حقارت کی ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیوں کہ بعض مذاہب میں ناچ گانا مذہبی معاملات کا ایک جز ء ہے اور اسے کلا یا فن کا نام دیا جاتاہے مگر اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اگر اس سلسلہ میں میڈیا یا نام نہاد دانشور بعض مسلم ممالک کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہاں بھی رقص و سرود ، نغموں کی محفلیں ہوتی ہیں اور ان ممالک میں بھی گلوکار اور رقاص موجود ہیں تویہ وہ ممالک ہیں جو مغربی تہذیبی اثرات کو قبول کرتے ہوئے ان کے ذہنی غلام بن چکے ہیں ۔جہاں تک ہندوستانی مسلمانوں کا تعلق ہے ناچ گانے کو آج بھی وہ مقام نہیں دیا گیا جو دوسری اقوام میں دیا جاتا ہے ۔آج بھی گانے والی عورتیں میراثن اور مرد گویے ہی سمجھے جاتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ بیشتر مسلم نام کے فنکاروں نے اپنے آپ کو مذہب سے دور رکھا اور ہمیشہ فن کی دیوی دیوتاؤں کے آگے سر جھکائے۔مثال کے طور پر استاد بسم اللہ خاں جنہیں شہنائی نوازی پر بعد از مرگ بھارت رتن کا ایوارڈ دیا گیا ،سرسوتی دیوی کے پجاری رہے۔
یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت فلم بین ہیں ،موسیقی اور گلوکاری سے دلچسپی رکھتی ہے مگر یہ ان کے اپنے انفرادی اور ذاتی معاملات ہیں ۔وہ اجتماعی طور پر ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کر سکتی جس سے ان پر گناہوں کا بوجھ بڑھ جائے ۔کشمیری راک بینڈ پر امتناع عائد کیا جانا ،اصلاح معاشرہ کا ایک اہم اقدام ہے ۔یہ طالبانی یا دہشت گردی کا عمل نہیں ہے ۔بلکہ اپنے معاشرہ کوپاک و صاف رکھنے کا قابل ستائش اقدام ہے ۔چاہے ہم کسی بھی ریاست میں رہتے ہوں اپنی اولاد کو ناچ گانے سے دور رکھنےکی کوشش کرنی چاہیے ۔افسوس اس بات کا ہے کہ بچہ ابھی امی ابابھی کہنے کے قابل نہیں ہوتا مگر فلمی دھنوں پر ڈانس کرنے کے قابل بن جاتا ہے ۔شہر کے مشہور و معروف نام نہاد مسلم انتظامیہ کے تحت چلائے جانے والے تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو والدین اس لیے شریک کرواتے ہیں کہ بچہ عصری اور دینی تعلیم حاصل کرے اور اس کی دنیا اور آخرت سنور جائے ۔ان اداروں میں سالانہ جلسوں کے موقع پر چار سال کی عمر سے ہی کلچرل پروگرام کے نام پر بچوں کو گانا بجانا سکھایا جاتا ہے ۔بے غیرت والدین خوش ہوتے ہیں اور اپنے موبائل پر فلم بندی کرتے ہیں ،بچوں کی ذہنیت یہیں سے ناچ گانے کی طرف مائل ہوتی ہے بچے تو خیر کسی طرح سے سنبھالے جا سکتے ہیں مگر بچیاں بچپن ہی سے ناچ گانے کی طرف مائل کی جائیں ، ان کے والدین ان کی حوصلہ افزائی کریں تو آگے چل کر ان لڑکیوں کو بے راہ روی سے کیوں کرروکاجا سکتا ہے ۔اگر اولاد کی صحیح تربیت کرنی ہے تو اسی عمر سے کی جانی چاہیے جب ان میں اچھے اور برے کی تمییز نہیں ہوتی ،جب ان کا حال نازک سی ٹہنی کی طرح ہوتا ہےجو جدھر چاہے موڑ دی جا سکتی ہے ۔بہر حال مسلم لڑکی کے گانے بجانے پر اگر مسلم معاشرہ ہی پابندی عائد کرتا ہے تو دوسروں کو اعتراض کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔اگر وہ اعتراض کرتے ہیںتو یہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی ہے ،جسے قطعی برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ٹی وی چینلس نے راک بینڈ کے معاملے کو لے کرایک ملک ایک قانون کا نعرہ لگا یا ہے ۔ ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کے دستور اور قانون کا احترام کرتے ہیں ،اسی دستور اور قانون نے انہیں مذہبی آزادی دی ہے اور مذہبی معاملات میں شرعی قانون دنیا کے ہر دستور اور قانون سے بالا تر ہے ۔ماضی میں بار بار مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی جاتی رہی ،ہر بار مسلمانوں کوپرچم توحید تلے متحد ہو کر یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہمارا شرعی قانون جان سے زیادہ عزیز ہے ۔کوئی بھی اس میں دخل اندازی نہیں کر سکتا ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *