مغرب کی جنگ ہمیں لڑنے کے لیے کون اکسا رہا ہے ؟

۱۵ ؍فروری نئی دہلی میں’اکیسویں صدی میں ہندوستان اور مسلم دنیا‘کے موضوع پر منعقد ہ کانفرنس میں مرکزی وزیر محترم ہریش راوت نے بڑی خوش کن تقریر کی جس میں مسلمانوں کو خوش کرنے والا سارا مسالہ تھا۔ سنگھ پریوار کو شیطان کہا ؛بی جے پی کو ہلّا گلاّ بریگیڈ کہا ؛بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر بھی آنسو بہائے ؛پروہت، پرگیا کا بھی ذکر کیا ؛مسلمانوں کی ہمہ جہت تنزلی کا بھی ذکر ہوا ؛ ہندوستانی مسلمانوں کی وفاداری پر بھی مہر تصدیق لگائی۔مگر یہ سب تو پچھلے ساٹھ سالوں سے ہوتا آرہا ہے۔ محترم وزیر نے ارشاد فرمایا کہ انتہا پسند طاقتوں کا زور کم ہو رہا ہے یہ بات عملاً سمجھ میں آنی مشکل ہے۔ہو سکتا ہے اس کے اظہار کا طریقہ بدل گیا ہو ورنہ عملاً جہاں بھی مسلمانوں کا نظام سے واسطہ پڑتا ہے معلوم ہو جاتا ہے کہ ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔ خود حکومت کے کلیدی اداروں کے رویہ کے بارے میں روزانہ کا تجربہ سب کو ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں دھولیہ میں کانگریس حکومت میں پولیس والوں کے ذریعہ سیدھا سیدھا مسلمانوں پر فائرنگ اور اویسی / توگڑیا معاملہ میں کانگریسی انتظامیہ کے دوغلے رویےسامنے کی مثالیں ہیں۔ خود مسلم ممالک سے تعلقات کے معاملے میں ہمارے محکمہ خارجہ کے ذمہ داروں کی پالیسی، میڈیا اور وزراء کا رویہ بھی عجیب و غریب اور ملکی مفادات کے بجائے ناگپوری رجحانات کی پرورش والا ہوتا ہے۔ ۱۲؍ فروری کو ہی وزیر دفاع محترم اے کے انٹونی نے IDSAکی ۱۵ ویں ایشین سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۲۰۱۲ء میں ہندوستان میں باہر کام کرنے والے ہندوستانی ۷۰ ارب ڈالر کما کر بھیجتے ہیں جس میں سے بیشتر رقم خلیج سے آتی ہے (واضح رہے کہ خلیجی مسلم ممالک میں لگ بھگ 35-40لاکھ ہندوستانی بر سر روزگار ہیں )اس رقم سے چار کروڑ کنبوں کی کفالت ہوتی ہےاور مقامی سطح پر خوشحالی آئی۔ خلیجی ممالک سے ہندوستان کا 2011-12میں ۱۴۵ کروڑ کا کاروبار ہوا(راشٹریہ سہارا، نئی دہلی 14-02-2013)۔
وطن عزیز کے ساتھ مسلم ممالک کے اتنے مفید اور باہمی تعاون کے باوجود ملکی میڈیا، ہمارے عام لیڈران، ہمارے پالیسی ساز افسران عوام میں اپنی تقاریر، مقالے اور ٹی وی پر بحث و مباحثہ کے ذریعہ مسلم ممالک کو ایک طرح سے ملزم بنا کر یا ہندوستانی دشمن بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس دفاعی معاہدوں کے ذریعہ ہتھیار فروخت کر کے اربوں روپیہ کمانے والے ممالک امریکہ، روس، برطانیہ،اسرائیل، فرانس کی تعریف کرتے ہیں۔اسرائیل میں کتنے بھارتیوں کو روزگار ملا ہوا ہے ؟ اسرائیل میں بھارت سے کیا سامان جاتا ہے ؟امریکہ اور یورپ میں تجارت کا توازن کس کے حق میں ہے ؟اس کے باوجود یہی ادارہ ان تمام ممالک کو سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھتا ہے۔ ہمارے خارجہ پالیسی بنانے والے خصوصاً9/11کے بعد امریکی /اسرائیلی ذہنیت سے خارجہ پالیسی بنا کر اپنے ملک کے لیے دشمنوں کی تعداد بڑھانے کا کارنامہ انجام دے کر ناگپوری/ سنگھی ایجنڈہ کو فروغ دے رہے ہیں۔ظاہر ہے اس مدت میں لگ بھگ دس سال کانگریس کے کھاتے میں بھی ہیں، جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم، ہمارا میڈیا،ہمارے افسران اور لیڈران کی ایک قلیل تعداد خارجہ پالیسی کو مسلم/اسلام دشمن بنا رہی ہے اور جن کے اشارے پر یہ بنارہی ہے وہ خود مسلم ممالک میں اپنی پالیسیاں بدل رہے ہیں اور پس پردہ ڈپلومیسی کے راستے اپنے نام نہاد دشمنوں ایران،حماس، طالبان،اخوان المسلمین سب سے رابطہ میں ہیں۔امریکہ نے آج بھی چین کو MNFنہایت ترجیحی اہمیت کے ملک کا درجہ دے رکھا ہے۔برما سے ہمیشہ رابطہ بنا کر رکھا۔ مگر بھارت کو چاہتے ہیں کہ وہ حماس، اخوان المسلمین، ایران ہر ایک سے دور رہے، ان سے رابطہ نہ رکھے۔ طالبان کو دشمن سمجھے، جب کہ امریکہ خود طالبان سے مسلسل ربط میں ہے بلکہ ایک طرح کی مفاہمت ہو گئی ہے، مگر بھارت کے سنگھی پالیسی ساز یہاں کے ملکی مفادات کے بر عکس بنگلہ دیش، مالدیپ،مالی، سوڈان،فلپائن،فلسطین ہر جگہ نام نہاد مسلم جہادیوں اور انتہا پسندوں کے خلاف پالیسیاں بنا کر بھارت کے لیے دشمنوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ مالی میں فرانس کی جنگ لڑنے کا بوجھ ہم نے کیوں قبول کیا؟افغانستان میں ہم نے اربوں روپیہ وہاں ترقیاتی اور عوامی کاموں پر خرچ کیا مگر اب امریکہ اور برطانیہ دونوں نے ہندوستان کو کنارے کر کے پاکستان اورطالبان سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں، جب کہ طالبان کو ہمارا دشمن بنا دیا گیا ہے۔ یہ کیسی ڈپلومیسی ہے کہ ہم وہاں اربوں روپیہ خرچ کر کے بھی عوام کی اکثریت کا دل نہیں جیت سکے، ہمیں اپنی حفاظت کے لیے خود اپنی سیکورٹی فورسیز کو وہاں رکھنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ اپنے آپ کو مسیحا بنا کر ہمیں Villainبنا رہے ہیں۔ عراق میں اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ بش سینیر نے عراق تباہ کرنے کے بعد تعمیر نو کے کام کے لیے اربوں ڈالر کے ٹھیکے صرف یورپ کو دلوائے بھارت کے لیے خصوصی طور پر منع کیا گیا کہ ٹھیکہ نہیں ملے گا۔ حماس سے جرمنی، برطانیہ، فرانس سب بات کر رہے ہیں ہم نے اچھوت بنا رکھا ہے۔ حماس نے بھارت کا یا کسی بھی بے گناہ کا کیا بگاڑا ہے؟غزہ کی حالیہ بمباری میں ۲۷۰کے لگ بھگ شہادتیں ہوئیں جس میں بی بی سی کے رپورٹر کے چھ ماہ کے بچے سے لے کر ایک خاندان کے چھ چھ بچے بھی شامل تھے۔مگر ہماری طرف سے کیا ذو معنی بیان جاری کیا گیا جس میں ظالم اور مظلوم دونوں کو ایک پلڑے میں رکھ کر تشدد سے بچنے کا وعظ فرمایا گیا۔ ایک ملالہ پر ہنگامہ کرنے والا ہمارا میڈیا بھی فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش رہا۔ اس کے بر عکس اگر معاملہ کہیںاور ہو جاتا ہے تو ہماری پالیسی اور رویہ دوسرا ہوتا ہے۔ سوڈان کے دو ٹکڑے صرف مذہبی بنیادوںپرسازش کے تحت کرائے گئے، ہم نے جنوبی سوڈان(عیسائی سوڈان)میں ہی اپنے اعلی ترین نمائندوں بشمول نائب صدر جمہوریہ کوبھیجا، مگر شمالی مسلم سوڈان سے ہم نے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا، جب کہ کیا سوڈان کی ہی طرح دوسرے ممالک کے بھی اتنی آسانی سے ٹکڑے کیے جا سکتے ہیں؟چیچنیا،سنکیانگ میں ہم یہ فارمولا نہیں لاگو کرتے مگر انڈونیشیا اور سوڈان میں لاگو کرتے ہیں۔یورپ اور امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں کٹر سے کٹر مخالف سے بھی کسی نہ کسی درجہ کا رابطہ بالواسطہ یا بلا واسطہ رکھتے ہیں مگر ہمارے پالیسی ساز خاص طور سے مسلم ممالک سے لاپرواہی، بے اعتنائی اور دشمنانہ رویہ سے ہی پیش آتے ہیں۔مشہور کہاوت ہے کہ سارے انڈے ایک ہی باسکٹ میں نہ رکھو،مگر ہمارے پالیسی ساز سارے انڈے مسلم مخالف گروہ کی باسکٹ میں رکھتے ہیں۔مصر کے انقلاب اور انتخابات میں ہمارے میڈیا پر کیا کیا خیالات اخوان کو لے کر ظاہرکیے گئے سب کو معلوم ہے۔ ہماری حکومت کا رویہ بھی مجبوری اور سرد مہری کا ہی تھا۔اس کے بر عکس ہلیری سمیت امریکی عہدیدار لگاتار مصر کے دورہ پر رہے۔ کیا اخوان کے آنے سے امریکہ سے زیادہ بھارت کا نقصان ہوگا؟جب کہ خود اسرائیل بھی اتنی دوری نہیں برت رہا ہے اور نہ اخوان دوری برت رہے ہیں۔ اخوان نے تو ہند سے الیکشن کے انعقاد میں اپنی مہارت کا تعاون بھی مانگا مگر ہمارا مجموعی رویہ کیسا رہا؟اب اگلے مہینہ خود مرسی یہاں آرہے ہیں یہاں سے کوئی نہیں جارہا ہے ؟(مرسی تو آکر چلے بھی گئے مگر اس وقت بھی نیشنل میڈیا نے ان کی آمد اندرونی صفحات پر ہی دینے پر اکتفا کیا۔ ادارہ)اگر ہم یہ کہیں کہ ہم انتہا پسندوں کو بات چیت کے لائق نہیں سمجھتے تو خود ہمارے ملک کے انتہا پسندوں سنگھ پریوار کے خلاف ہمارا رویہ کیا ہے ؟
دنیا میں بین الاقوامی قوانین کی سب سے زیادہ دھجیاں اڑانے والے ملک اسرائیل میں سب سے زیادہ انتہا پسندوں کی حکمرانی ہے، مگر وہ ہمارا قدرتی حلیف بتایا جا رہاہے۔ہر سطح پر میڈیا سے لے کر سرمایہ دار،عوام اور حکومت تک سبھی اسرائیل کو اپنا ہمدرد مانتے ہیں۔ اٹلی اور جرمنی دونوں جگہ انتہا پسندوں کی حکومت ہے، میانمار میں فوجی آمریت ہے مگر سب سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔آنے والے اتھل پتھل اور سماجی تبدیلیوں اور عوامی ابھار کے دور میں مسلم ممالک میں بھی تبدیلیاں آئیں گی ان سے نمٹنے کے لیے اور بھارت کے ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے اور توسیع کے لیے ہماری لیڈر شپ کو تعصبات سے اوپر اٹھ کر حقائق کی روشنی میں مسلم ممالک سے تعلقات بنانے ہوں گے، ان تعلقات کو نفرت آمیز سنگھی ذہنیت کے ہاتھوں میںدے کر ملک خواہ مخواہ اپنے لیے دشمن پیدا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔مغربی دنیا اپنی دشمنیاں ہمارے سر منڈھ کر خود دونوں ہاتھ میں لڈو لے رہی ہے اس سازش کو ہمیں سمجھنا ہوگا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *