یہ اندھا ،بہرہ انصاف!

بچپن سے سنا کرتے تھے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے اور مختلف مقامات پر انصاف کی دیوی کو ہاتھوں میں ترازو لیے آنکھوں پر پٹی باندھے دیکھا بھی تھا ،چونکہ دیوی جی نے ساڑی پہن رکھی تھی اس لیے گمان یہی تھا کہ انصاف کا یہ ہندوستانی تصور ہو سکتا ہے ۔وگرنہ اسلام کا تصور تو یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص اس حال میں آئے کہ اس کی ایک آنکھ پھوٹی ہو تو اس معاملہ میں فیصلہ مت کرو جب تک کہ دوسرے شخص کو نہ دیکھ لو ۔ہو سکتا ہے یہ اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ کر آیا ہو ۔مگر تصور انصاف بھی کس طرح مذہبی و فرقہ وارانہ لباس اوڑھ لیتا ہے اس کا اندازہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے ہوتا ہے جو اس نے حال میں مارچ ۹۳ء کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلہ میں دیا ہے اس فیصلہ کو سننے کے بعد بچپن کے تصور میں ایک اور اضافہ ہو گیا ہے کہ انصاف نہ صرف اندھا ہوتا ہے بلکہ بہرہ بھی ہوتا ہے اور کانوں کا یہ بہرہ پن اسی قدر بڑھتا چلا جاتا ہے جس قدر انصاف کی دہلیز اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ۔
۹۳ء کے بم دھماکوں پر فیصلہ کا زبردست خیر مقدم کیا گیا ،البتہ اس بات پر بڑے دکھ کا اظہار کیا گیا کہ انصاف میں اس قدر تاخیر ہوگئی ۔سپریم کورٹ کی اس بات پر بھی واہ واہی کی گئی کہ اس نے ۱۲ میں سے ۱۱ لوگوں کی پھانسی کی سزا تا حیات قید میں تبدیل کر دی ۔حالانکہ جو لوگ جیل کے مرحلوں سے گزر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ تا حیات قید کا فیصلہ پھانسی سے بھی زیادہ اذیت ناک ہے ۔ پھانسی ہونے پرکم از کم غم دنیا سے تو چھٹکارا مل ہی جاتا ہے جب کہ ہندوستانی جیلوں کی ہر شب قبر کی بھیانک تاریکی کی یاد دلاتی ہے اور انسان زندہ درگور ہو جاتا ہے۔
لیکن کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ سپریم کورٹ نے ایسا کسی رحم دلی کی بنا پر کیا ہے ،بلکہ ہمارے نزدیک یہ اس قانون کا شاخسانہ ہے جس کے تحت ان سب کومجرم قرار دیا گیا ہے ،یعنی TADA۔کسی بھی انسداد دہشت گردی قانون کی خوبی یہی ہے کہ اس میں محض اقبال جرم ہی ثبوت کے لیے کافی ہے اور ہندوستانی پولیس اقبال جرم کرانے میں مہارت رکھتی ہے اس کا انداہ خود قانون کو بھی ہے کہ سوائے مخصوص قانون کے عام IPCدفعات کے تحت پولیس کے سامنے اقبال جرم کو ثبوت نہیں مانا گیا ،چنانچہ پوری چارج شیٹ ،مقدمات ،نتائج،تفصیلات کانو ّے فیصد حصہ اقبال جرم پر ہی مبنی ہے۔اسی لیے ماہر قانون سولی سوراب جی نے بجا طور پر سپریم کورٹ کو یہ مشورہ دیا کہ اسے پڑوسی ملک یعنی پاکستان کے رول پر کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے اسے حکومت پر چھوڑنا چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے میں کیا رویہ اختیار کرے۔انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جتنی سخت سزا ہو اسی قدر پختہ ثبوت ہونے چاہیے،مگر انسداد دہشت گردی قوانین جو دراصل حکومتی دہشت گردی کی ایک خوبصورت شکل ہے اس کے ذریعہ سخت سے سخت سزا کے لیے کسی ثبوت کی بھی ضرورت نہیں ہے محض اعتراف جرم پر ملزم کے دستخط ہی کافی ہیں۔ سپریم کورٹ کو چونکہ انصاف کی کچھ تو لاج رکھنی ہی پڑتی اس لئے اس نے ان کی پھانسی ختم کرکے ایک تیر سے کئی نشانے لگا لئے۔
یہ اور اس طرح کی بہت سی تکنیکی خامیاں مختلف نظائرکے ساتھ پیش کی جا سکتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی دہشت گردی کے اس خاکہ میں کس طرح عدلیہ اندھی بہری ہو کر محض پولیس یا حکومت وقت کی فراہم کردہ معلومات میں انصاف کا رنگ بھرتی ہے۔سپریم کورٹ نے اس پورے معاملہ میں جس سختی اور قانون کی پاسداری کا رویہ اختیار کیا ہے اس کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے جو اس نے مختلف ریویو پٹیشن پر آرڈر میں کیا ہے۔
مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی ملک ،ایک ہی شہر اور ایک ہی طرح کے لوگوں کے بارے میں محض مذہبی تفاوت کی وجہ سے انصاف میں کس قدر تفاوت دکھائی دے رہا ہے ۔اقبالی جرم کی بنیاد پر پاکستان پر فیصلہ کرنے والا سپریم کورٹ بمبئی بم دھماکوں کے محرکات پر بالکل خاموش دکھائی دے رہا ہے ،جب کہ خود پولیس نے اپنی جارج شیٹ میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ دھماکے کس عمل کا رد عمل تھے۔حالانکہ محرکات motivesکا رول قانون کے نفاذ میں اس قدر اہم ہے کہ صرف محرک کے بدل جانے سے گناہ ثواب اور جرم انعام بن جاتا ہے۔ ایک شخص کسی بے گناہ کی جان لیتا ہے تو دیگر جا نوں کی حفاظت کے نظریہ سے اس شخص کو حکومت پھانسی دے دیتی ہے، لیکن اس شخص کی جان لینے والی حکومت یا عدالت کو قاتل نہیں کہا جا سکتا کیونکہ حکومت کا محرک دیگر بے گناہوں کو مزید ہلاکت سے بچانا ہے۔ ا سی طرح اپنے دفاع میں کیا ہوا قتل کسی کو مجرم نہیں بنا دیتا۔
۱۳؍مارچ ۱۹۹۳ء کو جو ہوا اسے بجا طور پر Black Fridayکے نام سے فلمایا گیا ہے ۔ مگر دسمبر ۹۲ء سے لے کر فروری ۹۳ء تک اسی شہر بمبئی میں مسلمانوں پر ظلم کا جو پہاڑ توڑا گیا ہے اس پر سب خاموش ہیں۔خود سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج سری کرشنا نے جس طرح اس کا تذکرہ کیا ہے اسے سن کر دل دہل جاتا ہے ۔کمیشن نے نام لے لے کر ۳۷؍پولیس اہلکار وں کو مسلمانوں کو قتل کرنے ، انہیں ستانے ،ا ن کی عصمت دری کرنے ،ان کو لوٹنے اور جلانے کا مرتکب قرار دیا ہے ۔شیو سینا کے سابق چیف بال ٹھاکرے (جو اب اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے رب کریم کے پاس پہنچ چکے ہیں)کے بارے میں واضح طور سے لکھا ہے کہ وہ عوامی بھیڑ کی اس طرح قیادت کر رہے تھے کہ جیسے کوئی جرنیل اپنی فوج کو بزنarge) (Chکاحکم دیتا ہے۔ایک ہزار سے زائد مسلمان شہید کئے گئے ، ہزاروں آبروئیں لوٹی گئیں ،کروڑوں کے کاروبار تباہ ہوئے جو نتائج کے اعتبار سے اربوں سے بھی زیادہ کے نقصان پر منتج ہوئے۔مسلمانوں کے کسی فرقہ ، مسلک،نسل میں تفریق نہیں کی گئی اور یہ صرف ممبئی میں نہیں ہوا۔ بھوپال ،سورت اور نہ جانے کتنے سیاہ باب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ۔
کہنے کو اس وقت بھی TADAکا قانون تھا ۔اول تو FIRتک درج نہیں ہوئی اور اگر ہوئی بھی تو IPCکی غیر اہم دفعات کے تحت اور آج تک اس میں کسی کو مجرم نہیں قرار دیا گیا اور نہ ہی کوئی حوالات میں ہے ،بلکہ نامز پولیس کے ملزمین کو یکے بعد دیگرے مختلف حکومتوں نے ترقی دی اور دیگر لوگوں کو بھی ترقی و انعامات سے نوازا گیا ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دسمبر ۹۲ء تا فروری ۹۳ء تک چلنے والے اس یک طرفہ قتل عام کا محرک کیا تھا ،مسلمانوں کا وہ کون سا قصور تھا جس کے لیے قانون کی وردی اور قانون کا تاج پہننے والوں نے بلا تفریق منصوبہ بند طریقے سے منظم انداز میں مسلمانوں کا قتل عام ،ان کی آبرو ریزی ،کاروبار اور رہائش کی آگ زنی کو پورے ۷۰ دنوں تک حلال کر لیا ۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہزار سے زائد لوگوں کو بغیر کسی اشتعال انگیزی یا قصور کے شہید کرنے والوں ،ہزاروں عصمتوں کو تار تار کرنے والوں،لاکھوں کو بے گھر کر دینے والوں پر تو سرے سے کوئی FIRہی نہیں یا اگر ہے تو IPCکی معمولی دفعات کے تحت لیکن اس ظلم کا شکار ہو کر ایک شخص رد عمل کے طور پر چند دھماکے کرتا ہے جس میں اپنے کچھ ملازم یا بقول عدالت عظمی مہروں کا استعمال کر تا ہے جس کے نتیجہ میں بمبئی فساد ات کے مقابلہ ایک چوتھائی لو گ مارے جاتے ہیں؛ ان فسادوں سے کم نقصان ہوتا ہے اور الحمد للہ کوئی آبرو تار تار نہیں ہوتی ان پر TADAجیسا قانون لگتا ہے ،آخر اس کی کیا وجہ ہے !
ایک وجہ تو وہی ہو سکتی ہے جو آقائے نامدار نے بیان کی ہے ،ابھی بوسٹن میں ہونے والے دھماکوں پر بیان جاری کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ اب تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ آیا یہ دھماکے دہشت گردانہ تھے یا کسی مقامی گروپ یا فرد نے کیے تھے۔الفاظ اپنی تشریح آپ کر رہے ہیں مگر یہاں تو دھماکے کرنے والے ،فساد کرنے والے دونوں ہی دیسی تھے ،ہاں مذہب کا فرق ضرور ہے۔
ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ فسادیوں نے بارود اور آتشیں اسلحہ کا استعمال بہت کم کیا ۔لیکن ا گر ایک شخص گولی مار کر بھی قتل نہیں کر پاتا اور دوسرا شخص کلہاڑی سے ہی قتل کر دیتا ہے تو سزا کسے سخت ملے گی۔ قانون داں (رکھوالے یا قانون جاننے والے دونوں ہی )اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ تین ماہ میں دیسی طریقہ سے ہزاروں کو قتل کرنے یا ہزاروں کی عصمت دری یا لاکھوں کے آشیانے اجاڑنے اور صرف ایک دن میں آتشیں اسلحہ سے ربع سے بھی کم نقصان کرنے والوں میں کوئی جوہری فرق ہے یانہیں؟کیا مقدمہ قتل میں آلہ قتل زیادہ اہم ہے یا محرکات قتل؟!ایک کلہاڑی سے وار کرنے والے شخص سے بچاؤ میں اگر کوئی بندوق سے اسے زخمی یا قتل کر دیتا ہے تو صرف آتشیں اسلحہ کے استعمال کی وجہ سے ہی وہ مجرم بن جاتا ہے؟
ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دسمبر ۹۲ء تا فروری ۹۳ء تک ہونے والے فسادات کی سازش ،اس کی تنظیم، اس پرعمل درآمد سب کچھ ہندوستان کی سر زمیں پر ہوااور اس میں کسی غیر ملک سے کوئی مدد نہیں لی گئی ،جب کہ بم دھماکہ ملزمین نے پاکستان میں ٹرینگ حاصل کی ۔ISIنے تربیت دی ، اسلحہ سپلائی کیا اور وہیں پر سازش تیار ہوئی (حالانکہ یہ سب اقبالیہ بیان پر منحصر ہے)۔اس لیے اول الذکر فساد ہے جس پر IPCکی دفعات ہی لگ سکتی ہیں جب کہ مؤخر الذکر دیش دروہ ہے کیوں کہ اس میں دشمن سے مدد لی گئی ہے ۔حالانکہ اب تک دہشت گردی (آتنک واد )کی کوئی متعین تعریف نہیں کی گئی ہے ۔ورنہ اس تعریف کے تحت تو افراد سے زیادہ حکومتیں ہی آتنک واد ی قرار پائیں گی ۔خصوصاًہمارا ملک تو دنیا کے سب سے بڑے آتنک وادی کا حلیف ہے ،بلکہ بابری مسجد شہادت اور اس کے مابعد فسادات کی تحقیق ہی نہیں ہوئی ورنہ معلوم ہو جاتا کہ اس کی منصوبہ بندی میں اسرائیل کا کیا کردار ہے ۔ لوگوں کی یادداشت اگر کمزور نہ ہوگئی ہو تو انہیں یاد ہونا چاہیے کہ آخر نرسمہا راؤ کی حکومت میں یہاں پہلی بار ممبئی میں غیر رسمی طور پر اسرائیلی سفارت خانہ کھولا جانا، اس کے معاً بعد بابری مسجد کی شہادت اور دیگر منظم قتل عام ایک کھلا راز ہیں۔پھر جس طرح سے مسلمانوں کے کھلے ہوئے دشمن سے پوری ہندوستانی قیادت ،اڈوانی ،جیوتی بسو، BSFکے چیف،مختلف ڈپلومیٹس ،تاجر ،سیاست داں اسرائیل آجا رہے ہیں اسے کس درجہ میں رکھا جائے ۔اسرائیل کا جو عمل دخل کشمیر میں ہے ،جس طرح اس کے اشارے پر اور طریقے پر بے گناہ مسلمانوں سے جیلوں کو بھرا جا رہا ہے اب وہ راز نہیں ۔یہ وہ ملک ہے جس نے دنیا کے ہر ملک کے قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں ۔اور وہ وقت دور نہیںجب خود ہمارا ملک اس عفریت سے دوستی کا خمیازہ خودا سی کے ہاتھوں بھگتے گا۔مگر ملک کی ایک چوتھائی آبادی کے دشمن سے پینگیں بڑھا کر اپنی ہی آبادی کے چوتھائی حصے یعنی سب سے بڑی اقلیت کو الگ تھلگ کرنے کا یہ عمل کس وطن پرستی کے زمرے میں آتا ہے اس کو سمجھنے سے ہندوستان کا مسلمان قاصر ہے۔
ایک صاحب جو تازہ تازہ منصفی سے سبک دوش ہوئے ہیںاور اقلیتوں کے غم میں گھلے جا رہے ہیں؛ان کی زبان اور ان کی تہذیب کی حفاظت کے علم بردار ہیں حالانکہ جس وقت جج تھے اس وقت اسلامی تہذیب کی نوخیزو نرم داڑھی کے بال ان کے دل میں چبھ رہے تھے اور اب اردو کے ساتھ ساتھ سنسکرت کو زندہ کرنے کی بات کر رہے ہیں ،حالانکہ اردو مسلمانوں کی قربانیوں سے زندہ ہے اور ترقی پزیر ہے ،جب کہ سنسکرت پوری سرکاری مشینری کی طاقت لگا کر بھی قصہ ماضی بن چکی ہے۔ایسے میں محسوس ہوتا ہے کہ اردو کی گاڑی میں مسلمانوں کے خرچے سے سفر کر کے سنسکرت کے تن مردہ میں بھی جان پڑ جائے ۔چنانچہ سب سے زیادہ سنجے دت پر شور مچا کر اصل بات سے توجہ ہٹانے میں ان کا سب سے بڑا ہاتھ ہے ۔جب ہر طرف سے سوال جواب ہوئے تو حسن مطلع کی خاطر زیب النساء کو بھی ڈھونڈ لیا ۔افضل تو خیر کیا یاد آتے البتہ اب بھلر پر بھنگڑا ڈالنے کو تیار ہیں۔مقصد گولڈن ٹمپل اور اس کے بعد کے زخموں پر اشک ‘شوئی ہے۔ قانون کے ایسے ماہر اور اقلیتوں کے اتنے بڑے ہمدرد کے سر میں بھی اس معاملے میں کوئی ‘جو ں نہیں کاٹ سکی کہ آخر سپریم کور ٹ نے اس پورے معاملہ میں محرک کو کیوں نظر انداز کیا۔ یا بابری مسجد کی شہادت اور اس کےبعد ہونے والے قتل عام پر مرکز یا ریاست کو کوئی نوٹس کیوں جاری نہیں کیا۔ جاوید آنند کی زبانی یہ دجالی فیصلہ (One eyed justice, Indian Express) کیسے انصاف کہلا سکتا ہے ۔
ہو سکتا ہے کچھ لوگ جن کے اپنے دودھ کے دانت تو عرصہ ہوئے ٹوٹ گئے بلکہ ان کے پوتے بھی ماشاء اللہ سن بلوغت کو پہنچ گئے مگر اب تک ماں کی گود چھوڑ دینے کے باوجود دھرتی ماں یاد ھرتی پتر کے سہارے کے بغیر ان کو اپنا کوئی کام بنتا نظر نہیں آ تا، ان کو میری بات بری لگے اس خوف سے کہ ہمارے حق میں بولنے والا ایک شخص ناراض نہ ہوجائے۔ حالانکہ ایک ٹھیلہ چلانے والا بھی شام ہونے پر اپنے نفع نقصان کا اندازہ لگا لیتا ہے مگر مدینہ منورہ سے لے کشمیر و کنیاکماری تک کی ۱۴۰۰ ؍ سالہ تاریخ رکھنے والی قوم اپنے پرائے کا فرق کرنا تو دور کرنے اور کہنے والے میں بھی فرق نہ کر سکی۔یاایھا النبی حسبک اللہ و من اتبعک من المؤمنین کا ورد کرنے والے اللہ کی مددسے مایوس اور امت کی کارکردگی سے خوف زدہ نظر آتے ہیں اور ہر معاملہ میں کسی سہارے کے متلاشی رہتے ہیں اور ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں کہ کسی معاملہ میں اظہار حق یا غیر ت مندی کا ثبوت دینے سے وہ پھر یتیم نہ ہو جائیں۔ اتخشون الناس واللہ احق ان تخشوہ کا درس دینے والے بتان آزری کے خلاف منھ کھولنا تو دور ان کی بے جان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کرپاتے۔یہی وجہ ہے بابری مسجد قضیہ سے لے کر ممبئی دھماکوں پر فیصلے تک غیور ملت کو سراپا احتجاج بن کر ملک کی گلیوں اور چوراہوں کو بھر دینا چاہیے تھا مگر افسوس کسی کی وزارت ،کسی کی امارت ،کسی کی مسنداورکسی کا عیش چھین جانے کےخوف سے اللہ، رسول اور قرآن و حدیث کے نام پر ملت کو بے غیرتی کے جہنم میں دھکیل دیا گیا ہے۔اس کو بالکل بے حس کر کے دھیرے دھیرے اس کے اعضاء کی کتر بیونت ہورہی ہے اور اس میں شامل وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں میں قیادت ہے ۔ولکم فی القصاص حیاۃ کا چارٹر رکھنے والی قوم گاجر مولی کی طرح کاٹی جارہی ہے۔حب الدنیا اور کراہیۃ الموت ان کا وظیفہ بن چکا ہے ۔
حالانکہ رات جس قدر تاریک ہوتی جائےگی امید سحر اسی قدر بڑھتی جائے گی ،بچے سے جتنے سہارے چھنتے جائیں گے بچہ اسی قدر خود کفیل ہوتا جائے گا۔ایک غیرت مند کی موت قوم کے لیے حیا ت ثابت ہوگی،اور ظلم کا ہر تازیانہ فرعون کے تابوت کی کیل بنتا چلا جائے گا۔بھری ہوئیں جیلیں تحریک کی روح رواں ثابت ہوں گی اور راہ حق میں ہر ٹھوکر نئی رمق کا سبب بن جائے گی۔ (ان شاءاللہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *