یہ ترقی ہے یا خود فریبی!

آج ہندوستان کا شمار ترقی پزیر ملکوں میں کیا جاتا ہے اور یہ عنقریب ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ اس خوش گمانی کا اظہار بہت سے لوگ کرتے رہتے ہیں۔ کون نہیں چاہتا کہ اس کا ملک ترقی کرے؟ اگر ہمارے کسی حلقے کی طرف سے ا س خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ البتہ اگر یہی بات دعوے کے طور پر کہی جائے تو پھر دلیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ دعویٰ بے دلیل تسلیم نہیں کیا جاتا۔ کسی ملک کے بڑے بڑے شہروں میں فلک بوس اور کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیر اور تیز رفتار گاڑیوں کی دوڑ دھوپ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ جبکہ اس کی اسّی فیصد سے زائد آبادی دیہات اور ایسے چھوٹے شہروں میں رہتی ہے جہاں بنیادی ضرورتوں کا سامان بھی عام آدمی کو میسر نہ ہو۔ جس ملک کی پچاس فیصد سے زائد آبادی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہی ہو، اس کے بارے میں یہ احساس کہ وہ عنقریب ترقی یافتہ ملک ہی نہیں بن جائے گا بلکہ سُپر پاور کا درجہ حاصل کرلے گا ،ایک عامیانہ مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگرچہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ ہندوستان میں تعلیم کی شرح، دولت کی فراوانی، فوج کی پیشہ ورانہ استعداد اور سائنس و ٹکنالوجی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اور اپنے ارد گرد کے پڑوسیوں کو اپنی طاقت کا احساس دلانے میں ہم پہلے سے بہت آگے آئے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ یہ سب کچھ حاصل کرنے میں ہم نے کھویا کیا ہے؟ تعلیمی ترقی کی جس سطح پر ہم خود کو بلندی پر پاتے ہیں وہ کون سی تعلیمی ترقی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے کارفرما اور کارپرداز لوگوں کے سامنے ترقی و تعلیم دونوں میدانوں میں اپنا کوئی قومی اور ملکی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی اپنا وژن Vision ہے نہ نظریہ ۔ گذشتہ بیس سالوں میں صرف اتنا فرق ہوا ہے کہ ماسکو کے بجائے ہمارے لئے نیویارک مرکز توجہ بن گیا ۔ کل کسی شخص کو سوشلزم کا مخالف باور کرانے کے لئے ــــ’’امریکی ایجنٹ‘‘ کہا جاتا تھا اور آج مرکزی سرکا رامریکی آقائووں کے چشم و ابروکے اشاروں پر رقص کرتی نظر آتی ہے ۔ امریکی استعمار بلا واسطہ یا U. N.O.کے واسطے سے ایسے معاہدوںپر دستخط کرالیتا ہے جو نہ صرف ملکی مفاد کے سراسر خلاف ہوتے ہیں بلکہ قومی وقار کی بھی سراسر نفی کرتے ہیں۔ اگر ہندوستانی عوام کا سیاسی شعور بیدار ہو اور ان معاہدات کو پوری طرح منظر عام پر لایا جائے تو حقیقت حال کا صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھولنا نہیں چاہیے کہ انسان صرف مادی وجود ہی نہیں رکھتا اور نہ ہی اس کو جانوروں پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ بہت سی ضرورتوں میں حیوانات سے مشابہت کے ساتھ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے ایک خاص مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ وہ نیک و بد میں تمیز کرنے والی ایک ذی شعور ہستی ہے۔ اس کا اپنا اخلاقی وجود ہے اور وہی اس کا اصل جوہر ہے۔ اگر اس کے روحانی و اخلاقی وجود کو فراموش کردیا جائے تو اس کی ہستی کی نفی کے مترادف ہے۔ انگریزی کا ایک مشہور محاورہ ہے کہ ’’اگر دولت گئی تو کچھ نہیں گیا، اگر صحت گئی تو بہت کچھ چلاگیا لیکن اگر اخلاق و کردار نہ رہا تو سب کچھ چلا گیا۔‘‘ لہٰذا جس مادی ترقی کی قیمت انسان کے اخلاق و کردارکی تباہی یا بالفاظِ دیگر اس کے امتیازی وجود کی بربادی ہو تو اس کو ترقی سمجھنا گمراہی اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مصنوعی غذائوں کے ذریعہ کسی کا جسم فربہ کردیا جائے مگر اسے دل کا مریض یا ذہنی طور پر معذور بنا دیا جائے۔ آج کے دور ترقی میں ایسا ہی کچھ نوع انسانی کے ساتھ ہو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعلیم و ترقی کے جدید تصور اور اسکے برے نتائج کی تائید میں پوری طرح ناقابلِ قبول ہونے کے باوجود ایک ہی بات کہی جاسکتی ہے کہ سیکولر (لادینی) ریاستوں کے دائرۂ کار میں یہ نہیں آتا کہ وہ لوگوں کی تہذیب و اخلاق کو سنواریں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو نظریہ یا طرزِ حکومت انسان کے صحیح تصور ہی سے محروم و نا آشنا ہو اس کو قبول ہی کیوں کیا جائے؟ سرِ دست اس بحث کو ملتوی کرتے ہوئے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس تصور ترقی کو مسلط کرنے کے مادی فوائد بھی مغالطہ آمیز اور تباہ کن ہیں۔ تعلیم، علاج، انصاف کا روٹی، کپڑا اور مکان کی طرح بنیادی ضروریات میں شامل ہونا سیکولر حکومتوں میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ لفظی فرق کے ساتھ بنیادی حقوق کی ایک طویل فہرست ہے جن کے تحفظ پر جمہوری اور سیکولر حکومتیں شور و ہنگامہ جاری رکھتی ہیں۔ آج تعلیم و ترقی کے جس دل فریب تصور کو عوام اور حکومتیں دونوں ہی اپنائے ہوئے ہیں اس کے بعد مادی فائدے ہی کس حد تک حاصل ہوئے ہیں اس پرایک نظر ڈالتے چلیں۔ جس تعلیم کو ترقی کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے اس پر ایک خاص طبقہ کی اجارہ دار ی ہے جس نے تعلیم کو ایک پیشہ بنا دیا ہے۔ جبکہ ماضی میں یہ انسانی معاشرہ کا ایک قابل احترام شعبہ تھا۔ استاذ و شاگرد کا رشتہ اولاد و والدین کے رشتہ جیسا تھا۔ استاذوں کا اپنے شاگردوں سے مشفقانہ تعلق اور شاگردوں کے لئے ان کے اساتذہ اپنے خاندانی بزرگوں کی طرح واجب الاحترام تھے۔ مگر اب علم ایک جنسِ بازار ہے ۔ جس میں قوت خرید نہیں ہے وہ اس سے محروم رہ جا تا ہے۔ تعلیم کی نج کاری (Privatisation)کے نتیجہ میں شہروں ہی نہیں گاؤں دیہاتوں تک میں تعلیمی اداروں کی باڑھ آگئی ہے۔ یہ بجائے خود برا نہیں ہے اگر تعلیم کے مقاصد اور معیار کے تحت اپنا کام کریں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ ایک دھندا بن گیا ہے۔ کالجوں اور اسکولوں سے معقول تنخواہ پانے والے افراد ہی زیادہ تر کوچنگ سینٹر چلا رہے ہیں اور اسکولوں میں باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ بڑی حدتک معطل ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس کے آگے بدعنوانیوں کا پورا جال ہے۔اسکول ڈریس اور نصابی کتابوں پر کمیشن خوری، پکنک (سیر و تفریح) کھیل کود پر بچوں کا استحصال ہورہا ہے۔ کورس کی کتابیں فروخت کی جاتی ہیں، پڑھائی نہیں جاتی۔ ان کی جگہ ماڈرن پیپر اور کنجیوں کا ذیلی کاروبار ہے۔ غریب مزدوروں کے لئے ہی نہیں اوسط آمدنی رکھنے والوں کے لئے بھی تعلیمی اخراجات برداشت سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ قانونی بندشیں نادار بچوں کو تعلیم دینے والے اداروں کے لئے ہیں۔ معیاری انگلش میڈیم اسکولوں میں بے جا نفع خوری پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ یہ خیال عام ہے کہ ایک خاص معیار کے ہوٹل، اسپتال اور اسکول کھولناحددرجہ منافع بخش تجارت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے بھی بُرا حال شہروں کے( طبی) شعبے کا ہے۔ میڈیکل ڈگریاں لاکھوں روپے کے Donationکے عوض خریدی جاتی ہیں۔ اکثرو بیشتر اتنی رقم وہی لوگ خرچ کرتے ہیں جو پہلے سے کسی ایسے میدان کے کھلاڑی ہیں جہاں بے حساب دولت برستی ہے۔ رشوت خوری اور سود خوری جیسے ذرائع آمدنی رکھنے والے لوگ اس کو تعلیم کا خرچ نہیں کہتے بلکہ آئندہ منافع خوری کے لئے لاگت Investmentقرار دیتے ہیں تاکہ ان کے بعد ان کی اولاد تھری اسٹار اور فائیو اسٹار ہوٹلوں جیسے اسپتالوں کے ذریعہ سے بے تحاشہ دولت کمانے کے قابل بن سکے۔ ڈاکٹروں کی فیس کی کوئی حد نہیںہے۔ چھوٹے شہروں میں جس علمی سند کے بعد ڈاکٹر۱۰۰؍۱۵۰ روپے فیس لیتے ہیں اسی سند کے قابل ڈاکٹر بڑے شہروں میںایک ہزار روپے فیس وصول کرتے ہیں۔ آپریشن کے نام پر استحصال اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھا ہو ا ہے۔جس معمولی سرجری کی فیس پانچ ہزار ہے، میٹرو پولیٹن شہروں میں اس کے پچاس ہزار دینے پڑتے ہیں۔ کوئی اس تفاوت کا پوچھنے والا نہیں ہے۔ کیوں کہ ان نرسنگ ہوم یا اسپتالوں میں سود خور ارب پتیوں کا Investmentہوتا ہے جو غریب لوگوں کے علاج کے نام پر ساری سرکاری مراعات لے اُڑتے ہیں؛ جن میں قیمتی زمین کوڑیوں کے دام پر حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ دارالسلطنت دہلی میں اپولو Apollo، میکس Max، Fortis،Mulchand،اور Ganga Ramجیسے ادارے میڈیکل مافیا کے سینٹر ہیںجہاں دس ہزار روپے روزانہ کمرے کا کرایہ لیا جاتا ہے اور اسی کمرے میں ڈاکٹر جتنی بار مریض کو دیکھ کر یا چھو کر چلا جاتا ہے اس کی وزٹ (معائنہ) فیس الگ سے لی جاتی ہے۔ اس سب پر میڈیا بھی خاموش رہتا ہے۔ عوامی فلاحی ریاست Welfare Stateکی دعویدار بھارت سرکار اپنی ناک کے نیچے یہ سب کچھ دیکھتی ہے اور چُپ سادھے ہوئے ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فلاحی ریاست کا دستوری دعوی اپنی حقیقت کھو چکا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا مہاجنی سسٹم رو بہ عمل ہے جس کا احتساب کرنے کی صلاحیت اربابِ اقتدار کے پاس نہیں ہے ، بلکہ اس کی عملی توثیق کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دواسازی کی ہزاروں کمپنیاں منظم ڈھنگ سے ہندوستانی عوام کا خون چُوس رہی ہیںجن میں وہ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں سرِ فہرست ہیںجو سیکڑوںگُنا نفع خوری کی ماہر اور عادی ہیں۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے ایک دواساز کمپنی کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ اپنی ایک مخصوص دوا پر سے اپنی اجارہ داری (پیٹینٹ)ختم کرد ےتاکہ دیگر کمپنیاں اسی دوا کو صرف دس ہزار میں بیچ سکیں جسے نووارٹس نامی یہ کمپنی ایک لاکھ تیس ہزار میں بیچ رہی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علاج کے نام پر کتنا استحصال ہورہا ہے۔ اور جس وقت آدمی موت و حیات کی کشمکش میں ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے تو اس وقت نام نہاد فلاحی ریاست کے زیرِ سایہ اس کو کتنی ہمدردی ملتی ہے۔ حالانکہ حکومت کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ دوائوں کی لاگت معلوم کرکے ان پر مناسب شرح منافع طے کردے۔
حسرت یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان کے نادار عوام کو بیرونی اور اندرونی سرمایہ پرست عناصر مل کر لوٹ رہے ہیں اور سرکار کا کام ان کے ناجائز تحفظ کا رہ گیا ہے۔ سارا ملک ایک بازار بنا ہوا ہے جہاں سوکروڑ سے زیادہ گراہکوں کی بھیڑ ہے۔ اب ماضی کی ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں ہے بلکہ ایسٹ ایند ویسٹ کمپنیوں کا گروپ ہے جن پر ارب پتی سودخوروں کا قبضہ ہے جنہیں ملک سے ہمدردی ہے نہ انسانوں سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک کے عدالتی نظام کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ قانون داں طبقے نے اس کو بھی Commercializeکر لیا ہے۔ کسی ملک کا عدالتی نظام وہ آخری سہارا ہوتا ہے جس سے مظلوموں کی امیدیں وابستہ رہتی ہیں۔ مگر ایک عام آدمی اس نظام سے استفادہ کرنے کے مقابلے میں بے انصافی پر قناعت کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے کیوں کہ معمول کی رشوت، حوصلہ شکن طوالت اور ماہرین ِ قانون کی بازاری قیمت(Market Value) ان سب کو برداشت کرنا ۹۰ فیصد لوگوں کے بس سے باہر ہے۔ معمولی مقدمات کے فیصلے اس وقت ہوتے ہیں جب انتظار کرنے والوں کی مہلتِ عمل ختم ہونے لگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختصار کی وجہ سے ہم نے صرف تین اہم شعبوں کا سطور بالا میں سرسری جائزہ لیا ہے۔ تفصیلات اس سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ بدعنوانی اوپرسے نیچے اور نیچے سے اوپر تک معاشرے کے جسم میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے۔ اس پر یہ احساس کہ ہم ترقی کررہے ہیں ،خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *