اسلام کے عروج اور سیکولر ازم کے زوال کا منظر

مسلم دنیا میں اس وقت بحیثیت مجموعی اسلامی تحریکوں کی پیش قدمی اور عروج اور سیکولر قوتوں کی پسپائی اور زوال کا منظر ہے۔ بہت سے لوگ اس منظرنامے کو ’’اتفاقی بات‘‘ سمجھتے ہیں حالانکہ صورت حال اس کے برعکس ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صورت حال جو بھی ہے اس کا سبب کیا ہے؟
اسلامی تاریخ اور تہذیب میں مسلمانوں کی پیش قدمی چند اصولوں کے ساتھ مشروط رہی ہے۔ مثال کے طور پر اسلام کا ایک تقاضا یہ ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں مسلمان حق کے علمبردار بنیں۔ دنیا خواہ کچھ کہے وہ حق کی علم برداری اور پاسداری ترک نہ کریں۔ اسلامی تحریکوں نے جب ستر‘ اسی سال قبل اپنے سفر کا آغاز کیا تھا تو مسلمان عہد غلامی میں زندگی بسر کررہے تھے۔ اس غلامی کا شکنجہ اتنا سخت تھا کہ اس سے نجات کی کوئی صورت سمجھ میں نہ آتی تھی۔ غلامی کے اثر نے مسلمانوں کو اپنی تاریخ اور تہذیب کیا اپنے دین کے حوالے سے بھی شرمندگی اور طرح طرح کی معذرت خواہیوں میں مبتلا کردیا تھا۔ اسلام کی جامعیت اور کلیت کے تصورات ذہنوں سے محو ہوگئے تھے اور مسلم دنیا میں ہر طرف مغربی فکر اور مغربی تہذیب کا غلبہ تھا اور مغربی فکر اور مغربی تہذیب سے وابستگی ہی مسلم دنیا میں کامیابی کی علامت تھی۔ مولانا مودودیؒ‘ حسن البناءؒ اور سید قطبؒ کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ان حالات میں مسلمانوں کو اسلام پر فخر کرنا سکھایا۔ انہوں نے مسلمانوں کو جذبے اور دلیل دونوں سطح پر بتایا کہ اسلام ہی حق ہے اور مغربی فکر باطل پر کھڑی ہوئی فکر ہے‘ انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ آخرت ہی نہیں دنیا کی کامیابی بھی اسلام سے گہرے طور پر وابستہ ہونے میں ہے۔ انہوں نے مسلمانوں میں اس خیال کو پختہ کیا کہ اسلام مغلوب ہونے کے لیے نہیں آیا غالب آنے کے لیے آیا ہے۔ حال بھی اسلام کا ہے اور مستقبل بھی اسلام کا ہے۔ چنانچہ جو اسلام سے وابستہ ہوگا اس کا حال اور مستقبل بھی شاندار ہوگا۔ یہ دریا کے دھارے کی نہیں وقت اور تاریخ کے دھارے کی مخالف سمت میں تیرنے کا عمل تھا۔ اور یہ کام پورے وجود کی قوت صرف کیے بغیر ممکن نہیں تھا۔ مگر اسلامی تحریکوں نے ہر جگہ یہ کام کیا اور حق کی بالادستی کی جدوجہد کے پہلے تقاضے کو پورا کرکے دکھایا۔
حق کی بالادستی کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ صرف حق کی بالادستی کی جدوجہد ہی نہ کی جائے بلکہ اس جدوجہد میں اگر قربانیوں کا مرحلہ آئے تو ان سے گھبرایا نہ جائے اور حق کو سربلند کرنے کے لیے قربانیاں پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں مسلم دنیا کی اسلامی تحریکوں نے قربانی کی مختلف مثالیں پیش کیں۔ عرب مزاج میں بعض تاریخی اور تہذیبی اسباب کی وجہ سے توازن کم ہی ملتا ہے۔ چنانچہ عرب دنیا کے سیکولر حکمرانوں نے سفاکی کی انتہا کردی۔ انہوں نے مختلف ملکوں بالخصوص مصر میں تحریک اسلامی پر تشدد کی انتہا کردی۔ لیکن اسلامی تحریک نے کئی دہائیوں پر محیط جبر و تشدد کو جذب کرکے دکھا دیا۔ جنوبی ایشیا میں تحریک اسلامی کو تشدد کے ان مراحل سے تو نہیں گزرنا پڑا جن سے عرب دنیا کی تحریک اسلامی گزری لیکن یہاں بھی جبر اور قید و بند کا ایک سلسلہ تحریک اسلامی کے تعاقب میں رہا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سے کہیں زیادہ صبر آزما سلسلہ وہ پروپیگنڈا تھا جو حکمرانوں‘ فرقہ اور مسلک پرستوں کی جانب سے تحریک اسلامی کے خلاف کئی دہائیوں تک کیا گیا لیکن یہاں بھی تحریک اسلامی نہ اپنے راستے سے ہٹی اور نہ ردعمل کا شکار ہوئی اور اس نے اپنے مخصوص حالات کے دائرے میں رہتے ہوئے قربانیوں اور صبروضبط کی اپنی تاریخ رقم کی۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں موجود تحریک اسلامی کو ایک اتنا بڑا چیلنج درپیش ہوا کہ تحریک اسلامی کیا خود حکومت و ریاست بھی اس کے ہاتھ سے جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ آزمائش یہ تھی کہ یا تو اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنا ہے یا پھر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بے پناہ عسکری‘ سیاسی‘ سفارتی‘ معاشی اور تیکنیکی طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاریخ کے اس مرحلے میں ملا عمر اصول کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت کیا ریاست بھی قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے اور انہوں نے وقت کی واحد سپر پاور کو بتا دیا کہ اللہ سے ڈرنے والا کروڑوں گنا بڑی قوت سے بھی نہیں ڈرتا۔ اقبال نے کہا تھا:
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے جائے
تو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی
لوگ کہتے ہیں شاعری اور زندگی میں بڑا فرق ہوتا ہے مگر ملا عمر نے شاعری کو اعلیٰ ترین عمل اور عمل کو اعلیٰ ترین شاعری بنا کر رکھ دیا۔
حق کی علمبرداری اور قربانیاں بڑی چیز ہیں مگر اللہ اہل ایمان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جدوجہد اور قربانیوں کے حوالے سے استقامت کا مظاہرہ بھی کریں گے۔ اسلامی تحریکوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے استقامت کا مظاہرہ بھی کرکے دکھا دیا۔ چنانچہ اسلامی دنیا میں کوئی اسلامی تحریک 80 سال کی استقامت لیے کھڑی ہے‘ کوئی تحریک 70 سال کی استقامت کا اثاثہ لیے کھڑی ہے۔ اصول ہے کہ جب حق کی علمبرداری‘ قربانی اور استقامت جمع ہوجاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو وہ نعمت عطا کرتے ہیں جسے ’’نصرت الٰہی‘‘ کہا جاتا ہے۔ مسلم دنیا کئی مقامات پر اس نصرت کا مشاہدہ کررہی ہے اور بہت سے مقامات پر اسے ابھی نصرت کا مشاہدہ کرنا ہے۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا میں سیکولر قوتوں کے زوال کے اسباب کیا ہیں؟
جس طرح حق کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ حق ہے اسی طرح باطل کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ باطل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ باطل طاقت‘ سازش‘ لالچ‘ حرص اور عصبیت کے ذریعے کسی معاشرے پر غلبہ حاصل کرسکتا ہے مگر یہ غلبہ تاریخ کے وسیع کینوس پر عارضی ہوتا ہے۔ سیکولرازم اور لبرل ازم مسلم شعور کے لیے اپنی نہاد میں اجنبی چیزیں ہیں لیکن وہ نام اور چولا بدل کر حق ہونے کا التباس یا Illusion پیدا کرتا ہے مگر کبھی محسوس اور کبھی غیر محسوس طریقے سے اس التباس کا پردہ بالآخر چاک ہوجاتا ہے۔ مسلم دنیا میں سیکولر قوتوں کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ سیکولر قوتوں کے زوال کے دیگر اسباب کیا ہیں؟
سیکولر قوتوں کے زوال کا ایک سبب یہ ہے کہ مسلم دنیا میں ان کا اقتدار اتنا طویل ہوگیا ہے کہ ان کے تمام امکانات بروئے کار آگئے اور اب وہ اندر سے بالکل خالی ہوگئی ہیں اور ان کے پاس خود کو ازسرنو دریافت یا Re-invent کرنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ ان کے زوال کا ایک اور سبب یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد دنیا میں جو حالات پیدا ہوئے ان میں مسلم عوام خود کو سیکولر قوتوں کے ساتھ متشخص یا Identify کرنے میں ناکام ہیں اور انہیں محسوس ہورہا ہے کہ مذہبی قوتیں ان کے انفرادی اور اجتماعی باطن کی زیادہ بہتر ترجمان ہیں۔ ایک زمانے تک مسلم عوام یہ سمجھتے رہے کہ ہمارے حکمران مغرب پر انحصار کرتے ہیں مگر انہیں بالآخر معلوم ہوا کہ مسلم حکمرانوں کے حوالے سے انحصار چھوٹا اور معمولی لفظ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلم حکمران مغرب کے آلۂ کار ہیں۔ مسلم حکمرانوں کی بدنام زمانہ نااہلی اور بدعنوانی نے سیکولر قوتوں کے زوال کے سلسلے میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *