’’برق گرتی ہے تو بیچاری مسلماں بن کر‘‘

روح اقبال سے معذرت کے ساتھ ……یہ مصرعہ کچھ یوں ہی میری زبان سے ادا ہوا جب میں نے اچانک ہی محترم شفیق الرحمن برقؔ صاحب کو تیزی سےپارلیامینٹ کے سنٹرل ہال سے نکلتے دیکھا۔ اول تو یہ خیال آیا کہ شاید تقاضہ بشری و عمری کی شدت نے اس بوڑھے جسم میں برقی رو دوڑادی ہے اور وہ سرپٹ بھاگے چلے جارہے ہیں……مگر تبھی ایک خیال اور بھی کوندا ۔ دراصل اس وقت برق صاحب عین وسط مرکزی ہال میں تھے……اور چونکہ ہندوستانی سیاست میں اقلیتی فرد ہونے کے ناطے برسوں سے حاشیہ پر رہنے کی عادت تھی اور اب اچانک پارلیمنٹ کے بیچوں بیچ……احساس ہوتے ہی وہ شاید حاشیے پر روانہ ہورہے ہونگے……کیا کہا ؟ آپ نے اسم اعظم لیا……یا خورشید کا ذکر کیا……اعظم تو اعلیٰ بھی نہ ہوسکے۔ محض نیابت پر ہی ٹرخایا گیا۔ وہ بھی تو حاشیہ بردار ی ہے۔ اور رہے خورشید تو ان کے تعلق سے تو علامہ اقبالؒ خود ہی کہہ گئے ہیں۔ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبےاِدھر نکلے……شوبوائے کی حیثیت ہی کیا جدھر چاہا بیٹھا دیا اورجب جی چاہا لٹا دیا۔ خیر درمیان میں لمبا چوڑا جملہ معترضہ آگیا۔ دراصل میم سنبھلی صاحب کو حاشیہ برداران ِقومِ اقلیتا ن کی برق رفتاری پر غصہ آگیا تھا ……سو ہم انکو سمجھارہے تھے کہ اکثریت کی جمہوریت میں اقلیت کی حاشیہ برداری عین تقاضائے دستوری ہے۔
مگر وہ غلط فہمی ہی کیا جو دور نہ ہو……نرم نرم آواز میں ’’بیٹھ جائیے‘‘ ……’’بیٹھ جائیے‘‘ کہنے والی میرا کماری نے جب سخت آواز میں انتباہ دیا تو ہم کو تسلیم کرنا پڑا کہ اس دور کی خواتین ہم جیسے مردوں سے زیادہ زودرس اور نکتہ بیں ہوتی ہیں۔ بلکہ شاید ہمیشہ ہی ایسا رہا ہے۔ بس اس صدی میں Amul استعمال کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے اس لئے بار بار یہ دہرایا جارہا ہے کہ میڈم آپ تو کمال کی ہیں۔ خیر اس ترنم آمیز ڈانٹ نے ہماری عقل سے پردہ اٹھا دیا کہ یہ تو برق تپاں تھی جو ماں کے آگے جھکنے سے بھاگ رہی تھی…… اوہ! اوہ! ماشاء اللہ …… سیکولرزم کے ایوان میں توحید کی غیرت بھری انگڑائی…… میڈیا کے ہاتھ موضوع آیا۔ کسی نے رٹ پٹیشن لگائی اور الٹے ڈانٹ کھائی، امے یہ کوئی جن گن من تھوڑے ہی ہے جس پر اٹھنا ضروری ہو (یوپی ہائی کورٹ) ۔ جن گن من میں تواس قدر ٹھنڈک ہے کہ برقی رو بھی اس پر منجمد ہوکر برف بن جاتی ہے۔ یہ تو وندے ماترم ہے۔ جن گن من کے ہلکے پھلکے ڈوز سہتے سہتے بالآخر وندے ماترم تک میں ٹھنڈک آجائے گی۔ تب تک صرف ڈانٹ ڈپٹ ہی کافی ہے۔
دراصل میرا کماری جی اس چیز کو نہیں سمجھ سکتیں جس نے برقِ شفیق کو برقِ تپاں میں تبدیل کردیا۔ وہ بے چاری بچپن سے مشرکہ (بہت سارے خدائوں کو ماننے والی) ہیں۔ اس لئے کہیں بھی جھکنا ، نمن کرنا ، ادب کرنا ان کی سنسکرتی کا حصہ ہے۔ بلکہ فطرت ثانیہ ہے۔ اس چیز کو ہمیں بھی سمجھنے میں کافی دیر لگی۔ بچپن میں قاری صاحب سے قاعدہ پڑھنا کیا شروع کیا غضب ہوگیا۔ ادھر قاری صاحب تشریف لائے اور ادھر وضو کرنے کی ڈانٹ پڑی۔ پلاسٹک کا بغدادی قاعدہ پکڑنے کے لئے ہاتھ منھ پیر دھوئو اور سر کا مسح کرو…… ایک بار چڈی پہن کر مسجد میں چلے گئے اور باقاعدہ وضو کرکے…… مگر غضب ہوگیا…… ہر نمازی اچانک منکر نکیر نظر آنے لگا…… بھاگ کے پاجامہ پہنا حالانکہ ازار بند ڈھیلا ہونے کی وجہ سے پوری نماز پاجامہ پکڑ کر اداکی …… ظاہر ہے برق صاحب بھی کچھ اسی طرح تربیت یافتہ ہونگے۔ ایک اکیلا خدا۔ اس کے علاوہ ہر خدائی سے انکار۔ اور پھر اس کے سامنے حاضر ہونے کے لئے پاکی کی شرط۔ جسم بھی پاک ، جگہ بھی پاک، دری بھی پاک ، من بھی پاک ، تن بھی پاک ۔ یہاں تک کہ اس کے کلام کو چھونے کی بھی یہی شرط۔ برق صاحب چونکہ پنج وقتہ نمازی ہیں اس لئے ان کی زندگی میں جبین پاک کو خدائے پاک کے سامنے بحالت پاکی جھکانا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔ اسی لئے وہ وندے ماترم جیسے مشرکانہ ترانے کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں …… ویسے ہمارے ایک دوست جو بی ایس پی کے مخالف ہیں انہوں نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ چپکے سے کان میں کہنے لگے ۔ میرا کماری جی کو JCBلگا کر گہرائی سے اسکی تفتیش کرنی چاہئیے کہ کہیں برق صاحب اس مبارک محفل کے لئے باوضو ہونے تو نہیں جارہے تھے۔ JCBکا غلط مطلب مت نکالئے گا۔ ان کا مطلب تھا Joint Committe of Biradrane Watan۔
ہماری بھی ایک بری عادت ہے ۔ بات اتنی لمبی کردیتے ہیں کہ اصل سرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ (ہمارے نہیں قاری کے ہاتھ سے) ۔ تو بچپن سے جو چیز ہماری سمجھ میں نہیں اآرہی تھی وہ یہ تھی کہ ہم تو موحد ہیں اور ہمارا ایک ہی اللہ ہے۔ اور اللہ پاک کا کس قدر احترام اور اہتمام ہے۔ اور دوسری طرف برادران وطن ہیں ۔ جن کو جب جس کو چاہے خدا مان لینے کی آزادی ہے اور جیسے چاہے اسے بلانے کی آزادی …… ایک بار بس میں جارہے تھے، اچانک ہماری بغل میں بیٹھے ایک سجن نے دونوں ہاتھ جوڑے اور بس کی کھڑکی کی طرف گردن جھکادی…… حالانکہ میرا شک ہے کہ کچھ دیر پہلے انہوں نے ہی فضا مکدر کی تھی۔ اچک کر دیکھا تو ایک چھوٹا سا مندر تھااور کس خدا کا تھا وہ بھی دور سے معلوم کرنا مشکل تھا…… میں نے حیرت سے ابو کو دیکھا ۔ ابو نے مجھے گھور کر ڈانٹا ۔ پھر گھر آکر جو تفصیل بتائی ،اور پھر ہم نے برادران وطن کے ساتھ چہار دہائیاں بتائیں تو اندازہ ہواکہ کیسا انرتھ پھیلا ہوا ہے۔ برادران وطن کو اتنی سمجھ تو ہونی چاہئے کہ خدا کو پکارنے سے پہلے باوضو ہو لیں اور جس کو پکاررہے ہیں اس کے بارے میں تحقیق بھی کرلیں کہ آیا وہ وہی ہےجس کو وہ سمجھ رہے ہیں۔ JCBکی تحقیقات کے دوران اس نقطے پر بھی چھان بین ہونی چاہئے کہ کہیں برق صاحب اس جانب توجہ مبذول تو نہیں کرانا چاہ رہے تھے ۔ چلتے چلتے برق صاحب سے ایک عرضداشت …… کیا آپ کا یہ رویہ اس وقت بھی ہوگا جب جن گن من پڑھا جارہا ہو…… یا یہ صرف وندے ماترم کے لئے ہی تھاکیوں کہ اس کو قانونی تحفظ حاصل نہیں

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *