بھائی بھائی بن کر رہو!

امت مسلمہ کا متحد رہنا دینی و عقلی دونوں پہلوؤں سے ازحد ضروری ہے۔ سابقہ امتیں انتشار و تشتُّت کا شکار ہوکر برباد ہوگئیں۔ ان کی بربادی کی داستانیں ہمارے لئے زبردست سامانِ عبرت ہیں۔ قرآن کریم میں بڑی تفصیل کے ساتھ اہلِ ایمان کے باہم متحد رہنے اور تفریق و انتشار سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا گیا: ـ’’آپس میں جھگڑا نہ کرو ،ورنہ تم میںبزدلی پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ ۔۔۔۔۔’’اہلِ ایمان باہم بھائی بھائی ہیں۔ تم اپنے بھائیوں کے مابین تعلقات کو درست رکھو۔‘‘ (القرآن)
دربارِ رسالت مآب ﷺ سے بھی اس نوع کی تاکیدی ہدایات جاری فرمائی گئیں ہیں:
’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔ ہر ایک مسلمان دوسرے کے لئے محافظ و مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو انتہائی جامع اور دلنشیں انداز میں ارشاد فرمایا:’’مومن دوسرے مومن کے لئے ایک ایسی دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط بناتا ہے۔‘‘ آپﷺ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا: ’’خداکے بندے اور باہم بھائی بھائی بن کر رہو‘‘۔ ان نوع کی واضح ہدایات سے مختلف اور متعدد روایات میں کافی تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا گیا۔’’ ایک مسلمان کا دوسرے پر کیا حق ہے؟‘‘ اس باب سے معلوم ہوتا ہے کہ باہمی تعلقات کی درستگی صرف اخلاقی نصیحت نہیں ہے بلکہ حقوق العباد کا حصہ بھی ہے جس کو ادا نہ کرنے پر سزا بھی مل سکتی ہے۔
سابقہ انبیاء علیہ السلام نے بھی اپنی امتوں کو باہم متحد رہنے کی تاکید فرمائی اور ان باتوں سے بچنے کی ہدایات دیں جو اختلاف و انتشار پیدا کرنے والی ہیں۔
حضرت موسی علیہ السلام حکم خداوندی پر لبیک کہتے ہوئے کوہِ طو ر پر حاضر ہوئے اور

حضرت ہارون علیہ السلام کوجو کاررسالت میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے بڑے بھائی بھی تھے، اپنا خلیفہ و جانشین بنا گئے۔ واپسی پر افراد قوم کو مبتلائے شرک دیکھ کر فوری تادیبی کارروائی نہ کرنے کے بارے میں بطور عذر فرمایا: ’’ مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ آپ یہ نہ کہہ دیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری رائے کا انتظار نہ کیا‘‘۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شرک جیسے ظلمِ عظیم پر تادیبی کارروائی میں التواء محض اس وجہ سے ہوا کہ قوم میں تفرقہ پیدا نہ ہو جائے۔ یہ اجتہاد کسی عالِم کا نہیں بلکہ اس پیغمبر کا تھا جو حضرت موسی علیہ السلام کے شریک کار اور وزیر تھے۔ اگرچہ جرم کی نوعیت کے پیش نظر مجرموں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی گئی اور ان کو ان کے اپنوں ہی کے ہاتھوں گردن زدنی قرار دیا گیا۔
……………………………………………………………
حضور نبی کریم ﷺنے امت کو ان خبروں سے پیشگی مطلع فرمایا جن میں آئندہ مبتلائے تفریق ہونے اور ایک دوسرے کا خون ناحق بہانے سے خبردار کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ خبریں بھی ایسے افعال اور اقدامات سے بچنے کے لئے دی گئیں تھیں جن کے مرتکب ہو کر اہل ایمان اپنی قوت و شوکت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اور تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے کہ جب جب ایسا ہوا اس کے ویسے ہی برے نتائج برآمد ہوئے جن سے بچنے کے لئے خبردار کیا گیا تھا۔
……………………………………………………………
شاید اتنا طویل عرصہ سنبھلنے اور سمجھنے کے لئے کسی کو نہیں ملا جتنا امت محمدی کو ملا اور مل رہا ہے۔ یہ سب کچھ آخری رسولﷺ کی امت ہونے اور آخری کتاب کے حامل ہونے کی برکت نہیں تو اور کیا ہے! مگر ہم ہیں کہ سنبھلنے اور سمجھنے کو آمادہ نظر نہیں آتے۔ یہ ہم ہی ہیں کہ جو کسی بڑے سے بڑے نقصان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔دور مت جائیے، ہم سقوطِ بغداد اور اس سے پہلے کے دلدوز واقعات اور سنگین غلطیوں کی بات نہیں کرتے کہ تاریخی روایات کے ہجوم میں گُم ہو کر نہ رہ جائیں اور مدت دراز کے ماحول کا تجزیہ عام آدمی کی دسترس سے باہر نہ سمجھا جائے؛ ہم خلافت عثمانیہ کے سقوط اور ترکِ ناداں کے ہاتھوں خلافت کی قبا چاک کرنے سے بات شروع کرتے ہیںجس نے ہمیں پسپائی کے غار میں دھکیل دیا۔ دین و ملت کی پاسبانی کرنے والےعثمانی ترکوں کو تورانی قومیت کے حصار میں بند کردیا گیا۔ مگر عربوں نے اس سے کوئی نصیحت حاصل نہ کی اور خود عربیت کے پجاری بن کر رہ گئے۔ مغربی سامراج نے انہیں تقسیم در تقسیم کے اذیت ناک عمل سے گذرنے پر مجبور کیا ۔اور ترکوں کو خلافت کے لئے نا اہل قراردینے والے صنم خانہ مغرب کے دریوزہ گر بن کر رہ گئے۔ مختصر یہ کہ ملت اسلامیہ کے تعلق کو بھلا کر مسلم دنیا نے کیا کھویا اس سے سبق لینے کے لئے آج بھی مسلم حکمراں تیا ر نہیں ہیں۔ دیکھنا چاہیں تو کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر، ایران، ترکی اور مشرقِ وسطیٰ سے لے کرمشرق بعید تک جو کچھ بھی بچا ہے وہ دین و ملت سے وابستگی کا نتیجہ ہے اور جو کھویا گیا وہ اس وابستگی کو بھلا دینے کا حاصل ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
……………………………………………………………
ایسا نہیں ہے کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد دشمنوں کی یلغار بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے اور کسی کے لئے یہ کہنے کا موقعہ ہے کہ اب بچا ہی کیا ہے جس کی حفاظت کی فکر کی جائے۔ آج اسلام دشمنی دنیا کی بڑی طاقتوں کے مابین قدرِ مشترک ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں مگر اسلام کا احیاء اور ملت کا اتحاد نہیں دیکھ سکتے۔ ان کے پیش نظر صرف سیاسی اعتبار سے مسلم دنیا کو غیر مستحکم بنائے رکھنا ہی نہیں ہے بلکہ وہ پوری بلکہ وہ پوری ملت کو خود فراموش اور خدا فراموش دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ دین اسلام کے ایک ایسے تصور کو رواج دینا چاہتے ہیں جس میں راسخ الایمان ہونا ضروری نہ ہو؛ جو جہاد فی سبیل اللہ کو غیر ضروری سمجھنے پر رضامند کرے؛ جو احیاء خلافت کی کوششوں سے ہی نہیں، تصور خلافت سے بھی خالی ہو۔اس کے لئے منصوبہ بند کوششیں اور سازشیں روبہ عمل لائی جارہی ہیں۔ خدا کے آفاقی دین کو نسلی، لسانی اور علاقائی حصاروں میں قید کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے ’’ترقی پسند مفکرین‘‘ ہی نہیں کچھ علم فروش لوگ بھی برسرِکار ہیں۔
……………………………………………………………
اس ساری تگ و دو کا منشا یہ ہے کہ یہ امت ہی تحلیل ہو جائے تاکہ شیطانی عزائم کی راہ میں کوئی مانع و مزاحم قوت باقی نہ رہے۔ جب کوئی مدعی نہ ہو تو دعوی کون کرے گا؟ امت مسلمہ اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود طاغوت کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ افراد کو خریدا جا سکتا ہے، قوموں اور ملتوں کو خریدا نہیں جا سکتا۔ ہاں ان میں تفریق پیدا کرکے اُن پر رہبروں کے لباس میں رہزنوں کو مسلط ضرور کیا جاسکتا ہے۔

……………………………………………………………
ہماری معروضات کا مقصد دراصل اس صورت حال کی طرف متوجہ کرنا ہے جس کا ادراک و احساس عامۃ المسلمین سے بڑھ کر ائمۃ المسلمین کو ہونا چاہیے۔ یعنی شاطران مغرب کی دسیسہ کاریوں سے محفوظ رہنے کا سب سے بڑا ذریعہ راسخ الایمان ہونے کے ساتھ اتحاد بین المسلمین کے تصور کو مضبوط کرنا ہے۔فروعی، فقہی اختلافات ایسے نہیں ہیں جو فی الواقع امت کو تقسیم کرتے ہوں۔ عامۃ المسلمین اسلامی تعلیمات پر اصولی طور پر کل بھی متفق تھے اور آج بھی ہیں۔ عقائد اسلام کے تعلق سے بھی مسلمانوں میں کوئی اختلاف پایا نہیں جاتا۔ جب قرآن کی عظمت، رسولؐ کی عصمت اور کعبۃ اللہ کی مرکزیت پر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو پوری امت یک قالب و یک جان ہوتی ہے۔ ہندوستان میں قانونِ شریعت میں مداخلت اور بابری مسجد سے متعلق تحریکیں اٹھیں تو ہندوستانی مسلمان کس طرف تھے! گجرات میں مسلمانوں کے قتل کے خلاف آواز اٹھی تو پوری ملت یک رنگ تھی۔ یہ سب باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تفریق بین المسلمین کے قصوروار عام مسلمان نہیں ہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سیاسی مفادات اور شخصی وقار کے لئے وہ سب کچھ کرتے ہیں جو کرنا نہیں چاہیے۔ شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، حنفی و سلفی باہم لڑتے نہیں، لڑائے جاتے ہیں اور ان لڑانے والوں میں ایسی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں جو منبر و محراب کے زیرِ سایہ اپنی صلاحیتوں کا ایسا استعمال کرتے ہیں جس پر احتساب ہونا چاہیے، اور یہ احتساب یقینی طور پر ہو کر رہے گا۔ آج نہیں تو کل ان لوگوں کو جواب دینا پڑے گا۔ اور اگر کسی وجہ سے عندالناس جواب دہی سے بچ بھی گئے تو عنداللہ ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔ ایسے لوگ تعداد میں کم ہیں۔ جبکہ اس بالمقابل وہ لوگ بہت زیادہ ہیں جو خیر پسند اور اتحاد بین المسلمین کے حامی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے لئے مؤثر حکمت عملی اور اقدامات روبہ عمل لائے جائیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *