دہلی اور اقوام متحدہ کا فروغِ زنا قانون

الگ الگ خو ش نما ناموں سے دو قانونی دستا ویز دہلی اور اقوام متحدہ میں قانونی شکل میں زنا ،بے حیائی و بے لگام آزادی کو تحفظ دینے کے لیے وجود میں آرہی ہیں ۔حالانکہ دہلی والی دستا ویز دہلی اجتماعی عصمت دری کے پس منظر میں زنا مخالف قانون کہلائی جا رہی ہے مگر اس کی خصوصی شق جس پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ زنا با لرضا(رضا مندی سے غیر قانونی جنسی فعل)کی عمر میں لڑکی کی مرضی کی عمر 18سال سے کم کر کے 16سال کر دی جائیگی۔یعنی اب لڑکی جو16سا ل کی ہو گئی ہو اپنی مرضی سےکسی سے بھی جنسی تعلق استوار کر سکےگی(حکومت میں اس پر اختلاف ہے مگر فیصلہ اسی کے حق میںہونے کی امیدہے ) اور کوئی بھی اسے روک نہیں سکیگا ؛ماں باپ بھی نہیں ۔اور جس طرح یہ پہلے جرم سمجھا جاتا تھا اب یہ جرم نہیں رہے گا ۔ اس کے علاوہ دہلی کی دستاویز میں جس طرح تانک جھانک گھورنا چھونا و غیرہ کو قابل دست اندازی پولیس جرم بنایا گیا ہے اور زنا کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں متاثرVictimہمیشہ خاتون ہوگی اور مرد ہمیشہ مجرم ہوگا یعنی اسکو ناممکن مانا گیا ہے کہ عورت کبھی بھی مرد کو زنا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی ۔قانون کا نام ’’ زنا مخالف بل‘‘ Anti Rape Lawہے مگر یہ سب سے زیادہ زور زنا کے محرکات کو فروغ دینے والی شکل پر زور کیوں دے رہا ہے ؟ اپنی مرضی سے شادی کرنے کی عمر18سال اور زنا کرنے کی عمر16سال یہ ہے انسانی دماغ کی قانون سازی کے ناقص ہونے کابہترین نمونہ ۔چند سال میں یہ ’’فروغِ زناقانون‘‘بن جائے گا۔ اس کے لیے سارا فکری ،ذہنی اور سازشی مواد دراصل اقوام متحدہ کی آڑ میں بین الاقوامی شیطانی ،دجالی تہذیب کے مددگاروں بلکہ ائمہ ضلالت وخباثت امریکہ ،یورپ اور اسرائیل سے منظم طریقہ سے مہیا کروا یاجا رہا ہے جس سے دنیا کی ہر تہذیب کے ماننے والے دنیا کی بڑی آبادی کے لوگ سکون حاصل کر سکیں ۔اور یہی ادارہ ان مسلم ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے جہاں تو ہین رسالتؐ کے خلاف قوانین بنائے گئے ہیں ۔مگر دنیا بھر میں جنگ وجدال ہتھیاروں کی تجارت ،بھکمری اور بےکاری، ماحولیاتی آلودگی، لڑکیوں کی کم ہوتی تعداد، ڈرگس اور الکوحل ،سگریٹ کے بڑے استعمال کو کنٹرول کرنے میں دلچسپی  نہیں دکھا رہا ہے ۔ابھی اقوام متحدہ نے خواتین کے حقوق کے اعلامیہ کی آڑ میں جس طرح یوروپ اور امریکہ کی جنسی بے راہ روی ،حرامی بچوں، بے شادی کے جوڑوں ،ہم جنسی ،طلاق کی بے پناہ کثرت ،عزت و عصمت فروشی ،جسم فروشی کی غلیظ تہذیب کو اقوام  عالم پر تھوپنے کی کوشش کی ہے وہ دنیا کی تمام انسان

دوست طاقتوں کو اس کے خلاف صف آرا ہونے کے لیے آخری موقع ہو سکتا ہے۔ پہلے ذرا اس شیطانی دستاویز کے نکات پر سرسری نظر ڈال لیں ۔ شوہر کی اجازت کے بغیر سفر کرنے ،نوکری کرنے ،مانع حمل دواؤں کا استعمال کرنے ،جنسی تعلقات بنانے ،اسقاط حمل کرنے ،کم عمر لڑکیوں کے لئے مانع حمل ادویات Contraceptive pillsکا استعمال کرنے ،بچوں کی پرورش میںزن و شو میں ذمہ داریاں تقسیم ہو جانے کی آزادی ہوگی۔ بچوں کی پیدائش پربھی خاتون کا کنٹرول ہوگا خاتون اپنے شوہر کے خلاف زنا یا جنسی تشدد Sexual assaultکا مقدمہ درج کراسکے گی۔ اس دستاویز کے ذریعہ ہم جنس پرستوں Homos، عورتوں کا کاروبار کرنے والوں ،ولد الزنا (نا جائز اولاد)،شوہروں کے ساتھ دوسروں سے بھی جنسی تعلقات بنانے والیوں کوبرابر کے حقوق دیئے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جنسی تعلقات بنانے کے خلاف امت مسلمہ کی تنظیم OICیا خادم الحرمین شریفین کی حکومت یا عرب حکومتوں کا مجموعی طور پر کوئی مزاحمتی رویہ سامنے نہیں آیا۔بھارت بھی اپنی سنسکرتی کی لاج بچانے کے بجائے ’’ترقی پسند‘‘حقوق نسواں کا چیمپین کہلانے کے شوق میں چپ رہا ۔صرف روس، ویٹکین، مصر ،لبنان،ایران ، فلسطین ،اردن،تیونیشیا نے مخالفت میں آواز اٹھائی سب سے زیادہ خوشی کا اظہار دجالی تہذیب کےسردار کی جانب سے کیا گیا ہے۔
دہلی اور اقوام متحدہ کی دستاویز پوری دنیائے انسانیت کو اس بربادی ،خاندانی انتشار ،جنسی اعتماد اور محبت و تعاون کے جذبہ کی فضا کو ختم کرنے کی طرف لے جا رہی ہے جس طرف آج امریکہ یوروپ اور ان کے دلدادہ غلام حکمراں لیجانا چاہتے ہیں ۔یہ سب ملکر دنیا میں عدل و امن ، انصاف ، سماجی اقتصادی معاشی برابری اور انصاف کی حکمرانی کے بجائےنفس پرستی ،امیر طبقہ کی عیا شیوں اور سرمایہ داروں کی تجوریوں کو بھرنے کا ماحول بنانا چاہتے ہیں ۔
اقوام متحدہ اور دہلی کے لال بجھکڑوں سے صرف ایک سوال ہے کہ کیا پورے یوروپ میں پچھلے کم سے کم ایک سو سال سے ہی یہ قوانین جاری و ساری نہیں ہیں ؟ تو کیا وہاں عورتوں کی حالت، خاندانی نظام ،امراض خبیثہ کی شرح ،طلاق کی شرح ،ناجائز اولاد وں کی شرح پیدائش،شادی کے باہر تعلقات کے نتیجہ میں ہونے والا تشدد مایوسی و انتشار کی سطح تمام دنیا کے لیے لائق تقلید ہے ؟کیامغرب کی عورت آج خود مطمئن ہے؟ کیا یہ خواہش پرستی ہمیں جانوروں کی سطح پر نہیں لا رہی ہے یاشا ید اس سے بھی کمتر سطح پر کیونکہ شاید جانوروں میں ہم جنس پرستی نہیں پائی جاتی۔ ہاں ہوسکتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور دہلی کی دستاویزوں کے عملی نمونوں سے شہ پاکر انسانوں کی طرح ترقی یا فتہ ہو جائیں ۔
گمراہی اور انسانی تباہی کی طرف نسل انسانی کو ’’ دعوت‘‘دینے والے یہ سارے ادارے اور افرادکیا اتنے جاہل اور اندھے ہیں کہ انہیں نظر نہیں آتا کہ دونوں کی ظاہری اور اندرونی بناوٹ ،ساخت، افعال،ہارمون،حیض،حمل،نفاس، کا مختلف نظام کس طرح چیخ چیخر اپنے لئے الگ الگ طرح کے حقوق اور دائرہ کا تقا ضہ کر رہے ہیں ؟ کیا ماضی میں کبھی بھی اس فطرت سے بغاوت کرنے والی کوئی بھی تہذیب باقی رہ سکی ؟ کیا برائی یا بے انصافی کا علاج زیادہ بڑی برائی اور بے انصافی سے ممکن ہے؟ اگر اقوام متحدہ اور مغرب تقسیم دائرہ کار کو نہیں مانتا تو ان کوریکارڈ دکھا نا ہوگا کہ پچھلے سو سالوں میں کتنی خواتین C-E-Oہوئیں،CIA,FBIیا کسی بھی یوروپی  ملک کی کمنڈر انچیف مقرر ہوئیں ؟ سوائے عریانیت کے دنیا کو اس آزادی نے کیا دیا؟ کم سے امت مسلمہ کے پاس امر بالمعروف ونہی عن المنکر اس حال میں فرض ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *