’’سنیما‘‘کسی قوم کی ترقی یا زوال؟

[السلام علیکم ! امی کیسی ہو؟ وعلیکم السلام !ہاں بیٹا میں ٹھیک ہوں مگر گاؤں کا ماحول بہت خراب ہو چکا ہے۔ چھ سال کے بعد پہلی بار میری ماں نے مجھ سے یہ جملہ کہا ہے، ورنہ ہر بار جب میں فون پر ماں سے بات کرتا ہوں تو ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ بیٹا گھر کب آؤگے؟مگر ہر بار میرے پاس ایک ہی جواب ہوتا ہے: ’بہت جلد امی‘،اور میری ماں خاموش ہو جاتی ہے، سوچتی ہوگی کہ میرا بیٹا کب تک جھوٹ بولتا رہے گا۔جیل گئے چھ سال کا مرحلہ تو ہوچکا ہے، لیکن…وہ نہیں جانتی کہ ہندوستان میں مسلمان ہونا کتنا بڑا گناہ ہے اور(پھر) اس پر دہشت گردی کا الزام……! میں یہ مضمون مالیگاؤں کے حالات اور کچھ حقائق کی بنیاد پر لکھ رہاہوں، میری ماں کے سوال کا جواب تو میں نہیں دے سکتا مگر…امید ہے کہ امت مسلمہ اس درد کو ضرور محسوس کرے گی۔ جاوید احمد انصاری (مالیگاؤں)] حدیث شریف میں ملتا ہے کہ حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’جس نے کسی بھلائی پر رہنمائی کی، تو اس کے لیے اس کے کرنے والے کے برابر اجر ہے‘(صحیح مسلم) اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے،حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’جس نے کسی ہدایت کے لیے یا ہدایت کی طرف بلایا تو اس کو ان تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا، یہ ان کے اجروں سے کوئی کمی نہیں کرے گا اور جو کسی کو کسی گمراہی کی طرف بلائے گا، تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کا اتنا وبال بھی ہوگا جو اس کی پیروی کرنے والوں کو گناہ کرنے کا ہوگا،یہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ کرے گا ‘(صحیح مسلم) ’مالیگاؤں شہر‘مسلم شناخت کا ایک بہترین نمونہ ہے، اسلامی تہذیب کا گہوارہ ہے، یہ وہ شہر ہے جہاں پر پانچ لاکھ کے قریب مسلم آباد ہیں، تین سو کے قریب مساجد و مدارس ہیں، یہ وہ شہر ہے جہاں پر تبلیغی جماعت کی بنیاد مضبوط مانی جاتی ہے، یہاں پر سلفی اور صوفی حضرات کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، اور یہاں پر شیعہ مسلک کے لوگوں کی بھی قلیل تعداد موجود ہے،کلی طور سے دیکھا جائے تو اس شہر میں دین اسلام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل بھی باریش رہنا پسند کرتی ہے،مسلم خواتین میں پردہ آج بھی رائج ہے، رزق حلال کو اوّلیت دی جاتی ہے، محنت کشی و ایمانداری یہاں کے لوگوں کا شیوہ رہا ہے،ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ آج بھی باقی ہے،برائیوں سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے،لیکن…؟ ہمارے لیے کچھ معاملات میں سے ایک معاملہ ایسا بھی ہے جو ہماری تہذیب اور ہمارے گاؤں کی شناخت کے لیے ایک بد نما داغ ہے، ایک گندہ زخم ہے،جس کو اگر آج محسوس نہیں کیا گیا، آج علاج نہیں کیا گیا تو کل وہ ناسور بن جائے گا اور جب زخم ناسور ہو جائے تو اپنے ساتھ ساتھ جسم کے عضو کو بھی کاٹ دینے کا سبب ہوتا ہے یا کبھی کبھی موت کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے اور اس زخم کو کوئی صاحب ایمان، عاشق رسول، غیرت مند مسلمان ہی محسوس کر سکتا ہے ورنہ شرم وحیا ء اور غیرت تو بہت سی قوموں نے، ملکوں اور شہروں نے بیچ ڈالی اور اپنی تہذیب کا جنازہ نکال دیا،نیّا ڈبو دی گئی۔ وہ ناسور کیا ہے؟ مالیگاؤں شہر میں ’مالی ووڈ‘کے نام سے فلم انڈسٹری کا قیام اور سونے پہ سہاگا یہ کہ اس صنعت کو روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی شہر کی عظیم شخصیات کی طرف سے کی جارہی ہے جو ہمارے لیے بڑے شرم کی بات ہے۔ یہی گھر ہے جہاں اب مغربی سنگیت بجتا ہے اسی گھر سے تلاوت کی کبھی آواز آتی تھی جہاں پر بیٹھ کر دادی تلاوت کرتی رہتی تھی ابھی تک گھر کے اس کونے سے ایک خوشبو سی آتی ہے ہندوستان میں سب سے پہلے فلم کی بنیاد دادا صاحب پھالکے نے رکھی اور انہوں نے پہلی ہندوستانی فلم’راجا ہریش چندر‘مئی ۱۹۱۳ء میں ممبئی کے اولمپیا تھیٹر میں ریلیز کی جسے دیکھنے کے لیے شہر کے اعلیٰ طبقے کو دعوت دی گئی اور یہاں سے فلموں کا دور شروع ہوا اور ممبئی شہر بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے نام سے جانا جانے لگا۔ابتدائی زمانے میں مذہبی یا دھارمک فلمیں بنا کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پہلی ہندوستانی فلم راجا ہریش چندر ہندو دھرم سے متاثر ایک فلم تھی اور ان مذہبی فلموں کے ذریعہ سماجی موضوعات کو بڑھاوا اور انسانیت کا درس دیا جانے لگا جس وقت پہلی ہندوستانی فلم بنانے کی بات آئی تو اسے کسی بھی مذہب یا طبقے نے قبول نہیں کیا۔ اس فلم میں ہیروئین کے کردار کے لیے بھی کوئی خاتون تیار نہ تھی، یہاں تک کہ اس وقت کی طوائفوں نے بھی فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا، مجبوراً ایک مرد کو عورت بنا کر پیش کرنا پڑا،وقت بدلا تو کچھ طوائفوں نے فلموں میں کام کیا اور عوام کے ایک گنوار طبقے نے ان فلموں کو قبول کر لیا مگر شرفاء اور دین دار طبقہ ابھی بھی فلموں سے دور تھا،زمانے نے کروٹ بدلی اور شرفاء نے بھی اسے دھیرے دھیرے قبول کر ہی لیا، صرف چند لوگ رہ گئے جنہوں نے ابھی بھی اسے برا ہی سمجھا مگر اس معاملے میں اکثریت کا غلبہ ہوتا گیا اور ان چند لوگوں کی آواز کی اہمیت نہ کے برابر ہوتی چلی گئی، مذہبی فلموں کے بعد سماجی فلمیں،مزاحیہ فلمیں، پرتشدد فلمیں،دیو مالائی فلمیں، وقت کے ساتھ ساتھ فلموں کا دور بدلا اور آج فحاشی نے مکمل طور سے فلموں میں اپنی اجارہ داری قائم کر لی، دولت و شہرت کے لیے فلموں میں فحاشی کو مکمل عروج بخشا جارہا ہے اور اب اسے روکنا ایک ناممکن عمل ہو چکا ہے۔ مالیگاؤں شہر چونکہ ایک کثیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے اس لیے حکومت و انتظامیہ کے تعصب اور مسلم لیڈران کی حرام خوری کی وجہ سے ترقی کی راہ میں دیگر شہروں سے پچھڑا ہوا ہے۔ یہاں کی عوام کو تفریح کے لیے کوئی بھی سہولت فراہم نہیں، چھوٹے موٹے باغیچے وغیرہ لوگوں کو تفریح فراہم کرنے میں ناکام ہیں، اس لیے مسلمانوں کی اکثریت فلموں سے اپنا تفریحی شوق پورا کرتی ہے۔مالیگاؤں شہر میں تیرہ سے زائد سنیما ہال اور پچاس سے زائد وڈیو سنیما ہیں جہاں پر ہالی ووڈ، بالی ووڈ کی فلمیں ریلیز کی جاتی رہی ہیں مگر کچھ بے غیرت مسلمانوں نے اس پر روک نہ کرتے ہوئے بذات خود فلم سازی کا کام شروع کر دیا،اس برائی کو روکنے کے بجائے خود ہی اس میں ملوث ہوتے چلے گئے اور گزشتہ چند سالوں قبل مالیگاؤں میں اس فحاشی کے ذریعے کی بنیاد’مالی ووڈ‘کے نام سے رکھی گئی جو آگے چل کر آنے والی نسلوں کو فحش زدہ اور ننگا کر دے گی۔ سنا تھا جس گھرانے سے کبھی تہذیب زندہ تھی اسی دہلیز سے اب ہر نیا فیشن نکلتا ہے آج ہم زندہ ہیں چند برسوں میں قبروں میں ہوںگے آج ہمارے سامنے مالی ووڈ کی بنیاد رکھی گئی کل ہم اللہ کے سامنے کیا جواب دیں گے ؟مالی ووڈکی شروعات بھی بالکل اسی طرح ہو رہی ہے جس طرح ممبئی میں پہلی مرتبہ فلم سازی کا کام شروع ہوا۔ سرمائے کی کمی، خواتین کا فلموں سے دور رہنا، شرفاء کا اسے پسند نہ کرنا، ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد آج بالی ووڈ اپنے عروج پر ہے۔ ممبئی شہر کو آج فحاشی کا سب سے بڑا اڈّا کہا جا سکتا ہے، پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ خواتین سے یہاں جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ ممبئی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی فحاشی اتنی بڑھ چکی ہے کہ چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہو رہی ہے۔چند رو زقبل اردو کے ایک اخبار میں خبر گزری کہ ایک بارہ سالہ لڑکی کو سات ماہ کا حمل پایا گیا، حمل ضائع کرنے کے لیے ڈاکٹروں سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے حمل ضائع کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس سے زچہ و بچہ دونوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اور قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا تو معاملہ پولیس کے ہاتھوں میں ہے اور اس معاملے میں ایک گرفتاری بھی کی گئی، ایک خبر اور تھی کہ ایک عمر رسیدہ شخص نے اپنی نابالغ پوتی کو بھی نہیں بخشا، کئی معاملات ایسے ہیں کہ بیٹیاں اپنے باپوں سے محفوظ نہیں ہیں،ایسے بے شمار واقعات ہیں،جو دعوت عبرت دے رہے ہیں مگر ہم مغرب کی اندھی تقلید میں آنکھیں کھولنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ جسمانی تسکین کے لیے نوجوان لڑکیوں کا اغوا کیا جا رہا ہے اور انہیں بازار حسن میں بیچ دیا جاتا ہے۔اغلام بازی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس کو دیکھتے ہوئے ابھی حال ہی میں پارلیمنٹ نے بچوں کو نسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک بل کو منظوری دے دی ہے اور یہ قانون بچوں کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ کال گرل، ریو پارٹیاں،حقہ پارلر، مساج پارلر، بئیر بار، ڈانس بار وغیرہ کے کھلے عام اتنا بڑھاوا دیا گیا کہ قوم ِلوط بھی مات کھا گئی، اس پر ہماری خاموشی ہمیں بذات خود شرمندہ کر رہی ہے مگر غیرت ہو تو شرم بھی آئے۔ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے بعد اب مالیگاؤں میں مالی ووڈ فلم انڈسٹری کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔تو کیا ہم جان بوجھ کر ہمارے شہر، ہماری نسل، ہماری دینی حمیت و غیرت کو فلم سازی کی بھیٹ چڑھا دینا چاہتے ہیں؟کیا ہم چاہتے ہیں کہ بیئر بار، ڈانس بار کی آڑ میں ہماری خواتین کو بے پردہ کیا جائے۔حقہ پارلرو مساج پارلر کی آڑ میں نوجوانوں کو گمراہ کر دیا جائے ؟معصوم بچے وبچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہو؟؟ہم نے جس طرح ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی نقل کر کے فلم سازی شروع کی ہے تو کیا ہم نے اس کے منفی اثرات کے بارے میں غور نہیں کیا ہے ؟کیا ہم اپنے شہر کو اس فحاشی کے ماحول میں ڈھکیل دینا چاہتے ہیں ؟تاکہ گھر، خاندان، تہذیب ختم ہو کر رہ جائے۔ (مسلم معاشرے میں فحاشی۔۔۔ اسی مضمون کا دوسرا حصہ ہے جو اس شمارے میں سب سے پہلے درج ہے۔ مضمون کی طوالت دور کرنے اور تنوع کی غرض سے ایسا کیا گیا۔ ادارہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *