کثیر القومی کمپنیوں کی شکل میں کس کی ہے حکمرانی؟

موجودہ نسل کے لیے بہت سے حقائق صیغہ راز میں ہیں۔درا صل یوروپی اقوام نے اپنے نو آبادیات قائم کرنے کے لیے جو جنگیں لڑیں وہ عام طور پر ان کی سرحدوں سے بہت دور لڑی گئیں ۔ان جنگوں کے تمام تر منفی اثرات تو ایشیا اور افریقہ کی مفتوحہ قوموں نے برداشت کئے جبکہ یوروپ ان جنگوں کے نتیجے میں خوشحالی کی نئی منزلیں سر کرنے لگا ۔یوروپ میں ہونے والی سائنسی پیش رفت کو نوآبادیات سے آنے والی دولت اور غلاموں کی ریل پیل نے بلند معیار زندگی کے اوج پر پہنچا دیا۔اسی کی ایک مثال کوہ نور ہیرا بھی ہے ۔نو آبادیاتی لوٹ مار کے کا یہ دور تقریباً سو سال تک جاری رہا ۔اس کے بعد پوروپی اقوام نو آبادیات میں اپنی باقاعدہ زندگی لا حاصل محسوس کرنے لگیں ۔اس نئی سوچ کے پس پشت چند حقائق تھے۔سب سے پہلی بات تو یہ تھی دو عظیم جنگوں میں بے بے تحاشہ افرادی قوت اور مسائل جھونک دینے کے بعد یوروپ کے لیے اپنی طویل وعریض نوآبادیات پر قبضہ بر قرار رکھنا مشکل تھا۔دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اپنے استعماری قبضے کے دوران یوروپی اقوام اپنے غلام ملکوں میں ایک ایسا مقتدر پیدا کر چکی تھیں جو یوروپ کے نظریات اور طرز زندگی کو نہ صرف خود اختیار کر چکا تھا بلکہ ان مغربی نظریات اور طرز زندگی کو اپنے ہم وطنوں پر نافذ کر نے کے لیے تہہ دل سے تیار ہو چکا تھا جبکہ یوروپی استحصال کی شکل بدل چکی تھی۔ یوروپی استعماری طاقتوں کی جگہ اب کثیر القومی کمپنیاں لے چکی تھیں ۔ اب آزادی کے لباس میں استحصال کی ایک نئی شکل تیار ہو چکی تھی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اس نئی غلامی پر قومیں آج بھی بصد مسرت تیار ہیں ،جبھی تووالمارٹ جیسی جانے کتنی کمپنیاں بر صغیر ہند -پاک کے علاوہ متعدد ممالک میں پیر پھیلا چکی ہیں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ نو آبادیاتی طاقتوں میں کا میاب ترین ممالک برطانیہ اور فرانس ثابت ہوئے البتہ برطانیہ کا اقتدار کا پلڑا بھاری رہا ۔برطانوی اقتدار میں سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔ افریقہ سے ہانگ کانگ تک یو نین جیک لہرا رہا تھا ۔استعماری غلبہ اور نو آبادیات کی کثرت کے لحاظ سے جو یوروپی ممالک جس قدر کا میاب رہے اس کے مثبت اثرات بھی انہوں نے اسی طرح سمیٹے اور نو آبادیات بنانے کے تلخ نتائج کا سامنا بھی کیا ۔برطانیہ نے دنیا کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا ۔بر طانیہ نے اپنی نو آبادیات کو آزادی دینے کے بعد بھی آزاد نہیں ہونے دیا بلکہ اپنے سابقہ غلام ممالک کی ایک دولت مشترکہ کہ تشکیل دے دی۔ اس دولت مشترکہ کے ذریعے بر صغیر اور افریقہ کے غلام ملکوں کے باشندوں نے تعلیم ،مستقل سکونت اور کا روبار کے لیے برطانیہ کا رخ کیا ۔دارالحکومت دہلی کی موجودہ نسل نے خود اپنی آنکھوں سے دولت مشترکہ کھیلوں کاتماشہ 2010ءکے دوران دیکھا ہے ۔ اس طرح بر صغیر اور شمالی افریقہ کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ پہنچ گئی تو دوسری جانب پاکستان میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں آبادی کا انخلا ہوا۔میر پور کی آبادی کو برطانیہ نے اپنے ہاں قبول کر لیا ۔ان تاریخی واقعات نے برطانیہ کے یک قومی ملک کو کثیر لسانی ملک میں تبدیل کر دیا ۔بر طانیہ میں دیگر اقوام کا تناسب حیرت انگیر طور پر بتدریج بڑھنے لگا۔ اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ماضی کے آبادی سے بھرپور یوروپ کی ہئیت بھی بدلنی شروع ہو گئی۔اب ہر عام برطانوی بڑے خاندان اور اس کی اقدار کی بجائے معیار زندگی کو ترجیح دینے لگا ۔البتہ بر صغیر اور افریقہ سے برطانیہ آنے والی برادریوں خاص طور پر مسلم طبقہ نے نہ صرف اپنی تہذیب ،خاندان اور اقدار پر کسی مصلحت سے گریز کیا بلکہ بڑی حد تک اسے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کی۔البتہ برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کی طرف سے اپنی اقدار سے متعلق رہنے کی روش نے پنے نتائج آہستہ آہستہ ظاہر کرنا شروع کئے ۔نتیجے کے طور پر برطانیہ کے شہر بتدریج کثیر نسلی اور کثیر لسانی شہروں میں تبدیل ہونے لگے۔برطانیہ میں گوری نسل کے خاندان مختصر ہوتے چلے گئے۔ بلکہ اب تو نوبت یہ آگئی ہے کہ یہاں آباد ’گورے‘ اقلیت میں آگئے ہیں ۔یہاں تک کی خود خاندان کا ادارہ ہی تیزی سے زوال کے مراحل طے کرنے لگا ۔ہم جنس پرستی اور بے راہ روی کے رجحانات نے اس زوال کو مزید گہرا کیا۔ برطانیہ میں آباد مسلمانوں نے اپنے آبائی وطن سے تعلق کو ختم نہ کیا بلکہ نئی نسل کے ازواجی رشتے بھی اپنے ہی آبائی ممالک میں کرنے کی وجہ سے ان ممالک سے نوجوان نسل بڑی تعداد میں برطانیہ پہنچنے لگی۔اس پر مستزادیہ کہ قبولیت اسلام کے مغربی رجحان سے بر طانیہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ان تمام عوامل کے نتیجے میں اب عملی صورت حال یہ ہے کہ بلیک برن اور ڈیوزبری جیسے برطانوی شہر مسلم اکثریتی شہر بن چکے ہیں ۔دیگر برطانوی شہر دا ر الحکومت لندن اور برمنگھم میں پورے کے پورے محلے مسلم آبادیوں پر مشتمل ہونے لگے۔انتہا پسند ،کون ہے ؟برطانیہ کی یہ صورت حال محض ایک یورپی ملک کا مسئلہ نہیں ۔فرانس ،جرمنی،اٹلی،یونان اور اسپین ہر جگہ گوری نسل خاندان کے زوال کے نتیجے میں آبادی کی کمی کا شکار ہیں۔آبادی کی اس کمی کو بھی بر صغیر اور شمالی افریقہ کے سستے مزدور پورا کر رہے ہیں۔یہ رجحان یورپ کے گوری نسل کو مزید سمیٹ رہا ہے۔یورپ کے ڈیموگرافک چارٹ نے یورپی ماہر سماجیات اور حکومتوں کو پریشان کر دیا ۔اٹلی ،فرانس ،جرمنی اور روس کی حکومتوں نے اس سلسلے میں چند اہم اقدامات کئے ۔ان ممالک نے بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو ۲ سال کی چھٹی مع تنخواہ اور ایک معقول رقم نقد بطور انعام دینے کا اعلان کیا لیکن یہ پالیسی ۳ وجوہات سے ناکام رہی ،پہلی وجہ یہ تھی کہ تمام پر کشش مراعات ان تکالیف اور قربانیوں کا متبادل نہ بن سکیں جو ماں بننے اور اولاد کی پرورش کرنے میں درکار ہیں۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مغرب میں اولاد کی ذمہ داری اٹھانے والا اور ہر حال میں اپنی شریک حیات کا ساتھ نبھانے والا مرد باقی نہ رہا۔اس پالیسی کی ناکامی کی کی تیسری عملی وجہ یہ رہی کہ یورپی ملک میں رہنے والے مسلم خاندان نے اس پالیسی سے فائدہ اٹھاکر اپنے خاندانوں کومزید وسعت دے دی ۔اس صورت حال نے یورپی سیاست دانوں کو پلا کر رکھ دیا۔سب سے پہلے سوئٹزر لینڈ نے اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی مساجد کو ایک خطرے کے طور پر دیکھا جب کہ عبادت گاہوں پر پابندی بہت مشکل تھی ۔اس لیے پہلے مرحلے میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگا دی گئی ۔فرانس نے چہرے کے حجاب پر پابندی لگا دی ۔اب اٹلی نے بھی فرانس کی تقلید کرتے ہوئے حجاب پر پابندی لگا دی۔ان اقدامات نے یورپ کی مسلم آبادی میں اپنی اقدار کے تحفظ کا نیا احساس پیدا کیا۔بجائے اس کے کہ یورپ اپنی آبادی میں فطری خود کفالت کے لیے معاشی اقدار کے غلبے ،معیار زندگی کی بڑھتی ہوئی دوڑ اور ہم جنس پرستی کے رجحانات کو ترک کر کے خاندانی اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دینے کی کوشش کرتا ،اس نے اپنی ہی مسلم آبادی کے خلاف ایک سرد جنگ چھیڑ کر صورت حال کو مزید نازک کر دیا۔یورپ کو اس صورت حال نے یورپ کو آبادی میں کمی کے ساتھ خالصتاً یوروپی اقدار سے بھی پشت پھیرنے پر مجبور کر دیا۔خاص طور پر فرانس میں حجاب پر پابندی نے یورپ کی بنیادی قدر یعنی آزادی کو سخت نقصان پہنچایا۔خود یورپ کے سنجیدہ سیکولر طبقے نے سوالیہ نشان قائم کر دیا کہ اگر فرانس نے خواتین کو زبردستی حجاب سے محروم کر دیا تو فرانس کی لبرل حکومت اور افغانستان کی طالبانی حکومت میں کیا فرق رہ جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر طالبان زبردستی حجاب کرواکے’انتہا پسند ‘قرار پاتے ہیںتو زبردستی حجاب اتروا نے والی فرانس کی لبرل حکومت انتہا پسندی کے الزام سے کیسے بچ سکتی ہے؟کیا یورپ کی نسل پرستی کا دور واپس آرہا ہے ؟اس یوروپی صورت حال کے کیا نتائج نکلیں گے اور جمہوری ، تعلیم یافتہ اور مہذب یورپ اس صورت حال سے کیسے عہدہ بر آ ہوگا؟ان سوالات کے جواب نہ صرف تاریخی ہوں گے بلکہ اک نئی تاریخ بھی رقم کریں گے۔مغربی دنیا کو جلد یا بدیر ان سوالات کو حل کرنا ہوگاکیوں کہ تہذیبی تصادم کی یہ صورت حال اپنے اندر مثبت اور منفی دونوں قسم کے ان گنت امکانات رکھتی ہے۔بہت سے سوال اور رہ گئے تشنہ ۔دنیا کے سب سے بڑے ہیروں میں شمار کیا جانے والا ایک سو پانچ کیرٹ کے کوہ نور ہیرے کو انیسویں صدی میں اس وقت برطانیہ لے جایا گیا تھا جب ہندوستان پر برطانیہ کا قبضہ تھاجب کہ ہندوستان برطانیہ کی نو آبادی تھی ۔یہ کوہ نور ہیرا فی الحال لندن ٹاور میں آج بھی رکھا ہوا ہے جب کہ مہاتما گاندھی کے پوتے سمیت ہندوستان کی کئی اہم شخصیات برطانیہ سے بار بار یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ وہ کوہ نور ہیرا کے دورے کے دوران اس مطالبہ کو خارج کرتے ہوئے کہہ دیا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ صحیح طریقہ ہے۔یونان کے الینگن سنگ مرمر کا بھی یہی معاملہ ہے ۔مجھے چیزوں کو لوٹانے میں کوئی یقین نہیں ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ سمجھداری والی بات ہے ۔عجیب بات یہ ہے کہ یونان کے پتھروں سے بنی مورتیوں کو بھی برطانیہ لے جایا گیا تھااور یونان ایک لمبے عرصے سے ان کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن برطانیہ نے انہیں بھی واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اس سلسلہ میں ڈیوڈ کیمرون کا موقف ہے کہ اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ برطانیہ کے عجائب گھر دنیا بھر کے دیگر عجائب گھروں کے ساتھ بات کرکے اس بات کو یقینی بنائیں گے۔ ہندوستان کو واپس کریں لیکن ڈیوڈ کیمرون نے اپنے حالیہ ہندوستان

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *