مسلم معاشرے میں فحاشی کے علم بردار شیطان کے حقیقی بھائی

قرآن شریف میں بڑے ہی اچھے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے کہ:ـ ’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے ،وہ دنیا وآخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں ۔اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق ورحیم ہے(تو یہ چیز جو ابھی تمھارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھلا دیتی)۔اے لوگوں جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ۔اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش وبدی کا ہی حکم دے گا۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا رحم وکرم نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہو سکتا ۔مگر اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے‘‘(سورۃ النور ۱۹ سے ۲۱) مندرجہ بالا آیت کی تشریح میں ہے کہ’’ آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں ۔ان کا اطلاق عملا بدکاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں ،اشعار،گانوں ، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی ہوتا ہے۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی اس صف میں آجاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے ۔قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں ،صرف آخرت ہی میں نہیں ،دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہئے ۔ اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے کہ : ’’اللہ عدل واحسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی وبے حیائی اور ظلم وزیادتی سے منع کرتا ہے ۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔ــ‘‘(سورۃ النحل ۹۰) اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے ۔جو انفرادی حیثیت سے افراد کو اور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کو خراب کرنے والی ہے ۔ جس میں سے

پہلی چیز فحشاء ہے جس کا اطلاق تما م بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو فحش ہے مثلاً،بخل،زنا،برہنگی و عریانی، عمل قوم لوط،محرمات سے نکاح ، چوری ،شراب نوشی،بھیک مانگنا ،گالیاں بکنا اور بد کلامی کرنا وغیرہ۔ اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا فحش کام ہے مثلاً:جھوٹاپروپگنڈا ،تہمت تراشی ، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم ،عریاں تصاویر ، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا ، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پر عورتوںکا ناچنا اور تھرکنا اور نازو ادا کی نمائش کرنا وغیرہ۔ جہاں قرآن میں ناچ گانے کو فحش کہا گیا ہے وہیں پراحادیث میں بھی ناچ گانوں کی ممانعت کی گئی ہے اور وضاحت کی گئی ہے کہ جو ان خرافات سے نہیں رکے گا وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ہوگا ،دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جب مال غنیمت کو (گھر کی دولت)سمجھاجانے لگےگا اور امانت غنیمت سمجھ کر دبا لی جائے گی اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جانے لگے گا اور(دینی )تعلیم دنیا کے لیے حاصل کی جائے گی اور انسان اپنی بیوی کی اطاعت کرنے لگے اور ماں کو ستائے اور دوست کو قریب کرے اور باپ کو دور کرے ،مسجدوں میں (دنیا کی باتوں کا )شور ہونے لگے،قبیلہ( خاندان) کے سردار بددین بن جائیں ،کمینے قوم کے ذمہ دار بن جائیں، انسان کی عزت اس لیے کی جائے کہ وہ شرارت نہ پھیلادے(یعنی خوف کی وجہ سے)،گانے بجانے والی عورتیں اور گانے بجانے والے سامان کی کثرت ہوجائے،شرابیں پی جانے لگے، اور بعد میں آنے والے لوگ امت کے پچھلے (نیک) لوگو ں پر لعنت کرنے لگیں تو اس زمانے میں سرخ آندھی اور زلزلوں کا انتظار کرو۔زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے منتظر ر ہواور ان عذابوں کے ساتھ دوسری نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے درپے اس طرح ظاہر ہونگی جیسے کسی لڑی کا تاگہ ٹوٹ جائے اور پے درپے دانے گرنے لگیں ۔‘‘ (ترمذی شریف) اس حدیث میں جن باتوں کی خبر دی گئی ہے، وہ اس وقت موجود ہو چکی ہیں اور ان کے بعض نتائج (یعنی زلزلے وغیرہ)بھی جابجا ظاہر ہو رہے ہیں اگر امت کے کارناموں پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے اور پھر ان عذابوں پر غور کیا جائے جو زلزلوں وغٖیرہ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں تو اس حقیقت کا پورا پورا یقین ہوجائے گا کہ جوکچھ مصائب وآفات آج ہم دیکھ رہے ہیں وہ ہماری ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے اور بدکاریوں کا بدلہ ہے۔ اسی طرح ایک دوسری حدیث میں وظھرت القینات و المعارف کہا گیا ہے ۔یعنی گانے بجانے والی عورتیں اور گانے بجانے کے سامان رائج ہوجائیں گے۔جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ جہاں کچھ پیسے آجاتے ہیں یا معقول ملازمت مل جاتی ہے تو سب سے پہلے لہو ولعب اور گانے بجانے کے سامان خریدنا ہی ضروری سمجھا تاجا ہے گھر میں گرامو فون اور ٹیلویثرن کا ہونا ہی ترقی کا معیار اور آسودگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گرامو فون یا ٹیلی ویثرن پر سب چھوٹے بڑے مل کر عشقیہ غزلیں ،فحش گانے ، گندے اشتہارات دیکھتے اور سنتے ہیں۔ شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں گانے باجے کا انتظام نہ ہو تو اس تقریب کو بد مزہ اور پھیکا سمجھا جاتا ہے ۔طوائفوں کے ناچ گانوں اور ٹی وی پروگراموں میں مشغول رہ کر نمازکی بھی فرصت نہیں رہتی۔ جن بزرگوں اور اسلاف نے اپنی زندگی خلاف شرع کاموںکو مٹانے میں گزار دی ان کی موجودہ نسلیں کھیل تماشوں میں ،ناچ گانوں میں رہ کر گزار رہی ہے۔ جبکہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’گانا دل میں نفاق پیداکرتا ہے۔جیسے پانی کھیتی اگاتا ہے۔‘‘(بہیقی) اور فرمایا نبی اکرمؐ نے کہ: ’’میرے رب نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہادی بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ گانے بجانے کا سامان اور بت اور صلیب (جسے عیسائی پوجتے ہیں)اور جاہلیت کی چیزوں کو مٹا دوں‘‘۔(رواہ احمد) آج کل گانا بجانا زندگی کا اہم جزو بنا ہوا ہے جب کہ اللہ کے رسول ﷺ اسے مٹانے کی بات کر رہے ہیں ۔ازدواجی زندگی کا معیار بھی بدل گیا ہے کہ شوہر و بیوی کے انتخاب کے لیے دین دار اور خدا ترس ہونا نہیں دیکھا جاتا بلکہ مرد ،نازنین رقاصہ ڈھونڈھتا ہے اور بیوی کوہیرو ٹائپ کا مرد درکار ہے ۔ مال و زر کی ہوس میں شریف و خاندانی مرد و خواتین خاندانی عزت کو خاک میں ملا کر اسٹیج و فلموں میں آرہی ہیں۔فلمی کمپنی کے ایجنٹ بہلاپھسلا کر انہیں تباہ و برباد کر رہے ہیں ،ایک ایکٹریس اپنے حسن فروشی کے جنون میں ہر وہ حرکت کر گزرتی ہے جو نہ کرنی چاہیے تھی۔جب پوسٹروں و اخبارات میں ان کا تعارف کرایا جاتا ہے اور اس کے رقص کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کا دل بڑھتا ہے اور وہ بے حیائی کے اور زیادہ مراتب طے کرتی ہے ۔ضرورت زمانہ کو دیکھتے ہوئے تو اب بعض اسکولوں میں بھی رقص و موسیقی کی باقاعدہ تعلیم جاری ہو گئی ہے اور بچپن سے ہی چھوٹی چھوٹی بچیوں کے دلوں میں رقص و موسیقی کی راہ دکھائی جا رہی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’دوزخیوں کے دو گروہ پیدا ہونے والے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا‘‘(کیونکہ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے ) پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : ’’کہ ایک تو ایسا پیدا ہوگا جو بیلوں کی دموں کی طرح لمبے لمبے کوڑے لیے پھریں گے اور ان سے لوگوں کو مارا کریں گے ۔صبح و شام اللہ تعالیٰ کے غصہ و ناراضگی اور لعنت میں پھرا کریں گے دوسرا گروہ ایسی عورتوں کا پیدا ہوگا جو کپڑے پہنے ہوئے بھی ننگی ہوں گی (غیر مردوں )کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی (ان کی طرف مائل ہوں گی)ان کے سر اونٹوں کی جھکی ہوئی پشتوں کی طرح ہوں گے ۔نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ جنت کی خوشبو سونگھیں گی حالانکہ بلا شک و شبہ اس کی خوشبو اتنی دور (یعنی برسہا برس کی مسافت سے)آتی ہے‘‘۔(مسلم شریف) اس حدیث میں دوسری پیشین گوئی عورتوں کے حق میں ارشاد فرمائی ہے کہ آئندہ زمانہ میں ایسی عورتیں موجود ہوں گی جو کپڑے پہنے ہوئے بھی ننگی ہوں گی یعنی اس قدر باریک کپڑے پہنیں گی کہ ان کے پہننے سے جسم چھپانے کا فائدہ حاصل نہ ہوگا یا کپڑا باریک تو نہ ہوگا مگر چست ہونے اور بدن کی ساخت پر کس جانے کی وجہ سے اس کا پہننا اور نہ پہننا برابر ہوگا اور آج کل تو چست لباس ہونے کے ساتھ ساتھ ہم رنگ ہونا بھی فیشن میں داخل ہو چکا ہے ۔ چنانچہ گندمی رنگ کے ایسے موزے اور لباس بن چکے ہیںجو کھال پر چپک کر کھال کا ہی حصہ معلوم ہوتے ہیں ۔ بدن پر کپڑا ہونے اور اس کے باوجود بھی ننگا ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ بدن پر صرف اور صرف تھوڑا سا کپڑا ہو اور بدن کا بیشتر حصہ اورخصوصاًوہ اعضاء کھلے رہے جن کو با حیا عورتیں غیر مرد وں سے چھپاتی ہیںجیسا کہ یورپ اور ایشاء کے بعض شہروں میں (مثلاًرنگون،ممبئی ،سنگا پور وغیرہ ) میں ایسا لباس پہننے کا رواج ہے کہ صرف گھٹنوں تک قمیص ہوتی ہے۔آستین مونڈھے سے صرف دوچار انچ ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہیں پنڈلیاں بالکل ننگی ہوتی ہیں اور سر بھی دوپٹہ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ عورتیں مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی یعنی ننگا ہونے کا رواج مفلسی کی وجہ سے نہ ہو گا بلکہ ان کی نیت مردوں کو بدن دکھانا اور ان کا دل لبھانا ہوگا اور دوسرا طریقہ یہ بھی اختیار کریں گی کہ اپنے سروں کو (جو دو پٹوں سے خالی ہوں گے )مٹکا کر چلیں گی،جس طرح اونٹ کی پشت کابالائی حصہ رفتار کی وجہ سے زمین کی جانب جھکا کرتا ہے۔اونٹ کی پشت سے تشبیہ دینے سے یہ بھی بتایا گیا کہ بال پھلا پھلا کر اپنے سروں کو موٹا کریں پھر فرمایا کہ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہ ہوں گی بلکہ اس کی خوشبو تک نہ سونگھ سکیں گی۔ شریعت اسلامیہ نے زنا کاری سے بھی روکا ہے اور ایسی چیزوں سے بھی روکا ہے جو زنا کی طرف بلانے والی ہیں ۔آج زنا کی ترغیب دینے میں فلم بینی کا سب سے اہم رول رہا ہے۔اس کے بعد ٹی وی سیریلوں اور ان سب سے بھی آگے بڑھ کر انٹرنیٹ ،فحش رسالے ،فحش اشتہارات اور نت نئے فیشن وغیرہ عورتوں اور مردوں کو زنا کی طرف دعوت دینے کا ذریعہ ہیں ۔ بیہقی کی ایک روایت ہے کہ: ’’جو نامحرم پر نظر ڈالے اور جو اپنےپر نا محرم کی نظر پڑنے کی خواہش اور تمنا کرے اس پہ خدا کی لعنت ہے‘‘(بیہقی) اب ہم غور کریں کہ فلموں ،ٹی وی سیریلوں ،اشتہارات وغیرہ میں بن سنور کر عورتیں و مرد اپنے آپ کو عیاں کرتے ہیں اور ہم ان کی ہر حرکت ،ہر ادا پر فدا ہوتے ہیں !تو کیا ہم اللہ کی لعنت سے بچ سکتے ہیں ؟ زمانے میں موجود اچھائیوں اور برائیوں کا احساس انسان کے دل کے اندر اس وقت جاگ سکتا ہے جب دل میں اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر پیدا ہو جائے اور دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا ہو جائے۔آج ہمارے معاشرے میں فلم اور فلمی طرز زندگی کو بڑھا وا دیا جا رہا ہے کیو نکہ ہمارے دلوں سے اللہ تعا لیٰ کا ڈر خوف ،نیکی اور بدی،صحیح اور غلط کی پہچان ختم ہو گئی ،اس لیے کہ ہم نے قرآن تو پڑھا لیکن قرآن میں درج اللہ کے احکا مات ،معروف ومنکر ،حلال اور حرام کو جاننے کی کوشش بھی نہیں کی قرآن کہتا ہے کہ: ’’ اے ایمان والوں !اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلے کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دیگا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے‘‘ (سورۃ الانفال۲۹) اس آیت میں ارشاد الٰہی کا منشاء یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو اور تمہاری دلی خواہش ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہونے پائے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کر دیگا جس سے قدم قدم پر تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون سا رویہ صحیح ہے اور کونسا غلط ، کس رویہ میں خدا کی رضا ہے اور کس میں اس کی ناراضگی،زندگی کے ہر موڑ ،ہر نشیب وفراز پر تمہاری اندرونی بصیرت تمہیں بتانے لگے گی کہ کدھر قدم اٹھانا چاہیئے اور کدھر نہ اٹھانا چاہیئے ،کونسی راہ حق ہے اور خدا کی طرف جاتی ہے اور کونسی راہ باطل ہے اور شیطان سے ملاتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے گناہ و زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ: ’’نیکی اور پرہیز گا ری میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و ظلم زیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘(سورۃ المائدہ ۲) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ‘‘ (سورۃ الآل عمران ۱۰۶)

اور اسی سورہ میں آگے بھی کہا گیاہے کہ: ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘ (سورۃ الآل عمران ۱۱۰) اسی بیہقی کی ایک روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اس امت کے آخری دور میں ایسے لوگ ہوں گے جنھیں وہی اجر ملے گا جو ان سے پہلو ںکو ملا تھا وہ نیکیوں کا حکم کریں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور فتنہ والوں سے لڑیں گے۔ (بیہقی) ان آیات میں بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی امامت ورہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیل اپنی نا اہلی کے باعث معزول کئے جا چکے ہیں اس پر اب تم مامور کئے گئے ہو ۔اس لیے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گئے ہو اور تم میں وہ صفات پیدا ہو گئی ہیں جو امامت عادلہ کے لیے ضروری ہے ۔یعنی نیکیوں کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و عمل اور اللہ وحدہ لاشریک کو اعتقاداً اور عملاً بھی اپنا اللہ اور رب تسلیم کرنا ۔سورۃ التوبہ میں کہا گیا ہے کہ : ’’مومن مرد عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار، معاون اور ) دوست ہیں، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ،نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بے شک اللہ غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ التوبہ ۷۱) جہا ں پر اللہ تعالیٰ نے متقی ،مومن کی صفت بیان کی وہیں پر اللہ نے زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے انجام سے آگاہ بھی کیا جیسا کہ سورۃ الہود میں بیان کیا گیاکہ: ’’پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خیر لوگ ہوتے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے،سوائے ان چند کے جنہیں ہم نےان میں سے نجات دی تھی، ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے ،جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وہ گنہگار تھے۔ آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے لوگ نیکوکا ہوں ،اگر آپ کا رب چاہتا تو سب کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کر دیتا ۔ وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے۔بجز ان پرجن پر آپ کے رب کی بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے پر کروں گا۔‘‘ (سورۃ الہود) ٍ پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی بھی قومیں تباہ ہوئی ہیں ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی خمیر اس درجہ بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے،یا اگر کچھ لوگ نکلے بھی تو وہ اتنے کمزور تھے اور ان کی آواز اتنی کمزور تھی کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رک سکا۔یہی چیز ہے جس کی بدولت آخر کار یہ قومیں اللہ کے غضب کی مستحق ہوئیں ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ وہ بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ ان کو خوا مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے اور آخر میں نیک لوگوں کا انجام جنت اور برے لوگوں کا انجام جہنم ہو گا۔ اسی طرح زنا اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام ہی افعال کے تعلق سے کہا گیا کہ: ’’زنا کے قریب بھی نہ بھٹکو،وہ بہت ہی برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ ہے‘‘(الاسراء) اس آیت میں نہ صرف زنا بلکہ زنا کی طرف لے جانے والے تمام افعال سے منع کیا گیا جس میں فواحش کی اشاعت ،شراب ،ناچ گانے،تصاویروغیرہ جو آدمی کو زنا کے قریب ترین لے جا سکتی ہے پر پابندی لگا ئی گئی تا کہ اجتماعی زندگی میں زنا ،محرکا ت زنا اور اسباب زنا کا سد باب ہو سکے اور اگر ہم نے امر با لمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو ہم اللہ کے عذاب کے مستحق قرار دیئے جا سکتے ہیں جیسا کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ : ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور ضرور برائی سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے ،پھر تم اس سے دعائیں کروں گے لیکن وہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘( ترمذی) حوالے، ترجمہ وتشریحات: مولانا محمد جونا گڑھی صاحب ؛ مولانا ابوالاعلی مودودی صاحب قیامت کی پیشن گوئیاں ( کتاب)؛ زندگی نو (ماہانہ رسالہ) ارود ٹائمزو انقلاب ( اردو اخبارات) ٭٭٭

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *