ازبوسٹن تا لندن A trail of Terror-fixing

میرے سامنے ۲۴،مئی ۲۰۱۳ء؁کا دی ہندو کا OP-EDصفحہ ہے جس کےنصف اخیر میں توسع پسند حسن سرور نے لندن کے ایک سروے پر مشتمل رپورٹ پر تبصرہ کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’وسط یورپ میں اللہ کی تلاش‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ باوجود یکہ اسلام کے تئیں ایک سے زیادہ معاملات میں یہ رویہ عام ہے کہ اسلام ایک شدت پسند اور خصوصاً عورتوں کے معاملے میں غیررو ادار دین ہے جس میں ایک عورت پوری طرح سے ڈھک کر مردوں سے دوقدم پیچھے چلنے پر مجبور ہے۔وغیرہ۔
اس کےباوجوداب نظر آرہا ہے کہ اسلام گوری برطانوی عورتوں کے لیے، جو ہزاروں کی تعداد میں ہر سال مسلمان ہو رہی ہیں ، ایک غیر معمولی جاذبیت کا محور بن چکا ہے ۔ ہر سال تقریباً ۵۰ ہزارسے بھی زیادہ برطانوی لوگ جو اسلام قبول کر رہے ہیں ان میں دوتہائی سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہے ۔ ان میں سے بیشتر ایسی ہیں جو خود مختار پیشہ وارانہ کیرئیرسے وابستہ ہیں ۔ ان میں بنک مالکان، ڈاکٹر، نشریاتی اداروں سے وابستہ خواتین ہیں جنہیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کیا کر رہی ہیں ۔ اور ان میں سے اکثر اسلام قبول کرتے وقت اپنے خاندان اور احباب کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود قبول اسلام کا فیصلہ کرتی ہیں؛ ایسی مشہور اور اعلیٰ طبقہ کی خواتین میں سابق وزیر اعظم کی خواہرنسبتی لارین بوتھ ، مشہور و معروف صحافیہ ایوان ریڈلی(یہ وہی خاتون ہیں جو طالبان کی قید میں ایک عرصہ تک رہیں اور عو رتوں کے تعلق سے ان کےمثالی اسلامی رویہ سے متاثر ہوکر رہائی کے بعد اسلام کا مطالعہ کیا اور حلقہ بگوشِ اسلام ہوئیں)اور MTVپریزنٹر کر سٹین بیکر کا نام شامل ہے۔(A ground breaking study by cambridge University’s Center of Islamic Studies (CIS) اس سےکافی عرصہ قبل کے ایک فرانسیسی سروے کے مطابق فرانس میں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کو قبول کرنے میں فرانسیسی خواتین بہت زیادہ پیش پیش ہیں ۔
اسی طرح یہ بات بھی کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے اور وہاں بھی زیادہ تعداد خواتین کی ہی ہے ۔ گرچہ امریکہ میں افریقی- امریکی باشندوں نے اپنی اصل کی طرف رجوع کے لیے اسلام ہی کا نعرہ بلند کیا تھا مگر انتہائی مکاری و عیاری کے ذریعے اسے Nation Of Islamمیں تبدیل کردیا گیا ۔ اس کے باوجود مالکم ایکس( جسے بعد میں شہید کر دیا گیا) کی حقیقت کی تلاش اسے خانہ کعبہ لے گئی جہاں اس نے نسلی اسلام کے بجائے اصلی اسلام کی دریافت کی۔مگر اب گورے امریکیوں میں اسلام حالیہ دنوں میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور وہاں بھی انتہائی تعلیم یافتہ خواتین بڑی تعداد میں اسلام کو قبول کر رہی ہیں ۔ اسلام کے تعلق سے ان کے عملی اور جذباتی وابستگی کی بہت سی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔
مشرقی دنیا کو نو آبادیاتی ہوس کا شکار بنا کر اپنے ملکوں سے دور ایشیائی اور افریقی عوام کو جنگ کے ہولناک دلدل میں ڈھکیلنے والے امریکہ و یورپی ممالک نے اب تک جنگ کے انعامات ہی چکھے تھے۔ نہ صرف انہوں نے یہ کوشش کی کہ اپنی آبادیوں سے دور جنگ لڑائی جائے بلکہ ایسے خطرناک ہتھیار ،میزائل گیس وغیرہ کی ایجاد کی کہ میدان جنگ میں جائے بغیر ہی زیادہ ےسے زیادہ ہلاکتیں انجام دی جائیں ۔
آج وہی امریکہ اور یورپی ممالک ایسا محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام نے ان کے قلعہ میں سیندھ مارلی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام نے یہ کام اپنے فکری اور نظریاتی ہتھیار اور عملی زندگی میں اس کے ثمرات دکھا کر ہی کیا ہے ۔ امریکہ و یوروپ مذہبی اور سیکولرہر دو اعتبار سے ایسے فکری اور نظریاتی نظام کی بنیاد پر قائم ہیں جن کی سرے سے کوئی بنیاد ہی نہیں ۔مفاد پرستی اور ہوس ملک گیری حکمرانوں سے لے کر عوام تک کا واحد مقصد حیات ہے ۔ دوسروں کا خون پیتے پیتے بڑی ہی خاموشی سے انہوں نے خود اپنوں کا ہی خون پینا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں آج یوروپ اور امریکہ تاریخ انسانی کے بدترین اقتصادی ، سیاسی، سماجی ٹوٹ پھوٹ کے دور سے گذر رہے ہیں اور بہت تیزی سے ان کا شیرازہ بکھر رہا ہے ۔ حفیظ میرٹھی مرحوم کا یہ شعرکہ:
یہ ناچتی گاتی ہوئی اس دور کی تہذیب
کیا جانیے کس کرب کا اظہار کرے ہے
اس کرب کا اب اظہار ہو رہا ہے مگرکسی قدر خوش نصیبی کے ساتھ کہ کرب اپنا مداوا ڈھونڈنے میں بھی ایک حد تک کامیاب ہو تا چلا جا رہا ہے۔
صلیبی جنگوں سے بھی پہلے خود مکہ اور مدینہ کی زندگی میں ہی اسلام کی وہشت ناک تصویر بنا کر جاہ پرستوں اور ہوس پرستوں نے بھولے بھالے عوام کو اسلام کی پر سکون آغوش میں جانے سے روکا۔ قرآنی آیات اس روش کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں ۔صیلیبی جنگوں کے دوران اس نفرت کو مذہب کی آڑ میں خوب ہوا دی گئی اور نو آبادیاتی دور میں تو باقاعدہ Orientalismکے نام پر اسے ایک فن کی حیثیت سے Institutionalisedکر دیا گیا۔ مگر باطل کے سارےداؤ پیچ مکڑی کاجالا ثابت ہوئے ۔ گھر کے مکین نے جب بھی صفائی کی ٹھانی یہ جالے تتر بتر ہوتے چلے گئے۔ حق اور باطل کی صدیوں کی کوششوں پر حق کی ایک جھلک ہی پانی پھیر نے میں کامیاب رہی۔
مذکورہ بالا لندن رپورٹ کی خوش گوار تازگی سے دل محظوظ اور مسرور تھا کہ دوہی تین روز بعد ایک خبر نشر ہونی شروع ہوئی جس کے مطابق لند ن میں دو برطانوی باشندوں نے، جو افریقی النسل تھے اور عیسائیت سے اسلام کی طرف مائل ہوئے تھے، انہوں نے ایک برطانوی فوجی کو سر راہ قتل کردیا اور اسے بے حسی سے ذبح کرنے کی کوشش کی؛ وہ چھریاں اور جانوروں کو کاٹنے کے آلات، جو خون میں لت پت تھے، اس کو ہوا میں لہرا کر نعرے لگاتے دیکھے گئے ۔ان میں سے ایک نے ایک خاتون کے ساتھ زبان درازی بھی کی اور ایک راہ گیر کو روک کر اپنی ویڈ یو فلم بھی بنوائی جس کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دیا کہ یہ بدلہ ہے ان مسلمانوں کا جن کا خون برطانیہ پوری دنیا میں بہا رہا ہے ۔ یہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور جان کے بدلے جان کا انصاف ہے۔ وغٰیرہ وغیرہ۔ وہ لوگ موقعہ واردات پر پورے بیس منٹ تک موجود رہے اور اسی طرح کی مختلف حرکتیں کرتے رہے یہاں تک کہ لندن پولیس آئی ۔ دونوں کو موقع پر ہی ڈھیر کردیا گیا اور تازہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک کو عدالت میں پیش کرکے اس پر فرد جرم بھی عائد کر دی گئی اور دوسرے کی صحت یابی کا انتظار ہے۔(اب دوسرے پر بھی فرد جرم عائد ہوچکی ہے)
عین توقع کے مطابق اس کے فوراًبعد لندن اور آس پاس کے علاقوں میں مسلمانوں پر حملے ہونے شروع ہوگئے ، مساجد کو نذرِ آتش کیا جانے لگا، نقاب پوش خواتین پر زیادتیوں اور باریش مسلمانوں پر فقرے بازی و طعنہ زنی کی گئی وغیرہ۔
بادی النظر میں ہی یہ ایک غیر اسلامی، غیر انسانی اور غیر منطقی حرکت لگتی ہے۔اس کے پیچھے ایک ایسی شاطرانہ چال ہے جس کے ذریعے کئی مذموم مقاصد کا حصول مطلوب ہے ۔ مسلمان جسے جانوروں کو بھی ذبح کرنے کے آداب سکھائے گئے ہیں اور میدان جنگ میں بھی غنیم کا مثلہ کرنے کی ممانعت ہے وہ اس طرح کی کسی حرکت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ قربانی کے بکرے کو اللہ کے نام پر ذبح کرتے وقت بھی ایک مسلمان کے دل میں اس جانور کو کم از کم تکلیف دینے کا جذبہ موجود ہوتا ہے ۔ کسی کلمہ گو ماں کا دودھ پینے والا مسلمان بچہ اس قدر وحشیانہ حرکت کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا ۔ رہی بات نو مسلموں کی تو وہ تو اسلام کی رحم دلانہ اور انسانیت نواز فکر وعقیدہ اور عملی نمونہ سے متأثر ہو کر اسلام کی آغوش میں آتے ہیں ، ان سے اس طرح کی حرکت اور بھی زیادہ ناممکن العمل ہے۔ نیز لندن کی سڑک پر کسی ایک فوجی کا قتل برطانیہ کے ’’پائے استقامت‘‘میںکوئی لغزش پیدا کرنا تو دور کی بات ہے بلکہ اس طرح تو اس کے عزم کومہمیز ہی مل سکتی ہے۔ پھر آخر اس کیا توجیہ کی جاسکتی ہے؟
اخبارات ہی کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ دونوں میں سے ایک کو خود برطانوی جاسوسی ادارہ نے اپنے ساتھ شمولیت کی دعوت دی تھی ۔ لیکن یہ بات اخفاء میں ہے کہ اس کا جواب کیا رہا۔ ایک قیاس یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں شامل ہو گیا ہو اور اسی کے ساتھ مل کر دوسر ے شخص کو ساتھ لےکر اسلام مخالف جذبات انگیخت کرنے کے لیے یہ کام کیا ہو۔مجرمانہ ذہنیت کا شخص ہو یا مجاہد اسلام دونوں ہی اپنے دشمن کو نقصان پہونچانے کے ساتھ اپنے دفاع کی بھی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں ،مگر یہ دونوں جن کے نام تک عیسائی ہیں جائے واردات پر پورے بیس منٹ تک موجود رہے اور بھاگنے کی بالکل کوشش نہیں کی۔ بعد ازاں لندن جیسی سریع الحرکت پولیس بیس منٹ بعد پہونچی تو اس نے ان کو گولیوں سے ڈھیر کر دیا اور فوراً داخل اسپتال کردیا۔
اسلام کی چودہ سوسالہ طویل تاریخ ہے ۔ اور نو مسلم سب سے زیادہ اسلام کے اسی پہلو سے متأثر ہوتے ہیں کہ جنگ جو شرکو روکنے کر لیے ایک ناگزیر حربہ ہے ،اس کو بھی اسلام نے آداب کے ذریعے ایک مقدس عمل بنا دیا ہے۔ جبکہ دیگر اقوام کی تاریخ کھو پڑیوں کے محل بنانے سے لے کر زندہ انسانوں کی کھال کھینچنے اور انہیں گیس چیمبروں میں گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور کرنے کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔اب تو یہ کوئی چھپی بات نہیں کہ کس طرح روسی ،امریکی ،یوروپی ممالک کی جاسوسی تنظیمیں ٹیرر فکسنگ (Terror-Fixing) کا کام کرتی ہیں ۔روس کے ایک سابق KGBایجنٹ نے اس راز سے پردہ اٹھا یا تھا کہ کس طرح روسی ایجنٹوں نے چیچن مجاہدین کا روپ دھار کر ایک سینما ہال میں عام شہریوں کویر غمال بنایا تھا اور بعد میں روسی ایجنٹوں نے ہی اپنے آلہ کار کو موت کی نیند سلا کر اس راز پر پردہ ڈال دیا۔ اسی روسی ایجنٹ نے اپنی کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ روس کے اسکول میں یرغمال کا ڈرامہ بھی اپنے ایجنٹوں کا ہی تھا اور خود روس نے ہی اپنے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ بعد میں اس سابق ایجنٹ کو لندن میں ایک زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کر دیاگیا ۔
اس طرح امریکہ نے خلیجی تیل کے چشموں پر دھاوا بولنے کا جواز پیدا کرنے کے لیے9/11کا ڈرامہ رچا تھا جس میں اس نے خود اپنے ہی تین ہزار لوگوں کی جان لے لی۔اور اس کو جواز بنا کر اب تک تین لاکھ سے زائد انسانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ۔ یہ امریکی جاسوسی ایجنسیاں ہی تھیں جنہوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف صدام حسین کو بارود سے لاد دیا تھا ۔ مگر بعد میں WMDکا ڈھنڈھورا پیٹ کر عراق کو تہس نہس کر دیا گیا مگر آج تک ایک بھی WMDبرآمد نہیں کیا جاسکا۔ اور امریکہ نے بے شرمی سے یہ قبول بھی کیا کہ دراصل اینٹلیجنس کی اطلاع غلط تھی۔
وطن عزیز میں بھی زانی امریکی صدر بل کلنٹن کی آمد کے موقع پر کشمیر کے مسلمانوں کوبدنام کرنے کے لیے چھتی سنگھ پورا میں سکھوں کا قتل عام کرکے اسےجہاد کشمیر کے کھاتےمیںڈالنے کی کوشش کی تھی مگر بالآخر ثابت ہو گیا کہ ان ہندوستانی سکھوں کو ہندوستانی فوج نے ہی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف امریکی ہمدردیاں حاصل کرنےکے لیے قتل کیا تھا۔مکہ مسجد،اجمیر شریف،سمجھوتہ ایکسپریس،سابرمتی کا S6یہ سب اسی سازش کی کڑیاں ہیں جس میں اپنے ہی ملک کے باشندوں کو ہلاک کر کے اسلام ،مسلمانوں اور اسلامی کاز کے لیے کارفرما تنظیموں کو بدنام کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ۔
خود بوسٹن کے حالیہ دھماکوں کا معاملہ بھی FBIکے ذہن کی پیداوار لگتا ہے۔ جس طرح یہ وااقعہ پہلے سے موجود ایک فلم میں بم دھماکے کے طرز پر ہوا؛جس طرح سے FBIکےراڈار پر یہ لوگ پہلے سے موجود تھے ؛جس طرح سے ایک فلمی انداز کے Car Chaseاور اس کے بعد گھیراو کر کے ایک کو قتل اور دوسرے کو بچ نکلنے کا موقع دیا ؛اور دوسرے کو بھی زخمی حالت میں زندہ پکڑنے کی کوشش کے بجائے اس طرح گولی ماری گئی کہ وہ ہمیشہ کے لئے گویائی سے محروم ہو گیا ؛پھر اسی سلسلے کو دراز کرتے ہوئے ابراہیم نام کے ایک نوجوان کو اسی کے گھر میں پوچھ تاچھ کے دوران چھ گولیاں مار دی گئیں ۔یہ پورا معاملہ ایک ناپاک سازش پر پردہ ڈالنے کی کوشش نظر آتا ہے ۔پھر جب ہم ان تینوں کے بیک گراؤنڈ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تینوں اچھے کردار کے حامل اعلی تعلیم میں دلچسپی لینے والے اور پوری طرح سے امریکی معاشرے میں گھلے ہونے کے باوجود روایات کے بھی پابند تھے۔چنانچہ تیمرلن جواہر کی بیوہ ایک امریکی دوشیزہ ہے جس نے اس کے ساتھ ایک ہی اسکول میں پڑھائی کی تھی۔ وہیں دونوں کے تعلقات بڑھے مگر یہ تعلقات رشتہ ازدواج میں اس وقت منتقل ہوئے جب لڑکی نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ وہ کالج میں باقاعدہ اسکارف پہن کر آنے لگی۔
وہ امریکہ جس نے بن لادن کے خاندان کی ایک دوشیزہ کو اور طالبان کے علاقے کی ایک لڑکی کو برہنہ کر کے اسلامی دنیا کا منھ چڑھا یا تھا وہ یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی عورتیں اسلام کی آغوش میںچلی جائیں ؛اسی طرح فحاشی کا وہ جال جس میں پھنسا کر اور شراب کے نشے میں ڈبو کر امریکی عوام کی لوٹ کھسوٹ کی جا رہی ہے اور اسے پوری دنیا میں مقروض ترین ملک بنا دیا گیا ہے ،وہ سارا منصوبہ ہی خاک میں مل جائے گا۔عورت کا حجاب اس کی عصمت کا محافظ بن کر اس کی کوکھ سے ایسی انسانیت کو جنم دیگا جو پیٹ پر پتھر باندھ کر سود خوار یہودیوں کو غرقاب دریا کر دے گی ۔خدا پرستی اور اطاعت رسول انہیں شیطان کے مکر و فریب کے ہر جال سے نجات دے دے گی۔کیسے برداشت کرے گا اس چیز کو امریکہ!اس لیے اس طرح کی بودی حرکتوں کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس کے ذریعے مسلمان نوجوانوں پر خود ان کے گھروں میں پہرہ بیٹھا دیا جائے ۔نماز کی طرف رغبت ،مسجد سے لگاؤ۔چہر پر داڑھی کا نور،سر پر حجاب کی چادر،دین داری اور خدا پرستی نہیں بلکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی علامت بن جائے اور سرکار سے پہلے خود اہل خانہ ہی داڑھی چھیلنے اور حجاب نوچنے کو تیار ہو جائیں۔
اس پورے منظر نامہ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ نام نہاد دعوتی تنظیمیں ایسے موقع پر اسلام کے دفاع کے نام پر مسلمانوں کو ہی کٹگھرے میں کھڑا کر دیتی ہیں۔ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ جیسے ہی لندن کا واقعہ رونما ہوا ان کے ای میل پر امریکہ کی ایک دعوتی تنظیم کی طرف سے ایک لمبا چوڑہ خط موصول ہوا جس میں اس واقعہ کی مذمت کے ساتھ ساتھ پورے برطانیہ کی مسجدوں کے ائمہ سے گزارش کی گئی تھی کہ مرنے والے کی بھر پور تعزیت کی جائے ،اس واقعے کی مذمت کی جائے اور کوشش کی جائے کی آئندہ یہ واقعہ نہ ہواور لوگوں کو بتایا جائے کہ اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں،نیز جمعہ کے دن مرحوم کے لیے دعا کا اہتمام کیا جائے ۔
ہمارے دوست نے ان سے کہا کہ ابھی تو واقعہ کی تفصیلات بھی معلوم نہیں؛ یہ کون لوگ تھے؟کیا مقصد تھا؟ اور آپ نے اس کی مذمت شروع کر دی نیز یہ تعزیت کا کیا معاملہ ہے۔
جواب میں مہذب گالیاں ہاتھ آئیں ۔تم بے شرم ہو تم کو نہیں معلوم مغرب میں کیسے رہا جاتا ہے۔خیر اپنے یہاں بھی ہم نے اکثر یہ منظر دیکھا ہے کہ مثلاًجب اندرا گاندھی کو قتل کیا گیا تھا ایک مولوی صاحب ریحل کھولے قرآن خوانی میں مصروف نظر آئے،حالانکہ قرآنی آیت اس باب میں صریح ہے۔
ما کان للمؤمنین أن یستغفروا للمشرکین و لوکانواولی قربی من بعد ما تبین لہم أنھم اصحاب الجحیم(سورہ توبہ)۔مغرب میں رہ کر جمہوریت اور آزادی کا دعوی کرنے والے کتنے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔مذکورہ بالا خط میںبااصرار یہ ہدایت کی گئی ہے کہ حکومتی اداروں سے مکمل اور بلا شرط تعاون کیا جائے۔حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ کی ہدایت ہے کہ بولو تو سچ بولو ورنہ خاموش رہو۔آخر کیا ضرورت ہے کہ ہم مذمت میں سبقت لے جائیں؛واقعے کے مختلف پہلؤوں کی وضاحت کا انتظار نہ کریں؛تفتیش مکمل ہونے تک بیان دینے سے انکار نہ کریںاور بھر پور انداز میںواقعہ کی فوری مذمت پر اصرار کریں اور ساتھ ہی مہلوک جو عقیدتاً کفر پر مرا ہے اس کے لیے دعا کا اہتمام کریں۔
صبر اور استقامت کا اصل امتحان یہی ہے کہ برے سے برے حالات میں بھی انسان اپنے اوسان خطا نہ ہونے دے اور بات وہی کہے جو سچی ہے یا کم ازکم خاموش رہے۔یأیھا الذین آمنو قولوا قولاً سدیداً یصلح لکم اعمالکم و یغفر لکم ذنوبکم۔
ابھی یہ سطور لکھ کر حوالہ کاتب کی تھی کہ انگلینڈ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا ایک بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے مساجد ، مدارس اور ائمہ کے خلاف زہر افشانی کی ہے اور ان کو سرکار کے راست کنٹرول میں لانے کی تجویز پیش کی ہے نیز اسلا م کے ان قلعوں کو سڑاند سے تعبیر کیا ہے۔ ذیل میں اس بیان کا ایک حصہ پیش کیا جاتا ہے:

’’لندن (یو این آئی) برطانیہ کے بولووچ میں برطانوی فوجی لی رگبی کے قتل کے بعد حرکت میں آئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کہی ہے۔ برطانوی روز نامہ گارجین کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قائم کی گئی کابینی سطح کی ٹاسک فورس کی آج کی میٹنگ میں مسٹر کیمرون نے کہا کہ جس سڑی ہوئی دلدل سے یہ دہشت گردی پیدا ہورہی ہے اسے ہمیں صاف کرنا ہوگا تاکہ یہ مسئلہ جڑ سے ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کا مقصد ملک کے مدرسوں پر نظر رکھنا ہوگا۔ ان مدرسوں سے موجود اماموں کو ہٹاکر ان کی جگہ ایسے افراد کو مقرر کیا جائے گا جو برطانیہ کو سمجھتے ہوں۔ اس کے علاوہ خیرات پر بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ علماء کو مل رہی امداد کو روکا جاسکے۔ ۔۔مسٹر کیمرون نے کہا کہ تشدد پر اتر آنے اور دہشت گرد بن جانے کے بعد ہی ان کا تعاقب شروع کرنا کافی نہیں۔ ہمیں اس دلدل کو صاف کرنا ہوگا جس میں ہو پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں موجود ان کے اڈوں کا صفایا کرنا ہوگا۔ ہمیں ان مراکز پر نظر رکھنی ہوگی جن پر ان کا کنٹرول ہو گیا ہے۔ مسجدیں ان سے نجات چاہتی ہیں، ہمیں بس ان کی مدد کے لئے آگے آنا ہے۔ ۔۔۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ انقلاب 5جون 2013ء)
مذکورہ بالا بیان قرآن کے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے کہ نفرت ان کے منھ سے پھوٹ بہی ہے مگر جو دلوں میں ہے وہ اس سے زیادہ زہریلا ہے(آل عمران)۔ کیا اب بھی ہمارے اس نقطہ نظر کے لئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہے کہ یہ واقعات از قبیل Terror-Fixingہے تاکہ اس کی آڑ میں اسلام کے خلاف قوت کا بے محابہ استعمال کرکے اس کے بڑھتے قدموں پر روک لگائی جاسکے۔حالانکہ انجام کار تو یہی ہونا ہے:ع پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اور انہیں یہی نظرآنا ہے کہ:ع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ان شاء اللہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *