اسلام مخالف سازش کے تحت دہشت گردانہ واقعا ت کرائے جاتے ہیں (خالد مجاہد کی موت سے اکھلیش حکومت کٹگھرے میں )

خالد مجاہد کی پولس حراست میںپراسرار موت کی وجہ سے کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ سوالات حکومت و انتظامیہ سے متعلق بھی ہیںاور انکا تعلق سماج اور سماجی تحریکات سے بھی ہے۔
خالد مجاہدکو بنارس ، فیض آباد، لکھنؤ کی کچہریوں میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے الزامات کے تحت اے ٹی ایس اور ایس ٹی ایف کے ذریعہ گرفتار کیاگیا تھا۔اس سلسلہ میں خالد مجاہد کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے گائوں مڑیاہوں ضلع جونپور سے ایس ٹی ایف اور یو پی پولس کے لوگوں نے ۱۶؍دسمبر۲۰۰۷ء؁ کو گھر سے اغوا کیا۔اسی سلسلہ میںطارق قاسمی کو ان کے گھر سے بتاریخ۱۲؍دسمبر ۲۰۰۷ء؁ کواٹھایا گیا ، جسکی خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس موقع سے جاری ہوئیں۔ لیکن ایس ٹی ایف نے ان کو ۲۲ دسمبر ۲۰۰۷ء؁ کوگرفتاردکھاتے ہوئے عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ بارہ بنکی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا ہے۔جلیٹن راڈ،ڈیٹونیٹراور سوا کلو گرام آر ڈی ایکس کی برآمدگی دکھائی گئی۔ اسی معاملے میں سجاد الرحمان اور محمد اخترنامی دو کشمیری نوجوانوں کو بھی ماخوذکیا گیا ۔ لوگوں کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کی یہ معاملہ پوری طرح سے فرضی ہے۔ یہ گرفتاری اور جن واقعات کے تحت ان کو گرفتار کیا گیا ہے وہ واقعات بھی محض مسلم نوجوانوں کوپھنسانے کے لئے کسی سازشی گروہ کے ذریعہ کرائے گئے ہیں۔ جیسے مالے گائوں اور سمجھوتا ایکسپریس بم دھماکوں کی سازشیں بے نقاب ہوچکی ہیں ۔ جن میں ابتداءََ مسلم نوجوانوں کو ماخوذ کیا گیا تھا لیکن بعد میں واضح ہو گیا کہ ان میں ہندتوا وادی گروہ جس میں کرنل پروہت، پرگیا سنگھ ٹھاکر وغیرہ شامل تھے ، کے ذریعہ یہ دھماکے کرائے گئے تھے۔
خالد مجاہد کی موت پراسرار ہے۔ پہلے یہ کوشش ہوئی کہ ان لوگوں کے مقدمات کی عدالت میں پیروی نہ ہونے پائے چنانچہ جن عدالتوں میں جہاں جہاں ان کے مقدمات ہیں وکیلوں پر منظم حملے کرائے گئے۔ یہ حملے عدالتوں کے احاطے میں ہوئے۔ یہ حملے اچانک نہیں ہوئے تھے بلکہ لکھنؤ میں شعیب ایڈوکیٹ، بارہ بنکی میں رندھیر سنگھ سمن اور فیض آباد میں ایڈوکیٹ جمال پر منظم حملے ہوئے انکو زدوکوب کیا گیا، پیٹا گیا، چوٹیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ان کو علاج کے لئے لکھنؤ میڈیکل کالج میں بھرتی ہونا پڑا۔ وکیلوں نے ایک دروازے سے ان کو پیٹتے ہوئے دوسرے دروازے سے نکالا۔ اس موقع سے حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس طرح کے واقعات بارہ بنکی، فیض آباد میں بھی ہوئے۔ لکھنؤ عدالت میں یہ واقعہ دو بار دوہرایا گیا۔ حکومت اور عدالت کی نظر میں شاید یہ سب ٹھیک ٹھاک ہوگا۔ ورنہ آئندہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں، اس طرف کچھ پیش بندی والے اقدامات ضرور کئے جاتے۔ لیکن اہل اقتدار اس طرح کے سوالوں کے جوابات ضروری کہاں سمجھتے ہیں۔ ہاں اگر قوم پرستی ، جمہوریت اور سیکولرزم کے حوالے سے بڑی بڑی لمبی چوڑی باتیں کرنی ہوں اور دوسروں کو درس دینا ہو تو وہ تقریر طویل سے طویل ترہو سکتی ہے۔ شعیب ایڈوکیٹ کو عدالت کے احاطہ میں اس وجہ سے پیٹا گیا کہ وہ طارق قاسمی اور خالد مجاہد کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔اور انہیں کے خلاف ایف آئی آر میں یہ الزامات بھی عائد کئے گئے کہ انہوں نے احاطۂ عدالت میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور ملک مخالف باتیں کہیں۔اور اس وجہ سے ان کا پاسپورٹ ہنوز جاری کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
لکھنؤ کی جیلوں میں قیدیوں کی موت کے کئی واقعات ہوئے ہیں جنہیں مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ این آ ر ایچ ایم گھوٹالے میں قید تین سی ایم او کی موت پر اسرار طریقے سے لکھنؤ کی جیل میں ہوئی ہے۔لکھنؤ ، بارہ بنکی اور فیض آباد کی کچہریوں میں سلسلہ وار بم دھماکے اور پھر خالد مجاہد اور طارق قاسمی کی گرفتاری کا دوسرا پہلو پورے واقعہ کو مزید پراسرار ثابت کرتا ہے ۔ ان لوگوں کو الگ الگ مقامات سے الگ الگ تاریخوں میں اٹھایا گیا۔ اور پھر ۲۲ دسمبر ۲۰۰۷ ء؁کوپیش کیا گیا۔
طارق قاسمی اور خالد مجاہد کی گرفتاری کے سلسلہ میں گزشتہ مایا وتی حکومت نے ایک جانچ کمیشن جسٹس آر ڈی نمیش کی سربراہی میں قائم کیا تھا۔ آر ڈی نمیش نے گزشتہ سال اگست ۲۰۱۲ ۓء میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی۔موجودہ اکھلیش حکومت نے انتخابات سے قبل اس بات کے وعدے کئے تھے کہ دہشت گردی کے نام پر گرفتار بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن ہنوز حکومت نے اس جانب کوئی موئثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔آر ڈی نمیش کی رپورٹ کو تقریباََ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجودعام نہیں کیاگیا۔ اور اس سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں ہو سکی۔ خالد مجاہد کی پراسرار موت کے بعد حکومت نے کابینہ میں اس کو منظوری دی ہے ۔ آر ڈی نمیش کمیشن رپورٹ کی جو تفصیلات میڈیا کے ذریعہ باہر آئی ہیں ان کے مطابق طارق قاسمی اور خالد مجاہد کی گرفتار ی کو مشکوک بتایا گیا ہے ۔ اور اس طرح یہ سارا معاملہ جعلی قرار پاتا ہے ۔اب اگر یہ سارا معاملہ فرضی اور جعلی ہے تو پھر پولس، ایس ٹی ایف کے اعلیٰ افسران پر مجرمانہ سازش کے الزامات عائد ہو سکتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے ۔ اس ضمن میں پولس اور ایس ٹی ایف کے ۴۲ اعلیٰ افسران گرفتار ہو سکتے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں خالد مجاہد کی گواہی بہت اہم مانی جا رہی تھی ۔ لہٰذا یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ خالد مجاہد کو اس لئے راستے سے ہٹا دیا گیا کہ دہشت گردی کے نام پر جو سازشیں ہو رہی ہیں جن میں انتظامیہ اور ایجینسیز کے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں ان کا پردہ فاش نہ ہونے پائے۔ اور نمیش کمیشن کی رپورٹ کے نتیجے میں اگر وہ ماخوذ ہو سکتے ہیں تو انکو بچنا اور بچانا ضروری ہے!!!
اس موقعہ سے بہت سنجیدگی سے کچھ سوالات کے جوابات کی تلاش ضروری ہے ۔ کیا حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے کہ دہشت گردی کے اصل حقائق کا پتہ لگائے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے؟ جہاں تک خالد مجاہد اور طارق قاسمی کی عدالت میں پیروی کا سوال ہے اگر طارق قاسمی اور خالد مجاہد مجرم نہیں ہیں تو پھر مجرم کون ہے؟ ان کا سرغنہ کون ہے؟ جو پردہ کے پیچھے رہ کر واقعات بھی انجام دے رہا ہے ، وکیلوں پر حملے بھی کروا رہا ہے۔ کیا وہی ایسے لوگوں کو قتل کروا رہا ہے جو سچ کو سامنے لا سکتے ہیں اگر حکومت اور وہ لوگ واقعی سنجیدہ ہیں تو ان سوالات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے۔
خالد مجاہد کی موت کا سچ کیا سامنے آ سکتا ہے؟ چند باتیں بہر حال غور طلب ہیں ۔ ۱۸ ؍مئی کو خالد مجاہد لکھنؤ سے فیض آباد کی عدالت میں پولس ٹیم کے ہمراہ حاضر ہوئے ۔ ان کے وکیل شعیب ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ وہاں جسمانی اورذہنی اعتبار سے پوری طرح ٹھیک تھے۔ ہمیشہ کی طرح کرتا، پاجامہ اور ٹوپی میں حاضر ہوئے یہی ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ شعیب ایڈوکیٹ کے ذریعہ انہوں نے اپنے عزیزوں کو سلام کا پیغا م دیا۔ پولس ٹیم کے ہمراہ ملزمان سجاد الرحمان، اختر، طارق قاسمی اور خالد مجاہد فیض آباد سے لکھنؤ کے لئے روانہ ہوئے ۔ خالد مجاہد کا معمول تھا کہ اکثر وہ ذکر میں مشغول رہتے تھے۔ اور جو شخص تنہائی میں ذکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے وہ تنائو یا ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتا۔(الابذکراﷲتطمئن القلوب ) خالد مجاہد کی عمر ابھی ۲۹ سال کی تھی۔ لہٰذا وہ امراض جو اکثرعمردرازلوگوں کو ہوتے ہیں اس کے اندیشے بھی نہیں کے برابر تھے۔ خالد مجاہد کی ناک اور کان سے خون بہہ رہا تھا لیکن یہ بات بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج نہیں ہوئی ہے۔ایسا چشم دیدلوگوں کا کہنا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ خالد مجاہد کی رام سنیہی گھاٹ کے پاس اچانک طبیعت خراب ہو گئی۔ اور بارہ بنکی اسپتال پہنچنے پر وہاں ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ اس موقع سے جو ویڈیو موجود ہے اس میں چوٹ کے نشانات ہیں ۔ لیکن انہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج نہیں کیا گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ خالد مجاہد کی گردن ایک جانب لڑھک گئی تھی لیکن یہ بات بھی رپورٹ میں درج نہیں کی گئی ہے۔ اس موقع کا ایکس رے بھی نہیں لیا گیا ہے ۔جیل کے طبی ریکارڈ میں بھی کسی ایسی بیماری کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں خالد مجاہد جس بیڈ پر تھے اس چاد ر پر اچھا خاصہ خون موجود تھا۔ لیکن وہ چادر غائب کر دی گئی۔خالد مجاہد کا کرتا، پا جامہ، ٹوپی اور انڈر گارمینٹس کہاں گئے؟ ان کو لوور ، ٹی شرٹ اور پٹرے دار نیکر کسنے پہنائی؟کیونکہ پوسٹ مارٹم کے دوران ان کے جسم پر یہی لباس پایاگیا تھا۔اس طرح یہ سوال مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے اور کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔لیکن وہ افسران جو ہنوز ایسے عہدوںپر موجود ہیں اور نمیش کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں ماخوذ ہو سکتے ہیں، اس صورت میںکیا سچ سامنے آپائیگا اور کیا عدل کے تقاضے پورے ہو سکیں گے، ایک بڑاسوال ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *