اقبال کا تصورِ فقر

فقر کے ظاہری اور لغوی معنی تو افلاس ،محتاجی ،تنگ دستی اور غربت کے ہیں مگر علامہ اقبال اس کے ظاہری معنوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کے اصطلاحی معنی مراد لیتے ہیں ،یعنی:استغنایااسباب ظاہری سے بے نیاز ی۔ جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے ، استغنا کا رویہ ہی امت اور افراد امت کو کامیابی اور سر بلندی کی مراج تک پہنچا سکتا ہے ۔ حضرت علامہ اقبال فراماتے ہیں:
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
(بال جبریل ،ص ۱۲۰،۴۱۲)
فقر کا یہ مفہوم علامہ اقبال نے نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ سے اخذ کیا ہے۔
نبی کریم ؐ کی پوری زندگی فقیرانہ اسلوب کا نمونہ اور فقر کی عملی تفسیر ہے۔متعدد روایات میں بتایا گیا ہے کہ اِدھر اُدھر سے جو تحائف ،ہدایا، مال و منال اور زرو جواہر آتا ،آپؐ اسے فی الفور تقسیم کردیتے۔ اپنے لیے یا گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہ رکھتے تھے۔ قریش مکہ نے پیش کش کی کہ ہم زرو جواہر لا کر آپ کے قدموں میں ڈھیر کر دیتے ہیں ہمارے بتوں سے تعرض نہ کیجیے۔ آپؐ نے اس پیش کش کو پر کاہ کے برابر بھی اہمیت نہ دی ۔دراصل اقبال کے تصور فکر کا مفہوم اسوۂ رسولؐ سے ہٹ کر سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ علامہ کے نزدیک فقر ایسی متاع مصطفیٰؐ ہے جو امت مسلمہ کو وراثت میں عطا ہوئی ہے اور آپ نے امت کو اس کا امانت دار اور نگراں بنایا ہے۔ فرمایا:
فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضا ست
ما امینیم ، ایں متاع مصطفیٰ ست
(پس چہ باید کرد،ص ۲۰،۸۱۶)
چوں کہ رسول اللہ کو حجاز سے نسبت تھی ،اس لیے علامہ اقبال متاع فقر کو ’’حجازی فقر‘‘ کہتے ہیں :
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی
(ضرب کلیم ،ص:۸۸،۵۵۰)
یہاں بھی اشارہ رسولؐ اللہ کی طرف ہے جن کا فقر آج ہر مسلمان کے لیے ایک مثال اور نمونہ ہے۔علامہ اقبال اس فقر کی خصوصیات کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شان بے نیازی
یہ فقر غیور جس نے پایا
بے تیغ و سناں ہے مرد غازی
مومن کی اسی میں ہے امیری
اللہ سے مانگ یہ فقیری
(ضرب کلیم ،ص:۸۹،۵۵۱)
علامہ اقبال نے ’فقر غیور‘ کی ترکیب ’اسلامی فقر‘ کے متضاد کے طور پر استعمال کی ہے۔فقر غیور اور فقر اسلامی دو ایسے مختلف اور متضاد رویے ہیں جو متوازی خطوط کی طرح کبھی آپس میں نہیں ملتے۔ بال جبریل کی نظم ’فقر‘ میں دونوں اصناف فقر کا باہمی موازنہ کیا گیا ہے۔ ایک فقر کم ہمتی، بزدلی اور پسپائی سکھاتا ہے ۔ دوسری نوعیت کا فقر امارت کا راستہ دکھا کر فقیر کا راستہ حضرت شبیرؓسے جوڑتا ہے:
اِک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری
اِک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری
اِک فقر سے قوموں میں مسکینی و دل گیری
اِ ک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری
اِک فقر ہے شبیری، اس فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیری
( بال جبریل، ص:۱۶۰،۴۵۲)
سید نذیر نیازی کے نام ۲۱،اکتوبر ۱۹۵۲ء کو لکھتے ہیں :’’اسلام کی حقیقت فقر غیور ہے اور بس‘‘(مکتوبات اقبال ،ص۳۰۳)ایک جگہ علامہ نے فقر غیور کو عین اسلام قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اسلام اور فقر غیور پورے دین پر محیط ہے:
لفظ اسلام سے یورپ کو اگر کد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے فقرغیور
(ضرب کلیم،ص:۳۱،۴۹۳)
علامہ اقبال نے فارسی اور اردو میں قلندر، درویشم بندۂ درویش اور مرد کامل جیسے الفاظ وتراکیب کو فقر غیور کے معنوں میں اور فقیر کے متبادل اور مترادف کے طور پر استعمال کیا ہے۔ایک جگہ کہتے ہیں :
قلندر جز دوحرفِ لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
( بال جبریل،ص:۴۴،۳۶۸)
گویا توحید ،مرد قلندر کا سرمایۂ حیات ہے اور یہی فقر کی کلید ہے ۔جب وہ لا الہ الااللہ کہتے ہوئے غیر اللہ کی نفی کرتا ہے تو اس میں ’اللہ کی شان ِ بے نیازی‘ پیدا ہو جاتی ہے۔ حضرت علی ہجویری نے اس کی تائید اس طرح فرمائی ہے کہ: ذات خداوندی کے ماسوا تمام چیزوں سے دل کو فارغ رکھنے کا نام فقر ہے(کشف المحجوب،ص۸۵)۔ حضرت نے ایک بزرگ ابو سعید ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ اصل فقیر وہ ہے جو اللہ کے ساتھ غنی ہو۔(یضاً،ص:۸۷) یعنی اللہ اسے کا فی ہو اور وہ خود اللہ کے سوا کسی کا’’بندہ‘‘نہ سمجھے، نہ وہ کسی سے دبے اور پیش فرعونے سرشافگندہ نیست، کے مصداق، نہ وہ کسی کے سامنے سر جھکائے۔
ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں :[فقر]ایک روحانی کیفیت ،ایک رویہ ہے جس کی رو سے برتر مقاصد زندگی کو مادی لذائذ اور قریبی ترغیبات پرفوقیت حاصل ہوتی ہے ۔ فقر کے اندر ایک خاص قسم کا وقار ، ایک خاص قسم کا میلان ِ بے نیازی پیدا کرتا ہے‘‘( مسائل اقبال، ص ۳۵۰)چنانچہ وہ مال ودولت ، مادی طرزِ فر، حُبِّ دنیا،ہوسِ جاہ و منصباور آل اولاد کی محبت سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔اسے دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ اور سارا کرّو فر بے حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ وہ صرف ذات واحد پر ایمان رکھتا اور اسی پر بھروسہ کرتا ہے ،اس لیے علامہ اقبال کے نزدیک اس کا مقام و مرتبہ سکندر و دارا جیسے معروف حکمرانوں اور شاہوں سے بھی بلند و برتر ہے ، بشرطیکہ اس کی فقیری میں اسوۂ رسولؐ اللہ اور اسوۂ صحابہؓ کے آثار پائے جاتے ہوں ۔ فرماتے ہیں:
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
( بال جبریل،ص:۵۷،۳۴۹)
نہ تخت و تاج ، نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
( ایضاً، ص: ۶۸،۳۶۰)
فقر کے ہیں معجزات، تاج و سریر وسپاہ
فقر ہے میروں کا میر،فقر ہے شاہوں کا شاہ
(ایضاً،ص۶۸،۳۶۰)
مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی
(ایضاً،ص:۳۵،۳۲۷)
حضرت علی ہجویری کے نزدیک فقر کی اصل متاع دنیا کا ترک اور اس سے علیحدگی نہیں ،بلکہ دل کو دنیا کی محبت سے خالی اور اس سے بے نیاز کر نا ہے۔( کشف المحجوب،ص: ۸۴)۔
علامہ اقبال کے تصورِ فقر کو ترک دنیا، سکوں پرستی ،خانقاہیت یا گوشہ گیری سے کوئی علاقہ نہیں کیونکہ یہ رویہ’’کش مکش زندگی میں گریز‘‘ کی طرف لے جاتا ہے اور زندگی کا ارتقاء کش مکش اور حرکت وجدوجہد ہی سے ممکن ہے۔ راہب جس سکوں پرستی کا قائل ہے ،وہ تحرک اور فعالیت کی ضد ہے ۔ضرب کلیم کی نظم ’فقر و راہبی‘ میں علامہ نے کہا ہے :
کچھ اور چیز ہے شاید تیری مسلمانی
تری نگاہ میں ہے ایک فقر و رہبانی
سکوں پرستی راہب سے فقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی
(ضرب کلیم،ص: ۵۰ ،۵۱۲)
اقبال گوشہ گیری کے اسی حد تک قائل ہیں ،جس حد تک اسوۂ رسولؐ اجازت دیتا ہے ، مثلاً رمضان المبارک میں چند روز کے لیے اعتکاف کی صورت میں خلوت نشینی کی اجازت ہے اور یہ خلوت نشینی بھی ذکر الہٰی ،فکر آخرت، ضبط نفس، خود احتسابی اور ان سب کے نتیجے میں استحکام خودی کے لیے ہے۔ اتباع سنت نبویؐ میں اعتکاف کرنا ، نہ صرف کا رِ ثواب ہے بلکہ یہ معتکف کو اصلاح باطن اور صفائے قلب کے لیے ایک ساز گار ماحول بھی فراہم کرتا ہے ۔
علامہ اقبال جن اخلاق و اوصاف کو فقر کا لازمہ سمجھتے ہیں ،ان میں صبر وشکر، تسلیم و رضا اور حلم وانکسار بھی شامل ہیں مگر اس تسلیم و رضا کے معانی ، بے کسی، ناتوانی یا ضعف کے نہیں ہیں ۔ فقر تحرک وجرأت کا نمونہ ہوتا ہے بلکہ قوت کا اظہار بھی چاہتا ہے ۔ ہمارے ہاں روایتی طور پر فقر ودرویشی کے ساتھ بے چارگی اور بے بسی کے تصورات وابستہ ہیں ۔ اقبال کے تصور فقر میں اس کی گنجائش نہیں ۔ اقبال کا فقیر جرأت ِ رندانہ کا مالک ہے ۔چوں کہ وہ غیر اللہ سے مستغنی ہے ، اس لیے اس بے باک انسان کو کسی کا خوف ہے نہ کسی کی پروا۔ علامہ کہتے ہیں :
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
( بال جبریل ،ص:۳۴،۳۲۶)
وہ قرآن حکیم کے اس فرمان پر کار بند ہوتا ہے: الا انّ اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون فقر و جرأت وبے خوفی کے باہمی تعلق کو علامہ بعض مخصوص تراکیب سے واضح کرتے ہیں ، مثلاً:فقر حیدری،بوے اسد اللّٰہی، سرمایہ شبیری، متاع تیموری وغیرہ ۔ تاریخ وروایات میں حیدر ، شبیر اور تیمور غیر معمولی جرأت اور عزم وہمت کی علامت ہیں ۔ اس حوالے سے اقبال سمجھتے تھے کہ مرد فقیر مزاحم قوتوں کا مقابلہ نہایت ثبات واستقلال کے ساتھ کرتا ہے ۔ وہ کش مکش ، پیکار اور ٹکراؤ میں ایک لطف محسوس کرتا ہے ۔ ضرب کلیم کی نظم ’ فقر و ملوکیت ‘ فقر کی قوت و شوکت اور اس کے جلالی مزاج کا اظہار ہے۔ فرماتے ہیں :
فقر جنگاہ میں بے ساز و براق آتا ہے
ضرب کاری ہے اگر سینے میں ہے قلب سلیم
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی ہے
تازہ ہر عہد میں ہے قصۂ فرعون وکلیم
(ضرب کلیم،ص:۳۰،۴۹۲)
بے باکی و بے تابی اور اظہار جرأت وقوت فقر کی پہچان ہے ۔ یہی اس کی زندگی کی علامت ہے اور اسی حوالے سے وہ حق کا پاسبان اور محافظ ہے:
زندہ حق از قوتِ شبیری است (اسرارورموز ،ص:۱۱۰)
کسی معرکے میں اگر اسے وقتی طور پر پسپا بھی ہونا پڑے ،تب بھی وہ ذہنی طور پر شکست قبول نہیں کرتا ۔ اس طرح فقر کا اقبال کے فلسفۂ جہد وعمل سے ایک قریبی تعلق قائم ہوتا ہے ۔
مرد فقیر فلاح انسانیت کا عملبردار ہے ۔وہ فطرت پر بھی غالب آسکتا ہے اور تسخیر جہات بھی اس کے لیے ناممکن نہیں :
فقر بر کرّوبیاں شبخوں زند
بر نوامیسِ جہاں شبخوں زند
(پس چہ باید کرد،ص: ۲۰،۸۱۶)
فقر مومن چیست؟تسخیر جہات
بندہ از تاثیر او مولا صفات
(ایضاً،ص:۲۲، ۸۱۸)
اقبال کے تصور کا ،قوموں کے عروج زوال سے بھی گہرا تعلق ہے ۔ کسی معاشرے کی اجتماعی سر بلندی میں صاحب فقر اپنی متحرک شخصیت کی وجہ سے مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ دنیا کی قیادت اور امامت فقیر کی وراثت ہے اور اس کا استحقاق بھی ہے ۔دنیا میں سر بلندی صرف اسی قوم کا مقدر ہے جس کے افراد فقر کی صفت کو اپنائیں ۔ امت مسلمہ نے جب سے فقر کی غلط تعبیر اپنائی ، اور حقیقی اسلامی فقر کو ترک کر دیا تو زوال و ادبار اور پستی و نکبت کا شکار ہو گئی۔ علامہ فرماتے ہیں:
یہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولت ِ سلمانی و سلیمانی
(ضرب کلیم، ص: ۵۱،۵۱۳)
نہ ایراں میں رہے باقی نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ
(بال جبریل،ص:۲۳،۳۱۵)
اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خونِ دلِ شیراں ہو جس فقر کی دستاویز
(ایضاً،ص: ۲۶،۳۱۸)
علامہ اقبال نے اردو شاعری کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شاہین کا ایک خاص تصور پیش کیا ہے ۔ اقبال کا شاہین کا رزارِ حیات میں چند امتیاز ات رکھتا ہے ۔ فقربھی انہی امتیازات سے متصف ہے ۔ علامہ اقبال نے ایک خط میں وضاحت کی ہے :’’اس جانورمیں اسلامی فقر کے تمام خصوصیات پائے جاتے ہیں :(۱)خود داراور غیرت مند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھا تا؛(۲)بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا؛(۳)بلند پرواز ہے؛(۴)خلوت پسند ہے؛(۵) تیز نگاہ ہے‘‘(اقبال نامہ، ص:۱۹۴)
گویا شاہین میں بیش تر وہ امتیازات موجود ہیں جو فقیر کی زندگی کا لا زمی جز و ہیں ۔ بعض مقامات پر اقبال کے ہاں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے فقر کی تجسیم آں حضورؐ کی ذات مبارک میں کی ہے ۔ اسی طرح حضرت علیؓ اوت حضرت شبیرؓ اور خالد ؓبن ولیدکو بھی ایسے مردان قلندر میں شمارکرتے ہیں جن کا وجود کسی معاشرے کے لیے باعث خیر وبرکت ہوتا ہے:ـ
آتشِ ما سوز ناک از خاک او
شعلہ ترسد از خس و خاشاک او
بر نفیتد ملتے اندر نبرد
تا درو باقیست یک درویش مرد
(پس چہ باید کرد،ص:۲۱،۸۱۷)
اقبال کے تصورکے سلسے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال کئی جگہ خود کو ایک ’قلندر‘ اور ’مرد فقیر‘ قرار دیتے ہیں ۔ فقر کو وہ اپنے لیے باعث ِ عزت و فخر سمجھتے ہیں ۔ وہ فقر کو شاعری سے بھی برترقرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دولت ِ فقر کے مقابلے میں دنیا کی ظاہری شان و شوکت ہیچ ہے ۔ فرماتے ہیں :
خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
و گر نہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے ؟
(بال جبریل،ص: ۴۸، ۳۴۰)
مرا طریق امیری نہیں ، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
(ایضاً،ص: ۱۴۷،۴۳۹)
مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے،وہ آئینہ سازی
(ایضاً،ص:۱۴۶، ۴۳۸)
علامہ کا دعوائے فقر و قلندر ی نری لفّاظی نہیں ، انہوں نے اپنی نجی زندگی میں بھی فقر و قلندری کو برتا ہے ۔ مزاجاًوہ درویش تھے۔ مولانا غلام رسول مہر طویل عرصے تک حضرت علامہ کی خدمت میں حاضر رہے ۔سفر وحضر میں بھی ساتھ رہا ۔ وہ لکھتے ہیں :’’ان کی فطرت وطبیعت درویشانہ تھی۔ یہ ان کے کلام میں بار بار نظر آتا ہے کہ ووہ اپنے آپ کو ’ فقیر‘اور ’قلندر‘کہہ کر پکارتے تھے تو یہ کوئی شاعرانہ تخیل آرائی نہ تھی بلکہ ان کی فطرت کے صحیح احساس کا اظہار تھا‘‘(حیات اقبال کے گوشے ،ص:۵۵۵)مہر صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں :’’فقیری، قلندری، توکل اور خدا کے سوا ہر شے سے بے نیاز ی اقبال کے وہ اوصاف ہیں جو آخری دور کی طرح پہلے دور میں بھی ممتاز تھے‘‘۔ (اقبالیات مہر،ص:۲۲۲)
حیات اقبال کے بعض واقعات ،ان کے درویشانہ استغنا کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، مثلاً بھوپال کے نواب حمید اللہ خاں نے مئی ۱۹۳۵ء میں علامہ کا پانچ سو روپئے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔ اس کے محرک سرراس نے یہ کوشش بھی کہ بہاول پور اور حیدر آباد کی ریاستوں اور سر آغا خاں کی طرف سے بھی اسی طرح کے وظائف مقرر ہو جائیں ۔ان کی درخواست پر آغاخان نے پانچ سوروپئے ماہوار کی اعانت منظور کر لی مگر خود اقبال نے ان تجاویز کو پسند نہیں کیا۔ ۱۱ دسمبر ۱۹۳۵ء کو راس مسعود کے نام ایک خط میں لکھا:’’آپ کو معلوم ہے کہ اعلیٰ حضرت نواب صاحب بھوپال نے جو رقم میرے لیے مقرر فرمائی ہے ، وہ کافی نہ بھی ہو تو میں کوئی امیر انہ زندگی کا عادی نہیں ۔ بہتر ین مسلمانوں نے سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کی ہے ۔ ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرنا روپے کا لالچ ہے جو کسی طرح بھی مسلمان کے شایان شان نہیں ہے‘‘۔(اقبال نامے، ص:۱۹۵)
اقبال کے بڑے بھائی شیخ محمد ،علامہ کو سیالکوٹ والے مکان کا ایک حصہ دینا چاہتے تھے۔ یہ علامہ کا استغنا تھا کہ وہ مکان لینے کے لیے تیار نہ ہوئے بلکہ ستمبر۱۹۳۰ء میں انہوں نے جائیداد میں اپنے حقوق سے دستبرادری کی قانونی دستاویز بھی لکھ دی۔ (مظلوم اقبال،ص:۷۵،۷۹،۸۰)
اسی طرح آخری زمانے میں انہوں نے حیدر آباد دکن سے سراکبر حیدری کا بھیجا ہوا ایک ہزار روپےکا چیک قبول کرنے سے انکار کردیاتھا۔(ارمغانِ حجازاردو،ص:۴۸،۶۹۰)علامہ کا یہ مصرع خود انہی پر صادق آتا ہے:ع
فقیر راہ نشین ودل غنی دارد (پیام مشرق، ص: ۶۳،۳۳۳)
اقبال کا تصورِ فقر اردو شاعری میں ایک نیا اور منفرد تصور ہے۔ کش مکش حیات سے فرار، رہبانیت یا ترک دنیا سے اس کا علاقہ نہیں بلکہ انسانی ارتقا کے لیے فقر کا متحرک اور بر سر عمل رہنا ضروری ہے ۔ وہ حق وباطل کی آمیزش میں حصہ لیتا ہے اور مثبت اور اخلاقی قدروں کے ذریعے معاشرے کو صحت مند و پاکیزہ بنا نے میں معاونت کرتا ہے ۔ وہ مادیت میں ملوث نہیں ہوتا کیوں کہ استغنا اس کی بنیادی سرشت ہے جو انسان کے اندر نیک طینتی کو فروغ دیتی ہے۔
علامہ اقبال نے فقر کے مفہوم کو وسعت دی ہے اور واضح کیا ہے کہ نہ صرف فرد کے روحانی ارتقا بلکہ معاشرے کی صحت مند اور قوی و ملی سر بلندی کے لیے بھی فقر کا رویہ اور قلندر انہ طرز عمل اپنانا ضروری ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *