اے اہلِ مصر!دامنِ یوسف تو دیکھیے!

تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی رہتی ہے لیکن اکثر واقعات ہو بہو رونما نہیں ہوتے ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ان میں بلا کی مشابہت پیدا ہوجاتی ہے ۔ امت محمدیہ کے اندر پہلی مسلح بغاوت کا ظہور حضرت عثمان ؓکی خلافت کے دوران رونما ہوا۔ اس وقت مدینہ منورہ کے علاوہ مسلمانوں کے طاقتور مراکز بصرہ ،کوفہ،مصراوردمشق ہوا کرتے تھے۔ اس مسلح بغاوت کے پسِ پردہ عبداللہ بن سبا کی ریشہ دوانیوں کا بڑا دخل تھا جس نے ان چاروں مقامات پر باغیوں کو منظم کرنے کی کوشش کرنے کے بعد آخر کار مصر میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ اول الذکر تین مقامات پر اسے حواری میسر آگئے۔یہ ایک حسنِ اتفاق ہے کہ مدینہ پر حملہ آورہونے والے باغی دستے کی سب سے بڑی کمک مصرکے شہر بسطاس سے آئی تھی جو اب قاہرہ کا حصہ ہے۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مصرکے گورنر عبداللہ بن ابی سرح جب اپنی فوج کے ساتھ خلیفۃالمسلمین حضرت عثمانؓ کی مدد کیلئے مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تو مصر میں محمدبن ابی حذیفہ نے بغاوت کرکے اپنی حکومت قائم کرلی گویا پہلی باغی حکومت بھی وہیں قائم ہوئی جس کا قلع قمع حضرت عمرو بن العاص ؓ نے بعد میں کیا۔
حضرت عثمان ؓ کے مسائل بھی محمد مورسی کی حکومت سے مشابہت رکھتے تھے مثلاًحضرت عثمانؓکی حلم و بردباری انہیں مسلمانوں کے خلاف اقدام کرنے سےروکتی تھی۔وہ اپنی جانب سے پہل کرکے مسلمانوں میں خون خرابے کے قائل نہیں تھے۔ یہ وہی رویہ تھا جو آدم ؑ کےبیٹے ہابیل نے اپنے ظالم بھائی قابیل کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور کہا تھا’’ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں‘‘ْ۔ مصر میں بھی یہی ہوا کہ اقتدار کے باوجوداخوان کے مختلف دفاتر بشمول قاہرہ کا مرکزی دفتر نذرِ آتش کردیا گیا لیکن اخوان نے جوابی کارروائی سے احترازکیا۔ ذرائع ابلاغ میں جن واقعات کو مورسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ٹکراؤ کا نام دیا جاتا رہا وہ دراصل اخوانی پرامن مظاہرین پر حملہ تھے اسی لئے اکثر و بیشتر شہید ہونے والے اخوانی کارکنا ن ہوا کرتے تھے۔ یہاں تک کے اخوانی رہنما خیراط الشاطر کے گھر پر بھی حملہ ہوا اور پولس اس میں شامل تھی۔ خیراط کی بیٹی خدیجہ کے مطابق ان کے گھر پر لگے کیمروں نے پولس حملہ آوروں کی تصاویرتک محفوظ کرلی ہیں۔ پیر کے دن پرامن مظاہرین پر شب خون مار کر ۳۴ کو شہید کردیا گیا۔
حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں مسلم حکومت مختلف سمتوں میں پھیل رہی تھی اور فوجوں کا ارتکاز دوردراز کے سرحدی علاقوں میں تھا۔ خفیہ بغاوت کے بعد فوجی دستوں کو پہنچنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔اخوان کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کےحامی مظاہرین دور دراز کے شہروں میں تھے۔ قاہرہ میں مخالفین زیادہ ہیں۔ نیز جہاں تک فوج کا سوال ہے اس کی باگ ڈوران کے ہاتھ میں آئی ہی نہیں ۔مصر کی دستوری عدالت کا اصرار آج بھی مسخ شدہ سابق فوجی آئین پر ہے ۔ مصر میں عدلیہ کی بدولت ایوانِ پارلیمان معطل ہے اس لئے کسی عوامی نمائندے کو وزیر دفاع بنایا ہی نہ جاسکا مجبوراً فوجی کمانڈر وزیر دفاع بنا رہا جو موقع پاتے ہی باغیوں سے جا ملا۔ وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی کو صدر مورسی نے غیر معمولی ترقی دے کر کمانڈر انچیف بنایا تھا اور اس نے بھی وہی کیاجومحمد بن حذیفہ نےحضرت عثمان ؓ کے ساتھ کیا جبکہ اس کی پرورش حضرت عثمان ؓ ہی نے کی تھی اس کے باوجود وہ باغیوں میں شامل ہو گیا تھا ۔
فوج نے ویسے تو اعلان کیا کہ وہ کسی بھی فریق کی طرفداری نہیں کرے گی لیکن صدرمحمد مورسی کو نظر بند کرنے کے بعد سب سے پہلے نہ صرف تمام اسلامی چینلس کو بند کروا دیا بلکہ الجزیرہ پر قفل بھی لگوادیا جسے آزادی و انصاف پارٹی کا ہمنوا سمجھا جاتا ہے جبکہ باغیوں کے تمام چینلس کو دن رات زہر اگلنے کی مکمل آزادی حاصل رہی۔ مخالفین میں سے جو گرفتار ہوئے تھے انہیں رہا کیا گیا جبکہ اخوانی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف نہ صرف وارنٹ نکالے گئے بلکہ ان میں سے کئی کو گھروں میں یا جیلوں میں نظر بند کردیا گیا جن میں مرشدِ عام بدعی اور شاطر شامل ہیں لیکن اخوان کیلئے یہ موسمِ جبر نیا نہیں ہے انہوں نے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس وادی میں قدم رکھا ہے بقول فیضؔ
یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم
یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم
اس خلفشار کے دوران وزارتِ داخلہ کا رویہ بھی حیرت انگیز تھا ۔ پولس پرتشددباغیوں کا بال بیکا نہ ہونے دیتی تھی مگر اخوانیوں پر گولی چلا نے سے بھی گریز نہیں کررہی ہے۔ جو لوگ اسلام پسندوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ناروادار ہیں یا تشدد میں یقین رکھتے ہیں انہیں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شاید ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہو کہ حزب اقتدار جماعت کے دفاتر کو جلا کر راکھ کردیا گیا ہو اور پولس خاموش تماشائی بنی رہی ہو۔ قاہرہ یونیورسٹی کے احاطے میں جن آٹھ لوگوں کو شہید کیا گیا ان میں سے ایک کے بھائی کا بیان ہے کہ اس نے خود پولس کو اس کے بھائی کا سینہ چھلنی کرتے ہوئے دیکھا۔ ہندوستان میں تو یہ عام بات ہے مسلمان فرقہ وارانہ فساد کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے لیکن اب مصر میں بھی یہی ہو رہا ہے کہ جن لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں پولس کا محکمہ ناکام رہا اب وہی ان کو گرفتار کرنے کے درپے ہے لیکن اگر یہ احمق ایسا سمجھتے ہیں کہ ان کی اس گیدڑ بھپکی سے اسلامی تحریک کمزور پڑ جائیگی تو یہ ان خوش گمانی ہے ۔ اخوان تو اس طرح کی آزمائش سے کندن بن کر نکلی ہے۔
مصر کی عدلیہ کو صدرمحمد مورسی کا ہر فیصلہ دستور کے خلاف نظر آتا تھا لیکن اب سرے سے دستور ہی کامعطل ہو جانا درست نظر آتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسا کر کے چیف جسٹس عدلی منصورکو ملک کا سربراہ بنا دیا گیا ہے ۔ یہ کس قدر دوہرا معیار ہے کہ اپنے نظریاتی حریف کا ہر قدم خلاف آئین اور خود اپنا دستور کو پامال بلکہ معطل کرکے سربراہ مملکت بن جانا بھی جائز۔ عدلی منصور ایوانِ زیریں تو پہلے ہی معطل کرچکے تھے نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے منتخب شدہ شوریٰ کو برخواست کرکے اپنی جمہوریت نوازی کا ایک اور ثبوت پیش کردیا۔ فوج کے ذریعہ سے صدر مورسی کو الٹی میٹم دئیے جانے کے بعد عدلیہ نے دو اہم فیصلے کئے ایک ؛معطل شدہ پراسکیوٹر جنرل عبدالمقیط محمودکو بحال کرکے حسنی مبارک کی روح کو سکون پہنچایا اور پھر ؛وزیر اعظم ہشام قندیل کو عدالت کا ایک فیصلہ نافذ نہ کرنے کے نتیجے میں ایک سال کی سز اسنا دی۔ وہ عدالت جو حسنی مبارک کے بے شمار بدعنوانیوں پر گزشتہ اٹھارہ ماہ میں کوئی ٹھوس اقدام نہ کرسکی اس نے بلا جھجک وزیر اعظم کو جیل بھیجنے کا فیصلہ کر ڈالا۔
عدلیہ کی دھاندلی کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے بلکہ بحال شدہ پراسکیوٹر جنرل نے صدر مورسی اور دیگر اخوانی رہنماؤں کی تفتیش کے احکامات جاری کردئیے ہیں اور جو الزامات لگائے ہیں انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا حسنی مبارک کا دور لوٹ آیا ہے۔ان حضرات پر۲۰۱۱ ءکے انقلاب میں تشدد بھڑکانے کا،پولس افسران کا قتل،مظاہرین کو قتل کرنے کیلئے حملہ آوروں کی فراہمی اور حسنی مبارک کی قومی جمہوری پارٹی کے دفتر کو نذر آتش کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ان پر حماس اور حزب اللہ کے ساتھ ساز باز کرنے کے بھی الزامات لگائے جارہے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اقتدار کے باوجود یہ سب نہیں کیا وہ اقتدار سے محرومی کے زمانے میں یہ سب کیسے کرسکتے تھے؟ نیز عدلیہ نے ان سنگین الزامات کو لگانے میں اس قدر تاخیر کیوں کی؟ صدر مورسی کے منتخب ہونے سے قبل بھی یہ کام ہو سکتا تھا ۔ عدلیہ کے یہ الزامات سرزمینِ مصر پرحضرتِ یوسفؑ پر لگائے جانے والے بے سروپا الزامات کی یاد دلاتے ہیں جس کا بیان فیض احمد فیض اس طرح کرتے ہیں ؎
جاں بیچنے کو آئے تو بے دام بیچ دی اے اہلِ مصر، وضعِ تکلف تو دیکھیے
انصاف ہےکہ حکمِ عقوبت سے پیشتر اک بار سوئے دامن یوسف تو دیکھیے
تحریر چوک کے مظاہرین نے نے ڈیڑھ سال قبل ملک سے آمریت کے خاتمے میں یقیناً ایک اہم کردار ادا کیا تھا مگر اب ان کی حالت سورہ نحل میں بیان کردہ اس عورت کی سی ہو گئی جس نے رات بھر بڑی محنت سے سوت کاتا اور صبح آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ یہ لوگ فوجی اقتدار کے دشمن تھے آج ان کی بدولت اقتدار بلاواسطہ فوج کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ آمریت کے کل پرزوں کو اقتدار میں کوئی حصہ ملے لیکن فی الحال حسنی مبارک کے دست راست محمد شفیق کے حق میں فیصلہ کرکے اس کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا موقع عطا کرنے والا جج سربراہ کی کرسی پر متمکن ہے ۔ ویسے یہ مظاہرین محمد مورسی کے خلاف محمد شفیق کو کامیاب کرنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں ۔ گزشتہ اٹھارہ ماہ میں جمہوریت کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے جو ایوان زیریں و ایوانِ بالا وجود میں آئے تھے ان کا قلع قمع ہوگیا اور عوام کا تائید شدہ آئین بر خواست کردیا گیا گویا ان باغیوں کی بدولت بات وہیں پہنچ گئی جہاں حسنی مبارک کے دور میں تھی ۔
یہ مظاہرین اپنے آپ کو غیر سیاسی اور بنیادی انقلاب کا علمبردار کہتے ہیں۔ان لوگوں نے ازخود اپنے لئے باغی کی اصطلاح پسند کی ہے اور بزعمِ خود انسانی حقوق ، آزادیٔ نسواں اورجمہوری اقدار کے پاسدار ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ السیسی کی تقریر سے نصف گھنٹہ قبل ان کے سب سے اہم رہنما مہا ابوبکر نے الاہرام اخبار کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے اپناسیاسی نقاب خوداپنے ہی ہاتھوں سےتار تار کردیا۔اس کے مطابق ان لوگوں نے مصری سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی محمد غنیم کا نام وزیر اعظم کے طور پر تجویز کردیا ہے۔ اور دائیں بازو کے رہنما حصام عیسیٰ کو نائب وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور نائب وزیراعظم اسلامی فکر کا حامل بھی ہوسکتا ہے ۔اسی کے ساتھ یہ امید ظاہر کی صدر مورسی کے اقتدار سےبے دخل ہوجانے کے بعد ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جائیگا۔ یہ اعلان دراصل اس بات کا اعتراف ہے باغی مظاہرین غیر سیاسی نہیں ہیں۔ اور ساتھ ہی اس بات کی چغلی بھی کھاتا ہے کہ باغی فوجی اور باغی مظاہرین کے درمیان اندرونی سانٹھ گانٹھ ہے ۔یہ دونوں ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں اور اقتدارکا گاجر دکھلا کرجنرل عبدالفتاح السیسی نے ان کا استحصال کیا ہے۔ یہ احمق اس بات کو بھول گئے کہ انتخاب میں سیکولر فکرکی حامل ساری جماعتوں میں سے کسی ایک کو بھی ۸ فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔ان میں بیچارے اشتراکی تو ۲ فیصد ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے لیکن اب انہیں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ ایک نائب وزیراعظم بھی چاہئے اور جن اسلام پسندوں نے۷۱ فیصد ووٹ حاصل کئے ان کیلئے دو میں سے ایک نائب وزیر اعظم ۔ کیا اسی کا نام جمہوری اقدار کی پاسدار ی ہے؟
انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مظاہرین کی زبان سے پولس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی ہمدردی میں ایک لفظ نہ نکلا بلکہ انہوں نے پولس کارروائی کو جائز قرار دیتے ہوئے مہلوکین کو اپنی موت کا ذمہ دار قراردے دیا اور اخوان کے دفتر کا نذرِ آتش ہونا بھی جائز ٹھہرا دیا۔ اظہار رائے کی آزادی کیلئے گلا پھاڑنے والوں کے نزدیک چار چار ٹی وی چینلس کی نشریات کا بند کردیا جانا بھی قابلِ اعتراض نہیں تھا۔ اسلام پسندوں پر ان کا سب سے بڑا لزام یہ ہے کہ وہ آزادیٔ نسواں کے خلاف ہیں ۔ حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنے انکشاف میں ان کی اس روشن خیالی پر بھی کالک پوت دی۔ ہیومن رائیٹس واچ کے مطابق ۳۰ جون سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران تحریر چوک پر ۹۱ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات رونما ہوئے جن میں کچھ کی آبروریزی بھی ہوئی۔ اتفاق سے اس بار اسلام پسند تحریر چوک پر نہیں بلکہ نصر سٹی اور قاہرہ یونیورسٹی میں تھے ورنہ ان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں بھی لاکھوں مظاہرین میں خواتین شامل تھیں لیکن ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ آزادئٔ نسواں کے ان علمبرداروں کے قول و عمل میں کیسا تضاد ہے؟
صدر مورسی کی برطرفی پر جو بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا وہ بھی نہایت دلچسپ ہے ۔ مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جمہوریت کا حامی اور فوجی آمریت کا مخالف ہے اسی کے ساتھ لادینیت کا علمبردار اور اسلام کا دشمن ہے ۔اب اگرجمہوریت کی بقا ء کیلئےمورسی کی حمایت کی جائے تو اسلام کی حمایت ہوجاتی ہے۔لادینیت کے فروغ کیلئےاسلام کی مخالفت کی جائے تو آمریت کی حمایت ہو جاتی ہے۔اس لئے یوروپ اور امریکہ میں ذرائع ابلاغ نے تو اسے فوجی بغاوت کہا مگر حکومتوں نے بغاوت کے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا۔امریکہ کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر مصری فوج کی امداد جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ اسرائیل کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو۔ اب اگر فوج کی یہ حرکت تسلیم کرلی جائے تو فوجی امداد بند کرنی پڑسکتی ہےاس لئے اوبامہ نے گول مول باتیں کرکے دنیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ۔
حیرت کی بات یہ ہے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ایران نے بھی یہی کیا ۔ ابتدا میں جاری ہونے والا ایرانی وزارت خارجہ کا بیان تو اس قدر مبہم تھا کہ کچھ سمجھ ہی میں نہ آتا تھا کیا کہا گیاہے۔ جمعہ کے خطبوں میں ایران کے کئی جید علماء نے مورسی کے ہٹائے جانے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے انہیں اسرائیل کا ہمنوا تک کہہ دیا۔ ایسا کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آگئی کہ صدر مورسی نے شام کے مسئلے پر ایران سے اختلاف کیاتھا۔ جس بشارالاسد کی خاطر ایران صدر مورسی سے ناراض ہے اس نے بڑی صاف گوئی کے ساتھ یہ اعلان کردیا کہ یہ اسلامی سیاست کی ناکامی ہے اور اس کی بھی پرواہ نہیں کی کہ اس کا اقتدار اسلامی سیاست کے علمبردار ایران کی حمایت پر قائم ہے۔ شاید بشارالاسد اس حمایت کوایران کی مجبوری سمجھنے لگا ہے۔بشار الاسدمصر میں ہونے والی تبدیلی کو محمد مورسی کی امریکہ نوازی پر محمول کرسکتا تھا لیکن اس نے اسے لائحہ عمل کی غلطی بتلانے کے بجائے نظریاتی شکست قرار دےکر اپنی اسلام دشمنی کی شہادت دے دی۔ ایران کو چاہئے کہ وہ بشار الاسد کے اس بیان کی روشنی میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے اس لئے کہ کل کو اگر خدا نخواستہ ایسی صورتحال ایران میں پیدا ہوجائے جس کا کوئی امکان نہیں ہے تو بشارالاسد ایران پر بھی یہی تبصرہ چسپاں کردے گا کہ اسلامی سیاست کا بالآخریہی انجام ہوتا ہے۔
صدر مورسی کی معزولی کے تیسرے دن ایرانی وزارت خارجہ کا وہ بیان سامنے آیا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ایران کے ترجمان عباس ارگاشی نے فوج کے ذریعہ عوام کےمنتخب شدہ صدر کی معزولی کو غیردرست قرار دیا لیکن فوجی بغاوت کے الفاط انہوں نے بھی استعمال نہیں کئے۔ انہوں نے کہا صدارت کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں ہو سکتا ۔ صدر مورسی کے حامیوں سے انہوں نے کہا کہ انہیں بحالی کی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔ اسلام پسندوں اور انقلابیوں کو بددل نہیں ہونا چاہئے۔عرب بہار کے ساتھ گرما و سرما کے موسم بھی آسکتے ہیں۔ اسی طرح تیونس کے راشد غنوشی نے کھل کر فوجی کارروائی کی پرزور تنقید کی اور صدر مورسی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل کے بارے میں مغرب کا دعویٰ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حقیقی جمہوری ملک وہی ہے لیکن اس کےوزیراعظم نے اپنے پڑوس میں ہونے والے جمہوریت کے قتل عام پر چپی سادھ لی۔ وزیراعظم نتن یاہو کے قریبی رکن پارلیمان زاہی ہنیگبی نےجو دفاع و خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ہیں صدر مورسی کی برخواستگی پر اطمینان و خوشی کا اظہار کیااور کہا مورسی کے دور میں ہونے والی پیش رفت ہمارے لئے تشویش کا سبب تھی لیکن اب سیکولر نظریات کی حامل فوج کا اقتدار پر قابض ہو جانا ہمارے لئے اچھی خبر ہے۔ مصر میں اسرائیل کے سابق سفیر اسحٰق لیفانوف نے بھی فوج کے اقدام کو مثبت قرار دیا ۔ یہ بیانات صدر مورسی پر اسرائیل نوازی کے الزامات کی تردید کیلئے کافی ہیں لیکن مختلف اسلامی ممالک مثلاًسعودی عرب، کویت اور عراق نے آگے بڑھ کر نئے سربراہ کو مبارکباد کا پیغام روانہ کردیا جو بلاواسطہ فوج کی تائید تھی۔ ان سب کا ایسا کرنا حسبِ توقع تھا لیکن قطر کے نئے سربراہ نے بھی اس صف میں شامل ہو کر چونکا دیا اور واضح کردیا کہ اب ہوا کا رخ بدل رہا ہے۔ مسلم ممالک کے اندر پائی جانے والی تذبذب کی کیفیت غالب کے اس شعر کی مصداق ہے کہ ؎
ایماں مجھے روکے ہے، تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسہ مرے آگے
اس موقع پر جبکہ مسلم ممالک کا یہ حال تھا کہ کوئی امریکہ کی دشمنی میں تو کوئی امریکہ کی دوستی میں حق گوئی سے کترا رہا تھا ،سب سے واضح موقف ترکی نے اختیار کیا۔پہلے تو ترکی وزارت خارجہ نے فوج پر تنقید کی ۔ پھراس کے بعد ترکی پارلیمان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کرکے فوج کے اقدام کو غلط قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ آئین بحال کیا جائے نیز اقتدار عوام کے نمائندوں کو دوبارہ سونپ دیا جائے۔ ترکیوں کیلئے اس موقف کا اختیار کرنا اس لئے بھی آسان ہو گیا کہ وہ خود ان مصائب سے گزر چکے ہیں ۔ ؁۱۹۹۰ میں اربکان کی آئینی حکومت کو فوج نے اسی طرح بے دخل کردیا تھا لیکن آگے چل کر فوج کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حسنِ اتفاق ہے کہ یوروپ ، امریکہ اور اقوام متحدہ تو گومگوکی کیفیت میں مبتلا رہے لیکن افریقی یونین نے نہایت جرأتمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے مصر کی رکنیت کو معطل کردیا۔ ان لوگوں نے کوئی سیاسی وجہ بتانے کے بجائے دستور کی منسوخی اور منتخبہ صدر کی بے دخلی کو اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ جب تک دستور بحال نہیں ہو جاتا اوراقتدار عوام کے نمائندوں کو سونپا نہیں جاتا اس وقت تک مصر کی رکنیت بحال نہیں ہوگی۔ افریقی یونین کا یہ موقف ان تمام لوگوں کیلئے تازیانۂ عبرت ہے جو حق و انصاف پر اپنے قومی و نظریاتی مفاد کو فوقیت دیتے ہیں۔
اخوان کو فی الحال دشمنوں کے ساتھ دوستوں کی مخالفت کا سامنا ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اسی سرزمینِ مصر پرحضرت یوسف ؑ کو ان کے بھائیوںکی رقابت کوئی نقصان نہ پہنچا سکی اورنہ عزیز مصر کی زیادتی ۔ برادرانِ یوسف نے انہیں یہ سوچ کر اندھے کنوئیں میں ڈال دیا تھا کہ اب وہ اندھیرے کی نذر ہو جائیں گے یا کوئی دوردراز کا قافلہ انہیں غلام بنا کر لے جائیگا لیکن وہ بیچارے اس بات سے ناواقف تھے کہ ان کی یہی حرکات حضرت یوسفؑ کو مصر کے اقتدار پر فائز کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔عزیز مصر نے یہ سوچ کر انہیں پابندِسلاسل کیا تھا کہ ایسا کرنے سےزلیخا کاگناہ چھپ جائیگا لیکن کون جانتا تھا کہ وہ جیل سے سیدھے دربار میں جائیں گے اور مصر کا اقتدار ان کے قدموں میں ہو گا۔حقیقت تو یہ ہے کہ بقول حکیم الامت علامہ اقبالؒ ؎
ولایت ، پادشاہی ، علم اشیا کی جہاں گیری یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *