بلاتبصرہ طالب علم کو داڑھی کی پاداش میں کالج چھوڑنے کا حکم

بنگلور کے ایک کالج کے خلاف مسلمانوں کا احتجاج
بنگلور (ایجنسی) کرنا ٹک کی راجدھانی بنگلور کے معروف سینٹ گرامین پری یو نیورسیٹی کالج نے بارہویں درجہ کے طالب علم ذیشان علی کو اس جرم میں کالج چھوڑنے کا حکم دیا ہے کہ اس نے گزشتہ ایک سال سے داڑھی رکھ لی ہے۔ کالج کا کہنا ہے کہ وہ داڑھی رکھ لینے کے بعد دوسرے طالب علموں سے جدا نظر آرہا ہے اس لیے یا تو وہ داڑھی منڈوائے یا پھر کسی دوسرے کالج میں منتقل ہو جائے۔ کالج کے اس فیصلے کے خلاف ذیشان نے مینجمنٹ سے فریاد کی لیکن اسکول کی انتظامیہ کمیٹی نے بھی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ ذیشان کے والد اقبال احمد کا کہنا ہے کہ کالج کے ذمہ داروں نے ان سے کہا کہ وہ ذیشان کو ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر راضی ہیں اور اس کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ داڑھی منڈوالے یا پھر کالج چھوڑ دے۔ اس معاملے کی خبر جب شہر میں پھیلی تو مسلمانوں نے بڑی تعداد میں کالج کے باہر مظاہرہ کیا اور ٹیپو سلطان یونائیٹیڈ فرنٹ کے ممبروں نے اس سلسلے میں کالج کی انتظامیہ کے خلاف پولیس تھانے میں مذہبی تفریق کا مقدمہ بھی درج کروایا ہے۔ خیال رہے کہ کرناٹک میں اب کانگریس کی سرکار ہے اور اس نے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے کانگریس کو بڑی تعداد میں ووٹ دیئے تھے۔ شہر کے مسلمان کانگریس کی حکومت کی طرف امید بھری نظریں ٹکائے ہیں اور توقع کر رہے ہیں کہ وہ اس قسم کی تفریق کو روکے گی۔

امریکی ڈرون حملے قانونی ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ جانوں کا ضیاع روکنا ممکن ہوا
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی مخالف پالیسی اور ڈرون حملے نہ صرف قانونی ہیں بلکہ مؤثر بھی ہیں۔ اس کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ بہت سے دہشت گرد مارے جا چکے ہیں بلکہ بہت سے دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکارہ کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اب بھی مجرموں کوپکڑکر ان پر قانونی کارروائی کا حامی ہے مگر بے قصور جانوں کو بچانے کے لئے ہلاکت خیز کارروائیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
جان کیری نے ایک پریس کانفرس میں کہا کہ: واضح طور سے ہماری کارروائیاں مؤثر ثابت ہورہی ہیں کیونکہ درجنوں اعلی تربیت یافتہ، ماہر القاعدہ کمانڈر، تربیت کار، بم بنانے والے اور میدانِ کارزار میں متحرک لوگوں کو میدان سے ہٹانے میں کامیابی ملی ہے۔
(انڈین اکسپریس، یکم جون 2013ء، صفحہ13)

کانگریس و بی جے پی کی صوبائی حکومتیں افسران کو تربیت کے لئے اسرائیل بھیج رہی ہیں
اسرائیل کے جغرافیائی اور سیاسی تصورات کے تعلق سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف نقطہ نظر رکھنے کے باوجود کانگریس، بی جےپی، اے آئی ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کی صوبائی حکومتیں اپنے صوبوں میں زرعی امور سے متعلق افسران کو تربیت کے لئے اسرائیل بھیج رہی ہیں۔
اسرائیلی سفارت خانہ نے میڈیا میں جاری ایک بیان میں یہ اطلاع دی کہ ہندوستان میں زرعی امور سے وابستہ مختلف افسران کو ہندوستان اگلے ہفتہ اسرائیل بھیج رہا ہے جس میں کانگریس کی صوبائی حکومتوں ہریانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، راجستھان اور بی جے پی کے گوا، گجرات، مدھیہ پردیش اور کئی دوسری پارٹیوں کی صوبائی حکومتوں کے افسران شامل ہیں۔
اس تربیتی پروگرام میں شرکت کے لئے کل 26افسران کا نام طے کیا گیاہے۔ ان کی واپسی پر ہندوستان ہی میں ان کے لئے مزید ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ (انڈین اکسپریس، یکم جون، صفحہ6)

مشہور افغانی لڑاکا خاندان کا وارث زبیر قومی دفاعی اکادمی سے فارغ التحصیل
(پونہ، مہاراشٹر)آج سے پندرہ سال قبل اس کے مشہور جنگجو چچا نے ایک چٹان کی طرح ہر طرف سے اٹھنے والی بنیاد پرست تحریک طالبان کا جم کر مقابلہ کیا تھا۔اور آج ان کے بھتیجہ احمد زبیر مسعود نے اپنی پہلی رسمی فوجی تربیت اس عہد کے ساتھ مکمل کرلی کہ وہ اپنی تربیت کا استعمال ان جگہوں پر کریں گے جس کے ذریعہ ان کے چچا کا نام مزید روشن ہوسکے۔
ہندوستان کی نیشنل ڈیفینس اکیڈمی سے گریجویٹ ہونے پر جمعہ کو ان کی بہن نے ٹویٹر پر مبارک باد دی۔ خود زبیر نے اپنے بارے میں twitterپر لکھا ہے:حال میں ہندوستان کی نیشنل ڈیفینس اکادمی میں تعلیم حاصل کررہا ہوں جس کے بعد افغانستان کی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔
زبیر کاکہنا ہےکہ جیسے ہی 2014ء کے اخیر میں امریکہ اپنی فوج واپس بلالے گا تب وہ اپنے خاندان کی پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدہ پر فائز ہونے کے لئے تیار رہیں گے۔ اسی وقت کے انتظار میں زبیر فوج کی اعلی ٹریننگ لے رہے ہیں۔ (انڈین اکسپریس، یکم جون، صفحہ اول، آخری کالم)

اس پورے منظر نامے پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جذباتیت اگر غلط ہے تو مرعوبیت اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ دونوں سے اوپر اٹھ کر جائزہ لینا اور حکمت عملی مرتب کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ جذباتیت سے روکنے والے تو بہت سے دانشور اور ناصح موجود ہیں مگر مرعوبیت اور غیر اللہ کے خوف سے بچانے کے لیے کوئی نہیں اٹھ رہا ہے پہلا راستہ دوسروں کے ہاتھوں نقصان پہنچنے کا ہو سکتا ہے۔ مگر دوسرا راستہ خود کشی کا رویہ ہے جس کی ذمہ داری بعد از مرگ خود پر ہی آئے گی۔ یہ کیسا علم ہے ؟ یہ کیسی دانش ہے؟ یہ کہا ںکا ایمان ہے ؟جو خدا سے بے خوف اور دشمنان خدا سے خوفزدہ کر رہا ہے۔ افسوس کہ یہ عقیدہ رکھنے والے کہ ’سب کو مر کر خدا کے حضور پہونچنا ہے‘ اپنی قومی پالیسیاں اس طرح وضع کر رہے ہیں جیسے انہیں کبھی مرنا ہی نہیں۔ جان بچا نا ہی سب سے بڑی عقلمندی سمجھ رہے ہیں چاہے ایمان بچے یا نہ بچے۔

’لندن (یو این آئی) برطانیہ کے بولووچ میں برطانوی فوجی لی رگبی کے قتل کے بعد حرکت میں آئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کہی ہے۔ برطانوی روز نامہ گارجین کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قائم کی گئی کابینی سطح کی ٹاسک فورس کی آج کی میٹنگ میں مسٹر کیمرون نے کہا کہ جس سڑی ہوئی دلدل سے یہ دہشت گردی پیدا ہورہی ہے اسے ہمیں صاف کرنا ہوگا تاکہ یہ مسئلہ جڑ سے ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کا مقصد ملک کے مدرسوں پر نظر رکھنا ہوگا۔ ان مدرسوں سے موجود اماموں کو ہٹاکر ان کی جگہ ایسے افراد کو مقرر کیا جائے گا جو برطانیہ کو سمجھتے ہوں۔ اس کے علاوہ خیرات پر بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ علماء کو مل رہی امداد کو روکا جاسکے۔۔۔ مسٹر کیمرون نے کہا کہ تشدد پر اتر آنے اور دہشت گرد بن جانے کے بعد ہی ان کا تعاقب شروع کرنا کافی نہیں۔ ہمیں اس دلدل کو صاف کرنا ہوگا جس میں ہو پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں موجود ان کے اڈوں کا صفایا کرنا ہوگا۔ ہمیں ان مراکز پر نظر رکھنی ہوگی جن پر ان کا کنٹرول ہو گیا ہے۔ مسجدیں ان سے نجات چاہتی ہیں، ہمیں بس ان کی مدد کے لئے آگے آنا ہے۔۔۔۔ ‘ (بحوالہ روزنامہ انقلاب 5جون 2013ء)
مذکورہ بالا بیان قرآن کے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے کہ نفرت ان کے منھ سے پھوٹ بہی ہے مگر جو دلوں میں ہے وہ اس سے زیادہ زہریلا ہے۔ کیا اب بھی ہمارے اس نقطہ نظر کے لئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہے کہ یہ واقعات از قبیل Terror-Fixingہے تاکہ اس کی آڑ میں اسلام کے خلاف قوت کا بے محابہ استعمال کرکے اس کے بڑھتے قدموں پر روک لگائی جاسکے۔حالانکہ انجام کار تو یہی ہونا ہے:
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اور انہیں یہی نظرآنا ہے کہ:
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ان شاء اللہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *