ازدل خیزد

مدیر محترم! سلام مسنون۔
’سیکولر‘ ، ’’اعتدال پسند‘‘ ، ’’جمہوریت پسند‘‘ ،’’حقوقِ نسواں اور اقلیتوں کے محافظوں‘‘ کے ہاتھوں مصر کی ہزار سالہ تاریخ کی پہلی منتخب حکومت کو فوج کی ملی بھگت سے بغاوت کرکے کچلنے سے ان کے اصل عزائم ظاہر ہوگئے ہیں کہ دوسروں کو غیر جمہوری ہونے کا طعنہ دینے والے خود کیسے ایک سال میں ہی فوج کی پناہ میں چلے گئے۔ اور جمہوری منتخب حکومت کے خلاف کفر اور باطل کے ان ایجنٹوں نے کس طرح اخوان کے خلاف غنڈہ گردی اور طاقت کا استعمال کیا۔ جگہ جگہ اخوان کے مراکز اور مساجد پر پرتشدد حملے کیے۔ یہ وہ نام نہاد ’’اعتدال پسند‘‘ اور ’جمہوریت پسند‘ گروہ ہیں جنھوں نے جمہوریت کی ہر قدر کی خود دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اور تماشہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام ’’امن پسند‘‘، ’’دہشت گرد مخالف‘‘ طاقتیں اگر مگر کر رہی ہیں ،کوئی بھی کھل کر مخالفت نہیں کر رہا ہے۔ جن طاقتوں نے بنگلہ دیش کی کرپٹ حکومت کو پورے پانچ سال اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود زندہ رہنے کا موقع دیا ،پورے پانچ سال زرداری کی بدترین حکومت کو زندہ رہنے کا موقع دیا ،وہ مرسی کو ایک سال بھی موقع کیوں نہیں دینا چاہتی تھیں؟ اور یہ جو خلیج کے ایمان فروش حکمراں مصری فوج کی بڑی تعریف کر رہے ہیں اس مصری فوج نے ۱۹۶۷ء سے آج تک کون سا معرکہ سر کیا ہے سوائے امریکہ یا روس کی غلامی کے ۔اس فوج نے اپنی عوام کو کرپشن اور آمریت کے علاوہ کیا دیا ہے؟ جو خلیج کے بے غیرت غلام حکمراں اس نکمی فوج کی تعریف کر رہے ہیں۔ کیا یہ عجیب حقیقت نہیں ہے کہ خطہ کے ظالم بادشاہ اور ڈکٹیٹرسب ایک ہوگئے ہیں۔ ایک طرف ساری دنیا کہتی ہے کہ اسلام پسندوں کو ’’طاقت ‘‘ اور تشدد کے بجائے جمہوری طریقہ سے حکومت حاصل کرنی چاہیے مگر جب وہ اس طریقہ سے بھی کامیاب ہوجاتےہیں تو غیر جمہوری طریقہ سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔ جب اسلام پسند بنگلہ دیش ، پاکستان، مصر، الجزائر میں پچاس سال ظلم اور جبر سہ سکتے ہیں تو یہ ’سیکولر‘ ’’اعتدال پسند‘‘ منافقین کیوں نہیں Ballotکا سہارا لیتے ؟کیوں اخوان کے آفسوں میں آگ لگائی؟ کیوں فوج کے ظالم جرنیلوں کے یونیفارم میں پناہ ڈھونڈلی ؟ہندوستان سمیت تمام دنیا کے نام نہاد ’سیکولر‘ ’’اعتدال پسند‘‘ ترقی پسندوں اور ’’معتدل اسلام‘‘  ’’صوفی اسلام‘‘ کا راگ الاپنے والوں کی مجرمانہ خاموشی بھی بہت سے حقائق سے پردہ اٹھادیتی ہے کہ دراصل یہ طرح طرح کے اسلام کے اڈیشن مسلمانوں میں رائج کرکے انھیں کمزور کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ جس میں کچھ کام الا زہر کے خطیب اور جمعیۃ علماء کے محمود مدنی کے ذمہ ہے ؛کچھ کام ’’صوفی اسلام‘‘ کے مشائخ کے ذمہ ہے؛ کچھ کام اختر الواسع، نجیب جنگ، صفدر خاں اورسراج الدین قریشی وغیرہ کے ذمہ ہے۔ احادیث مبارکہ میں قرب قیامت اور خروجِ دجال کے وقت کی علامتوں میں سے اہم علامت ایمان اور دین فروشی اور دجال کی تابعداری بتائی گئی ہے۔ فی الوقت یہ اصحاب کہف کے زمانہ جیسا جبر و تشدد کا زمانہ ہے۔ مگر زمانہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ اللہ اہل ایمان کو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنے اور راہِ حق پر صبر و استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔  آمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *