جولین اسانج کے بعد ایڈورڈ سنوڈن کی باری

آج کل اوباما انتظامیہ اپنے ہی بھیدی سنوڈن کے پیچھے پر پنجے جھاڑکر پڑگئی ہے، جبکہ وہ غریب امریکی شکاری کتوں کے خوف سے پہلے ہانگ کانگ، پھر روس اور اب نئی جائے پناہ کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ اس پر امریکہ وہی گھسا پٹا سرکاری راز کے افشا اور جاسوسی کا الزام عائد کرچکا ہے۔ اس کا قصور بس اتنا تھا کہ امریکہ اس کے ذریعے دوست اور دشمن ممالک کے حساس دفاعی و سیاسی راز حاصل کرتا رہا ہے، جو بجائے خود جاسوسی ہے۔ یہ کام ترقی یافتہ اور باوسائل ممالک کے لیے بہت آسان ہے، جو مواصلاتی اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں برتری کے باعث دوسرے ممالک کے خلاف سائبر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اس جدید ترین حربے کے ذریعے وہ دوسرے ممالک کے کمپیوٹر نظام میں داخل ہوکر اس کے دفاعی و سفارتی راز حاصل کرکے اپنی حکومت کو ارسال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چین کی دفاعی صنعت، اس کی تنصیبات، اس کی فوجی قیادت کی گفتگو، اس کی حکمتِ حربی، اسلحہ سازی، نئی صنعتی ٹیکنالوجی، نیز اہم شخصیات کی سرگرمیوں کی ویڈیو فلم، تجارتی راز… غرضیکہ اس کے ہر پہلو پر امریکہ کو اپنی گرفت رکھنا مقصود ہے تاکہ اس کے کمزور پہلوؤں پر اوچھا وار کیا جائے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ خود دوسرے ممالک پر سائبر حملے کرنے والا امریکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ایران اور عوامی جمہوریہ چین پر مبینہ سائبر حملوں کا الزام لگاکر ان کو بلیک میل کرتا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں اوباما نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے کمپیوٹر نظام میں نقب لگا رہا ہے، جو امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، چنانچہ وہ اس بناء پر ایران پر حملہ کرنے کا جواز پیدا کررہا ہے۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود امریکی حکام فخریہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوںنے سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے ایران کے جوہری منصوبے کو ناکارہ بنادیا ہے۔ یعنی امریکہ جس فعل کا ارتکاب اپنے لیے جائز سمجھتا ہے دوسری ریاست کے اسی فعل کو جرم قرار دے کر اس پر حملے کا جواز پیدا کرتا ہے، البتہ عوامی جمہوریہ چین پر تو امریکہ حملے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، تاہم اس پر اپنے خلاف سائبر کارروائیوں کا الزام لگاکر اس کی درآمدات پر قدغن عائد کرنا چاہتا ہے۔ اس کا جواب عوامی جمہوریہ چین نے یہ دیا کہ امریکہ نے چین کے اتنے خفیہ راز چوری کیے ہیں کہ ان کا انبار لگایا جائے تو ایک پہاڑ بن جائے گا۔
یہ بات چین کے علم میں تھی کہ امریکہ نے اس کے سرکاری محکموں سے لے کر دفاع اور معیشت تک کے بارے میں تقریباً ساری معلومات حاصل کرلی ہیں۔ چنانچہ اس کے چند ہی روز بعد ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی شرمناک جاسوسی پر پڑا ہوا پردہ اٹھاکر اسے عالمی برادری کے سامنے ننگا کردیا، ٹھیک جس طرح وکی لیکس نے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کی اس ہدایت کو بے نقاب کردیا جو اس نے مختلف ممالک میں تعینات امریکی سفیروں کو دی تھی، وہ یہ کہ انہیں میزبان ملک کی اہم شخصیات کے سارے کوائف حتیٰ کہ ان کے سفر کی پروازوں کے نمبر اور ٹکٹ تک حاصل کرکے محکمہ خارجہ کو ارسال کرنے چاہئیں، جبکہ ان کی ٹیلی فون اور سیل پر کی جانے والی گفتگو کے سارے ریکارڈ کا بھی اندراج کیا جانا چاہیے۔
اگر ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات مجریہ 1961ء کی رو سے دیکھا جائے تو یہ سفارتی فرائض منصبی کے منافی ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جاسوسی کے زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں پاکستان کے بارے میں بھی دلچسپ انکشافات سامنے آئے، مثلاً ڈرون حملوں پر صدر زرداری کا امریکیوں کی تشویش پر اظہارِ حیرت اور انہیں یہ نصیحت کہ جب تک وہ ٹھیک ٹھاک اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، ان حملوں میں ہونے والے اضافی نقصانات کی فکر نہ کریں۔ نیز یہ کہ ان کی ہمشیرہ فریال تالپور ان کی جانشین بننے کی اہل ہیں۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کو پاکستان کے بارے میں ہر سطح پر کی جانے والی گفتگو اور منصوبہ بندی کی ساری معلومات فراہم کیں۔ خیر اس پر تو کسی کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ وکی لیکس اور سنوڈن بے چارے نے پاکستان کا ایسا کون سا سرکاری راز چوری کرکے اپنی انتظامیہ کو فراہم کیا ہوگا، جس سے خود پاکستان کے حکام نے اپنے آقا کو مطلع نہ کیا ہوگا! پارلیمان کے بند کمرہ اجلاسوں کی روداد جو صیغۂ راز میں رکھی جانی چاہیے تھی، وہ اجلاس کے خاتمے کے فوراً بعد امریکی سفیر کو پہنچا دی گئی۔ یہ کاریگری وکی لیکس یا ایڈورڈ سنوڈن کی نہیں ہوسکتی۔
ہاں ایران، عوامی جمہوریہ چین، عوامی جمہوریہ کوریا اور وفاقِ روس میں امریکی امداد سے پلنے اور چلنے والی غیر سرکاری انجمنیں نہ صرف ان ممالک میں جاسوسی کرتی ہیں، بلکہ مقامی آبادی حتیٰ کہ مسلح افواج کو رشوت دے کر بدامنی اور بغاوت پر اکساتی ہیں۔ کیا چین میں ایک حکومت مخالف اندھے شہری کو امریکی ایجنٹوں نے اغواء کرکے پہلے اپنے سفارت خانے میں چھپائے رکھا، پھر اسے بالآخر امریکہ نہیں بھیج دیا؟ کیا روس کے صدارتی انتخاب میں امریکہ نے پیوٹن مخالف عناصر کو ان کے خلاف نہیں اکسایا؟ اور ان کے منتخب ہونے پر ان کے انتخاب کو جعلی نہیں قرار دیا؟ یہی وجہ ہے کہ روس کے صدر نے امریکی اور ناٹو ممالک کی مالی امداد سے چلنے والی غیرسرکاری انجمنوں پر جاسوسی کا الزام لگاکر انہیں کالعدم قرار دے دیا ہے۔
پیوٹن حکومت نے تو اندرون روس حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث امریکی ایجنٹوں کو بے نقاب کردیا، جبکہ امریکہ نے تو اپنے ناٹو اتحادی جرمنی کو بھی نہیں بخشا اور اس کے بھی سرکاری اور غیرسرکاری راز چراکر اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ جرمنی کے وزیر انصاف نے امریکہ کی اس حرکت پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، لیکن اس کا بارک اوباما یا امریکی ارکانِ کانگریس پر مطلق کوئی اثر نہیں ہوا۔
بات دراصل یہ ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قانون کا قطعاً کوئی احترام نہیں کرتا۔ اس کی حالت ایک بدنام ڈاکو کی ہے، جو دوست اور دشمن کسی کو نہیں بخشتا۔ لیکن ذرا اوباما کی جسارت ملاحظہ ہو کہ وہ عوامی جمہوریہ چین پر ایڈورڈ سنوڈن کو ہانگ کانگ سے روس جانے سے نہ روکنے کا الزام عائد کررہا ہے اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان JAY CARNEY نے چین کو دھمکی دی ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کو ماسکو جانے سے نہ روکنے پر امریکہ اور چین کے تعلقات خراب ہوجائیںگے۔ (ڈان 25 جون 2013ء)
چین نے اس کا بڑا معقول جواب دیا کہ امریکہ نے سنوڈن پر ایسے کوئی الزامات نہیں عائد کیے تھے جن کی بناء پر اُس کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی۔ باَلفاظِ دیگر سنوڈن نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا، جس پر اس کے خلاف کوئی اقدام کیا جائے۔
اسی طرح وکی لیکس کو امریکی محکمہ دفاع کے منصوبوں کے بارے میں MANING کی جانب سے معلومات کی فراہمی کو مبنی برحق قرار دیا گیا۔ MANING کا کہنا ہے کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ کی سرگرمیاں قانون اور انسانیت کی نفی کرتی ہیں، لہٰذا عالمی رائے عامہ کو ان کے سدباب کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔ یہ بڑی بات ہے کہ امریکی انتظامیہ کا کوئی جاسوس یا اہلکار اس کی گھناؤنی اور خلاف ِقانون سرگرمیوں سے اتنا متنفر ہوجائے کہ وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دنیا والوں کو اس کے کرتوتوں سے آگاہ کردے۔
یاد رہے کہ 1949ء میں روزن برگ بھائی بہن امریکہ کے جوہری اسلحہ ساز منصوبے میں کام کرتے تھے لیکن اس نسل کش اسلحے کے ہیروشیما اور ناگاساکی میں بے دریغ استعمال پر ان کے ضمیر نے بغاوت کردی اور اُس وقت ایٹم بم کے بل بوتے پر ساری دنیا کو فتح کرنے کے امریکی منصوبے کو روکنے کی انہیں یہی ترکیب سمجھ میں آئی کہ وہ سوویت روس کو ایٹم بم کا نسخہ فراہم کردیں تاکہ وہ جوہری طاقت بن کر امریکہ کے مذموم عزائم کی روک تھام کرسکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ روس نے امریکی توسیع پسندی اور جارحیت کو لگام دے دی، لیکن روزن برگ بھائی بہن کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ نے انہیں سزائے موت دے دی۔ عدالت میں JUSTICE DOUGLOS جسٹس ڈگلس واحد فرد تھا جس نے عدلیہ کے فیصلے کے خلاف اپنا اختلافی نوٹ تحریر کیا، جو عدلیہ کی تاریخ میں روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی طرح عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ جولین اسانج ، مسٹر میننگ اور ایڈورڈ سنوڈن کے حق میں نہ صرف آواز بلند کرے اور انہیں پناہ دے، بلکہ ان کے انکشافات کی بناء پر کھلی عدالت میں امریکی صدر پر انسانیت کے خلاف جرائمCRIME AGAINST HUMANITY کا مقدمہ چلاکر اسے قرار واقعی سزا دے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *