حفیظ میرٹھی:یہ کون سر بلند ہوا ؟ دیکھتے چلیں

تاریخ کی کتابوں میں اکثر حکمرانوں کے قصےاور جنگ و جدال کی کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہے۔واقعات و سانحاتِ زمانہ مؤرخ بیان تو کرتا ہے لیکن کچھ اس طرح کہ بقول حفیظ میرٹھی ؎
مورخ ! تیری رنگ آمیز یاں تو خوب ہیں لیکن کہیں تاریخ ہوجائے نہ افسانوں سے وابستہ
اسی لئے اگر آپ کسی دورکے عوامی مسائل کا حقیقی ادراک کرنا چاہتے ہوں تواس عہد کو شاعر کی نظر سے دیکھیں۔اس کے دیوان میں آپ کو انسانی جذبات و احساسات کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر نظر آئیگا؛بھیگی پلکوں کا منظر نظر آئیگا؛گھر نظر آئیگا، در نظر آئے گا؛پھول کانٹوں کا آنگن نظر آئیگا ؛رنج و فرحت کا گلشن نظر آئیگا۔یہ سب کیسے ہوگااگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو حفیظ میرٹھی کا یہ شعر دیکھیں ؎
کبھی قفس سا کبھی آشیاں سا لگتا ہے یہ میرا گھر مجھے ہندوستاں سا لگتا ہے
ہاں بات اشارے کنائے میں کہی گئی ہے، لیکن آگے چل کر حفیظ میرٹھی یہ بھی بتلاتے ہیں کہ ہمارے قفس میں بسمل کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ ؎
بے سہاروں کا انتظام کرو یعنی اک اور قتلِ عام کرو
تو ہمیں عصرِ حاضر کا ایک اور منظر دکھائی دیتا ہے لیکن جب ہم ان کی زبانی یہ شعر سنتے ہیں کہ ؎
حصارِ جبر میں زندہ بدن جلائے گئے کسی نے دم نہیں مارا مگر دھواں بولا
تو ایسا لگتا ہے کہ گویاکوئی د لیر اور درد مند شاعر نہایت دل ننشیں انداز میں اپنے دورکی عکاسی کررہا ہے ۔ حفیظ کے دل پزیر اندازِ سخن کا ایک اور نمونہ ملاحظہ ہو ؎
روشنی کب تھی اتنی مرے شہر میں جل رہے ہیں مکاں مشعلوںکی طرح
داد دیجے کہ ہم جی رہے ہیں وہاں ہیں محافظ جہاں قاتلوں کی طرح
ان دونوں اشعار میں موجود تمام تر کرب والم کے باوجود اس قدر شیرینی و نغمگی ہے کہ قاری جب انہیں تنہائی میں بھی پڑھتاہے تو بے ساختہ ترنم میں گنگنانے لگتا ہے ۔ یہی حفیظ میرٹھی کا سب سے بڑا وصف ہے کہ ان کے اشعار کا مضمون ، اس کی گہرائی اور گیرائی شوخیٔ گفتار پر بار نہیں بنتی ۔ ان کا رنج و غم نہ شعر کو بوجھل کرتا ہے اور نہ مخاطب کو حزن و یاس کا شکار کرتا ہے ۔حفیظ میرٹھی کے یہاں ظلم کی منظر کشی ضرور ہے لیکن اس پر نالہ و فریاد نہیں ہے۔ان دو اشعار کا بانکپن دیکھیں ؎
عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے ہمارے قتل کو کہتے ہیں خودکشی کی ہے
یہ بانکپن ہے ہمارا کہ ظلم پر ہم نے بجائے نالہ و فریاد شاعری کی ہے
حفیظ میرٹھی نے حالات کی مرثیہ خوانی کیوں نہیں کی ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندرون میں رجائیت کا ایک دریا موجزن تھا۔ امید وبیم کی ایک شمع ان کےاپنے قلب میں روشن تھی۔جس نے اس سے یہ کہلوایا کہ ؎
آج کی بد حال دنیا کے بھی دن پھر جائیں گے اے مورخ ہم اگر تاریخ دہرانے اٹھے
حفیظ میرٹھی کی رجائیت پسندی حقیقت شناس ہے۔وہ احمقوں کی جنت میں شاعری نہیں کرتے بلکہ انقلابِ زمانہ کے مختلف مراحل سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں۔موسمِ بہار سے قبل قفس کی وادیوں کی سیر کو لازم سمجھتے ہیں۔ اور اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں ؎
آئے گا پھر چمن پہ تصرف کا وقت بھی پہلے قفس کی آب وہوا دیکھتے چلیں
اردو ادب کی تاریخ میں ایسے واقعات بھی نظر آتے ہیں کہ قیدوبند کے مرحلے میں مشائخ شعراء نے سرزمین ِ آزمائش کو خیر باد کہہ کردور نکل جانے میں عافیت سمجھی اورپر دیس میں جاکر دلیری کے نغمے گائے۔ حفیظ میرٹھی کو اس کاخیال تک نہ گزرا۔ انہوں نے میدانِ کارزار سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کے بجائےقیدوبندکی صعوبتوں کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کیااور بے نیازی سے فرمایا ؎
دب کے رہنا ہمیں نہیں منظور ظالمو ! جاؤ اپنا کام کرو
ایمرجنسی کے زمانے میں اندراجی کے طفیل حفیظ جیل گئےلیکن دل شکستہ نہیں ہوئےبلکہ اس ماحول کی ترجمانی اس طرح کی ؎
آج کچھ ایسا طے پایا ہے حق کے اجارہ داروں میں
جو ہم پر ایمان نہ لائے چنوا دو دیواروں میں
ہر ظالم سے ٹکرّ لی ہے سچے فنکاروں نے حفیظ
ہم وہ نہیں جو ڈر کر کہہ دیں’’ہم ہیں تابعداروں میں‘‘
اسی عزم و حوصلہ نے ستمگروں کے غرور کو پاش پاش کرڈالا اور جب زمانے نے ایک اور کروٹ لی تو شاعر یوں گویا ہوا ؎
بڑے ادب سے غرورِ ستمگراں بولا جب انقلاب کے لہجے میںبے زباں بولا
آزمائش کی اس کٹھن گھڑی میں حفیظ صاحب کا اکلوتا بیٹا داعیٔ اجل کو لبیک کہہ کر داغِ مفارقت دے گیا لیکن اس کے باوجودان کے پائے استقلال میں جنبش نہیں آئی ۔ وہ صبر و سکون کا پیکر بنے مشیت کے ہر فیصلے پر راضی برضا رہے ۔اس حادثے کو حفیظ نے اپنی شاعری میں پیش بھی کیا تو کچھ ایسے کہ گویافرمانِ رسول اکرمﷺ’’غم میرا رفیق ہے‘‘کے ترجمان بن گئے ۔غم واندوہ پر صبر تو ہر کوئی کرلیتا ہے لیکن شکر کرنے والے کم ہوتے ہیں ؎
غم بھی اک احسان ہے اس کا ، شکر کر اے دل شکوہ کیا؟
غم تو ہماری روحِ رواں ہے، ہم نہیں غم کے ماروں میں
حفیظ میرٹھی کی ذاتی زندگی میں رنج و الم کے گہرے بادل پھر ایک باراس وقت چھا گئے جب ان کی سبکدوشی کے فوراً بعد ان کی اہلیہ محترمہ کو ایک قریبی رشتہ دار نے قتل کردیا ۔ اس صدمۂ جانکاہ کو بھی حفیظ اک شانِ بے نیازی سے سہتے ہوئے ایک ایسا شعر کہہ گئے کہ جو بیک وقت ان کے بیٹے ، زوجہ اوران کی اپنی موت پر صادق آتا ہے ؎
حیات جس کی امانت تھی اس کو لوٹا دی میں آج چین سے سوتا ہوں پاؤں پھیلا کر
اس شعر کے اندر شاعر کا سکون و چین اس کے قارئین کو خون کے آنسو رلاتا ہے ۔حفیظ میرٹھی ایک عظیم فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے آپ کی طرح ایک انسان تھے ۔ ان کے اپنے احساسات و جذبات تھے جس کا اعتراف انہوں نے کچھ اس طرح کیا کہ ؎
کھوئے کھوئے حفیظؔ پائے گئے امتحاں پھر ہے امتحاں لوگو
حفیظ صاحب نے اپنی ذاتی زندگی کے واقعات میں اپنے قارئین کو براہِ راست شریک کرنے سے گریز کیااورنہایت شگفتہ مزاجی کے ساتھ شعر وسخن کی خدمت میں لگے رہے۔انہوں نے ایسا اس لئے کیا کہ وہ لوازم ِ انجمن سے بخوبی واقف تھے اسی لئے فرمایا ؎
اداسیوں کو حفیظ! آپ اپنے گھر رکھیں کہ انجمن کو ضر ورت شگفتگی کی ہے
یہ ایک مشکل کام ہے کہ فنکار اپنےداخلی احساسات کے اظہار سے اپنے آپ کو روک سکے لیکن حفیظ میرٹھی کے اندر پایا جانے والا تعمیرِ حیات کابے پایاں حوصلہ ان کے کام آیااور وہ اپنے رب کے سہارے اس آگ کے دریا سے پار نکل گئے ۔ان کا مندرجہ ذیل دعائیہ شعر اس کیفیت کا غماز ہے ؎
اب بھی یہ حوصلہ ہے کسی کام آسکوں میں ٹوٹ تو گیا ہوں بکھرنے نہ دے مجھے
حفیظ صاحب نے ایک پروقارقناعت پسندانہ زندگی بسر کی۔ پہلےانہوں نے کلکٹریٹ میں ملازمت کی اور اس کے بعد فیضِ عام انٹر کالج سے وابستہ ہوگئے ۔ جاہ و حشمت کی خواہش و طلب سے بے نیاز کسمپرسی کےعالم میں ممکن ہے کسی نے انہیں یہ مشورہ دیا ہو کہ ؎
تم بھی دربار میں حاضری دو حفیظؔ پھر رہے ہو کہاں مفلسوں کی طرح
حفیظ میرٹھی کی غیرت کو یہ گوارہ نہ تھا کہ وہ ازخوداس سمت کوئی پیش رفت کرتے مگر ان کی قلندرانہ زندگی میں بی جے پی کی فسطائی حکومت اس وقت ایک نئی آزمائش لے کر وارد ہوئی جب ریاستی وزیراعلیٰ کلیان سنگھ نے ان کی تعظیم و تکریم کا اعلان کردیا ۔ ایک باضمیر مسلمان کیلئے بابری مسجد کوشہید کرنے والوں کےدستِ نامبارک سے انعام و اکرام ،فخروسعادت نہیں بلکہ باعثِ ننگ و عار تھا اس لئے اپنی منفرد شانِ بے نیازی کے ساتھ انہوں نے اس پیشکش کو ٹھکراد یا۔اس لئے کہ بقول حفیظ صاحب ؎
کروفر کی زندگی پر موت کو ترجیح دی مجھ کو درباری قباؤں سے کفن اچھا لگا
شاعری اک دردبھی ہے درد کا پیغام بھی یہ تڑپنے اور تڑپانے کا فن اچھا لگا
حفیظ صاحب اقتدار کے حاشیہ بردار نہیں بلکہ تڑپنے اور تڑپانے والے فنکار تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسے بڑے بڑے شعراءکہ جنہوں نے فسطائیت اور فرقہ پرستی کے خلاف شاعری کرکے خوب داد و شہرت حاصل کی تھی جب زعفرانی حکومت کی جانب سے پچکار کر بلائے گئے تو وہ دادِ عیش کے حصول کی خاطرسرکار دربار میں بسرو چشم حاضر ہوگئے ۔لیکن حفیظ صاحب جیسے لوگ اس فتنے سے اپنے آپ کو کیونکر محفوظ رکھ سکے ؟ اس سوال کا جواب ہےمقصدِ زندگی کا شعور اور اس سے بے پایاں عشق۔ جس نے آسائشِ دنیا کو ان کی نگاہِ بلندمیں بے وقعت کرکے رکھ دیا تھا اسی لئے فرماتے ہیں ؎
ہیچ ہیں میری نظر میں آشیاں وگلستاں آدمی ہوں عزم تعمیر جہاں رکھتا ہوں میں
جہاں نو کی تعمیرکاعزم کرنے والے حوصلہ مند لوگ اپنے سفر کی ابتداء مشاہدے اور جائزے سے کرتے ہیں لیکن ان کی نظر اعدادو شمار یا اخبار تک محدود نہیں ہوتی ۔وہ ترقی و ارتقاء کو صرف مادیت کے پیمانے میں نہیں تولتے بلکہ بہت جلدتہذیب و تمدن ، اخلاق و عادات اور انسانی اقدار کی شکست وریخت ان کی توجہ کامرکز بن جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں ؎
تہذیبِ نو کے عہد میں انسانیت کے ساتھ انساں نے کیا سلوک کیا ؟ دیکھتے چلیں
انسانی مشاہدہ سطحی بھی ہوتا ہے اور اس میں گہرائی و گیرائی بھی پائی جاتی ہے ۔ اول الذکرصرف ظاہر بینی تک محدود رہتا ہے اور یہ پتہ لگاتا ہے کہ ہمارے اطراف کیا کچھ رونما ہو رہا ہے لیکن اس کی رسائی پس منظر میں کارفرما اسباب و علل تک نہیں ہوتی ۔حفیظ میرٹھی کودورحاضر کے سطح بین سخنوروں سے اک گو نہ شکایت رہی جس کا اعتراف ا نہوں نے اس طرح کیا کہ ؎
کہاں یہ سطح پسندی ادب کو لے آئی جہاں نظر کی بلندی نہ دل کی گہرائی
حفیظ صاحب اپنے دل کی گہرائی کے ساتھ گردشِ ایام کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ ایک فاسد نظام کی بدولت ہی چہار جانب غمناکی و نمناکی پھیلی ہوئی ہے۔ حقیقت کی اس معرفت کے بعد وہ کہتے ہیں ؎
ہائے یہ کیا مقام ہے ، ہائے یہ کیا نظام ہے عشق کی آستیں بھی نم ، حسن کی آستیں بھی نم
عشق و حسن کی آستین کو نمناک دیکھنے کے بعد حفیظ میرٹھی جیسے شاعر اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے سے نہیں چوکتے۔ان کا یہ قدم باطل کےایوانوں میں کھلبلی مچا دیتا ہے ۔ ظلمت کے پرستار سمجھ جاتے ہیں کہ اب ان کی عافیت صرف اور صرف راہِ فرار میں ہے ۔ اس موقع پر حفیظ میرٹھی یہ مژدہ سناتے ہیں ؎
طلسم ٹوٹ رہا ہے نظام ِباطل کا اجالے آئے اندھیرے فرار ہوتے ہیں
کسی نظام کی تبدیلی کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔نظامِ باطل کو چیلنج کرنے کی خاطر ایک صالح اجتماعیت وہی برپا کر سکتا جو خود صاحبِ عمل ہو ۔ حفیظ میرٹھی نےخود بھی تمام عمراس کی پاسداری کی اور اپنے قول و عمل سے دوسروں کو ابھی اس کی ترغیب دیتے رہے۔ تقریر و تحریر پر کردار کی برتری کو واضح فرماتے ہوئے حفیظ میرٹھی فرماتے ہیں ؎
تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے
اپنے آپ کو صاحب کردار ثابت کردینے کے بعد دوسروں کو بھی ظلم کے خلاف میدانِ عمل میں آنے کی دعوت حفیظ میرٹھی نے کس طرح دی اسے بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ؎
سمٹے بیٹھے ہوکیوں بزدلوں کی طرح آؤ میدان میں غازیوں کی طرح
اس شعر میں بلاواسطہ طرزِتخاطب اختیار کیا گیا مگر حفیظ نے ایک اورشعر میں یہی بات نہایت لطیف علامت کی مدد سے ارشاد فرمائی ۔بے زبان بادباں کو شاعرنے قوت تکلم سے آراستہ کرکے گویا شعر میں جان ڈال دی ؎
’’تکوگے یو نہی ہواؤں کا منہ بھلا کب تک ؟‘‘
یہ نا خداؤں سے اک روز بادباں بولا
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *