عصمت انبیا علیہم السلام قرآن مجید کے آئینے میں

عصمت انبیا کا مسئلہ ہمیشہ ہی بہت اہمیت کا حامل رہاہے۔ آج بھی یہ مسئلہ پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ انبیا پر طعن وتشنیع ، ان کی شخصیات کو ، ان کی عزت ووقارکو مجروح کرنا اور اس حوالے سے اللہ کے دین کو نشانہ بنانا ، عام لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنا، قرآن مجید کے بارے میں شکوک وشبہات پیداکرنا اورقرآن کی بے حرمتی ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی ، ان کی عزت وناموس پہ حملے، یہ آج کابہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس اعتبار سے ا
للہ نے اپنے نبیوں کی عزت وناموس کی حفاظت کو بہت اہمیت دی ہے۔ انبیاکی عصمت کا مسئلہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ اس مسئلے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پرباری باری واضح کیا اور انبیا کی عصمت کا خصوصی دفاع کیاہے۔ اس کی کچھ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
یوسف علیہ السلام پر تہمت لگ گئی ۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ علیہ السلام سے اپنی نا پاک خواہش پوری کرنا چاہی تو یوسف علیہ السلام نے کہا: ’’معاذ اللہ ، میں اللہ کی پناہ مانگتاہوں ۔ ‘‘ میں ایسی قبیح حرکت کے قریب نہیں جائوں گا۔
یوسف علیہ السلام اپنی عصمت وعزت بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے ۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ دروازے بند ہیں ، صرف بندہی نہیں ، اس عورت نے تالے لگادیئے تھے، لیکن یوسف علیہ السلام کا اللہ پر توکل ہے کہ وہ گناہ سے بچنے کی پوری تدبیر کرتے ہوئے دروازوں کی طرف بھاگتے ہیں ۔ عزیزمصر کی بیوی نے بری نیت سے یوسف ؑ کی پیچھے سے قمیص پکڑلی تو قمیص وہاں سے پھٹ گئی ۔ لیکن اللہ نے مددکی اوردروازے کھل گئے۔ جب دونوں آخری دروازے سے باہر پہنچے توسامنے اس عورت کا خاوند عزیز مصر کھڑا تھا۔ جب اس عورت نے اپنے خاوند کو دیکھا تو کہنے لگی: اے عزیزمصر دیکھ ! یہ شخص کتنا بڑا مجرم ہے کہ اس نے تیری عزت پرہاتھ ڈالاہے۔ عزیز مصر کی بیوی کا الزام درحقیقت یوسف علیہ السلام کی ناموس پر حملہ تھا، لہٰذا یوسف علیہ السلام کی ناموس کی حفاظت کے لئے فوراً ہی اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ہم نے اپنی تدبیر چلائی، عزیز مصر کے خاندان میں سے اس کی بیوی کے رشتے داروں میں سے ایک بول اٹھا۔ (کہاجاتاہے کہ وہ بچہ تھا۔ بعض جگہ بڑی عمر کالکھاہے)
’’ اے عزیز مصر! بات سمجھنے والی ہے، اس شخص کے اخلاق کریمہ کو ہم جانتے ہیں۔ یہ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ ہاں اگر فیصلہ کرناہے تو ایک تجویز ہے ۔ اگر یوسف علیہ السلام کی قمیص آگے سے پھٹی ہے تو پھریہ عورت سچی ۔ اگرقمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو پھریہ عورت جھوٹی اور یوسف ؑ سچے ہیں‘‘۔
جب قمیص کودیکھاگیاتو وہ پیچھے سے پھٹی تھی ۔ عورت کے خاوند نے اس سے کہا:
’’ یہ ساری شرارت تیری ہی ہے۔‘‘
وہ سارا معاملہ سمجھ گیا۔ کہنے لگا : ’’اے یوسف میری عزت کا سوال ہے ، توکسی سے بات نہ کرنا۔ یہ ساری شرارت میری بیوی کی ہے۔ تیرا اس میںکوئی گناہ نہیں ہے۔ ‘‘
پہلے یہ بات چندلوگوں تک محدود رہی ، کسی کو پتہ نہ
تھا، لیکن پھرآہستہ آہستہ بات پھیلنے لگی ، مصر کی عورتیں آپس میں کہنے لگیں :
’’ یہ کیسی عورت ہے ۔ عزیز مصرکی بیوی ہوکر اپنے ہی غلام پر فریفتہ ہوگئی ہے۔ اس کا دماغ خراب ہے۔ اس کو Status کاہی پتہ نہیں ہے۔‘‘
مختصراً یہ کہ یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا خواب کی تعبیر بتانے کے لیے جب حاکم مصر کی طرف سے یوسف علیہ السلام کو قید خانہ سے رہائی کا پروانہ پہنچاتو حاکم مصر کوانہوں نے پیغام بھیجا کہ میں ایسے باہر نہیں آئوں گا۔ پہلے میرے اوپر لگائے گئے الزام کا فیصلہ کرو۔ جنہوں نے مجھ پر الزام تراشیاں کیں ، پروپیگنڈے کیے ، مصر کے شہر میں میری عزت کواچھالا گیا، پہلے اس معاملے کی تحقیق کرو۔ جب میرے دامن عزت پرسے لگاداغ دھلے گا ، تب میں رہائی قبول کرونگا ۔ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کرکے سارامعاملہ پوچھا ۔ ساری عورتوں نے گواہی دی کہ یوسف سچاہے۔ اس کا کوئی گناہ نہیں ہے ۔آخر میں جب عزیز مصرکی بیوی نے کی باری آئی تو کہنے لگی :
حقیقت یہ ہے کہ حق واضح ہوچکاہے۔ میںنے ہی اسے پھسلاناچاہاتھا۔ میں ہی اسے اندر لے کے گئی تھی ۔ میں نے ہی اسے گناہ پرآمادہ کیاتھا۔ یہ سارا جرم وگناہ میراہے ۔ یوسف سچا ہے ۔ اس کا کوئی گناہ نہیں ۔ اس طریقے سے نہ صرف اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کی عزت وناموس کی حفاظت کی ، بلکہ ان کے دامن پرلگے ہوئے داغ کو دھویا۔
اللہ اپنے انبیاکی عزت وناموس کی ایسے ہی حفاظت کرتاہے۔ یوسف علیہ السلام اس فیصلے کے بعد قید سے نکلتے ہیں تو بادشاہ ملاقات کرتاہے اورکہتاہے ہم سے بڑی غلطی ہوئی ، بڑی زیادتی ہوئی ۔ ہم نے بڑاظلم کیا ۔ اب میں ازالہ کرنا چاہتاہوں ۔ یوسف توہمارا مقرب ہے ہم تجھے امور حکومت میں شامل کرکے بڑاعہدہ دینا چاہتے ہیں ۔ تیرے جیسے شخص، تیرے جیسے صادق وامین ، بلند اخلاق اورعزت وناموس کے محافظ شخص کی بڑی قدر افزائی ہونی چاہیے ۔ ہم تجھے بڑی وزارت اور مقام ومرتبہ دیں گے۔
اس وقت مصرکی معیشت کا معاملہ بڑاخراب تھا۔ کرپشن تھی ، لوٹ مارتھی، طبقات کی سخت تقسیم تھی۔ یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں ، معیشت کا شعبہ مجھے دے دیں ۔ اللہ نے مجھے صلاحیت دی ہے ۔ اس کی حفاظت کاسلیقہ دیاہے اورعلم بھی عطاکیاہے۔ میں یہ کام اللہ کی مدد سے کرکے دکھائوںگا۔ اس واقعے سے اللہ نے یہ نکتہ بھی سمجھایاہے کہ معاشروں اورحکومتوں کی اصلاح وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے کردار محفوظ ہوں ، جواپنی عزتوں کو محفوظ رکھیں،کردار کو پختہ رکھیں ، ان کے ہاتھوں میں امور حکومت ہوں تو پھراللہ تعالیٰ ان کے ذریعے قوموں، ملکوں اورمعاشروں کی اصلاح کرتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کو خزانہ کی وزارت دی گئی۔ انہو
ں نے معاشیات کو عدل کے ساتھ قائم کرکے ایساشان دارنظام بنایاکہ ساری غلطیاں اورخرابیاں دور ہوگئیں۔ یوسف علیہ السلام کی پاک دانی کایہ بہت عظیم قصہ ہے، جسے قرآن نے احسن القصص قراردیاہے۔ امت مسلمہ کے لیے اس میںاصلاح کا ………….
آج پھرانبیا ء کی عصمت پرحملے ہورہے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ ،حضرت عیسیٰؑ اوردیگر انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بے ہودہ فلمیں بنائی جارہی ہیں۔ جن میں ان کی عزت وناموس پرحملے کیے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنائے جارہے ہیں۔ انبیاء کی ناموس پرحملے کرنے والے یہودی ہیں۔ یہودی انبیاء علیہم السلام کی عصمت کیخلاف ہمیشہ سے پروپیگنڈہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔آج بھی میڈیا پراصل کنڑول یہودیوں کاہے۔ دنیا کے بڑے بڑے چینلز اورمیڈیا گروپس کے پیچھے ہرجگہ یہودی ہیں۔ یہی ان کوکنڑول کرتے ہیں۔ عزتیں اچھالنا ،قوموں کو لڑانا ، ملکوں کو لڑانا اور لڑلڑاکراپنے مفادات حاصل کرنا یہودیوں کی سرشت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی شرارتیں قرآن مجید میںبڑی تفصیل سے بیان کی ہیں۔ یہودیوں کایہ کردار اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بھی قرآن میں پوری تفصیل سے بیان کیاہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش خرق عادت تھی۔ معمول سے ہٹ کرتھی ۔ جب آپ بن با پ کے پیدا ہوئے تو یہودیوں نے طعنے دیئے ، یہاںتک کہ مریم علیہا السلام پر (نعوذباللہ ) زناکی تہمت لگائی۔ حالانکہ مریم علیہا السلام اپنے وقت کی سب سے باعصمت خاتون تھیں۔ آج کی تحریف شدہ بائبل میںمریم علیہا السلام پر تہمت کے حوالے سے یہودیوں کی ساری جھوٹی روایات درج ہیں۔ عہدنامہ قدیم میں ظالم یہودیوں نے بائبل کے اس تحریف والے حصے کوبھی شامل کررکھاہے ، جس میں مریم علیہا السلام پر تہمت ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)
آج یہ عیسائی صلیبی قرآن کونشانہ بناتے اورپھاڑتے ہیں، لیکن تحریف شدہ بائبل جس میں مریم علیہا السلام پر تہمت کے حوالے سے روایات ہیں، اس کو سینے سے لگاتے ہیں۔
یہودیوں کے اس الزام کا جواب دینے کے لیے عیسائیوں نے دوسری انتہا اختیارکی ۔ کہنے لگے ۔ عیسیٰ علیہ السلام تورب کے بیٹے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہیں۔ عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کی صفائی دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ غلط عقیدہ گھڑ لیااورتین خدا بناڈالے ۔ مریم علیہا السلام کو تہمت سے بچانے کے لیے ان کوخدا ئی کادرجہ دے دیا اورعیسیٰ علیہ السلام کوبھی خدابنادیا۔ اللہ نے یہودیوں اورعیسائیوں کے غلط عقائد ردکرتے ہوئے صحیح عقیدہ پیش کرکے عیسیٰ علیہ السلام اوران کی ماں پرلگنے والے الزامات کوبھی صاف کیا اورعیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت وشخصیت کوبھی واضح کردیا۔
یہ ہے قرآن کا عصمت انبیا اورناموس انبیا ء کی حفاظت کا انداز۔ اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کے نام پرقرآن میں پوری سورت نازل کردی۔ اس میں یہودیوں کی تما
م تہمتوں اورالزام تراشیوں کا جواب دے دیا۔ ان کی خباثتوں کا رد کیا۔ عیسائیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کورب کہنا ، مریم علیہاالسلام کو خدائی کے عہدے پرپہنچانا ، حضرت عیسیٰ اورحضرت مریم علیہماالسلام پریہودیوں کی لگائی تہمت کاردکرکے اللہ تعالیٰ نے حق کو واضح کردیا۔ مریم علیہاالسلام اور عیسیٰؑ پرلگنے والی تہمت اورالزامات کی صفائی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ کس قدر عظیم کتا ب ہے قرآن مجید ، جس میں سابقہ انبیاء کی عزت وعصمت اورناموس کاجگہ جگہ ذکرکیاگیاہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *