فقہاء متقدمین کے تئیں نیا رجحان ایک تنقیدی تجزیہ

[مدیرمحترم! یہ تحریر اس زمانہ کی ہے جب میں تہاڑ میں اقامت پزیر تھا۔ اسی دوران ایک ساتھی نے راشد شاز کی ہفوات پر مشتمل کتاب’’ ادراک زوال امت ‘‘ڈاک سے بھیجی تھی۔ اسی ذریعہ سے ایک تازہ زندگی نو کا شمارہ بھی ملا۔ میں نے دونوں میں ایک قدر مشترک پائی اور دونوں پر حرف گیری کی جس میں سے ایک کی اشاعت تو افکار ملی نے کی لیکن ماہنامہ زندگی نے دوسرے کو لوٹادیا۔ جب میں رہا ہوکر باہر آیا تو ان صاحب نے میرا نامہ مجھے لوٹا دیا۔ کیونکہ مدیر زندگی کو میں نے لکھا تھا کہ اگر اسے آپ چھاپ نہ سکیں تو براہِ مہربانی ان صاحب کے پتہ پر لوٹادیںاور اس کے لئے میں نے ڈاک ٹکٹ بھی مہیا کراتھا۔ میں مرحوم کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے میری تحریر کو ردی کی ٹوکری کے حوالہ نہ کرکے امانت کو لوٹادیا۔ کافی دنوں بعد یہ مجھے دوبارہ نظرآئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اب بھی اسی قدر مفید اور ضروری ہے۔ اگر آپ اپنے رسالہ میں اسے جگہ دے سکیں تو ان شاء اللہ عنداللہ ماجور اور عندالناس مشکور ہوں گے]
گولڈ زیہر کے خوشہ چیں اور تمنا عمادی کے مرید راشد شاز کی جانب سے ائمہ اربعہ ومجتہدین اولیاء رحمہم اللہ اجمعین پر ’’دانشورانہ دہشت گردی‘‘ کے غلیظ اتہام کے صدمہ سے دل ابھی سنبھل بھی نہیں پایا تھا، اور ابھی اس تشکیک وہذیان کے طوفانِ بے کراں سے عامۃ المسلمین، خصوصاً تحریک اسلامی کا وہ قیمتی سرمایہ جو لا دینی پس منظر سے گزر کر دلیل وبرہان کی روشنی میں وابستۂ اسلام ہوا ہے، ان کو اس تشکیکی ادب کی زہر ناکی سے بچانے کا خاکہ ترتیب ہی دے رہا تھا کہ دل سوختہ کو ایک چرکہ اور لگا ۔ریاض احمد خاں صاحب ہمارے محترم بزرگوں میں شامل ہیں اور تحریک اسلامی کے تئیں ان کی دیرینہ خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، ان کے ذریعہ تحریر کردہ ایک مضمون ’’زندگی نو‘‘ (مئی: ۲۰۰۴) میں بعنوان ’’اسلام پر دہشت گردی کا الزام – اسباب وحقیقت‘‘ دیکھا تو ایسا لگا جیسے دل کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا ہو ۔۔۔۔ اگر اکابرین تحریک کے ہاتھوں بھی ائمہ متقدمین اور ان کے ذریعہ بے لوثی وبے نفسی سے قائم کردہ حصار دین پر تیشہ چلنے لگے تو پھر فتنہ وفساد کے اس دور میں قلعہ اسلام کا اللہ ہی حافظ ہے۔
مضمون کی ابتداء ہی انتہائی جارحانہ انداز میں ہوئی ہے اور دوسری صدی کے بعض فقہاء پر یہ بے بنیاد اتہام لگایا ہے کہ ’’(انہوں نے) مشرکین کے خلاف نہایت جارحانہ اجتہادی موقف اپنایا کہ جنگ ہی مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلقات کی مستقل بنیاد ہے۔ کیونکہ آیت السیف سورئہ توبہ ۵، ۲۹، ۳۶، نے قرآن کی ان تمام تعلیمات کو منسوخ کردیا ہے جن میں غیر مسلمین کے ساتھ رواداری، مساوات، حسن سلوک، نیکی میں تعاون، دین کے معاملے میں آزادی وحق خود اختیاری اور بقائے باہم کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔
صحیح اور غلط کا یہ ایسا ملغوبہ ہے جو پہلے سے کسی کی تصویر مسخ کرنے کے ارادے سے دانستہ توڑ پھوڑ کا شاہکار تو قرار پاسکتا ہے لیکن ایک ذمہ دار تحریکی رہنما کے شایان نہیں ہوسکتا۔ ’بعض‘ کے ذریعہ تعمیم اورواوین (Quotation mark) کے ذریعہ قول کو حصر کرنا اور حوالہ دینے سے بھی گریز ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ خصوصاً جب معاملہ ان سے متعلق ہو جن میں سے ایک کی تصویر کشی دوسروں کی تصویر بھی دھندلا سکتی ہے۔
آگے چل کر اس اتہام کی بنیاد پر ایک مزید مفروضہ الزام دھر دیا گیا کہ:
’’در اصل بعض فقہاء کا یہ اجتہادی موقف ہی دور جدید میں اسلام کے خلاف خونریزی، خونخواری اور دہشت گردی کے ان گھنائونے الزامات کا بنیادی سبب بنا ہے۔‘‘
اس الزام تراشی سے تو یہی متبادر ہوتا ہے کہ مضمون نگار نے نہ تو فقہاء متقدمین کو اصل مراجع سے سمجھا ہے نہ ہی دشمنوں کو ان کے اصل مراجع سے جانا ہے۔ بلکہ مقامی زبان میں متفرق حوالوں کے بین السطور سے اندازے لگائے ہیں۔ ورنہ تاریخ کا ایک مبتدی بھی جانتا ہے کہ اسلام پر خونخواری اور دہشت گردی کا الزام کسی ’مزعومہ فقہی تعبیر‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآن کے واضح احکامات اور حضور اکرم ﷺاور ان کے بعد جاری رہنے والے مقدس جہاد کے عملی مظاہر کو صحیح یاغلط طریقے سے بنیاد بنا کر تراشا ہے۔ حالانکہ خاں صاحب بار بار دہرائے جانے والے اس الزام یا دعوی کے لئے کوئی حوالہ بھی دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ جیساکہ آگے پھر لکھتے ہیں ’’دور جدید میں یورپ نے بعض فقہاء کے اس شاذ موقف کو اسلام کا نمائندہ موقف قرار دے کر اپنے گھنائونے الزامات کے لئے دلیل بنایا ہے۔‘‘
میری رائے میں خاں صاحب کو دوباتوں میں التباس ہو گیاہے۔ فرد اور قوم کے معاملہ میں احکامات جدا جدا ہیں۔ ان دو جدا معاملوں کو ایک سمجھنے سے یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ فقہاء نے رواداری ، مساوات، حسن سلوک وغیرہ انسانی رویہ کو بھی ان محاسن کے داعی (قرآن مجید) کے ذریعہ منسوخ کرادیا ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔ جزیرۃ العرب میں اشہر حرم کے ختم ہوتے ہی جہاں مشرکین کو جہاں ملیں قتل کرنے، گھات لگاکر پکڑنے ، انہیں گھیرنے کا حکم ہے اسی سے متصل آیت میں ہی یہ حکم بھی ہے وإن احد من المشرکین استجارک فأجرہ حتی یسمع کلام اللہ ثم أبلغہ مأمنہ ذالک بأنہم قوم لایعلمون (التوبۃ۔۶) اس میں نہ صرف یہ کہ انفرادی سطح پر مانگی گئی پناہ دینے کا حکم ہے بلکہ ان کو کلام الہٰی گوش گزار کرنے کے بعد ان کے مامن تک پہونچانے کی بھی ذمہ داری ہے۔
کچھ ایسا ہی معاملہ لا اکراہ فی الدین کے تعلق سے بعض فقہا کے قول پر مولانا مودودیؒ کی تصریح پیش کرنے میں نظر آتا ہے۔ جبکہ ذرا دقت نظر سے کام لیا جاتا تو اس پوری تحریر میں ہی اس غلط فہمی کو رفع کرنے کا سامان تھا۔ بحث کا خاتمہ مولانا مودودیؒ نے اس جملہ پر کیا ہے ’’حقیقت یہ ہے کہ آیت السیف یا آیت جزیہ کا مضمون لااکراہ فی الدین کی مذہبی آزادی سے متعارض نہیں جیسا کہ بعض فقہاء نے غلطی سے سمجھ لیا ہے۔ بلکہ وہ صرف اس آزادی کو جو شروع میں بلا شرط تھی ایک ضابطہ اور اصول کے تحت لے آتا ہے‘‘۔
گویا مولانا مودودیؒ کی بھی یہ رائے ہے کہ آیت سیف یا جزیہ کے نزول سے قبل آیت لا اکراہ فی الدین کے ذریعہ عطا کردہ مذہبی آزادی مطلق تھی۔ لیکن آیت سیف کے نزول کے بعد وہ مطلق اور بلا شرط آزادی ایک ضابطہ اور اصول کے تحت آگئی۔
اس ضابطہ اور اصول کی تشریح اسی صفحہ پر امام ابن جریر طبریؒ کی رائے سے ہوتی ہے کہ ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لااکراہ فی الدینیعنی دین میں جبر نہیں ہے کے معنیٰ یہ ہیں کہ جس سے جزیہ قبول کرنا جائز ہے وہ اگر جزیہ ادا کردے اور اسلامی حکومت کی اطاعت پر راضی وتیار ہوجائے تو اس کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔‘‘
اس جملہ یا صراحت کے بین السطور کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جزیہ ادا کرنے کی قدرت رکھنے والا شخص اگر ادائے جزیہ سے انکاری ہو تو لااکراہ فی الدینکی مذہبی آزادی کا حقدار نہ رہ سکے گا۔
اب اگر ایک صفحہ پیچھے پلٹ کر نسخ کے تعلق سے شاہ ولی اللہؒ کی تشریح پر غور کریں تو معاملہ بالکل صاف ہوجائے گا۔ ان کے حوالہ سے خاں صاحب نے تحریر کیا ہے ’’… لہٰذا نسخ کا مفہوم ان کے نزدیک پہلے نازل ہونے والی آیات کے بعض اوصاف، خصوصیات اور اسی سے مشابہ چیزوں کا ازالہ بعد میں نازل ہونے والی آیات کے ذریعہ ہوتا تھا… ‘‘
چونکہ متقدمین اور متاخرین میں سے دو جلیل القدر مفسرین کے نزدیک آیت سیف یا آیت جزیہ سے لااکراہ فی الدینکا عموم اور مطلق ہونا ختم ہوکر وہ مشروط ومنضبط ہوگیا ہے، دریں صورت اس کی صفت میں تبدیلی واقع ہوگئی ہے اور اس تبدیلی ٔ صفت کو بقول شاہ ولی اللہؒ متقدمین نسخ کہتے ہیں۔ البتہ متقدمین میں سے اکثر کا یہ معاملہ ہے کہ وہ حکم تو بتا دیتے ہیں مگر بلا ضرورت تشریح سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں ممکن ہے کہ کسی کو غلط فہمی رہ جائے۔ مگر ان تصریحات کی روشنی میں فقہاء پر سے نسخ کے جامد استعمال یا قرآن فہمی کی کمی کا الزام ختم ہوجانا چاہئیے۔
نسخ کے تعلق سے پوری بحث ہی خاں صاحب کی مقصد براری کے لئے بے معنیٰ ہے۔ چونکہ قدماء سے لے کر متأخرین تک بشمول سابق ڈائرکٹر جنرل انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ، واشنگٹن ڈاکٹر عبد الحمید ابو سلیمان سبھی لوگ نسخ کے مؤید ہیں خواہ وہ اس کو تحویل قبلہ تک ہی محدود کیوں نہ رکھیں۔ نیز یہ بات بھی تقریباً واضح ہے کہ نسخ کا معاملہ استنباطی اور اجتہادی ہے بایں طور کہ کسی نص صریح سے ناسخ منسوخ واضح نہیں کئے گئے تھے۔ اور قدماء ومتأخرین میں تعریف واصول سے لے کر تفصیلات میں علم وفہم اور اقتران دور نبوی وصحابہؓ وتابعینؒ میں اختلاف کے باعث آراء میں اختلاف بھی ممکن ہے۔ اس کے باوجود متقدمین فقہاء کے تعلق سے وسعت نظری اور حسن ظن سے کام لے کر ان کی آراء کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے ان پر تابڑ توڑ حملے کئے جارہے ہیں۔
چنانچہ صفحہ ۳۹ پر ’متقدمین فقہاء کا طریق استنباط اور استدلال‘ کے تحت رقم طراز ہیں: ’’قدیم فقہاء نے قرآنی آیات کو۔۔۔اور ان سے استدلال کرنے میں سیاق وسباق کا خیال نہیں رکھا ہے جس کی ایک بڑی وجہ تو نسخ کا مبالغہ آمیز استعمال ہے۔ دوسری وجہ قرآن کے داخلی نظم اور اس کی اہمیت سے واقفیت کا فقدان ہے …… اس کی نمایاں مثال آیت السیف ہے جس میں ایک مخصوص دشمن سے نبرد آزماہونے کے لئے ایک نہایت مخصوص استثنائی اور عارضی حکم دیا گیا ہے لیکن کچھ قدیم فقہاء نے اسے مستقل اور دائمی مان کر اس کے ذریعہ قرآن کی بنیادی ، اصولی اور دائمی اقدار کو منسوخ کردیا‘‘
’’… (حالانکہ ) ان آیات کا موضوع قریش سے مقابلے میں ایک مخصوص اور استثنائی صورتحال سے یقینا ہے نہ کہ کسی عمومی اور دائمی طریقہ کار کی رہنمائی۔‘‘
آیت سیف سے مراد ایک مخصوص آیت نہیں بلکہ آخری زمانہ کی وہ آیات ہیں جو قتال اقدامی پر دال ہیں خاں صاحب نے مضمون کی ابتداء میں خود اس ضمن میں تین آیات کا ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے فإذا انسلخ الاشہر الحرم… (التوبۃ)یقینا جزیرۃ العرب کے لئے خاص ہے۔ مگر قاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ … الخ (التوبۃ۲۶)، قاتلوہم حتی لاتکون فتنۃ … الخ (الانفال۔۳۹)، قاتلوا الذین لایؤمنون … حتی یعطو ا الجزیۃ… الخ (التوبۃ۔۲۹) وغیرہ آیات کے عموم میں کسی کو شک نہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ نسخ کے مبالغہ آمیز اور جامد استعمال کا طعنہ دینے والے لوگ اور حتی الامکان تاویل کے ذریعہ وجود حکم کو بر قرار رکھنے کے قائلین ان تمام آیات کو بنا کسی دلیل کے محض ایک آیت کے خصوص کو سب پر عام کرکے کس بے درد ی سے یک قلم منسوخ کردیتے ہیں۔
فقہاء متقدمین تو پہلے نازل ہونے والے حکم اور آیت کو بعد میں نازل ہونے والے حکم کے ذریعہ نسخ یا حصر یا خاص کرتے تھے۔ جبکہ جدید متجددین پہلے نازل ہونے والی آیات (صبر ورواداری) کے ذریعہ بلکہ کبھی کبھی اس کے بغیر ہی مخصوص حالات کے تقاضے کے طور پر بعد میں نازل ہونے والی آیات کو نسخ یا حصر کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔فیا للعجب!
ایک آیت کے خصوص سے تمام آیتوں کا خصوص کیسے لازم آسکتا ہے۔ مثلا سورہ توبہ ہی میں مذکور آیت ’’إنما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا۔ (التوبۃ۔۲۸) کیا اس میں عموم نہیں ہے۔نیز اس عموم سے کہ مشرکین نجس ہیں اور وہ تاقیامت حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتے اس سے ذمی یا مستأمن، یا معاہد کوئی بھی مشرک مستثنیٰ ہے؟؟ یا یہ کہ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مشرکین بر بنائے عقیدہ نجس ہیں۔ اسی طرح اس سورہ میں قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ… (التوبۃ۔۲۹)کا عموم اب تک باقی نہیں!؟
اگر قتال وجہاد کی آیت کسی حال بھی صبر ورواداری کی آیت کو منسوخ نہیں کرسکتیں تو آخر کس اصول کی بنا پر بعد میں نازل ہونے والی قتال وجہاد کی آیات جس پر آپ ﷺ نے مرتے دم تک عمل کیا اور جس و قت آپ ﷺ دنیاسے تشریف لے جارہے تھے اس وقت بھی ایک فوج پابرکاب تھی (قریش کے خلاف نہیں بلکہ دور دراز سرحدی مقام کے لیے) آخر کس طرح ان احکام کو منسوخ یا معطل کرنے کی جسارت کی جاسکتی ہے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک فرمادیا کہ ایک مخصوص ملک میں جمہوری اقدار اور سیکولر طرز کی حکومت کی موجودگی میں جہاد کی ضرور ت ہی نہیں پڑے گی۔ سبحان اللہ آیت سے آیت کا نسخ تو حرام لیکن جمہوری اور سیکولر اقدار کے ذریعہ ان آیات کا تعطل بھی جائز جس میں کہا گیا ہے حرض المؤمنین علی القتال(الانفال۔ ۶۵) واعدوا لہم مااستطعتم… (الانفال۔ ۶۰) وغیر ذالک
اگلی ذیلی ہیڈنگ ’’نسخ کا مبالغہ آمیز جامد استعمال‘‘ میں خاں صاحب نے وہی الزامات پھر دہرائے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ ’’قدیم فقہاء قرآنی آیات پر غور وتدبر کرتے وقت انہیں ایک دوسرے سے غیر مربوط اور الگ الگ حیثیت میں رکھ کر دیکھتے تھے اور آیت کی تشریح، اس کے سیاق وسباق ، سورہ کی دوسری آیات کے ساتھ اس کے ربط اور قرآن کی مجموعی اور بنیادی تعلیمات سے بظاہر بے نیاز ہوکر کرتے تھے۔‘‘
خاں صاحب نے قدیم فقہاء کے خلاف جو چارج شیٹ پیش کی ہے اور اس ضمن میں بطور گواہ دو مثالیں پیش کی ہیں۔ اس کے تجزیہ سے معلوم ہوجائے گاکہ کس کا جرم کس کے کھاتے میں ڈالا جارہا ہے۔
پہلی مثال؛ خاں صاحب نے سورہ ممتحنہ کی آیت ۸کا حوالہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ ’’اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
اس آیت کے تحت خاں صاحب کے بقول قدیم فقہاء ومفسرین نے صرف اتنی بات کہی ہے کہ یہ آیتِ امن، آیتِ سیف کے ذریعہ منسوخ ہو چکی ہے اور بس۔ جبکہ خاں صاحب کے مطابق یہ آیت ایک عمومی اصول عطاکرتی ہے اور پرامن غیر مسلموں کے ساتھ شریفانہ ومنصفانہ برتائو کی تاکید کرتی ہے اور پر امن اور جنگجو مشرکین کے درمیان خط امتیاز قائم کرتی ہے۔ کیونکہ ان کے بقول آیت ۸سے متصل آیت نمبر۹ میں بر سر جنگ مشرکین کے تعلق سے ہدایات ہیں کہ ان کے مقابلہ میں تیار رہنا چاہئیے۔ اور اسی سورہ کی آیت نمبر۷ مسلمانوں کو وہ حکمت ودانش مندی سکھاتی ہے جو مشرکین کے تعلق سے امن وجنگ دونوں صورتوں میں انھیں پیش نظر رکھنی چاہئیے۔ نیز یہ کہ ’’یہ آیت انہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگ در اصل انسانی تعلقات میں ایک وقتی وعارضی حالت ہوتی ہے مستقل اور دائمی ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتی۔‘‘
حالانکہ نظم کا تقاضہ تھا کہ مولانا آیت ۷ سے پہلے کی اور آیت۹ کے بعد کی آیات کو بھی دیکھتے تبھی نظم کا سلسلہ مکمل ہوتا۔ مگر ایسا کرنے میں مقصد فوت ہوجاتا۔ آیت ۸کا حکم اولاً تو اس کا تعلق انفرادی رواداری اور برو قسط کے معاملہ سے ہے نہ کہ کوئی بین الاقوامی تعلقات عامہ کا اصول (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، بیان القرآن، ابن کثیروغیرہ) نیز اس میں بر وقسط کی اجازت دی گئی ہے نہ کہ رازدارانہ دوستی کی۔ سورہ کا مرکزی مضمون یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور عامۃ المسلمین کے دشمنوں سے راز دارانہ تعلقات نہ رکھے جائیں۔ آیت۲ میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر میٹھی باتیں کرنے والے موقعہ ملتے ہی نقصان کے درپے ہوجائیں گے۔ آیت ۴میں حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کے قدوہ کو اسوہ بناکر پیش کیا گیا ہے۔ خصوصاً جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا ’’إنا برئٰ و منکم ومماتعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃوالبغضاء ابدا حتی تؤمنوا باللہ وحدہ‘‘ ہم تم سے اور جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو ان سے بری ہیں ۔ ہم تمہارے خلاف کفر کرتے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض کی ہمیشہ ہمیش کے لئے بنیاد پڑ گئی۔ الا یہ کہ تم ایمان لے آئو‘‘۔ دوسری جانب آیت ۱۰ میں بغیر کسی سبب کے بیان کئے مشرک عورتوں کو غیر مشروط طور پر چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نزول آیات کے وقت مشرک عورتیں مسلمانوں کے نکاح میں تھیں۔ اس پورے ماحول میں جس میں قطع ولایت، قدوۃ براہیمی اور ترک مناکحت کے سخت ترین احکامات جاری ہورہے ہیں اس میں آیت ۸ ایک رعایت سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ اور آیت۱،۲اور ۴ اور بعد میں آیت ۱۰ پیش نظر رہے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ شرک وکفر سے ہمارا اصل رشتہ منافرت وعداوت کا ہے۔ ابراہیمؑ اور ساتھیوں کا کفر سے کفر کا اظہار اور ابد تک بغض وعداوت کا اظہار اور اس کو اسوہ کی حیثیت سے اختیار کئے جانے کا اصرار (دوبار) اور آئندہ کے لئے ہمیشہ کے لئے رشتہ مناکحت سے انکار ،نظم کا نام لئے بغیر ہی متقدمین فقہاء کے ذریعہ قرآن کی روح کے پالینے کا اظہار ہے کہ ہمارا اور کفر کا اصل رشتہ عدوات ومنافرت کا ہے جو کہ حرب کی ماں ہے۔ اس کی روشنی میں آیت ۷ کا پورا مطلب ہوگا ’’ممکن ہے کہ اللہ تمہارے اور ان میں سے جن سے تمہاری دشمنی ہے (بربنائے کفروشرک) ان کے درمیان مودۃ (بر بنائے قبول اسلام) پیدا کردے‘‘۔
قارئین خود ملا حظہ فرمائیں کہ نظم کے نام پر خاں صاحب نے کیسی بد نظمی اور ابتری پیدا کی ہے۔ جبکہ قدماء نے کس طرح بغیر نظم کا ڈھنڈورا پیٹے آیت کو پوری سورہ ہی نہیں پورے قرآن کے پس منظر میں سمجھا ہے کہ وہ منسوخ ہے۔ کیونکہ اب مشرکین سے معاملہ ایک ذمی کی حیثیت یا معاہد یا مستامن کی حیثیت سے ہی باقی رہ جاتا ہے۔ او ر اس کے لئے مفصل احکامات موجود ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت اس معنیٰ میں منسوخ نہیں ہے کہ پورا حکم ختم سمجھا جائے بلکہ یہ مقید ومشروط بذمہ ہوگیا۔ بہر صورت اس آیت کی حیثیت پوری سورہ میں ایک استثناء اور ایک رعایت کی ہے۔ جبکہ خاں صاحب اسے اصول، اور جنگ کو استثناء قرار دے رہے ہیں۔
فقہاء متقدمین اور مفسرین عظام کو اس بات کا احساس نہ رہا ہوگا کہ اس قدر بدیہی بات بھی متاخرین میں سے بعض لوگوں کے لئے ایک معمہ بن جائے گی جبکہ وہ کفر کے غلبہ وتسلط میں رہتے ہوئے غلبۂ اسلام سے مایوس ہوکر بنام اسلام کفرسے قربت کا جواز تلاش کرنے لگیں گے۔ ورنہ وہ صرف اشارے نہ کرتے۔
دوسری مثال: متقدمین کی قرآن فہمی کے تعلق سے خاں صاحب نے دوسری مثال سورۃ الفتح کی آیت ۱۶کی دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے ’’ان پیچھے رہ جانے والے بدوی اعراب سے کہو عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ لڑنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی پیروی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا اور اگر تم پھر اسی طرح منھ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو درد ناک سزا دے گا۔‘‘
اس آیت کے تعلق سے خاں صاحب کو مفسرین سے یہ شکایت ہے کہ انہوں نے پوری آیت کے مطالب نظم کے پس منظر میں سمجھنے کے بجائے صرف اس نکتہ پر زور دیا ہے کہ وہ زور آور لوگ کون ہیں۔ حالانکہ زور آور لوگوں کا تعلق قریش کے علاوہ کسی اور قوم سے ہونے کی صورت میں ’قریش کے لئے مخصوص حکمت عملی‘ کے دعوے کی ہی ہوا نکل جاتی جس کے خاں صاحب دعویدار ہیں۔ لیکن اگر اس کی یہ اہمیت نہ بھی ہوتی تو بھی یہ تو ہر شخص کا اختیار ہے کہ وہ جس چیز کو مناسب سمجھے اجاگر کرے البتہ خاں صاحب سے ہمیں یہ شکایت ہے کہ انہوں نے نظم سورہ کا حوالہ دے کر نفس آیت کا مفہوم دبا دیا ہے۔ نفس آیت اس ذمہ داری کا احساس دلا رہی ہے جسے آپ غیر شعوری طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی جہاد سے کسی حال میں منھ نہ موڑنا۔ پوری سورہ میں نفاق کونقیض جہاد اور نقیض ایمان بتایا گیا ہے اور جو لوگ مرنے مارنے پر بیعت کریں ان کا مقام بلند کیا جارہا ہے۔ قرآن جسے جہاد ، بیعت رضوان اور اللہ رسول کی آواز پر لبیک کہہ کر اللہ کی راہ میں قتال کے لئے نکلنے کی ترغیب بتا رہا ہے اسے رواداری سے گریزاں بدئووں کوـ’’ حقیقی اسلامی کا ز میں شرکت‘‘ اور ’’مسلم سماج کا حصہ بننے میں مطلوبہ کردار‘‘ اور قرآن ’’نظم وضبط کے مبہم الفاظ میں …شامل کرناتنظیم قرآن نہیںتنقیض قرآن کہلانے کا مستحق ہے۔ یہ کون سا فہم قرآن ہے کہ آیت کے الفاظ اور سیاق جس مفہوم (یعنی جہاد وقتال) کو متبادر کریں ان کو تو معطل یا منسوخ کردیا جائے لیکن اسی ضمن میں نازل شدہ آیات سے (جماعتی) نظم وضبط اور ڈسپلن پیدا کیا جائے۔ دوسرے لوگ اپنی چلت پھرت کونصرت وجہاد کی مصطلحات سے مزین کریں تو ہم اسے نقیض دین قرار دیں اور جب ہماری باری آئے تو جہاد کا پورا سسٹم اور اسی غرض سے انفاق کی تلقین جماعتی ڈسپلن اور چندہ اور رسید میں تبدیل ہوجائے۔ یہ کیسا نظم قرآن ہے؟
قدیم دور کے فکری دائرے پر مزید طعن کرتے ہوئے خاں صاحب نے ایک آیت (بقرہ۲۵۶) کے حوالہ سے ابن کثیرؒ کی تفسیر پیش کی ہے جس سے خاں صاحب کی علمی ثقاہت کا اندازہ ہوتا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ ابن کثیرؒ متقدمین سے نہیں (جیسا کہ خاں صاحب سمجھ رہے ہیں) بلکہ متاخرین میں سے ہیں۔ دوسرے یہ کہ پیش کردہ تفسیر ابن کثیرؒ کی رائے نہیں بلکہ اس آیت کے ضمن میں انہوں نے بہت آگے جاکر ایک قول بعض لوگوں (بعض فقہاء نہیں) کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ ہم آیت کے ضمن میں پہلے ابن کثیرؒ کی رائے پیش کرتے ہیں۔
’’یہاں یہ بیان ہورہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کرو۔ اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہوچکی ۔ اس کے دلائل وبراہین بیان ہوچکے پھر کسی پر جبر اور زبر دستی کرنے کی کیا ضرورت! جسے خدا تعالی ہدایت دے گا جس کا سینہ کھلاہوا، دل روشن اور آنکھیں بینا ہوں گی وہ تو خود بخود اس کا والہ وشیدا ہوجائے گا… (جلد۔۱ آیت۲۵۶)
مذکورہ رائے کے حامل ابن کثیرؒ کو اس بات کا متہم قرار دینا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ اس آیت کے نسخ کے قائل ہیں۔ اس طر ح کے معاملات میں میری ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی متن بھی پیش کیا جائے تو زیادہ بہتر ہو ۔
آگے چل کر خاں صاحب نے پھر متقدمین کے فہم قرآن پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ اور ان کے تفقہ کو اس وقت کے مخصوص حالات کی پیداوار قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس تفقہ کو اگر دائمی مان لیا جائے تو مستقبل میں انسانیت کے لئے عدل ، مساوات اور بقائے باہم (اس اصطلاح کا عربی متبادل کیا ہوگا؟) اور حق خو داختیاری کی تلاش اسلام کے تحت ممکن ہی نہیں رہے گی‘‘۔ حالانکہ امکانی دنیا میں تو متقدمین کے بعد بارہ صدیاں گزر گئیں اور اب مذکورہ محاسن کو امکانی دنیا میں نہیں بلکہ واقعاتی دنیا میں تلاش کرنا چاہئیے کہ کس طرح ان کے تفقہ سے روشنی حاصل کرکے ہر طرف نور انسانیت پھیلتا چلا گیا۔ مگر اس تعلق سے ہم ذرا دیر بعد گفتگو کریں گے۔ اس سے پہلے فقہاء کے حقیقی اور طبعی اختلاف کے بجائے خاں صاحب کے طبع زاد اختلاف پر کچھ اظہار خیال ہوجائے۔
فرماتے ہیں: ’’فقہاء کے اپنے موقف اور خود اپنی رایوں میں اس وقت تضاد پیدا ہوجاتا ہے جب وہ مرتدین کے معاملہ میں بھی جبر واکراہ کو درست قرار دیتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ کسی بھی ذمہ داری اور مسئولیت کے لئے انسان کی آزادمرضی اور حق خود اختیاری کو بھی ضروری اور پیشگی شرط قرار دیتے ہیں‘‘۔
چہ خوب! جو شخص اپنی آزاد مرضی اور حق خود اختیاری کا استعمال کرکے قبول اسلام کر چکا اور اس کے نتیجہ میں اس پر وہ گراں ذمہ داری اور مسئولیت بھی واجب ہوگئی جس کی گراں باری سے زمین وآسمان ڈر گئے تھے۔ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلادہ گردن میں ڈالنے کے بعد اب اس جوئے کو اتار پھینکنے کا اختیار نہ عقل دیتی ہے نہ شرع۔ اس کے تعلق سے خاں صاحب آزاد مرضی اور حق خود اختیاری کا حوالہ دے کر مرتد پر جبر واکراہ پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر کسی کی زبان سے کسی دبائو میں یا علم کی کمی کے نتیجہ میں یہ بات پھسل گئی کہ اپنی مرضی سے دین چھوڑ نے والے کو اس کا حق ملنا چاہیے ؟ تو اسے سمجھانے کی ضرورت تھی کہ جناب ایمان لانے کے بعد آمنا صدقنا ، اطیعواللہ واطیعو الرسول کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لیکن خاں صاحب نے الٹے قدماء کو ہی موجب الزام ٹھہرا دیا کہ یہ لوگ مسئولیت کے لئے آزاد مرضی کو شرط اولیں مانتے ہوئے بھی ارتداد کے مرتکب پر جبر کرتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی روح پر کیا گزرے گی اگر ان تک یہ منطق پہونچ جائے۔
دانش گاہِ آکسفورڈ سے لبرلزم اور جنسی انارکی کی جو تہذیب پھیلی ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ شادی سے پہلے آزاد لوگ شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد بھی ماقبل نکاح آزادی کا مزہ لیتے رہیں، حالانکہ اخلاقی جواز تو وہ بھی نہیں دیتے لیکن رواجی طور پر اسی کی تشہیر کی جاتی ہے اور عملاً سارے رشتے ذمہ داری کے بعد بھی آزادی کی خواہش کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اور پابندی کے بعد بھی آزادی کی یہ دین ہے کہ اب وہاں خاندانی ادارہ ختم ہوچکا ہے۔
مگر اسلام اس چھوٹے سے معاملے میں بھی انسان کو مسئولیت کے اتنے اونچے مقام پر پہونچادیتا ہے کہ اس کے بعد بھی آزادانہ روش برقرار رہے اور جس سے عہد کیاہے اس کے علاوہ کسی اور سے رنگ رلیاں منائے تو اسے پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اسلام کی اسی غیرت نے عالم اسلام میں رشتوں کے تقدس کو برقرار رکھا ہے۔
جب ایک بالکل نجی معاملہ میں پابندیٔ عہد کا اتنا بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے تو وہ عہدجس سے انسان جہنم سے دور اور جنت سے قریب ہوتا ہے اس کی اتنی ہی وقعت قرار پائی کہ بد عہد اور نفس پرست انسان جب چاہے اسے اتا ر پھینکے!!!
آگے چل کر ’’بنیادی امور میں فقہی مسالک کے اختلاف اور اس کی وجوہ‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے خاں صاحب نے پہلی مثال جہاد کی دی ہے اور اس کے تحت فقہاء کی چار آراء پیش کی ہیں۔ گر چہ اصل سے رجوع تک مجھے ان کی مکمل صحت پر اعتماد نہیں مگر بحالت مجبوری ان آراء کو علی حالہ صحیح متصور کرتے ہوئے اپنی بات پیش کرتا ہوں۔ آخری دو آراء میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں فقہاء جہاد کی تدریج، اخیر میں مطلق جہاد بغرض غلبۂ دین اور اشاعت اسلام اور ماتحتی ٔ مشرکین (وہم صاغرون) پر متفق ہیں۔دوسری رائے ادھوری پیش کی گئی ہے البتہ جہاد کو اس میں بھی فریضہ کہا گیا ہے (اسٹریٹجی Strategy) البتہ پہلی رائے ان تینوں سے الگ ہے۔ خاں صاحب نے آراء کو نقل فرمانے کے بعد اس پرکوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ظاہر ہے کہ وہ اس معاملے میں فقہاء کی آراء کا اختلاف ظاہر کرکے بنیادی معاملات میں ان کے درمیان کے اختلاف کو اجاگر کررہے ہیں۔
لیکن اگر اسے اختلاف بھی سمجھا جائے تو بظاہر اس میںکیا قباحت ہے ۔ اگر ایک ہی Source سے سبھی لوگ نیک نیتی سے مستفیدہورہے ہیں اور اس کے باوجودان میں کچھ ضروری اختلاف ہے تو ہمارا کام تو صرف یہ ہے کہ ان کے دلائل کو پرکھیں اور جس کے دلائل قرآن وسنت سے قریب ہوں اس کو قبول کرلیں جیسا کہ حکم ربانی ہے فان تنازعتم فی شیئی فردوہ الی اللہ والرسول (النسائ-۵۹) ’’اگر کسی معاملہ میں تمہارے درمیان آپس میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے پاس لے جائو‘‘۔ چنانچہ جب ہم جہاد کے تعلق سے صرف قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو اسے بھی ایک مستقل عبادت پاتے ہیں۔ اس میں بھی تد ریج نظر آتی ہے جس طرح صوم وصلوٰۃ میں ہے اور اس کے مقاصد بھی بہت واضح بیان کردئیے گئے ہیں۔
ابتداء میں حکم تھا کفوا ایدیکم (النسائ-۷۷) ’’اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو‘‘۔پھر مکہ ہی میں اس قدر اور رعایت دی گئی کہ بہت ناگزیر ہو تو جس قدر ظلم ہوا ہے اتنابدلہ لے لو وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ (النحل-۱۲۶) لیکن ساتھی ہی یہ ہدایت بھی دی گئی کہ اگر تم صبر کرو تو زیادہ بہتر ہے ولئن صبرتم لہو خیر للصابرین (ایضا) پھر مدینہ پہونچتے ہی دفاعی مقاصد کے لئے عمومی طور پر تلوار اٹھا نے کی اجازت ملی اذن للذین یقاتلون۔۔۔ (الحج-۴۰-۳۹) پھر یہ اجازت حکم میں تبدیل ہوئی قاتلوا فی سبیل الل الذین یقاتلونکم ۔۔۔۔ (البقرۃ-۱۹۰) پھر اقدام کا حکم ہوا کہ قاتلوا الذین لا یؤمنون …الخ (التوبۃ-۲۹) اسے اقدام پر یوں محمول کیا جائے گا کہ اس میں جن سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ان کی طرف سے جنگ کا اشارہ نہیں ہے بلکہ ان کی بدعقیدگی اور بد عملی کو وجہ جواز بناکر ان سے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسلامی حکومت کے مطیع ومنقاد شہر ی بن جائیں۔ آیت میں حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون کی تعبیر فہم وفراست کے کئی پہلو روشن کرتی ہے۔ پھر اقدام کا عمومی حکم آیا کہ قاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ (التوبۃ-۳۶) اور پھر حکم مطلق قاتلوا ہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ (الانفال-۳۹) انہیں میں مقاصد کی بھی نشاندہی ہوگئی کہ جن پر جنگ تھوپی جائے، گھروں سے نکالا جائے، اور شعائر اللہ کے تحفظ کے لئے (الحج-۳۹-۴۰) بدعقیدہ اور بدعمل لوگوں کو بزور قوت مطیع ومنقاد کرنے کے لئے (التوبۃ-۲۹)غلبۂ دین اور ازالہ فتنہ کے لئے (الانفال- ۳۹)
مذکورہ تدریج بالکل ایسے ہی ہے جیسے صلوٰۃ کی تدریج۔ اولا ًدووقت اور دورکعت، پھر پانچ وقت مگر رکعتیں دو، پھر رکعتوں کی مختلف تعیین؛ اولاً نشہ کرکے بھی صلوٰۃ سے ممانعت نہیں۔ پھر بحالت نشہ ممانعت، پھرنشہ مطلقاً حرام۔ اولا ًبیت المقدس قبلہ۔ پھر تحویل قبلہ۔ اور مکہ مکرمہ میں موجود کعبۃ اللہ کو قبلہ دائم کی حیثیت۔ آخر ی شکل یہ بنی کہ پانچ اوقات کی صلوات مع متعین رکعتوں کے قبلہ اور (بسمت خانہ کعبہ -مکہ مکرمہ) پڑھی جائے گی۔ پرانی تدریج میں سے نہ تعداد رکعت، نہ اوقات صلوٰۃ اور نہ ہی قبلہ بیت المقدس کا استعمال جائز ہوگا۔
الیوم اکملت لکم دینکم … (المائدۃ: ۳) کے نزول کے بعد ساری تدریج منسوخ ہوکر ہر رکن اپنے آخری اور متعین شکل میں قابل قبول اور قابل عمل ہوگا۔ کسی فرد یا بعض علاقے کے لوگوں پر کچھ مطلوبہ شرائط (جو ادائے فرض کے لئے باقتران شرع وعقل ضروری ہیں) کے واقع نہ ہونے سے اصل حکم میں کوئی فرق نہ واقع ہوگا۔ امت کے دیگر افراد اور جماعتوں پر وہ حکم بدستور اپنی کامل صورت میں لا گو ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی مضطر خنزیر کھانے پر مجبور ہوجائے اور شرعاً اس کا جواز بھی بنتا ہو اور وہ ان دلائل کو جو مضطر شخص کے لئے اکل خنزیر کو جائز کرتے ہیں دبی زبان سے بیان کرے اور اخیرمیں یہ جملہ زور سے کہے ’اسی طرح شرع نے سور کو جائز کردیا ہے‘۔ تو کہنے والا کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو غیر مضطر کے لئے اکل خنزیر بدستور حرام ہی رہے گا۔ اور مضطر کی اس طرح کی کوشش اسے رذیل بنادے گی۔ کیونکہ اضطرار کے ایک عمل کو جو انتہائی مکروہ تھا اور اسے باذن اللہ جان بچانے کے لئے چپکے سے استعمال کرلینا چاہیئے تھا اب اس نعرہ کی وجہ سے محلہ کا بچہ بچہ جان گیا ہے کہ مولانا نے سور کھا رکھا ہے۔
استثنائی صورتوں کے لئے شریعت نے قوانین وضع کررکھے ہیں۔ البتہ ان میں دو پہلو نمایاں رہنے چاہیئے۔ اول یہ کہ ایک فرد یا افراد کے بعض مجموعے یاخدا نخواستہ پوری امت اضطرار ی حالت میں آجائے تو بھی اصل حکم باقی رہے گا اور اس فرد، قوم یا ملت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ کوشش کرکے اس اضطرار ی حالت سے نکلے اور اصل حکم کو پھر اختیار کرلے۔
دوم یہ کہ اضطراری احکام کو مستقل کرنا غیر باغ ولا عاد کی مخالفت کے زمرے میں آئے گا اور اضطرار کا حکم مستقل کرتے ہی وہ رعایت خود بخود کالعدم ہوجائے گی۔ واللہ اعلم
خاں صاحب نے مزید کچھ مثالیں دی ہیں اور ان کے ذریعہ فقہاء کے باہمی اختلافات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ ان اختلافات کی وجوہ کا کہیں تذکرہ نہیں۔ ہم مزید طوالت کے خوف سے فی الوقت اس سے صرف نظر کر تے ہوئے اتنا ضرور کہیں گے کہ اس میں بھی انہوں نے آراء کے نقل کرنے میں سہل انگاری اور نتائج کے اخذ کرنے میں سہولت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔
البتہ یہ بات صاف طور سے محسوس ہوتی ہے کہ پورے مضمون میں خاں صاحب کا سارا زور اس بات پر ہے کہ فقہاء متقدمین کے درمیان اختلاف کو بنیادی اختلاف ثابت کیا جائے اور ان کے ذریعہ وضع کردہ اصولوں کو مختلف فیہ بتایا جائے، فہم قرآن میں ان کے تشتت فکر اور نظم قرآن سے ان کی عدم واقفیت کو اور قرآن وسنت سے اخذ نتا ئج میں ان کی سہولت پسندی کو مبرہن کیا جائے۔
خاکساراس عمل کو آگ سے کھیلنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ یہ سیدھے سیدھے اسلام کے قلعہ میں سیندھ مارنے اور قدماء کے تفقہ کو بے توقیر کرنے پر منتج ہوگا۔ مستشرقین نے صدیوں تک اختلاف کے اس راگ کو الاپا ہے اور اس طرح انتشار وافتراق کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔
حالانکہ بقول شاہ ولی اللہؒ ائمہ اربعہؒ او ر ان کے متبعین میں صرف راجح مرجوح کا فرق ہے۔ اور یہ فرق بھی اس لئے پیدا ہوا کہ خود شارع کی جانب سے یہ توسع مطلوب تھا۔ جس سے امت تنگی میں نہ پڑے۔ اس فطری اختلاف کو مٹانے کے لئے قریبی زمانے میں دو کوششیں ہوئیں ۔ ایک تحریک اہل حدیث جس نے دعویٰ کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام معاملات میں ایک ہی رہنمائی دی تھی لیکن فقہاء نے ملت کو منتشر کردیا۔ مگر ملت تو ان کی دعوت پر کیا متحدہوتی خود ان کے یہاں کئی فروعی معاملات میں اختلاف فکر ہوا۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ خود شرع میں اس قدر توسع مطلوب ہے۔ دوسری تحریک تحریک نظم قرآن ہے جسے علامہ حمید الدین فراہیؒ اور ان کے شاگردوں نے اس دعویٰ کے ساتھ شروع کیا تھا کہ قرآنی آیات کا مدلول ایک ہی ہوسکتا ہے ۔ اور نظم قرآن کو پالینے کے بعد یہ تشتتِ آراء ختم ہوجائے گا۔ لیکن پورے پچاس سال بھی نہ گزرے کہ اس مکتبۂ فکر کے افراد میں متعدد فروعی اور کچھ بنیادی امور میں اختلاف پیداہوا۔ اور اسے بھی میں شرع میں موجود توسع پر محمول کرتا ہوں۔
رہا فقہاء کا معاملہ تو فروعی اختلاف کے باوجود دین کے بنیادی امور میں ایسا زبردست اتحاد ہے کہ خود خاں صاحب اس کے معترف ہیں کہ مرتد پر جبر میں سارے متحد ہیں۔جبکہ تنہا اس ایک امر پر اتحاد نے کس طرح ملت کے شیرازے کو باندھ کر رکھا (چودہ صدیوں تک) اس کا مکمل اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم سورہ آل عمران کی آیت ۷۲ میں موجود یہودی سازش پر مطلع ہوتے ہیں وقالت طائفۃ من اھل الکتاب آمنوا بالذی انزل علی الذین آمنوا وجہ النہار واکفروا آخرہ لعلہم یرجعون۔ ’’اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ جو کچھ ایمان والوں پر نازل ہوتا ہے اس پر دن کے اول حصہ میں ایمان لائو اور آخر حصہ میں اس کا انکار کردو تاکہ وہ بھی اس دین سے برگشتہ ہوجائیں‘‘۔ لبرل، سیکولر اور ملحدین نیز بھگو وادیوں کے معاندانہ پروپیگنڈہ سے بچنے اور ان کو خوش کرنے کے لئے اس بندش کو ذرا ڈھیلا کیجئے پھر دیکھئے کہ ملت کا شیرازہ کیسے بکھرتا ہے (نعوذ باللہ من ذالک) ان شاء اللہ موقعہ میسر ہوا تو اس تعلق سے کچھ چشم کشا حقائق پر مشتمل ایک مضمون لکھو ں گا۔
اسی طرح خاں صاحب ہر قسم کی دلیل وحجت یا شخصی رعایت سے مبرا ہوکر فقہاء متقدمین کی دینی تعبیرات کو ان خارجی حالات کے دبائو کا نتیجہ بتاتے ہیں جو ان فقہاء کی دنیا میں آمد سے بھی قبل اہل ایمان پر گزرے تھے۔ ارشاد ہے! ’’اسلامی دور کے آغاز میں مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کی طرف سے مسلسل ظلم وجو ر کا سامنا تھا۔ اور غیر مسلم طاقتیں، اسلامی اقدار وسماج کے خلاف اپنا دشمنانہ رویہ بدلنے کو کسی طرح تیار نہ تھیں۔ ان تاریخی تجربات نے فقہاء کے ذہنوں پر اپنے نقوش چھوڑے‘‘۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا ایک مبتدی بھی جانتا ہے کہ فقہاء متقدمین جس دور کی پیدا وار ہیں وہ اسلامی دنیا کا سنہری دور (قرن الذھب)تھا۔ کسی دشمن کا کوئی خوف نہ تھا۔ ہر طرف ہجوم واقدام کی کیفیت تھی۔ سلطنت روم وایران کو دفن ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ افریقہ، ایران، اسپین اور شمالی ہند کی سرزمین مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں کے سموں تلے روندی جاچکی تھی۔ جہاد کے مسلسل عمل نے غیر مسلموں کی بڑی تعداد کو ظلم وشرک کے جبر سے نکال کریدخلون فی دین اللہ افواجا کا روح افزا منظر دکھا دیا تھا۔ ایسے حالات میں پرورش پانے والے فقہاء؛خدا ترس اور علم وعمل میں مرجع خلائق قدماء ؛ پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے دین کی تعبیر قرآن وسنت کے بجائے صدی دوصدی قبل کے واقعات سے متاثر ہو کر کی ، ایک بے حقیقت اور بے وقعت الزام سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صدی دوصدی قبل کے حالات سے متاثر ہونا تو درکنار انہوں نے اپنے وقت کی عظیم الشان اسلامی حکومت کے طاقتور حکمرانوں تک کے اثر کو قبول نہیں کیا اور اپنی اسی بات پر جمے رہے جسے انہوں نے قرآن وسنت کا حکم سمجھاتھا۔ سلطان وقت کے سامنے کلمئہ حق بلند کرنے اور قرآن وسنت کے علاوہ کسی اور کو ماخذ شریعت نہ ماننے کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑا کہ ایک کے شانے اکھاڑدئیے گئے(امام مالکؒ)، ایک نے زندگی کی آخر ی سانسیں جیل کی تنگ وتاریک کوٹھری میں لی(امام اعظم ابو حنیفہؒ) اور ایک پر اتنے کوڑے برسائے گئے کہ ہاتھی پر بھی اس قدر کوڑے برسائے جاتے تو وہ اسکی تاب نہ لاسکتا(امام احمد ابن حنبلؒ)۔ ان پاک نفوس قدسیہ کو جنہوں نے قوت کے دور میں اپنے آپ کو اقتدار سے دور رکھا، خوشحالی کے دور میں سختیاں برداشت کیں اور افضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر (افضل جہاد جابر حکمراں کے سامنے حق بات کہنا ہے) کی ایسی جاندار مثالیں پیش کیں کہ جس سے تاریخ کے ہر موڑ پر ہزارہا ہزار بندگان خدانے فیض اٹھایا اور تاریخ کے ہرمرحلہ میںظلم وجبر کے خلاف نہتے مگر زبان وقلم کے ہتھیار سے لیس ہوکر جبر وظلم کو سرنگوں کیا ، ان پر قرآن وسنت کے بجائے صدی دوصدی قبل کے حالات سے متأ ثر ہوکر اسلام کی روح کی تبدیلی کا الزام وہی لگا سکتا ہے جس کی عقل سیکولرزم کے تند وتیز جھکڑ نے ماردی ہو۔
حالانکہ یہ الزام تو ان پر صادق آتا ہے جو انقلابی دعوئوں کے ساتھ ایک تحریک لے کر چلے تھے اور اپنی بے مثال قربانیوں اور جد وجہد سے ملت اسلامیہ ہند میں ایک نئی روح پھونک دی تھی مگر ان کی اگلی ہی نسل ایسی بودی نکلی کہ آزمائش کے ایک معمولی جھٹکے نے حرام(ووٹ) کو حلال کردیا؛’ طاغوت‘ ملکوت ہوگیا؛ خلافت علی منہاج النبوۃ کا منصوبہ تار عنکبوت ہوگیا؛ الجہاد فی الاسلام کے مصنف کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے لوگ لفظ جہاد کے استعمال سے بھی گریزاں ہوگئے؛ غلبۂ اسلام اشاعت اسلام میں تبدیل ہوگیا اور حد تو یہ ہوگئی کہ مولانا مودودیؒ نے ساری دنیا کی مخالفت مول لے کر اسلام میں مرتد کی سزاقتل کی حمایت کی تھی ،آج اس تحریک کی فکری قیادت ان بے غیرتوں اور خائنوں(یعنی مرتدین) کے لئے بھی رواداری کی مؤید نظر آرہی ہے۔
خاں صاحب سے عرض ہے کہ اللہ کے دین کی حفاظت تو خود اللہ کرے گا مگر جو فرد یا مجموعۂ افراد اپنی بعض دنیاوی اغراض کی خاطر حق اور اہل حق کو مسخ کرنے کی کوشش کریں گے انہیں اللہ تعالی زمانے کے حوالہ کردے گا۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
سب سے بڑا حق اللہ ہے اور باقی سب باطل ۔ اور اللہ پاک کو نیک بندوں کی آزمائش مقصود نہ ہوتی تو وہ کفر کو ذرا بھی موقعہ نہ دیتا۔ قرآن کی اس آیت کو حرز جان بنانا چاہیے۔ فاصبر لحکم ربک ولا تطع منہم آثماً او کفوراً (الدہر۔ ۲۴) پس آپ تو اپنے رب کا حکم آنے تک جمے رہیے اور ان میں سے کسی گناہ آلود فاجر اور کسی منکر رب کافر کی بات پر بالکل کان مت دھریے!

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *