مصر کی فوجی بغاوت ــــــایک مجرمانہ اقدام

کم و بیش ساٹھ برسوں پر محیط فوجی آمریت کے پاؤں تلے بلکتے سسکتے ہوئے مصر نے پہلی بار راحت کی سانس لی جب اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوا اور اخوانی رہنما محمد مرسی نے صدر مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس سے پہلے یکے بعد دیگرے خود کو صدر کہلانے والے کرنلوں جرنلوں نے اپنی قوم کو کس طرح ذلیل اور بے بس کیا یہ داستان انتہائی کربناک تفصیلات پر مشتمل ہے۔ اگر ملک راست طور پر بیرونی استبداد کے چنگل میں پھنسا ہوتا تو بھی شاید اس سے بڑھ کر ذلتوں و رسوائیوں اور مجبوریوں کا سامنا کرنا نہ پڑتا۔ شاہ فاروق کے بعد نجیب کے اقتدار پر قابض ہونے اور اس کے بعد کرنل ناصر، انور السادات پھر حسنی مبارک کے ہاتھوں توڑے جانے والے ظلم کے پہاڑوں نے مصری قوم کی کئی نسلوں کو نیم جاں بنا کر رکھ دیا اس طرح نہ صرف یہ کہ ان کی معیشت برباد ہوکر رہ گئی بلکہ صدیوں سے عالم اسلامی اور عرب ملکوں کی علمی و فکری رہنمائی کرنے والا مصر ذہنی و اخلاقی پسماندگی کا شکار بنتا چلا گیا جس کی ایک علامت وہاں پائے جانےو الے مغربیت زدہ لادینی عناصر کی سینہ زوریاں ہیں جو شریعت کے نفاذ سے نہ صرف آپ خوف زدہ ہیں بلکہ دنیا کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
…………………………………………………………………………………….
اس پورے دور تشدد میں سب سے بڑھ کر اخوان المسلمین کو نشانہ بنایا گیا ۱۹۴۸ ءمیں ہی بانی تحریک شیخ حسن البناء کو سرِ عام گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ اس کے بعد کرنل ناصر نے روسی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے، اور خود کو عربوں کا نجات دہندہ ثابت کرنے کے لیے سید قطب شہیدؒ اور عبد القادر عودہ پر بے بنیاد الزامات لگا کر بند فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزا دلوادی۔ ہزاروں اخوانی کارکنوں کو برسوں جیلوں میں ڈالے رکھا ۔خصوصی تعذیب خانوں میں بلاامتیاز مرد و زن درد ناک تکلیفیں پہونچائی گئیں۔ اس وقت کسی آدمی کو بلا ثبوت مجرم بنانے کے لیے اتنی بات کافی تھی کہ اس پر اخوانی ہونے کا شبہہ کیا جائے ۔یہ سلسلہ حسنی مبارک کے اقتدار سے برطرف ہونے تک جاری رہا۔ نئی انقلابی حکومت بننے پر بڑی تعداد میں بے قصور قیدیوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ چند مختصر وقفوں کو چھوڑ کر شاہ فاروق سے لے کر حسنی مبارک کے دور آمریت کے خاتمے تک اخوانی اپنے جرم بے گناہی کی پاداش میں سخت آزمائشوں سے دوچار ہوتے رہے مگر انھوں نے صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑا ۔ارباب ِ اقتدار کی مخالفت اور دشمنی کے باوجود اسلامی انقلاب کے لیے انھوں نے ہمہ جہتی کوششیں جاری رکھیں اور ہر حال میں اپنے نظام تربیت کو قائم رکھا۔ چنانچہ انتخابی عمل میں شریک ہونے کے ایسے مثبت نتائج برآمد ہوئے جو اپنوں اور غیروں سب کے لیے حیرت انگیز تھے۔
…………………………………………………………………………………….
آٹھ 8؍ کروڑ کی آبادی والے کسی ایسے ملک کو جسے بیرونی استعمار کے ایجنٹوں اور فوجی آمروں نے بے حال کرکے رکھ دیاہو ایک سال کی قلیل مدت میں چست و درست کردینا یوں بھی کارِ محال ہے۔ اور مصر تو اپنے پڑوسیوں خاص طور پر غاصب صہیونی ریاست کی وجہ سے بھی سخت مشکلات میں گھرا ہوا ہے لہٰذا صرف ایک سال پورا ہونے سے پہلے ہی اہلیت و نا اہلیت کی سند دینا بھونڈے مذاق کے سوا کچھ نہیں، جہاں تک باہمی تعاون، تحمل اور دور رس تبدیلیوں کے آغاز پر غور کیا جائے تو محمد مرسی کی حکومت سے بدگمانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کئی موقعوں پر انھوں نے اپنی سیاسی اہلیت کا قابل ِ قدر مظاہرہ کیا ہے اور طاقت رکھتے ہوئے اس کے استعمال سے اس طرح گریز کیا ہے کہ ان پر ضرورت سے زائد نرمی کا گمان تو ہوتا ہے ،سخت گیری کا کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ رہی ان لوگوں کی بات جو ساحل پر کھڑے ہوکر سمندر کی موجوں کا نظارہ کرتے ہیں تو ان کے لیے یہی کہا جاسکتا ہے۔
اے موجِ بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
عرصۂ دراز تک غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے اور ملکی وسائل کی بربادی کے ذمہ دار، حق کی آواز بلند کرنے والی تحریکات و شخصیات کا لہو پینے والے فوجی آمروں کے زیر اثر رہنے والی فوج کو حدود ِ کار میں رہ کر کام کرنے کا پابند کردینا ہی تنہا ایسا بڑا کام ہے اس کے لیے مصر کے اخوانی صدر محمد مرسی اور ان کے شریک کار دوستوں کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔
یہ سب کچھ ہوتے ہوئے مصری فوج کے سربراہ کے سر میں اچانک یہ درد کیوں اٹھا کہ وہ صدر مملکت کو جو اس کا آقا بھی ہے ، یہ وارننگ دینے پر اتر آئے کہ وہ اپنے مخالفین کو اتنے گھنٹوں کے اندر اندر -جو بہر حال عوام اور اکثریت کے نمائندے نہیں ہیں -کو راضی کرے۔ جبکہ چند ماہ پہلے ہی مصری فوج نے کسی مزاحمت کے بغیر برضا و رغبت خود کو سیاست سے کنارہ کش کرلیا تھا، اور حدود ِ کار میں رہتے ہوئے منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر آمادہ ہوگئی تھی۔
…………………………………………………………………………………….
حقیقت یہ ہے کہ مصر کے ’تحریر اسکوائر‘ میں جس نئی صبح کا طلوع ہوا تھا وہ عالمی استعمار اور اس کے سربراہ (امریکہ) کے اندازوں سے باہر تھا اب فوج کے کاندھے پر رکھی ہوئی پرانی بندوق کسی کام کی نہیں رہ گئی تھی اور زبردست عوامی تائید سے ابھرتی ہوئی قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا اس لیے ایک سال تک بظاہر انقلاب اور نئے انقلابی سربراہ محمد مرسی کی حکومت کی تائید کی جاتی رہی تاکہ اس عرصہ میں اخوانی صدر کو شیشے میں اتار کر اپنی توقعات پر پورا اترنے کی امید لگائی جاسکے۔ دوسری طرف البرداعی جیسے گماشتوں کو کار خاص انجام دینے کے مواقع فراہم کیے جاسکیں تاکہ دونوں میں سے کسی ایک ہاتھ سے لڈو حاصل کرلیے جائیں۔ اس دوران امریکی و برطانوی سیاست دانوں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی بڑی مکروہ اور حیرت انگیز تصویر سامنے آتی ہے ۔عالمی میڈیا نے اخوانی صدر کو ایک سخت گیر حکمراں کی صورت میں پیش کیا اور منتخب صدر کو سابق فوجی آمروں کی صف میں کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ حکومت مخالف معمولی احتجاجات جن کو روکنے کی سرکار نے کوئی کوشش بھی نہیں کی تھی، زبردست عوامی احتجاجات کے طور پر نمایاں کیا گیا اور اس کے مقابل اخوانی حکومت کی تائید میں ہونے والے عظیم احتجاجات کو بد دیانتی کے ساتھ نظر انداز (Over Look) کرنے میں کوئی کمی نہیں رکھی گئی۔ ایک جانب برطانوی وزیر اعظم نے یہ کہہ کر فوجی بغاوت کی تائید کی کہ اس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔ دوسری طرف امریکہ نے یہ بیان دیا کہ معزول صدر کو رہا کردیا جائے ۔بھلا جن کی تائید سے فوج نے بغاوت کی اور بلا جواز منتخب صدر کو برطرف کرکے حراست میں لے لیا، رہائی کے لے ان کی سفارش کے کیا معنیٰ رہ جاتے ہیں؟ جبکہ اصل مسئلہ رہائی کا نہیں منصب صدارت کی بحالی کا ہے۔ واضح رہے کہ اخوانی رہنما کی صدارت ایسے انتخابی عمل کا نتیجہ تھی جس پر حرف گیری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انتخابات تین ادوار میں مکمل ہوئے اور دو بار استصواب کا موقع بھی آیا ۔انتخابات کے دوران مصر کی دینی جماعتوں خصوصاً اخوان المسلمین کے خلاف مغربی میڈیا نے گمراہ کن مہم چلائی اور راست طور پر اسلام اور شریعت کو ہدف تعریض بنایا گیا، مگر نتیجہ یہ تھا کہ 47% فیصد یعنی 235 سیٹوں پر اخوان نے کامیابی حاصل کی اور دوسری اسلامی جماعت ’النور‘ نے 25فیصد یعنی 125 سیٹوں پر قبضہ کیا ۔مغرب کے سیکولر گماشتوں اور پارٹیوں کا بستر گول ہوگیا ۔یہ مصری عوام اور اسلامی تحریکات کی زبردست کامیابی تھی جس سے مغرب کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہائٹ ہاؤس اور یورپی برادری حواس باختہ ہوگئے۔ جن لوگوں سے اب تک ایران کا اسلامی انقلاب، ترکی میں اسلام پسندوں کا غلبہ اور افغانیوں کا جذبہ جہاد برداشت نہیں ہوسکا وہ کس طرح مصر کی اس نئی صبح کو خوش آمدید کہہ سکتے تھے؟ چنانچہ جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر پھر اسی آمریت کو مصر پر مسلط کردیا گیا جس کے پاؤں تلے پورا ملک بالخصوص اسلامی تحریکات کو شاہ فاروق ،کرنل ناصر، انور سادات اور حسنی مبارک کے نامبارک دور میں روندا جا رہاتھا۔
…………………………………………………………………………………….
یہ سب کچھ امریکہ اور یورپ کے ان شاطروں کا کیا دھرا ہے جو اپنی جنت ارضی کو مشرقی اقوام اور اسلامی ملکوں کے لہو سے سیراب کرتے چلے آ ر ہے ہیں۔ فوجی آمریت کے الزام کی سیاہی کو چھپانے کے لیے 32رکن عبوری کابینہ کو حلف دلایا گیا ہے جس میں مسلح افواج کے سربراہ کو اول نائب وزیر اعظم بنایا گیا ہے۔ لیبرل (آوارہ فکر) اپوزیشن کے ارکان کو- جو مصری عوام کے نہیں امریکہ کے نمائندہ ہیں -اہم وزارتیں دی گئیں ہیں۔ اس عبوری کابینہ میں کسی اسلامی جماعت حتی کہ حزب النور کو بھی شامل نہیں کیا گیا جس نے مسلح افواج کو انتقال اقتدار کی حمایت کی تھی۔ جنرل عبد الفتاح السیسی کو اول نائب وزیراعظم کے ساتھ محکمۂ دفاع کا وزیر بھی بنایا گیا اور اس کی عملی توثیق کے لیے یورپی یونین کی وزیر خارجہ مسز کیتھرائن حلف برداری کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندرمصر آ دھمکی ہے جس کی مصری عوام نے شدید مزاحمت کی ہے اور قاہرہ کی سڑکوں پر اس کی قد ِ اعظم تصویر کے نیچے ’’جادوگرنی واپس جاؤ‘‘ کا نعرہ درج کرکے مخالفت کا اظہار کیا ہے ـــــــــــــــ شرم ان کو مگر نہیں آتی۔
…………………………………………………………………………………….
دنیا کو ابھی یقین آئے یا نہ آئے مگر یہ سچ ہے کہ امریکہ روبہ زوال سپر پاور ہے اور طاقت کا توازن اب ایشیاء کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کا ادراک ابھی تک ایک عام آدمی نہیں کر پا رہا ہے مگر حقیقتیں کسی کے اعتراف یا عدم اعتراف کی محتاج نہیں ہوا کرتیں ۔اپنی اجڑی ہوئی جنتوں کو آباد رکھنے کے لیے مغرب کی الحادی قوتیں مشرق وسطیٰ کو تیسری جنگ کا میدان بنا سکتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس صورت میں اس صہیونی ریاست کا کیا ہوگا جس کا سانپ اپنے گلے سے اتار کر انھوں نے عالم اسلام کے گلے میں ڈالا تھا۔
تیسری جنگ سے ہونے والے نقصانات کا خدشہ جو ہے وہ ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس کے نتیجے میں صہیونی ریاست کا وجود بھی قائم نہیں رہ سکے گا۔ اس لیے اسلامی ملکوں کو اندر سے تاراج کردینے اور ان پر مصنوعی قیادتیں مسلط کرکے بالواسطہ حکمرانی کے جال پھیلائے جا رہے ہیں۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کا خود ساختہ ٹھیکہ دار اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لیے سب کچھ کرسکتا ہے اور کر رہا ہے۔ اس نے ایک طرف سعودی خاندان کو گود لے رکھا ہے اور وہاں ملوکیت کو پرورش کرنے میں اسے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی؛ شام میں خانہ جنگی کو طول دیا جارہا ہے؛ عراق کو اب تک ناکردہ گناہوں کی سزا مل رہی ہے؛ افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا کر بے غیرتی کے ساتھ لوٹنے سے پہلے اپنی فوجوں کے قیام و طعام کے لیے نئی شکار گاہوں پر نظر ہے ؛پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی منصوبہ بندیاں ہیں۔ غرضیکہ کہیں بھی اور کسی طرح بھی مسلمانوں کو چین سے رہنے نہیں دینا ہے ۔مغربی استعمار کی شطرنجی چالوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنی لڑائی میں شامل کرلیتا ہے اس لیے وہ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کو دنیا کے سامنے نقطۂ اشتراک بنا کر پیش کر رہا ہے تاکہ اس کے ہم نواؤں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے۔ امریکہ دوسرے ملکوں کے معاملات میں بے جا مداخلت کا مجرم بھی ہے۔ اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان کے اندرونی معاملات میں بھی جس طرح دخیل و شریک رہتا ہے کہ یہاں بھی اس کی بالواسطہ حکمرانی کا گمان ہوتا ہے۔ اب ان ملکوں کا توکہنا ہی کیا جہاں اس کی پشت پناہی میں فوجی جنرل حکومت کرتے ہیں۔
…………………………………………………………………………………….
سطور بالا میں درج اشارات کا یہ مطلب لینا درست نہیں ہوگا کہ دنیا کو امریکہ ہی چلا رہا ہے ۔فرعون نے اسی ملک مصر میں انا ولا غیری (اپنی خدائی) کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے قریب ہی بحر قلزم میں ڈوبتے ہوئے خدا پر ایمان لانے کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ وہ دن دور نہیں کہ مغربی استعمار اور اس کا سربراہ مجرموں کے صف میں کھڑا ہوگا، اپنے کیے کی سزا بھگتے گا او رکوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آئے گا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *