گلبدین حکمت یارؔ سے ایک انٹرویو

(جناب گلبدین حکمت یار کا نام تحریکی حلقہ میں انتہائی معروف و محترم ہے۔ جہادِ افغانستان خواہ وہ سابق سوویت یونین کے خلاف ہویا حال میں امریکہ بہادر کے خلاف، انہوں نے ہردو محاذ پر جس دینی فراست، مجاہدانہ شجاعت اور حکمت و دیانت کے ساتھ حزبِ اسلامی کی قیادت کی ہے وہ انہیں کا حصہ ہے۔ ذیل میں ان کا ایک بصیرت افروز انٹرویو معاصر فرائیڈے اسپیشل کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے جس سے قارئین وحدت کو افغانستان کے حالات سمجھنے میں کافی مدد ملے گی۔رمضان المبارک کی نیک ساعتوں میں افغان مجاہدین کی کامیابی و نصرت کے لئے ضرور دعا کریں۔)
سوال: 2014ء میں نیٹو قوتوں کے اخراج کے بعد آپ افغانستان کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟
جواب: افغانستان کے حالات ایسے ہیں کہ اگر تمام مؤثر افغان قوتوں کے درمیان ایک جامع حل پر اتفاق نہ ہوسکا تو پھر 2014ء میں نیٹو قوتوں کے اخراج کے بعد ویسے ہی حالات پیدا ہوجائیں گے جیسے روس کے نکل جانے کے بعد ہوئے تھے۔ امریکی جرنیلوں کے بیانات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹو قوتوں کے نکل جانے کے بعد بھی وہ اپنی افواج کی ایک نامعلوم تعداد غیر معینہ مدت تک افغانستان میں رکھنا چاہتے ہیں۔ان اعلانات کا مطلب جنگ کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن افغانستان کو اپنے مستقل کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے، اگر امریکی اپنے اس ارادے میں کامیاب نہ ہوسکے جو یقیناً مشکل ہے، تو پھر وہ افغانستان کو2001ء کی حالت پر لاکر چھوڑیں گے۔ اِس وقت افغانستان کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کہ روس کے اخراج سے ایک سال قبل تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اب جنگ سے تھک چکے ہیں۔ جنگ کو مزید جاری رکھنا، جانی نقصان برداشت کرنا اور بھاری بھرکم مالی اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل اور ناممکن ہوچکا ہے، اس لیے اب واپس جائے بغیر کوئی اورچارہ نہیں۔ اکثر اتحادی طاقتیں واشنگٹن کے دباؤ کی وجہ سے مجبور ہیں کہ 2014ء تک افغانستان میں رہیں، مگر مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی اکثر افواج 2014ء سے قبل ہی نکل جائیں گی۔ ان میں سے کسی کے بس میں نہیں ہے کہ2014ء کے بعد بھی اپنی افواج وہاں باقی رکھ سکے، ورنہ ہر سال چار ارب ڈالر حکومت ِکابل کو دینا پڑیں گے۔ اتحادی افواج اب کابل حکومت کی بقا سے بھی کلی طور پر ناامید ہوگئی ہیں۔ کوئی متبادل قیادت بھی نہیں کہ جس پر وہ بھروسا کرسکیں۔ برطانیہ اور کچھ امریکی مقتدر حلقے افغانستان کی تقسیم کو بھی حل کا راستہ سمجھتے ہیں، جب کہ بعض حلقے چاہتے ہیں کہ افغانستان کو پھر سے 1990ء کی حالت میں لے آیا جائے تاکہ پاکستان، ایران، ہندوستان اور روس کو افغانستان کی جنگ میں ملوث اور شامل کریں۔ بعض افغان افراد بھی اس پالیسی سے متفق معلوم ہوتے ہیں تاکہ ایک مرتبہ پھر وہی کام کریں جو پہلے کیا گیا تھا۔ افسوس کہ انہوں نے گزشتہ تلخ تجربوں سے سبق حاصل نہیں کیا۔ اصل میں یہ لوگ شدید داخلی اختلافات کا شکار ہیں، مایوس اور پریشان ہیں، بیرونی قوتیں بھی ناکام ہوگئی ہیں، اور حالات مجموعی طور پر دن بدن خرابی کی طرف جارہے ہیں۔ 2014ء کے بعد شاید بعض ایسے واقعات بھی رو پذیر ہوں جو سب کے لیے غیر متوقع ہوں۔
سوال: کیا طالبان اور حزب اسلامی اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں، توکیا آپ کرزئی حکومت کو قبول کریں گے؟ اگر قبول نہیں کریں گے تو کیا افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا؟ کیا روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین اور دوسرے جنگجو طالبان کے خلاف کارروائی کریں گے؟
جواب: ہم چاہتے ہیں اقتدارکی منتقلی صلح اور باہمی مشاورت سے ہو، تمام افغان جماعتیں اس انتقالِ اقتدار پر متفق ہوں تاکہ 2014ء تک ساری بیرونی قوتیں افغانستان سے نکل جائیں، اور اس کے بعد آزادانہ، منصفانہ اور عادلانہ انتخابات ہوں، جو پارٹی انتخابات میں اکثریت حاصل کرے اس کی حمایت میں ساری قوم کھڑی ہو۔ نہ ہم اس سے پہلے طالبان کے خلاف جنگ کا ارادہ رکھتے تھے نہ اب رکھتے ہیں۔ وہ طالبان جو ملک کی آزادی کے لیے جہاد کررہے ہیں انہیں ہم اپنا بھائی سمجھتے ہیں، مگر کچھ دشمنوں نے اس سے قبل بھی بعض طالبان دھڑوں کو ہم سے لڑوایا اور اب بھی لڑوانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
سوال: کیا حزب اسلامی افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی؟
جواب: ہم نے اس کے متعلق ایک جامع تجویز پیش کی ہے جو کہ 2014ء تک بیرونی قوتوں کے مکمل انخلاء اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات پر مشتمل ہے۔ اگر متذکرہ دو شرائط پوری ہوجائیں تو پھر ہم بھی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوں گے۔
سوال: کیا حزب اسلامی2014ء کے بعد بھی کچھ تعداد میں امریکی افواج اور چھاؤنیاں افغانستان میں قبول کرلے گی؟
جواب: نہیں، ہم ایک دن کے لیے بھی کوئی امریکی فوجی اور ایک بھی امریکی چھائونی قبول نہیں کریں گے۔
سوال: طالبان کے ساتھ آپ کے روابط کیسے ہیں؟ کیا کوئٹہ شوریٰ کے ساتھ آپ کا رابطہ ہے؟ اور حقانی گروپ کے ساتھ آپ کے تعلقات کی نوعیت؟
جواب: ہمارا طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے، البتہ طالبان کی کچھ مؤثر شخصیات کے ساتھ صرف باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے لیے روابط رکھتے ہیں۔
سوال: حزب اسلامی کے کچھ سابق ممبران اب افغانستان میں بڑے بڑے عہدوں پرکام کررہے ہیں، کیا وہ آپ کے رابطے میں ہیں؟ اور آپ کے خیال میں ملکی امور پر حزب اسلامی کی گرفت کس انداز اور کس درجہ میں ہے؟
جواب: حزب اسلامی کابل میں قائم کٹھ پتلی امریکی حکومت میں نہ اس سے قبل شامل ہونے کا ارادہ رکھتی تھی اور نہ آئندہ شامل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ حزب اسلامی کا پاک اور اجلا دامن اس ناپاک حکومت میں شامل ہونے سے داغدار ہو۔ اگر کسی نے ذاتی طور پر اس حکومت میں حصہ لیا ہے تو ہوسکتا ہے اس نے کسی مجبوری کی وجہ سے ایسا کیا ہو!! مگر ہم ان کے ساتھ نہ پہلے متفق تھے نہ اب ہیں۔
سوال: افغانستان میں اس وقت بھی کچھ لوگ گزشتہ خانہ جنگی میں آپ کو ایک اہم فریق کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں، کیا آپ کو اس وجہ سے کوئی پشیمانی اور ندامت ہے؟
جواب: افغان قوم کے باشعور لوگ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں گزشتہ تین عشروں کی جنگیں باہر سے مسلط کی گئیں۔ پہلے سوویت یونین کی جانب سے حملہ ہوا، روسی قوتوں کے نکلنے کے بعد ماسکو اور واشنگٹن نے مجاہدین کے خلاف جنگ کو دوام دینے کا فیصلہ کیا، نجیب حکومت کے سقوط کے دوران روس اور امریکہ نے ایران کی وساطت سے جبل السراج اتحاد بنادیا۔ سوویت اور وارسا ممالک کے جنگی ماہرین نے اس کی سرپرستی کی، جب وہ یعنی’’جبل السراج‘‘ اتحاد ختم ہونے کے مرحلے پر پہنچ گیا تو طالبان کو میدان میں لایا گیا۔ بی بی سی اور وائس آف امریکہ ان کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرتے رہے۔ جس جنگ کا آغاز سوویت یونین کے ہاتھوں ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ ہم نے تو اس طویل مدت میں اپنا دفاع ہی کیا ہے۔ جنگ کے ذمہ دار پہلے کمیونسٹ اور روس تھے، بعد میں ایران، امریکہ اور برطانیہ۔ برطانیہ کے جاسوسی اداروںکا اس جنگ میں بہت بڑا حصہ ہے۔
سوال: طالبان کے خلاف گزشتہ سال موسم گرما میں کچھ مزاحمتی تحریکیںشروع ہوگئی تھیں، حزب اسلامی کا اس میںکیا کردار ہے؟
جواب: ہم ہر اُس تحریک کی حمایت کرتے ہیں جو بیرونی حملہ آور قوتوںکے خلاف ہو، ظلم اور فساد کے خلاف ہو۔ ہم طالبان کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے بلکہ ہر مجاہد طالب کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ ہم سارے مجاہدین کو یگانگت اور وحدت کی دعوت دے رہے ہیں، البتہ ہم ہر بیرونی حملہ آور اور ہر مفسد، ظالم اور غیروںکے غلام کے خلاف ہیں اور قوم کو ان کے خلاف قیام کا حق دیتے ہیں۔
سوال: کیا آپ کے خیال میں 2014ء کے بعد افغانستان میں برطانیہ کوئی رول رکھتا ہے؟ برطانیہ افغانستان میں اپنے مالی نقصانات کس طرح پورے کرنا چاہے گا، ان کی یہ کوشش دوسرے ممالک کے لیے کیا اثر رکھے گی؟
جواب: برطانیہ خود ایک ظالمانہ، بے فائدہ اور بے ہودہ جنگ میں مصروف ہے۔ وہ بھی صرف وائٹ ہائوس کو خوش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس نے جانی اور مالی نقصانات کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا۔ برطانیہ نہ تو 2014ء سے قبل افغانستان میں کوئی رول رکھتاتھا اور نہ اس کے بعد ہی اس کا کوئی رول ہوگا۔ اس ظالمانہ جنگ میں برطانیہ کی شرکت نے لندن کی باقی ماندہ حیثیت کو بھی ختم کردیا ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوںکہ کیوں انگریز قوم نے ایسا کام قبول کیا ہے کہ صرف امریکی جرنیلوں کو خوشحال رکھنے کی خاطر اپنے جوان بچے قتل و مرگ کے لیے بھیج رہے ہیں! برطانیہ کا بدمست شرابی شہزادہ اپنی ولایتی شراب کے ساتھ مظلوم افغانوں کو شکار کرنے کے لیے افغانستان آتا ہے، ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر راکٹوں سے مجاہدین کو شکارکرنا چاہتا ہے، اور اس نفرت انگیز عمل سے ادنیٰ شرم بھی محسوس نہیں کرتا۔ لیکن وہ شاید جانتا نہیں کہ افغانی شیروں اور بازوں کو شکار کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ گیدڑ کبھی شیروں کا شکار نہیں کرسکتے، اور نہ گدھ بازوں کا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود شکار ہوتے ہوتے بچا ہے، مجاہدین کے حملے کے وقت برطانوی شہزادہ اور امریکی فوجی اپنی چھائونی کے اندر پناہ گاہوں اور غاروں کی تلاش میں تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض انگریز ذمہ داران ہنوز اٹھارویں اور انیسویں صدی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اپنی سابقہ کالونیوں میں ان کے سفیر وائسرائے ہوں، ان کے شہزادے انسانوں کے شکار کی غرض سے فوجی یونیفارم پہن کر مقبوضہ علاقوں میں جائیں۔ یہ وہی شیطانی ذہن رکھتے ہیں جو کہ پہلے رکھتے تھے۔ اب بھی ان کی سابقہ کالونیوں میں ایک دوسرے کے خلاف جھگڑوں، نزاع، شوروغوغا، جنگوں اور ان ممالک کی مزید تقسیم میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے، اس کے باوجود برطانیہ اب امریکہ کے ایک وفادار غلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جنگ کے مالی اور جانی نقصان دوسرے لوگ برداشت کریں اور تقسیم غنیمت کے وقت بڑا حصہ اس کا ہو۔ برطانیہ اپنی طویل تاریخ کی روشنی میں فتنے اور فساد پیدا کرنے میں بڑی مہارت رکھنے والا ملک ہے۔ وہ افراد جو اپنے ممالک میں خیانت، جرائم، چوری، رشوت اور فساد میں ملوث ہوتے تھے یا اب ہورہے ہیں، ان کی آخری پناہ گاہ لندن ہوتی ہے۔ وہ اشخاص جو جنگی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور اپنے ملک کی مزید تقسیم کے لیے کمربستہ ہوجاتے ہیں ان کو برطانیہ پناہ دے کر مزید ہلہ شیری دیتا ہے، مگر افغانستان اور عراق کی جنگوں نے دکھلادیا کہ برطانیہ اب خود میدانِ جنگ میں جانے اور نقصانات اٹھانے پر مجبور ہے، اب وہ قوتِ تحمل نہیں رکھتا۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اب عسکری، اخلاقی اور انسانی دائروں میں کمزور ہوگئے ہیں۔ وہ اب دنیا کی قیادت اور رہبری نہیں کرسکتے۔ افغانستان میں ان کی فوجی حالت یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں 450 فوجیوں یعنی 20فیصد برطانوی فوجیوں نے خودکو اپنے ہاتھوں سے زخمی کیا ہے تاکہ جنگ میں نہ جانے کا بہانہ پیدا ہوجائے۔ اگر ان فوجیوں کے ساتھ وہ فوجی جنہوں نے خودکشی کی، اور وہ جو نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں، کی تعداد جمع کریں تو بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ ان پر طاری وحشت کا اس واقعے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی فوجیوں نے دو گاؤں میں داخل ہوکر 17 بے گناہ اور کمزور لوگوں کو ان کے گھروں میں قتل کردیا اور ان کے جسدِ خاکی کو آگ لگا دی۔ ایسے ڈرپوک، بے رحم اور بے ضمیر انسانوں کا گروہ کیسے دنیا پر حکومت کرسکتا ہے!
سوال: اسلام پسند لوگ امریکی اور نیٹو افواج کو واپس جانے سے قبل کس طرح کی ضرب لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
جواب: مجاہدین چاہتے ہیں کہ دشمن واپس جانے سے پہلے اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ لیں جس کے بعد وہ نہ صرف خود آئندہ افغانستان میں آنے کا سوچنا تک چھوڑ دیں بلکہ وہ قوتیں جو اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ کر افغانستان پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنا رہی ہیں ان کے لیے بھی نشانِ عبرت بن جائیں۔
سوال: کیا نیٹو قوتوں پر افغان فوجیوں اور پولیس کے سپاہیوں کے حملے بھی مجاہدین کی حکمت عملی کا حصہ ہیں؟
جواب: یہ کارروائیاں مجاہدین کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہیں اور افغانستان کی سربلند اور آزاد قوم کی طرف سے استعماری طاقتوں سے نفرت کا اظہاربھی۔ اس حساسیت کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور نیٹو افواج ان کا سامنا کرنے سے عاجز ہیں۔
سوال: کیا نیٹو انتظامیہ کی کامیابی کا کوئی امکان موجود ہے؟ اگر ہے توکیسے؟ اور اگر نہیں توآپ کے پاس متبادل کیا ہے؟
جواب: افغانستان میں نیٹو انتظامیہ کی کامیابی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ ان کے لیے واپس جائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اچھا ہوگا کہ وہ اپنے باعزت نکلنے کا راستہ تلاش کریں، مگر یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے کہ افغانوں کی عزت، آزادی اور خودمختاری کا احترام کریں۔ اس صورت میں ہم ان کے نکل جانے میں ان کی مددکریں گے، اور اگر انہوں نے بھی انیسویں صدی میں برطانیہ کی طرح علاقے سے جاتے ہوئے وہی پالیسی دوہرائی یعنی اپنے غلاموں کو حکومتیں سپرد کرگئے، اقوام کوآپس میں تقسیم کیا، اور مستقبل میں لڑائیوں کے لیے راستہ ہموار کیا تو ان کی افواج کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو روسی افواج کے ساتھ ہوچکا ہے۔
سوال: کیاآپ مسائل کے حل کے لیے امریکی سرپرستی میں اتحادی قوتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں؟
جواب: امریکہ افغان بحران کے حل کے لیے کوئی قابلِ عمل منصوبہ نہیں رکھتا، وہ موجودہ حالات کو دوام دینا چاہتا ہے۔
سوال: مشکلات کے حل کے لیے کن لوگوں کو مذاکرات میں حصہ لینا چاہیے؟
جواب: ہم اس کو ترجیح دے رہے ہیں کہ افغانستان کے مستقبل کے متعلق سارے مذاکرات مکمل طور پر بین الافغانی ہوں۔ غیروں کی وساطت اور شرائط کے بغیر ہوں۔ مؤثر افغان دھڑے آپس میں مل بیٹھ کر بحران حل کریں۔
سوال: 2014ء کے بعد افغان قومی افواج کے ساتھ کیا پالیسی اختیار کریں گے؟
جواب: موجودہ فوج قومی فوج نہیں ہے، یہ بیگانوں کی تربیت یافتہ ہے۔ شمالی اتحاد کے ملیشیائوں کو یونیفارم پہنادیا گیا ہے، یہ فوج اس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے کہ اسے حریت پسند افغانوں کے خلاف لڑایا جاسکے۔ ہم نے اپنی تجویز میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ افغان فوج میں لازماً ایسی تبدیلی لائی جائے جس سے وہ واقعی قومی فوج بن جائے۔ اگر یہ شرط قبول ہوجائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ فوج کچھ عرصہ باقی رہے اور آہستہ آہستہ اپنی جگہ ایسی فوج تشکیل دے جس میں کرائے کے سپاہی نہ ہوں۔ ہر افغان نوجوان کم از کم ایک سال فوجی خدمات میں حصہ لے۔ قابض امریکی افواج نے انہی گروہوں کو افغانستان پر مسلط کیا ہے جو کہ کمیونسٹ تھے، یا جو ایران کے ساتھ وابستگی رکھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے افغانستان کو بھی عراق کی طرح ایران کے حوالے کردیا ہے، حکومت کے تمام حساس اور اہم مناصب اور صلاحیتیں، پولیس اور سیکورٹی فورس سب شمالی اتحاد کے اختیار میں ہیں۔
سوال: 2014ء کے بعد پاکستان کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں؟ کیا پاکستا نی بھائی ایک متحدہ پاکستان کو باقی رکھنے کی راہیں تلاش کرپائیں گے؟
جواب: اب امریکہ اور برطانیہ پاکستان میں بھی وہی حالات لانا چاہتے ہیں جوکہ عراق اور افغانستان میں لائے ہیں۔ پاکستانی واقعات میں دونوں متذکرہ ممالک کے جاسوسی ادارے یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے خلاف لڑا دیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے، جیسا کہ وہ دوسرے کئی اسلامی ممالک کے مزید ٹکڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکی و برطانوی ایجنسیاں افغانستان اور پاکستان میں بھی اپنے ایجنٹ اور روسیاہ غلامی پسند چہروں کے ذریعے ملک کو توڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر وہ خطے میں رہے تو پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہیںگے، البتہ اگر وہ نکل جائیں تو ان کے خطرناک منصوبے بھی خاک میں مل سکتے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان ابھی ٹوٹنے کے مرحلے سے محفوظ ہے، الحمدللہ!
سوال: کیاآپ تحریک طالبان پاکستان کے ان اقدامات کی تائید کرتے ہیں جن کے نتیجے میں اسکولوں میں تخریب کاری، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اور پاکستانی اداروں پر حملے کرنا شامل ہیں؟
جواب: تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی رابطہ نہیں۔ اسکولوں اور دوسرے مفادِ عامہ کے اداروں کو تباہ کرنے پر ہم پاکستان ہی میں نہیں، افغانستان اور کسی بھی تیسرے ملک میں اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ میرے خیال میں حقیقی مجاہدین ایسے غلط کام نہیں کرسکتے۔ میری معلومات کے مطابق پاکستان اور افغانستان میںاسکولوں اور بازاروں میں دھماکے، مساجد و زیارت گاہوں اور شادی بیاہ وغیرہ جیسی تقریبات پر بیرونی جاسوسی ادارے دھماکے کررہے ہیں۔
سوال: کیا حزب اسلامی افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کرتی ہے؟
جواب: جی ہاں! ہم لڑکیوں کے حصول ِتعلیم کو ہر پہلو سے لڑکوں کے حصول تعلیم کی طرح اہم اور ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اس بارے میں کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھتے۔ البتہ ہم مخلوط تعلیم کے حق میں نہیں ہیں بلکہ ہر طرح سے اسے مضر سمجھتے ہیں۔
سوال: اوباما پھر صدر بن گئے، کیا وہ افغانستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ کیا آپ افغانستان کے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟
جواب: اوباما نے پہلی مرتبہ منتخب ہونے سے پہلے ’’تبدیلی‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ مگر یہ تبدیلی درحقیقت چھوٹی برائی سے بڑی برائی کی جانب تھی۔ امریکہ نے جنگ کو مزید شدید کیا ہے اور اپنے فوجیوں کی تعداد اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان اقدامات کے لیے اُن کے پاس نہ فوجی نقطہ نظر سے کوئی توجیہ ہے، نہ کوئی اخلاقی و انسانی جواز۔ کیا رہائشی علاقوں کو نشانہ بناکر گھروں میں سوئے ہوئے بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کو قتل کرنا شریف انسانوں کا کام ہے؟ اوباما اب بھی انہی جنگ طلب جرنیلوں کی باتوں کو دوہرا رہے ہیں،کیوں کہ جنگ کو طول دینے سے ان کے بہت سے ذاتی مفاد وابستہ ہیں۔ اگر نیٹو میں شامل دوسرے ممالک کی طرف سے 2014ء تک افغانستان سے نکل جانے کے لیے دباؤ نہ ہوتا تو امریکی جرنیل صدر اوباما کو ہرگز اجازت نہ دیتے کہ اپنی افواج کے انخلاء کی بات کریں۔ وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ 2014ء کے بعد افغانستان کے قبضہ کو طول دے دیں اوراپنی فوج کی نامعلوم تعداد کو غیر معینہ مدت تک افغانستان میں رہنے دیں۔ وہ چاہتے ہیںکہ پہلے کی طرح وہ افغانستان میں جرائم کے ارتکاب کا حق محفوظ رکھیں، وہ افغانستان کے قوانین کے تابع اور پابند نہ ہوں، حتیٰ کہ کابل میں غلام حکومت اُن سے اُن کے جرائم کے بارے میں بازپرس بھی نہ کرے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *