اپنی شہید بیٹی کے نام

(اسماء البلتاجی جنہیں رابعہ العدویہ میں فوجی کارروائی کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا، ان کی عمر محض 17 سال تھی۔ وہ اپنے والد اور اخوان المسلمون کے سینئر لیڈر ڈاکٹر محمد البلتاجی کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر مصر میں فوجی بغاوت کی مخالفت کررہی تھیں۔)
میری عزیز ازجاں بیٹی اور باوقار ٹیچر اسماء البلتاجی!
میں آپ کو الوداع نہیں کہتا۔ میں کہتا ہوں کہ ہم دوبارہ ملیں گے۔ آپ نے ظلم اور بیڑیوں کے خلاف اور آزادی کی محبت لئے ہوئے اپنی زندگی ایسی گذاری کہ آپ کا سر بلند تھا۔ آپ نے اس ملک کی تعمیر نو کے لئے افق کے خاموش متلاشی کے طور پر زندگی گزاری تاکہ یہ ملک تہذیبوں میں اپنا مقام حاصل کرسکے۔ آپ نے خود کو ایسی باتوں میں مصروف نہیں رکھا جن باتوں میں آپ کی عمر کے بچے خود کو مصروف رکھتے ہیں۔گرچہ روایتی تعلیم آپ کی خواہشوں اور دلچسپی کو مکمل کرنے میں ناکام رہی لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنی کلاس میں ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جب آخری بارہم دونوں ایک ساتھ رابعہ العدویہ میں بیٹھے تھے تو آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگرچہ آپ ہمارے ساتھ ہیں اس کے باوجود مصروف ہیں اور میں نےآپ سے کہا تھا کہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ زندگی ایک دوسرے کی صحبت میں گزارنے کے لئے کافی نہیں ہے، اس لئے میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع عطا فرمائے۔ جب آپ کو شہید کیا گیا اس سے دورات قبل آپ کو میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ سفید عروسی جوڑے میں ملبوس ہیں اور آپ اس میں انتہائی خوبصورت نظر آرہی ہیں۔ جب آپ میرے قریب لیٹیں تو میں نے آپ سے پوچھا کیا یہ آپ کی شادی کی رات ہے؟ اور آپ نے جواب دیا کہ یہ دوپہر ہے شام نہیں ہے۔ جب ان لوگوں نے بتایا کہ آپ کو بدھ کے روز دوپہر کے بعد قتل کیا گیا تو میں سمجھ گیا کہ آپ کے کہنے کا مطلب کیا تھا اور مجھے یہ بھی سمجھ میں آگیا کہ خدا نے آپ کی روح کو شہید کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ آپ نے میرے یقین کو تقویت پہونچائی کہ ہم سچائی کے راستہ پر ہیںاور ہمارے دشمن جھوٹ کی راہ پر ہیں۔ یہ بات میرے لئے انتہائی اذیت ناک ہے کہ میں آپ کے آخری سفر میں موجود نہیں تھا اور میں آپ کا آخری بار دیدار نہیں کر سکا اور نہ ہی آپ کی پیشانی کو بوسہ دے سکا اور نہ ہی آپ کی نمازِ جنازہ کو پڑھانے کی سعادت حاصل کرسکا۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جانِ پدر! میں اپنی زندگی سے یا ناانصافی کی قید سے خوف زدہ نہیں تھا لیکن میں اس پیغام کو عام کرنا چاہتا تھا کہ آپ نے انقلاب کو

اور اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کےلئے جام شہادت نوش فرمایا ہے۔ آپ کی روح آپ کے سر کےساتھ ظالموں کی مزاحمت کرتے ہوئے بلند ہوگئی ہے۔ دھوکہ بازوں کی گولیوں نے آپ کے سینے کو نشانہ بنایا۔ آپ کیا ہی پُر عزم تھیں اور آپ کی روح کتنی پاکیزہ تھی۔مجھے اس بات کا بھروسہ ہے کہ آپ خدا کے نزدیک ایماندار تھیں اور اس نے آپ کو ہم لوگوں میں شامل فرمایا تاکہ آپ کو شہادت کا اعزاز بخشے۔
المختصر، میری عزیز جاں بیٹی اور باوقار ٹیچر! میں آپ کو الوداع نہیں کہتا۔ میں کہتا ہوں خدا حافظ، ہم جلد ہی جنت میں اپنے پیارے نبیؐ اور ان کے صحابہ کرام کے ساتھ ملیں گے جہاں ہماری ایک دوسرے اور اپنے عزیزوں کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش پوری ہو جائے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *