تن ہمہ داغ داغ شُد

دور نہ جائیں صرف ماضی قریب کے سو سال تک ہی نظر کو محدود رکھیں تو بھی یہ جاننے اور سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے کہ دُنیا کی بہت سی قوموں اور ملکوں کے ما بین اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی ایک قدرِ مشترک بنی ہوئی ہے۔ اس کی ایک مثال غاصب صیہونی ریاست اسرائیل اور ہندوستان کی سرکاری سطح پر بڑھتی ہوئی دوستی میں پائی جاتی ہے۔ ہندوستان کے معاشی مفادات اور سیاسی اور تہذیبی تعلقات عرب ممالک اور مسلم دنیا سے وابستہ ہیں اور یہ بات کہ ہندوستان کی جنگِ آزادی کی قیادت کرنے والوں نے کھل کر اسرائیل کے قیام کی مخالفت میں آواز بلند کی تھی، ایک جانی مانی حقیقت ہے۔ صیہونیت اور ہندوستانی سیاست میں کوئی قدرمشترک نہیں ہے۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود آخر وہ کیا وجہ ہے جس نے ہندوستان کو اسرائیلی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار بنا دیا ہے، اور پہلے درپردہ اور اب علی الاعلان دونوں ملکوں کے تعلقات روز افزوں ہے۔یہاں کے متعددلیڈرصیہونی ریاست کے دورے کرتے رہتے ہیںجسے آج بھی مسلم دنیا فی الجملہ تسلیم نہیںکرتی۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے خلاف جہاں جہاں جارحانہ اقدامات ہوتے ہیں ، ان کے جان و مال کے اتلاف پر امریکہ اور یوروپ ہی نہیں ، برما ، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ہندوستان اور چین و جاپان جیسے ممالک کی حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں ایک خاص جانبدارانہ رویہ اختیار کیے رہتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، بہت سی ایجنسیاں اُلٹا مسلمانوں کوہی موردِ الزام ٹھہرانے سے بھی باز نہیں رہتیں۔ دنیا بھر میں آزادی کے لئے جو تحریکات چلتی ہیں ان کے بارے میں بھی مسلم ممالک کی تحریکاتِ آزادی کے ساتھ امتیازی سلوک عام ہے۔ سوڈان کی تقسیم اور مشرقی تیمور کی انڈونیشیا سے علیحدہ ریاست کے قیام میں بین الاقوامی برادری کا رویہ دوہرے معیار پر مبنی رہا ہے۔ یہ فلپائن کے مورو موومنٹ اور کشمیر و فلسطین پر اپنائے گئے رویے کے برعکس ہے۔او آئی سی O.I.Cجیسے غیر مؤثر ادارے کے علاوہ ابھی تک مسلمانوں کی کوئی سیاسی مرکزیت بھی موجود نہیں ہےجو گلوبلائزیشن اور نیو ورلڈ آرڈر کے متبادل کے طورپر ابھر رہی ہو۔اس کے باوجود دنیا بھر میں مسلم فنڈامنٹلزم (بنیادپرستی) اور اسلامی دہشت گردی جیسی اصطلاحات کا سہارا لے کرمسلم دنیا کو مشترک خطرہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ مسلم ممالک میں سیاسی عدمِ استحکام پیدا کرنے کے لئےنت نئے ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہیں۔ اور مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پھیلانےکے لئے نئی نئی سازشیں رو بہ عمل لائی جاتی رہتی ہیں حتی کہ ان کے فروعی اور مسلکی اختلافات کو غلط رُخ دینے کی بھی منصوبہ بند کوششیں کی جاتی رہتی ہیںتاکہ ان کے باہمی اختلافات کو اس قدر بڑھا دیا جائے کہ ان کا ملی وجود ہی گم ہوکررہ جائے۔ عراق کی بربادی، ایران پر پابندیوں کا جال، افغانستان کی تباہ کاری، شام کی خانہ جنگی، پاکستان کا خلفشار، تیونس کی شکست و ریخت “”۔۔۔کون سی مصیبت ہے جس کے لئے عالمی استعمار (ـامریکہ، فرانس، برطانیہ وغیرہ) کو بے تعلق وبے قصور ثابت کیا جاسکتا ہو۔ افغانستان سے ذلیل ہوکر لوٹنے کے بعد بھی استعماری ارادے تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ اب مصر کو نئی شکار گاہ کے طورپر استعمال کیا جارہا ہےتاکہ مسلم ممالک بالخصوص مشرقِ وسطی کو خانہ جنگی یا تیسری عالمی جنگ کے میدان میں تبدیل کیا جاسکےاور تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی تباہی کا خمیازہ سب سے زیادہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑےجس کے تصور سے بھی انسانی ذہن لرز اٹھتا ہے۔
…………………………………………………………………………………….
آج مسلمان ملت کا حال اس ارشاد نبوی کا مصداق نظر آتا ہے جس میں مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ایک زمانہ آنے والا ہے جب دنیا کی دوسری قومیں مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح بھوکے لوگ دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔عرض کیا گیا، کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی؟ جواباً ارشاد ہوا کہ نہیں، مسلمان اس وقت تعداد میں زیادہ ہوں گے مگر ان کا حال(بے وقعتی میں) پانی پر جھاگ اور میل کچیل کی طرح ہوگا۔ عر ض کیا گیا، پھر اس بدحالی کی وجہ کیا ہوگی؟ فرمایا: تمہارے اندر وہن کی بیماری پیدا ہوجائے گی۔ عرض کیا گیا، وہن کیا ہوتا ہے؟ ارشاد ہوا: حب الدنیا و کراہیۃ الموت یعنی تم پر دنیا پرستی اور موت کا خوف طاری ہوجائے گا۔
اگرچہ آج بھی جذبۂ ایمانی سے سرشار بعض لوگ اسلاف کے شاندار کارناموں کی عملی مثالیں پیش کررہے ہیں، مگر مسلمانوں کی مجموعی حالت وہی ہے جس سے حدیثِ مذکورہ بالا میں باخبر کردیا گیا تھا۔ اس خبر کے بعد بھی آج کا مسلمان کس درجہ دنیا پرست اورآخرت فراموش ہو گیا ہے اور کہاں تک ملحدین کی مانند اس پر موت کا خوف چھا گیا ہےاس کے تفصیلی انکشاف کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کفار ومشرکین کی پسند اور مسلمانوں کی پسند ، معیارِ زندگی اور طرزِ معاشرت میں اگر کوئی فرق رہ گیا ہے تو وہ برائے نام اتنا ہی ہے جیسے Eat, drink and be marryاور’’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ میں ہے۔ اب مسلمانوں میں دین دار اور دنیا دار کی تقسیم عام ہے۔ اور اغیار بھی انہیں بنیادپرست اور روایتی، ماڈرن اور سیکولرکے علیحدہ علیحدہ خانوں میں تقسیم کرکے ان سے معاملہ کررہے ہیں۔ مردم شماری کے حساب سے دنیا کا ہر چوتھا یا پانچواں آدمی مسلمان ہے۔ مگر ان کی قدروقیمت سب پر عیاںہے۔ سب سے برا حال ان مسلم حکمرانوں کا ہے جو اپنے مفاد اور اقتدار کے لئے کسی بھی حد سےگذر سکتے ہیں۔ یعنی جن میں سب سے بڑھ کر حمیت و غیرت درکار ہے، وہی سب سے زیادہ بے غیرتی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔
…………………………………………………………………………………….
آج جو کچھ بھی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ حددرجہ تشویشناک اور پریشان کن ہے مگر اس میں تعجب کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ تعجب تو اس وقت ہوتا جب شرک و کفر اسلام سے بغل گیر ہوتے؛ جب ظلم و عدوان کے پیکر عدل و انصاف پر راضی ہو جاتے؛ جب فحاشی اور منکرات کے علم بردار دین و شریعت کی راہ نہ روکتے۔ یعنی جب نورِ خداوندی کے اتمام اور توحید و رسالت کےپیغام سے وقت کے فرعونوں اور نمرودوں کی کوئی کش مکش نہ ہوتی۔
ہاں! تعجب اور افسوس بلکہ ماتم اس پر ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کے حکمراں ایسے لوگ بھی ہیں جو زیرِ سایۂ کفر راحت و آرام کی زندگی گذار رہے ہیںاور اس کے انجام سے غافل ہیں۔ جب خادمِ حرمین کہلانے والے مسجدِ اقصی کو منہدم کرنے والوں کے ساتھ عرب اسرائیل جامع معاہدہ کی پیش کش کررہے ہیں؛ جب اتحاد بین المسلمین اور اسلامی انقلاب کے نام لیوا مسلکی تعصب کی دیواریں بلند کررہے ہیں؛ جب طبقۂ علماء میں ایسے لوگ بھی مقتدر ہیں جو دین کو پسِ پُشت ڈال کر حنفی اور سلفی کی پوشاک میں مسلمانوں کو پھانس رہے ہیں؛ جب مسجدوں کو تفریق و تقسیم کی علامت بنانے والے دینی قیادت کے مدعی بنے ہوئے ہیں، حالانکہ اخوت ایمانی کی قدروقیمت سے انہیں کو آگاہی ہونی چاہیے۔ کیا وہ نہیں جانتےکہ جب دین کمزور ہوگا ، مسالک کہاں رہیںگے؟ جب ملت کا وجود تحلیل ہونے لگے گاتو دینی اداروں اور تنظیموں کو طاقت کہاں سے میسر آئے گی؟ جب مسلمانوں پر ملحدانہ افکار کے حامل حکومت کریں گے اور باطل کے خدمت گار ملکوں کے مناصب اعلیٰ پر فائز ہوں گے تو یکے بعد دیگرے سب کواس برے انجام سے دوچار ہونا پڑےگا جس سے آج متعدد مسلم ملکوں کو واسطہ پڑ رہا ہے۔ آج مصر میں کیا ہورہا ہے؟ ایران میں اصلاح پسندی کے نام سے کس کے عروج کے خواب دیکھے جارہے ہیں؟ سعودی ملوکیت کے قدم کس جانب بڑھ رہے ہیں؟جہاں کہیں دینی قیادت اور اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے سازگاری میسر آتی ہے اس کے خلاف اصلاح و اعتدال کے نام پر کون حزب الشیطان کا کردار ادا کرنے کے لئے آگے آ رہا ہےاور کون انسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر ان کی سرپرستی کررہا ہے؟؟! ان سب باتوں سے بے خبری اور برے نتائج سے بے پرواہی یوروپ کی تشکیل کردہ مٹھی بھر ’’عالمی برادری‘‘ کی تقلید اور امریکہ کی باطل خدائی سے مرعوبیت یہ وہ منکرات ہیں جن سے اگر امت مسلمہ ، خاص طور سے ان کی دینی و سیاسی قیادت خود کو محفوظ نہ رکھ سکی تو مستقبل تاریک سے تاریک تر ہو کر رہ جائے گا۔العیاذ باللہ
…………………………………………………………………………………….
ہمیںمعلوم ہے کہ آج بھی ملت اسلامیہ میں مخلصین بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہی وہ بیش قیمت سرمایہ ہے جس سے اسباب کے درجہ میں تقدیرِ ملت کی صورت گری کی توقعات وابستہ ہیں۔ایسے سب لوگوں سے ہم ملتجی ہیں کہ وہ اپنے اپنے حلقۂ اثر اور دائرۂ عمل میں آواز بلند کریں اور ایسی کوششیں انجام دیں جن سے مسلمانوں کا رشتۂ اخوت مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے۔ فقہی و فروعی اختلافات کے بارے میں یہ واضح رہے کہ ان کے ہوتے ہوئے بھی اہلِ ایمان کی یکجہتی اورہم آہنگی فروغ پا سکتی ہےبشرطیکہ انہیں ضرورت سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ علمی و تعبیری نوعیت کے اختلافات بجائے خود ایسے نہیں ہیں کہ ان سے اتحاد بین المسلمین کی راہ بند ہو جائے۔ یہ تو اسی وقت ہوتا ہے جب ان کو بہانہ بناکربناءِ اتحاد کو فراموش کردیا جاتا ہے اور اس حقیقت سے آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں کہ ؎
منفعت ایک ہے اِس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
…………………………………………………………………………………….
یہ اس وقت ہوتا ہے جب اپنی رائے اور ترجیحات کو بلا دلیل زبردستی منوانے کی بے جا ضد کی جاتی ہے اور جب عوام کو اپنے وقار اور مفاد کے لئے گمراہ کرنے والے لوگ سرکشی پر اُتر آتے ہیں۔ قرآن کریم نے واضح انداز میں اہلِ کتاب کی مثال دیتے ہوئے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے:
وَ مَا اختَلَفَ الذِینَ اُوتُوا الکِتَابَ اِلا مِن بَعدِ مَا جَاءَھُمُ العِلمُ بَغیاً بَینَھُم (آل عمران: آیت-19)
ترجمہ:(اس دین سے ہٹ کر) جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اس طرزِ عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے ایسا کیا۔
اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کا احتساب کیا جائےجو دعوےداری تو دین کی ترجمانی کی کرتے ہیں مگر ذاتی و گروہی مفادات ہی ان کا مطمح نظر ہوتا ہے۔اور اسی کے لئے یہ لوگ عامۃ المسلمین کو اپنا مطیع و فرماں بردار بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی خاص علامت یہ بھی ہے کہ وہ خدا کے بندے نہ ہوکر دولت کے بندے ہوتے ہیں۔ دربارِ نبویؐ سے ایسے لوگوں پر عبد الدنیا اور عبدالدینار کہہ کر لعنت بھیجی گئی ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ کام پورے اخلاص نیت کے ساتھ حدود و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے انجام دیا جائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *