خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے۔۔۔

جب ترکی میں خلافت کا خاتمہ کردیا گیا تو پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بن گیا۔ دیگر مسلم ممالک کے مقابلہ ہندوستان میں اس کا زیادہ اثر رہا اور محمد علی و شوکت علی کے ساتھ مل کر گاندھی جی نے خلافت موومنٹ کے نام سے ایک پر زور تحریک چلا کر انگریزوں کے خلاف ایک زبردست ماحول تیار کیا۔ ہر طرف جلسے، جلوس، احتجاج، قرار دادیں اور سپاس نامے جاری کیے گئے۔ جس کے نتیجہ میں مسلمان تو مسلمان ہندو اور عیسائی تک خلافت موومنٹ کا حصہ بن گئے۔ اس موقعہ پر ملت اسلامیہ کی تین شخصیتوں نے اس پوری تحریک سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھا بلکہ اس کو مسلمانوں کے لیےغیر مفید بھی بتایا۔ قائد اعظم محمد علی جناح اس وقت لندن جاکر فروکش ہوگئے اور اس تحریک کو ایک نری جذباتی تحریک بتایا۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے موقعہ کا فائدہ اٹھا کر اغیار کے ذریعہ مسلمانوں کا سب کچھ چھین لینے کی سازش قرار دیا اور مفکر اسلام علامہ اقبالؒ نے اس پر یہ مشہور قطعہ کہا۔
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی
خرید یں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے
مسلماں کو ننگ ہے و ہ پادشاہی
اس قطعہ میں علامہ اقبالؒ نے تاریخ کے حوالہ سے انقلاب کی فطرت کو اجاگر کردیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ محض انتقال اقتدار بھی اکثر غیر خونی نہیں رہا اور انقلاب تو ہمیشہ سے خاک و خون کے دریا پار کرکے ہی آیا۔ انقلاب کا مطلب محض انتقال اقتدار نہیں بلکہ ایک نظام کو ہٹا کر دوسرے نظام کو قائم کرنا ہے۔ انگریزوں نے اسلامی نظام کی علامت خلافت کو ختم کرکے اس کے لیے مہلک نظریہ یعنی قوم پرستی کو فروغ دیا تھا۔ ان قوم پرستانہ نظریات کے بانیوں سے قرار دادوں کے ذریعہ بحالی ِ خلافت کا مطالبہ کرنا گویا کار عبث ہے۔ بلکہ الٹا نقصان دہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ایک دوسری جگہ قوم پرستی Nationalism کو مذہب کے کفن سے تعبیر کیا ہے۔
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
گویا علامہ اقبالؒ کے نزدیک جب ٹکراؤ دو مختلف و متضاد نظریات کے درمیان ہو تو ایسے میں کسی غیر خونی انقلاب کا تصور محال ہے۔ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ انقلاب غیر خونی ہو ہی نہیں سکتا۔ پہلے سے موجود نظام جو سیاسی، معاشی، سماجی، فوجی غرض ہر طرح کا تسلط رکھتاہے اور اپنے استحصالی نظام کے لیے تمام اداروں کا بہر طور استعمال کرسکتا ہے وہ اپنے مد مقابل کسی دوسرے نظام کو کیسے برداشت کرسکتا ہے۔
لیکن انقلاب کے اس غیر خونی تصور کو صرف علامہ اقبالؒ سے وابستہ کرنا صحیح نہیں۔ بلکہ اصلاً یہ وہ فکر ہے جو انسانی تاریخ کے غائر مطالعہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خود انبیاء علیہ السلام کی تاریخ اور طواغیت وقت سے ان کا ٹکراؤ اس تصور انقلاب پر گواہ ہے۔ ورقہ بن نوفل (حضرت خدیجہؓ کے عم زاد عیسائی راہب) نے حضوؐر کے پاس ناموس اکبر (حضرت جبریل ؑ) کی آمد کی خبر سن کر کہا تھا کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قوم شہر بدر کردے گی۔ یہ خبر بھی تاریخ کے حوالوں سے ہی دی گئی تھی۔
مصر میں آنے والا انقلاب بھلا اس سے مستثنیٰ کیسے ہوسکتا تھا؟ ایک طرف خود غرض، خدا بیزار، استحصالی، صیہونی اور اسلام دشمن طبقہ تھا جس نے نو آبادیاتی دور کی باقیات کی حیثیت سے پچھلی چھ دہائیوں میں مصر میں لوٹ کھسوٹ مچا رکھی تھی اور دوسری طرف اسلام پسندوں کا وہ طبقہ تھا جن کا اولین مقصد عدل و قسط کا قیام، معاشی برابری، علم کی پزیرائی، مردو زن کے حقوق کا تحفظ اور ناپاک اسرائیل کی بیخ کنی تھا۔
جس طرح اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دشمن کیسے آیا ہے؟ گھوڑے پر سوار، ہوائی جہاز پر یا پیادہ، اسی طرح اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انقلاب کیسے آیا؟ جمہوری طریقہ سے یا غیر جمہوری طریقہ سے؛ عوام کی تائید سے یا مسلح جدو جہد سے۔ انقلاب اگر صحیح معنیٰ میں انقلاب ہے تو اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جائے تو اس کی انقلابیت ہی مشکوک ہوجائے گی جیسا کہ بعض اسلامی جمہوریاؤں کے بارے میں ہماری رائے ہے۔
اخوان المسلمون کا تازہ تازہ گرم گرم لہو نہ صرف انقلاب کی تصدیق کر رہا ہے بلکہ اس کو سیراب بھی کررہا ہے۔ خونی و غیر خونی انقلاب کے بے نتیجہ مباحثہ میں پڑنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اخوان نے حالات سے سمجھوتہ کرکے ایک غیر خونی انقلاب کا راستہ پسند کیا تھا، جو اب خونی ہوگیا۔ مگر ان کا یہ تجزیہ غلط ہے۔ غیر خونی انقلاب کے چاہنے والے کرسی صدارت سے جیل جانے کے بجائے جوڑ توڑ کی سیاست شروع کردیتے۔ ان کی بیویاں حق کی بحالی کے بجائے رہائی کے مطالبے کے گرد گھومتیں۔ ان کے لیڈروں کے بچے شہید ہونے کے بجائے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوجاتے۔ جہاد ہمارا راستہ اور شہادت ہماری آرزو کا نعرہ تودور کی بات ہے اس کا کوئی تصور بھی نہ ہوتا۔
انقلاب کی ابتداء سے لے کر اب تک کا تجزیہ یہ بات واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ اخوان المسلمون نے اسے غیر خونی انقلاب ہرگز نہیں سمجھا تھا۔ سارے مراحل بہت منصوبہ بندی اور دوربینی سے طے کیے گئے تھے۔ پہلے خود منظر نامہ پر نہ آکر پس پردہ مگر فعال طریقے سے نظام کہنہ(پرانا نظام) کو اکھاڑ پھینکنے کی عوامی تحریک چلائی۔ بعد ازاں جب کھل کر سامنے آئے تو بھی ہر مسئلہ کے لیے متبادل راستہ لے کر آئے۔ کسی بھی مرحلہ پر یہ محسوس نہیں ہوا کہ اخوان نے شاید اس کے بارے میں سوچا بھی نہ ہو۔
صدر مرسی نے اقتدار سے جیل کی منتقلی جس سہولت سے برداشت کی اسی سہولت سےخیرات الشاطر نے مغربی مذاکرہ کاروں کی سازشوں کو ناکام کیا۔ محمد بدیع منصوبہ کے تحت روپوش رہے تو محمد بدیع کے بیٹے نے منظر عا پر آکر جام شہادت نوش کیا۔محمد البلتاجی کو جیل میں ڈال دیا گیا تو ان کے پیچھے ان کی 17 سالہ بیٹی نے سینے پر گولی کھا کر حق کے غلبہ کے لئے جام شہادت نوش کیا۔ مرسی کی بیوی زیورات سمیٹ کر بھاگنے کے بجائے عام اخوانیوں کے درمیان کھڑی ان کو حوصلہ دیتی نظر آئیں۔ بیلٹ (ووٹ) کے جواب میں بلیٹ (گولی) اس قدر یقینی تھی کہ مظاہرین نے اپنے کیمپوں کے ساتھ عارضی اسپتال بھی بنا لیے۔ اور چونکہ شہادتوں کے سفر میں عام کارکنان کے ساتھ قیادت بھی شامل تھی، مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی تھیں، بوڑھے بھی تھے اور نئی نسل بھی تو ایسے میں وہی سماں پیدا ہوگیا کہ ؎
مرگ انبوہ جشنے دارد
اگر یہ سب کچھ غیر متوقع ہوتا تو اب تک تحریک کی کمر ٹوٹ جاتی۔ لیکن اخوان ایک تنظیم نہیں ایک تحریک ہے۔ شام میں بھی اخوان ہیں۔ یمن میں بھی اخوان ہیں۔ حماس خود اخوان ہیں۔ اسی لیے تو سعودی عرب کا نجدی خاندان بالکل ننگا ہوکر، شریعت و قانون کو بالائے طاق رکھ کر ظالموں کی صف میں کھڑا ہوگیا ہے۔ اسی لئے ایران بھی اپنا چولا بدلنے پر مجبور ہوگیا۔ مصر میں اخوان کی پائیداری شیعی و سنی بنیادوں پر قائم کھوکھلے دینی ایوانوں کو منہدم جو کردیتی۔ا خوان نے مصر میں انقلاب کا الگ انداز اختیار کیا ہے تو شام میں الگ۔ یمن میں دوسری جہت ہے تو فلسطین میں کچھ اور۔ اور ہر جگہ اخوان خون جگر سے اسلام کی آبیاری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ شیخ احمد یٰسٓ، عبد العزیز رنتیسی، محمد بدیع کے صاحب زادے ، اسماء البلتاجی اور دیگر شہداء اپنے قائد حسن البناء کے نقش قدم پر ہیں۔ خون کی ہر بوند نہ صرف نئی جان پھونک رہی ہے بلکہ پہلے سے موجود قوت کو دوبالا کر رہی ہے۔ علامہ اقبال کی یہ نوید سچ ہوتی محسوس ہورہی ہے۔
رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *