سمرتھ کا نہیں دوش گوشائیں ) طاقتورکا جرم، جُرم نہیں ہوتا)

(پوری ملی قیادت جب بیک زبان ہو کر یہ نعرہ لگا رہی تھی کہ ہم بابری مسجد کےمعا ملہ میں عدالت کا فیصلہ قبول کرلیں گےاس وقت صرف چند نوجوان تھے جنہوں نے کھل کر اس وقت تک کی عدالتی کارروائی کی روشنی میں عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ وہ تو بےچار ےدرجہ شہادت کو پہونچ گئے لیکن۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ ء کو الہ آباد ہائی کورٹ نے قانون کی دھجیاں اڑاکر جس طرح بند ر بانٹ کی وہ شنیع حرکت بھی رہنمایانِ قوم کےعدالتی اعتماد کو ہلا نہ سکی۔ بد عملی کی حد تک بے عملی کا رجحان جس کی تہہ میں یہ جذبہ کارفرما رہا ہے کہ ہمارے مسائل بھی ہمارے آ قا ہی حل کریں، یہ ایک شکست خوردہ ذہنیت کا غماز ہی نہیں بلکہ نری خود کشی ہے۔ ذ یل میں ہم الیاس اعظمی سابق ممبر پارلیامینٹ کا اس موقعہ پر لکھا ہوا ایک مضمون دوبارہ شائع کررہے ہیں اس امید پر کہ نئی نسل جو معلومات کی کمی کے باعث مکر و فریب کا شکار بن رہی ہے ان پر بھی اتمام حجت ہوجائے۔)
یوں تو نہرو اور ان کا پریوار چورانوے سال سے انسانیت کو شکست دیتا چلا آرہا ہے، اب ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ ء کو ایک بار پھر قانون کی حکمرانی کا تصور نہرو کی آتما سے شکست کھا گیا۔ ۱۰۔ جن پتھ سے لے کر آئی بی ہیڈ کوارٹر تک، دگوجے سنگھ سے لے کر جناردن دویدی تک اور لکھنؤ سے لے کر دہلی تک کانگریسیوں کی دس روزہ اچھل کود کے نتیجے میں قانون اور انصاف کی دیوی کو طاقت اور حکومت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونا ہی پڑا۔ اور چوری و سینہ زوری کو قانون کا درجہ حاصل ہوہی گیا۔ سونیا نے دگ وجے سنگھ کے چہرے سے بھی نقاب پلٹوا دی۔ خواہ کانگریس دولت کے بل پر سارے ہی مدنیوں، برنیوں، علویوں، نقویوں، فاروقیوں، فرنگیوں کو میدان میں اتار دے لیکن اس سچائی کو تو سبھی کو ماننا ہی پڑے گا کہ ۶؍ دسمبر کے مقابلے ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء کا دن زیادہ سیاہ اور تاریک دن تھا۔
۶؍ دسمبر ۱۹۹۲؁ء کو انسانیت کی عصمت دری، اس کی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے باوجود عدلیہ پر اعتماد کی ایک شمع روشن تھی لیکن مظلوم انسانیت کی اس آخری امید کو بھی ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء کو شام چار بجے بابری مسجد کی طرح ڈھا دیا گیا اور اس بار بھی اسے کانگریس نے ہی منہدم کروایا۔
اب جو سوچتا ہے کہ اس ملک میں طاقت ور کے مقابلے میں کمزور کو انصاف مل سکتا ہے، اس کی جگہ صرف پاگل خانے میں ہی ہوسکتی ہے۔
برہمن ازم کے مفاد میں مسلمانان ہند پرموتی لال نہرو کا پہلا حملہ ۱۹۱۶ء؁ میں نہرو رپورٹ کے ذریعہ کیا گیا تھا جس کے ذریعہ موتی لال نہرو نے مسلمانوں کی اکثریت کے صوبوں میں بھی ان کی حکومتیں نہ بن پانے کا پختہ انتظام کردیا تھا۔
۱۹۲۰ء؁ میں محمد علی نے جواہر لال نہرو کو کانگریس کا جنرل سکریٹری بنا کر انھیں اتنا مضبوط کردیا کہ وہ اپنے مضبوط ہاتھوں سے مسلمانان ہند کا گلا گھونٹتے رہیں۔
جواہر لال نہرو نے سیکولرازم، سوشلزم اور جمہوریت کے گلا پھاڑ نعروں کے درمیان ہمیشہ ہی مسلمانوں کو اپنا ٹارگیٹ بنا کر رکھا۔ مسلمانوں کے خلاف نہرو کی یہ جنگ کسی فرقہ پرستی یا نفرت کی بنا پر نہیں تھی ان کا ٹارگیٹ اپنے خاندان کی قیادت میں برہمنوں کو زندگی کے ہر شعبے میں حاوی کرنا تھا۔
یہ کام مسلمانوں کو زندگی کے ہر میدان سے کھدیڑے بغیر ممکن ہی نہیں تھا کیوں کہ مسلمان زندگی کے سبھی شعبوں پر چھایا ہوا تھا یہاں تک کہ اسلام میں ناپسندیدہ رقص و موسیقی کے شعبوں پر بھی انہیں کا قبضہ تھا۔ برہمنوں کے مفاد کی خاطر نہرو صرف مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن بن گئے تھے۔ جب ۱۹۲۳ء؁ میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈ کر میدان میں آئے اور ان کی کوششوں سے سائمن کمیشن آیا تو نہرو کو لگا کہ اب ہزاروں سال کے جانور بھی انسان بن کر ہندوؤں کے نام پر برہمن کو ملنے والے حصے میں بٹائی دارنہ بن جائیں اس لیے انھوں نے پوری کانگریس کو ’’گوبیک ساءمن‘‘ تحریک میں جھونک دیا۔ اور ۱۹۲۷ء؁ سے ۱۹۳۲ء؁ تک نہرو کو دلتوں اور پچھڑوں کے خلاف کھل کر جنگ لڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
نہرو نے مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے مطالبے کو سمجھنے میں غلطی کردی ورنہ انھیں اس کو فوراً مان لینا چاہیے تھا۔ لیکن خیبر پاس سے کاکسس بازار تک برہمن وادی رام راجیہ کا جھنڈا پھہرانے کے لالچ میں نہرو نے مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے مطالبے کی مخالفت کی۔
لیکن جب ۱۹۴۶؁ء کے چناؤ کے بعد مسلم لیگ کیبنٹ مشن کے پلان کو مان کر اور تقسیم کے مطالبے سے دست بردار ہوکر انترم گورنمنٹ میں شامل ہوگئی تب اسی پلان پر دستخط کرنے کے صرف دو مہینہ بعد نہرو کو یہ محسوس ہو گیا کہ اس سمجھوتے پر دستخط کرکے وہ اپنی لڑائی ہار چکے ہیں۔تب انھوں نے بھاری مسلم اکثریت کے علاقوں کو باقی ملک سے کاٹ کر الگ کردینے اور باقی ملک پر برہمن کی بالادستی والا نظام قائم کرنے کی علانیہ جدو جہد شروع کردی۔نہرو کی خوش قسمتی سے ماؤنٹ بیٹن بھارت کا آخری وائسرائے بن کر آگیا۔ لیڈی ماؤنٹ بیٹن سے نہرو کے جسمانی تعلقات سے پورا زمانہ واقف تھا اور نامرد ماؤنٹ بیٹن اپنی جورو کا غلام تھا ہی۔اس ملک کی تاریخ پر رکھیلوں نے بہت ہی گہرے نقوش چھوڑے ہیں ان میں سب سے گہرا اور خوں ریز نقش لیڈی ماؤنٹ بیٹن کا ہی ہے۔
مئی ۱۹۴۶؁ء کے آخری ہفتہ میں جواہر لال نہرو نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ارجنٹ میٹنگ بلا کر مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے علاقوں کو باقی ملک سے کاٹ کر الگ کردینے کی تجویز دو کے مقابلے اٹھارہ ووٹوں کی اکثریت سے پاس کروا کر اور اس تجویز کو اپنی رکھیل کے ذریعہ ماؤنٹ بٹن سے منوا کر ہندوستانی مسلمانوں پر سب سے مہلک اور جان لیوا حملہ کیا اور مسلمانوں کو برہمنی سیاست کا ’’صید زبوں‘‘ بنا کر رکھ دیا۔
اس کے بعد بھی رام پور سے امرتسر تک مسلمانوں کی چالیس فیصدی آبادی کسی بھی وقت نہرو کے پلان کے لیے خطرناک ہوسکتی تھی اس کے لیے نہرو نے کیا کیا ہم صرف دلی کی مثال دیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلم بادشاہ بہت ظالم تھےانہیں ہندوؤں کو تلوار کی نوک پر مسلمان بنانے میں بہت مزا آتا تھا۔ ہر ہندو مسلمان کے لیے یہ سوال غور کرنے کا ہے کہ وہ ظالم بادشاہ سات سو سال تک اپنی راجدھانی کے شہر دلی میں بھی مسلمانوں کی اکثریت نہیں بنا سکے۔ لیکن جب سیکولرزم، سوشلزم اور جمہوریت کا گلا پھاڑ کر نعرہ لگانے والے نہرو اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہوئے تو انھوں نے دلی کی چالیس فیصدی مسلم آبادی کو قبرستان یا پاکستان بھیجنے میں سات دن سے زیادہ کا وقت نہیں لیا۔ یہی کہانی دلی سے امرتسر اور پٹھان کوٹ تک دہرائی گئی۔ اس کے بعد نہرو کے سامنے صرف ایک چیلنج رہ گیا تھا کہ ملک بھر کے مسلمانوں کے حوصلوں کو تیز رفتاری کے ساتھ کس طرح پست کیا جائے ۱۹۴۹؁ء تک نہرو نے مسلمانوں پر براہ راست حملے کیے تھے لیکن اب انھوں نے حکمت عملی تبدیل کی اور مسلمانوں کو حاشیہ پر لانے کے لیے انھوں نے انتظامیہ، عدلیہ اور علماء سو اور منافقین کا بڑے پیمانہ پر استعمال کیا۔
اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ۲۲؍ ستمبر ۱۹۴۹ء؁ کی رات میں فیض آباد کے ساؤتھ انڈین کلکٹر کے۔ کے۔ نیر نے جواہر لال نہرو کے ہی اشارے پر ابھے رام داس، رام سکل داس اور سدرشن داس سے مورتیاں رکھوائی تھیں۔
لکھنؤ کے چنہٹ علاقے میں سوامی اکشے برہمچاری برسوں تک میرے قریبی پڑوسی رہے ہیں وہ اس وقت فیض آباد ضلع کانگریس کے سکریٹری تھے، انھوں نے کئی بار مجھ کو بتایاکہ خبر سن کر میں صبح اجودھیا پہونچ گیا تھا جہاں مسجد میں تینوں موجود تھے باہر چند لوگ تھے سب بہت گھبرائے ہوئے تھے میں نے تینوں کو مورتیاں ہٹا لینے پر بھی راضی کرلیا تھا لیکن کلکٹر آگیا میں نے اس کو بتادیا کہ کوئی بات نہیں مورتیاں یہ لوگ ہٹالیں گے تب کلکٹر نے اکشے برہمچاری کو الگ لے جاکر کہا کہ سب کچھ اوپر کے حکم سے ہورہا ہے آپ اس میں مداخلت نہ کریں۔ اور جو مورتیاں مسجد کے ممبر سے اٹھ بھی چکی تھیں وہ پھر وہیں رکھ دی گئیں۔
اسی دن مرکزی وزیر داخلہ سردار پٹیل نے یوپی کے وزیر داخلہ لال بہادر شاستری کو ریڈیو گرام بھیجا کہ ہم نے سیکولرزم کو اپنی مرضی سے اپنایا ہے اس لیے ہمیں اس کے تئیں ایماندار رہنا چاہیے جب یوپی حکومت کو یہ تسلیم ہے کہ مورتیاں چوری سے رکھی گئی ہیں تو یوپی حکومت کو پولیس کے ذریعہ مورتیاں ہٹوا دینی چاہیے۔
لیکن جب نہرو کو سردار پٹیل کے ریڈیو گرام کا علم ہوا تو انھوں نے وزیر اعلیٰ پنت کو ایک طویل ریڈیو گرام بھیجا جس میں سیکولرزم کی تعریف کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ سیکولرزم کا مطلب ہے قانون کی حکمرانی اور قانون کی حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ پورے معاملے کو قانون کے حوالے کردیا جائے۔
کانگریسیوں کی غلطی سے یہ دونوں ریڈیو گرام سرکاری فائلوں میں پڑے رہ گئے اور جنتا پارٹی کے زمانے میں عام ہوگئے۔ نہرو خاندان کو پریشانی ہونے لگی کہ اگر یہ دونوں خط شائع ہوگئے تو نہرو کے سیکولرزم کا کیا ہوگا لہٰذا مرکزی ایجنسیوں کو لگا دیا گیا۔
سبھاش نام کا کلرک فائلوں کو لے کر لبراہن کمیشن میں جا رہا تھا تلک برج ریلوے اسٹیشن پر اسے پیچھے سے ڈھکیل کر قتل کردیا گیا اور فائلیں اڑا دی گئیں۔ سبھاش کے والد کانپور سے دلی کے اسپتال میں پہونچے سبھاش نے ان سے کہا کہ میں تو چند گھنٹوں کا مہمان ہوں میرا قاتل فائلیں لے گیا اس کی فکر کریں۔ ابھی چند ہفتہ پہلے سبھاش کے والد نے پھر یہی بیان دیا ہے۔
بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے کے بعد معاملہ سٹی مجسٹریٹ کورٹ میں گیا۔ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۴۹ء؁ کو نہرو نے مسلمانوں کو پہلی عدالتی شکست دی جب سٹی مجسٹریٹ مارکنڈے سنگھ نے مسلمانوں کی داد رسی اس طرح کی کہ مسجد کو قرق کرلیا اور فیض آباد میونسپل چیئرمین پریہ دت کوریسور مقرر کردیا اور پوجا پاٹ کی اجازت دے دی پھر ایک ایڈمنٹسریٹو آرڈر جاری کرکے امن و قانون کے نام پر مسجد کی عمارت کے دو سو گز کے دائرے کے اندر کسی بھی مسلمان کے داخل ہونے پر پابندی لگا دی۔ یہ نہرو کے ہاتھوں مسلمانوں کی دوسری قانونی شکست تھی۔ پھر ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء؁ کو گوپال سنگھ و شارد نے سول جج فیض آباد کے یہاں مقدمہ داخل کرکے مسجد کے متولی ظہور احمد اور سرکاری افسران کے خلاف انجنکشن مانگا کہ وہ پوجا پاٹ میں مداخلت نہ کریں۔ اسی میں فیض آباد کے کلکٹر جیکرن نے یہ بیان داخل کیا کہ مذکورہ عمارت بابری مسجد ہے اس میں ہمیشہ پنج وقتہ نماز ہوتی رہی ہے اس میں پوجا کبھی نہیں ہوئی پھر بھی سول جج نے مسلمانوں کے خلاف انجنکشن دے دیا۔ یہ نہرو کے ہاتھوں مسلمانوں کی تیسری عدالتی شکست تھی۔
پھر ۵؍ دسمبر ۱۹۵۰ء؁ کو پرم ہنس رام چند داس نے گوپال سنگھ وشارد جیسا ہی سول سوٹ داخل کیا اس کو خارج نہ کرکے یکم فروری ۱۹۵۱ء؁ کو وشارد کے سوٹ سے اٹیچ کردیا یہ نہرو کے ہاتھوں مسلمانوں کی چوتھی شکست تھی۔
۱۷؍ دسمبر ۱۹۵۹ء؁ کو نرموہی اکھاڑے کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا کہ ریسور کو ہٹا کر جائیداد اس کی نگرانی میں دی جائے اب نہرو کو کوئی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی پورے ملک کا مسلمان احساس کمتری کے اس غار کے دہانے کے قریب پہونچ چکا تھا جس کے اندر سے ہریجن کی کراہوں کی آواز اس وقت تک آرہی تھی اس لیے اس مقدمے کو وقت ضرورت کے لیے فریز کرادیا گیا۔
۱۸؍ دسمبر ۱۹۶۱ء؁ کو سنی سنٹرل وقف بورڈ نے مقدمہ دائر کیا اسے بھی نہرو نے نرموہی اکھاڑے کے مقدمے کے ساتھ فریز کرادیا۔ یہ مسلمانوں کی پانچویں عدالتی شکست تھی۔
علماء سو اور منافقین ملت کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا ان معاملات سے نہرو یا کانگریس سرکاروں کا تعلق نہیں تھا جب کہ اس وقت انتظامیہ اور عدلیہ بالکل الگ نہیں تھے۔
یکم جولائی ۱۹۸۹ء؁ کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ہی ریٹائرڈ جج دیو کی نندن اگروال نے رام للا براجمان کے دوست کی حیثیت سے ایک نیا مقدمہ اسی موجود بنچ میں دائر کیا۔ نرموہی اکھاڑے اور سنی سنٹرل وقف بورڈ کے مقدمے تو میعاد باہر ہونے کی بنیاد پر خارج کیے گئے لیکن محترم عدالت عالیہ نے اٹھائیس سال بعد دائر ہونے والے مقدمے کو اس بنیاد پر میعاد کے اندر قرار دیا کہ رام للا دنیا میں نہیں ہیں۔
نہرو کے بعد ان کی بیٹی اندرا گاندھی کو سیاسی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ انہیں ۱۹۷۷؁ء میں اپنی شکست کا بدلہ مسلمانوں سے لینا تھا۔ یہ بات مجھ سے پرم ہنس رام چند داس نے بتائی کہ ایک دن اچانک مجھے اور اجودھیا کے کئی سادھوؤں کو اندرا جی نے اپنی کوٹھی پر بلوایا وہاں کئی کانگریسی لیڈر بھی موجود تھے۔ مہنت نے بتایا کہ اندرا جی نے کہا کہ اگر آپ لوگ اتنی زوردار تحریک چلا دیں جس سے لگے کہ سرکار کی مجبوری بن گئی تھی تو ہم بابری مسجد آپ لوگوں کو دے دیں گے اس کے لیے اسی دن اندرا جی نے اپنی کوٹھی پر ہی سینئر کانگریسی لیڈر سابق وزیر صحت داؤد یال کھنہ کی قیادت میں ’’رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی‘‘ بنوائی اس میں اجودھیا کے سادھوؤں اور کانگریسی لیڈروں کو لیا گیا۔
اجودھیا سے چاروں سمتوں میں چار رتھ روانہ کرکے رام مندر تحریک کی ابتدا کی گئی ان چاروں رتھوں کو وزیر آبپاشی ویر بہادر سنگھ نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اور رام مندر آندولن شروع ہوگیا۔ یہ بات بھی مجھ سے پرم ہنس رام چندر داس نے بتائی کہ چاروں رتھوں کی یاترا پوری کرکے ہم لوگ پھر اندرا سے ملے اور کہا کہ تحریک بہت زور دار رہی اب مسجد ہمارے حوالے کردیں۔ ہماری اس بات پر اندرا بہت زور سے ہنسی اور ہمارا ایک پمفلٹ جو رتھوں سے بانٹا گیا تھا نکالا اور کہا کہ اس میں تو آپ لوگوں نے ہی لکھا ہے کہ بابر سے رام مندر کو بچانے کے لیے تین لاکھ چھیاسی ہزار ہندو مارے گئے تب بابری مسجد بن پائی لیکن ابھی تو آپ کی تحریک میں ایک بھی ہندو نہیں مرا اور چلے آئے مسجد کی چابی لینے؟ اس کے بعد رام مندر تحریک کو دھار دینے کے لیے اندرا جی نے مہاراجہ کرن سنگھ کی اگوائی میں وراٹ ہندو سمیلن دلی کے بوٹ کلب پر کروایا۔ پھر انھیں کی قیادت میں ایکا تمتا یگیہ تحریک چلوائی جس کے تحت پورے ملک میں زہریلے فرقہ وارانہ نعروں کی وال پینٹنگ کروائی۔
ہمارے جیسے احمق یہ سمجھتے رہے کہ یہ وال پینٹنگ جن سنگھی کروا ر ہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ اس وال پینٹنگ کا سو فیصدی خرچہ اندرا گاندھی نے اٹھایا اور کام کی نگرانی مہاراجہ کرن سنگھ نے کی۔ ساری زہریلی تحریکیں اندرا گاندھی نے چلوائیں لیکن انھیں کسی عدالتی ڈرامے کی ضرورت نہیں پڑی۔ لیکن راجیو گاندھی نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے نانا کے شروع کیے ہوئے اور ماں کے پروان چڑھائے ہوئے کام کو پورا کرنے پر سارا دھیان مرکوز کردیا۔
بات ۲۹؍ جنوری ۱۹۸۶؁ء کی ہے۔ میں اپنے معمول کے مطابق چنہٹ کے اپنے مکان سے مسلم مجلس کے ایم ایل اے فضل الباری کے یہاں پہونچا تو مجھے بتایا گیا کہ کل دن بھر ایک صاحب آپ کو تلاش کرتے رہے تھوڑی دیر بعد ہی میرے آبائی قصبے پھول پور ضلع اعظم گڑھ کے کانگریسی لیڈر غیاث عالم خان آگئے مجھے الگ کمرے میں لے گئے اور کہا کہ میں سابق وزیر عبد الرحمن نشتر کے گھر پر ٹھہرا ہوں وہ بہت پریشان ہیں اور مجھ سے کہا ہے کہ یہ بات صرف الیاس کو بتائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ویر بہادر سنگھ چیف منسٹر سے کہہ دیا ہے کہ بابری مسجد کو ہندوؤں کو دینا ہے اور ہر حالت میں تمھیں یہ کام کرنا ہے ویر بہادر نے وقف بورڈ کے چیئرمین کو بلوایا ہے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ بورڈ کی طرف سے خود مسجد ہندوؤں کو سونپ دیں۔
اس وقت وقف بورڈ کے چیئرمین ریٹائرڈ آئی اے ایس فرحت علی صاحب تھے جو مسلم مجلس کے صدر ذوالفقار اللہ صاحب کے داماد ہونے کے ناطے ہمارے بھی قریبی تھے۔
حالانکہ مجھے غیاث بھائی کی بات پر پورا یقین نہیں آیا آخر میں بھی ایک عقل مند قوم کا ہی فرد ہوں میں یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ کیا ایک وزیر اعظم اس سطح تک گرسکتا ہے۔ بہر حال میں تصدیق کرنے شیخ مستنصر اللہ صاحب مرحوم کے مکان واقع بنارسی باغ پہونچا۔ وہاں نوکر نے بتایا کہ فرحت صاحب آئے تھے تین چار دن رکے تھے پھر واپس الٰہ آباد چلے گئے۔ میں مچھلی محل میں واقع وقف بورڈ کے دفتر گیا وہاں پتہ چلا کہ چیئرمین صاحب بورڈ آئے ہی نہیں نہ ہی انھوں نے اپنی لکھنؤ میں موجودگی کی کوئی اطلاع ہی دی اب میرا ماتھا ٹھنکا مجھے غیاث بھائی کی باتوں میں دم لگا۔ میں فوراً الٰہ آباد روانہ ہوگیا۔
وہاں فرحت علی صاحب نے ہر اس بات کی تصدیق کی جو مجھے غیاث بھائی نے بتائی تھی یہ بھی بتایا کہ چیف منسٹر نے بورڈ کو ایک کروڑ کی گرانٹ اور مجھے پسندیدہ ملک کا امبیسڈر بنانے کی پیشکش کی لیکن میں نے کہا کہ میں اسلام سے خارج کردیا جاؤں گا۔ تب مجھے چھٹی دے دی گئی چونکہ چیف منسٹر نے یہ بھی بتایا کہ یہ پردھان منتری کا حکم ہے۔ اگر میں نے یہ کام نہ کیا تو مجھے بھی لکھنؤ چھوڑ کر گورکھپور جانا پڑے گا۔ اس لیے وہ مجبور ہیں کہ کوئی بھی دھاندلی کریں یہ سمجھو کہ بابری مسجد گئی۔
میں نے مسلم مجلس کے ساتھیوں سے مشورہ کرکے طے کیا کہ کل پریس کو بلا کر عوام کو راجیوگاندھی کی سازش سے آگاہ کردیا جائے لیکن دوسرے دن صبح کے اخباروں سے پتہ چلا کہ یکم فروری ۱۹۸۶ء؁ کو تالہ کھل بھی گیا؟ ہوا یہ کہ فرحت علی سے مایوس ہونے کے بعد ویر بہادر سنگھ نے فیض آباد کے ضلع جج کرشن موہن پانڈے سے بات کی کہ ایک سادہ درخواست پر تالہ کھولنے کی اجازت بھردے دیں لیکن ضلع جج کے آنا کانی کرنے پر راجیو گاندھی نے سپریم کورٹ کے ایک برہمن جج کو فیض آباد بھیج کر ضلع جج کو راضی کیا پھر ایک کانگریسی برہمن امیش چند پانڈے نے تالہ کھولنے کی درخواست دی مسلم وکیلوں کو پتہ چلا تو بھاگ کر پہونچے اعتراض داخل کیا لیکن درخواست، اعتراض، ثبوت، شہادت، بحث اور فیصلہ پھر فیصلے پر فوراً عمل درآمد اور کانگریس ممبر پارلیمنٹ کے باپ کے ہاتھوں تالہ توڑنے میں کل ملا کر پچاس منٹ ہی لگے۔ یہ نہرو کے ہاتھوں مسلمانوں کی چھٹی عدالتی شکست تھی۔
مسلمانوں نے اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں ۱۲؍ مئی ۱۹۸۶ء؁ کو اپیل داخل کی۔ جس حکم میں سب ملا کر پچاس منٹ لگے تھے اس کی اپیل پر عدالت عالیہ کو فیصلہ کرنے میں صرف چوبیس سال ۴ مہینے اور اٹھارہ دن لگے وہ بھی اپیل خارج کرنے میں!!! اگر عوام نعرہ لگائیں۔۔۔ ہماری عدلیہ زندہ باد اس کا انصاف پائندہ باد۔۔۔ غلیظ نہرو نسل زندہ باد۔۔۔ علماء سو زندہ باد۔۔۔ منافقین ملت ۔۔۔ ان کا جھنڈا تو باسٹھ سال سے بلند رہا ہے پتہ نہیں اور کتنے دنوں بلندرہے گا۔
۱۰؍ جولائی ۱۹۸۹ء؁ کو لکھنؤ ہائی کورٹ کی خصوصی بینچ نے سنوائی شروع کی اس بنچ نے ۱۴؍ اگست ۱۹۸۹ء؁ کو متنازعہ آراضی پر حالات کو جوں کا توں رکھنے کا واضح اور دو ٹوک حکم دیا لیکن راجیو گاندھی نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ۹؍ نومبر ۱۹۸۹ء؁ کو وہاں رام مندر کا شیلا نیاس کرادیا اور ہمارے پورے عدالتی نظام کو سانپ سونگھ گیا۔ اسے نہ تو اپنی عزت کا کوئی پاس رہا نہ اپنے ۱۴؍ اگست کے حکم کی خلاف ورزی کا ہی خیال آیا۔
موقعے پر حالات کو جوں کا توں رکھنے کا حکم سپریم کورٹ سے بھی پاس ہوا تھا۔ ہائی کورٹ کا ۱۴؍ اگست ۱۹۸۹ئ؁ کا حکم جاری رہا پھر بھی جولائی ۱۹۹۱ء؁ میں کلیان سنگھ سرکار نے راجیو گاندھی کے شیلا نیاس پر ایک بڑا آرسی سی کا چبوترہ ایک ہفتے تک بنوایا ۷۷ء ۲، ایکڑ آراضی پر بنی ساری پختہ قبریں مسمار کرادیں ان پر ٹریکٹروں سے زمین برابر کرائی لیکن شاید ہمارا پورا عدالتی نظام بیہوش ہوچکا تھا۔
پھر ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء؁کو کانگریس، آر ایس ایس، مرکزی حکومت، یوپی حکومت چاروں کی ساز باز اور ملی بھگت سے دن کی روشنی میں بابری مسجد کو توڑا گیا۔ صرف تاریخی عمارت ہی نہیں توڑی گئی بلکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے سارے احکامات بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ ملک کے پورے قانون اور عدالتی نظام کو منہدم کردیا گیا۔ لیکن مرکزی حکومت، اس کی قہرمانی طاقت اور عدلیہ کے احکامات کی طاقت سب کو لقوہ مار گیا کسی میں ہلکی سی جنبش بھی نہیں ہوئی۔
اگر اقبالؒ کو اللہ سے شکوہ کرنے کا حق تھا تو مجھے بھی اتنا حق تو ملنا ہی چاہیے کہ میں اپنے اللہ سے اتنا شکوہ تو کرلوں کہ اگر مجھے پیدا کرنا ہی تھا تو مجھے پڑوس کے افغانستان میں کیوں نہیں پیدا کردیا… مجھے اتنی شاندار اور عجیب الخلقت قوم ہندوستانی مسلمانوں میں کیوں پیدا کیا جس کو صرف ایک اڈوانی کی رتھ یاترا یاد رہ گئی ۔
لیکن اس کو ’’رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی‘‘ وراٹ ہندو سمیلن اور ’’ایکا تمتا یگیہ‘‘ کے ذریعہ چلوائی گئیں وہ سیکڑوں رتھ یاترائیں بھول گئیں جن میں روزانہ بہت سارے انسانوں کا خون بھی بہایا جاتا رہا… تین سال تک روزانہ درجنوں شہروں میں کرفیو لگتے رہے۔
میری حیرت انگیز قوم کو اپنے ہزاروں قتل عاموں میں سے صرف ایک گجرات کا قتل عام یاد رہ گیا آج وہ صرف ایک قاتل نریندر مودی کو جانتی ہے باقی سب کو بھول چکی ہے… گجرات جیسے ہزاروں قتل عاموں کے کانگریسی قاتلوں کو صرف عوام ہی نہیں بھول گئے اب وہ ہمارے برنیوں، مدنیوں، نقویوں، علویوں، فرنگیوں، فاروقیوں کسی کو بھی یاد نہیں رہ گئے۔
راشد علوی اور داؤد احمد وغیرہ کانگریسی مسلمانوں نے تو اپنی پارٹی کے حکم پر لوک سبھا میں گجرات قتل عام پر ہونے والے مباحثے کے بعد نریندر مودی کی حمایت میں ووٹ بھی دیا تھا۔
کانگریس کے ذریعہ کرائے گئے ہزارہا قتل عام نہ ہمارے علماء سو کو یاد ہیں نہ ہی نام نہاد مشائخ کو نہ ہی نہرو خاندان کی خیرات پر امیرانہ زندگی گزارنے والے منافقین کو نہ ہی آئی بی کے معتبروں کو، اب وہ نہ تو ہمارے شاعروں کو یاد رہے نہ کسی صحافی اور دانش ور کو۔
میں ملک بھر کے منافقوں کو چیلنج کرکے کہہ رہا ہوں کہ بلاشبہ نریندر مودی میری نظر میں ایک قاتل ہے لیکن اگر وہ دس بار جنم لے اور ہر بار کسی نہ کسی اسٹیٹ کا چیف منسٹر بنے تب بھی وہ اتنے انسانوں کو مروانے کی طاقت ہی نہیں رکھتا جتنے انسانوں کو راجیوگاندھی نے تالا کھلوانے سے لے کر رام مندر کے شیلانیاس کے درمیان کے تین سال نو مہینے اور آٹھ دنوں میں مروا ڈالا یا مرجانے دیاتھا۔
نریندر مودی نے پورے گجرات میں بلوائیوں کو مسلم آبادیوں پر چڑھادیا اور پولیس سے کہہ دیا کہ وہ خاموش تماشائی کا رول ادا کرے لیکن راجیو گاندھی نے کئی قتل عام صرف پولیس سے کروا ڈالے اور بلوائیوں کو زحمت نہیں دی۔
میں پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ گجرات قتل عام کے مقابلے میں راجیو گاندھی کے اشارے پر ہونے والا گنگ نہر اور ہنڈن ندی کے کناروں کا قتل عام اپنی سنگینی کے لحاظ سے بدتر تھا کیوں کہ اس میں پولیس نے مسلمانوں کو گھروں سے اٹھوایا۔ چار تھانوں میں رکھا اور پھر رات میں پی اے سی کے ٹرکوں میں بھر کر جگہ جگہ ان کا قتل عام کرکے لاش پانی میں بہائی گئی۔
۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کی شہادت عظمیٰ کو میں انصاف کے ترازو پرتول کر ان کی ذمہ داری برابر برابر کانگریس اور آر ایس ایس پر ڈالتا ہوں میرے اس انصاف پر جو چاہے کھلی بحث کرے۔
لیکن ۲۲؍ دسمبر ۱۹۴۹ء؁ کو مسجد میں مورتیاں رکھنے سے لے کر ۹؍نومبر ۱۹۸۹ء؁ کو رام مندر کے شیلا نیاس کے درمیان چالیس برسوں میں جتنے بھی شرمناک واقعات ہوئے ان میں کانگریس کے علاوہ ایک بھی بھاجپائی یا جن سنگھی کو تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ میں ملک بھر کے منافقین ملت کو چیلنج کرکے کہتا ہوں کہ وہ ایک نام ہی بتادیں۔
رہے اجودھیا اور ہری دوار کے سادھو سنت تو وہ کانگریس اور آر ایس ایس کی ہر تحریک میں شامل رہے۔ خود آر ایس ایس ایک مہینہ اپنی ماں کانگریس کے ساتھ رہتی ہے تو دوسرے مہینہ اپنی بیٹی بھاجپا کے ساتھ!؟!
بابری مسجد کی شہادت ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کو چار بجے شام کلیان سنگھ کے استعفیٰ کے بعد اترپردیش بھی صدر راج کے تحت کانگریس کے زیر اقتدار آچکا تھا۔
کیا اترپردیش کانگریس کے زیراقتدار آنے کے بعد کے واقعات کی ذمہ داری بھی منافقین ملت بھاجپا پر ڈالیں گے؟
کیا وہ اس روشن سچائی سے انکار کردیں گے کہ کانگریس نے مسجد کی شہادت کے بعد کارسیوکوں کو اجودھیا میں کانگریس کے خرچہ پر تین دن روکا۔ انھیں پولیس تحفظ میں ملبہ ہٹانے کے لیے ۳۶ گھنٹہ اور تیسرے گنبد کی جگہ عارضی مندر بنانے کے لیے ۴ گھنٹہ کا وقت دیا تھا۔
اس دوران کانگریس نے درجنوں خصوصی ٹرینوں اور یوپی روڈویز کی ہزاروں بسوں کو فیض آباد اور اجودھیا بھیجا۔ کانگریس کے خرچہ پر انھیں وجے جلوسوں کی شکل میں ان کے گھروں تک پہونچایا گیا، کیا اس کارروائی میں کوئی ایک بھاجپائی بھی شامل تھا؟
پھر کانگریس نے اس عارضی مندر کو عدالتی اور قانونی تحفظ دلانے میں سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالا جب سپریم کورٹ نے منع کردیا تب کانگریس نے پہلے آرڈیننس کے ذریعہ پھر پارلیمنٹ سے قانون پاس کروا کر اس عارضی مندر کو قانونی تحفظ دیا۔
کیا کانگریس اپنے برنیوں، فاروقیوں، اور مدنیوں سے مذکورہ بالا حقائق کی تردید کرائے گی؟
دس جن پتھ، آئی بی ہیڈ کوارٹر، دگ وجے سنگھ، جناردن دویدی کانگریسی وکیلوں اور موکلوں کی دس روزہ ڈرامہ بازیوں کے بعد ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؁ کو جو فیصلہ منظر عام پر لایا گیا ہے اس نے خود عدلیہ کی عظیم الشان ساکھ کو مٹی میں ملادیا ہے حالانکہ اجودھیا معاملے کی پوری تاریخ میں ہمیشہ ہی عدلیہ کی ساکھ مجروح ہوتی رہی ہے۔
یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ بابری مسجد میں مورتیاں ۲۲؍دسمبر ۱۹۴۹ء؁ کی رات میں رکھی گئیں۔ پھر بھی عدالت عالیہ نے اس چوری اور برسوں کی سینہ زوری پر قانون کی مہر لگا کر اصل نقصان کس کو پہونچایا ہے مسلمانوں کو یا خود اپنی ساکھ کو؟
فیض آباد کے کلکٹر جے کرن کا بیان جو سول جج کی عدالت میں دیا گیا کہ ’یہ بابری مسجد ہے اور اس میں ہمیشہ ہی نماز ہوتی رہی ہے اور یہ رام مندر کے طور پر کبھی استعمال نہیں ہوئی، کو عدالت نے جھوٹا اور فرضی بھی قرار نہیں دیا اور اور اسے مسجد بھی نہیں مانا۔
سنی سنٹرل وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑے کے مقدمہ کو میعاد باہر کرکے خارج بھی کیا گیا اور انھیں ایک ایک تہائی زمین بھی دی گئی؟
لیکن مذکورہ دونوں مقدموں کے ۲۸ سال بعد دیو کی نندن اگروال کا مقدمہ میعاد کے اندر مانا گیا اور رام للا براجمان کو ایک تہائی زمین دی گئی۔ جب کہ عدالت کو یہ بھی تسلیم ہے کہ وہاں رام للا کو ۲۲؍ دسمبر ۱۹۴۹ء؁ کی طرح براجمان کردیا جائے گا وہ اس پراپرٹی کے ایک تہائی کے مالک ہوجائیں گے۔ خواہ وہ مسجد، چرچ اور گردوارہ ہو چاہیے وہ پارلیمنٹ ہاؤس ، سینٹرل سکریٹریٹ، راشٹرپتی بھون ہو، چاہے خود آنریبل سپریم کورٹ کی عمارت ہو۔
مقدمے کے ہر فریق نے یہ مانا تھا کہ بابری مسجد کو بابر کے مقرر کردہ حاکم میر باقی نے بنوایا اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا صرف اختلاف یہ تھا کہ میر باقی نے مندر توڑ کر مسجد بنوائی یا خالی جگہ پر بنائی۔
لیکن محترمہ عدالت عالیہ نے سارے فریقوں کے اتفاق کو مسترد کرکے یہ لکھا کہ پتہ نہیں کہ اس عمارت کو کون کب بنا کر چلا گیا لیکن عدالت نے ریسرچ کرکے یہ ضرور بتایا کہ میر باقی شیعہ تھا۔
محترم عدالت عالیہ کے تین ججوں نے آستھا کو قانون کا درجہ دے کر تاریخ میں اپنا نام درج کرالیا ہے۔ لیکن اس کا فیصلہ آنے والی تاریخ ہی کرے گی کہ انھیں ہیرو کا درجہ ملتا ہے یاولن کا۔
ان تین جج صاحبان میں ایک صاحب تو کم از کم ایک صدی بعد پیدا ہوگئے۔ وہ کھانا بنانے سے پہلے لکڑی دھوکر سکھاتے ہیں کیوں کہ اسے کسی شودر نے چیرا ہوگا۔ ان پر چھوت چھات اونچ نیچ کا کوئی قانون لاگو ہی نہیں ہوتا، ست یگ کے اس آدمی کو کل یگ میں پیدا کرکے بھگوان رام نے اپنے اس بھگت کے ساتھ کافی زیادتی کی ہے۔
اب جب کہ ملک کے تقریباً ہر منافق کو بل سے باہر نکال دیا گیا ہے تو عام لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ اب تک فیصلے کے بارے میں ریٹائرڈ سپریم کورٹ کے ججوں سمیت مشہور ماہرین قانون کی رائے آچکی ہے۔ زیادہ تر نے اس کو عدالتی فیصلہ ماننے سے ہی انکار کیا ہے ان حالات میں میری رائے ہے کہ:
۱- کوئی دھرنا مظاہرہ نہ کرکے ہمیں جگہ جگہ سمپوزیم سمینار کرکے اپنی صفوں کے منافقوں کی پہچان کرنی چاہیے اور پوری سوسائٹی کو یہ باور کرادینا چاہیے کہ ہم کسی بھی حالت میں مسجد کی ایک انچ زمین دینے پر راضی نہیں ہیں۔ اگر سونیا گاندھی زبردستی وہاں مندر بنوا بھی دیں تب بھی ہم اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ نہ ہماری آنے والی نسلیں اس کو تسلیم کریں گی۔
اجودھیا میں جو کچھ ہوا ہے سیاسی طاقت کے ذریعہ کیا گیا ہے ہم جب تک ممکن ہے سپریم کورٹ میں لڑیں گے اس کے بعد بھی ہماری نسلیں سیاسی زمانہ بدلنے کا انتظار کریں گی لیکن ہم کسی بھی حالت میں مسجد اور قبرستان کی ایک انچ زمین سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔
۲- ہم کو سمپوزیم اور سمیناروں میں ہونے والی تقریروں سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس سے توہین عدالت کا معاملہ بنے گا اگر کوئی بناتا ہے تو ہم اوپر دیے گئے حقائق سے یہ ثابت کردیں گے کہ ہماری جوڈیشری اجودھیا معاملے میں ’’توہین پروف‘‘ رہی ہے۔
۳- جب ایک سرکاری مسلمان جو منصب دار بھی ہے پوری سوسائٹی کے سامنے یہ جھوٹ بول سکتا ہے کہ ستر فیصدی مسلمان فیصلے کے حق میں ہیں جب کہ شاید صرف ستر مسلمان ہی پیٹ کی خاطر فیصلے سے اتفاق کریں۔ میرے جائزے کے مطابق اس وقت پوری ہندوستانی سوسائٹی میں مشکل سے بیس فیصد آبادی بھی فیصلے سے متفق نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ فیصلے سے جو متفق ہیں وہ حکمراں گروہ ہیں اور ان کے منھ میں زبان ہے لیکن اسی فیصدی عوام اس فیصلے کے خلاف ہیں لیکن ان کے منھ میں زبان نہیں ہے۔ کچھ برسوں بعد ہندوؤں کی بڑی تعداد زبان کھولنے کے لائق بن جائے گی؟ ہمیں اس کا بھی انتظار کرنا چاہیے۔
۴- مسلمانوں کو جلد از جلد سپریم کورٹ میں اپیل داخل کردینی چاہیے۔ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے فیصلہ کردیا ہے ۔مسلم پرسنل لا بورڈ کی یہ اوقات نہیں ہے کہ وہ اپنی صفوں میں گھسے سرکاری اور درباری مسلمانوں سے باز پرس کرسکے وہ اتنی چھوئی موئی ہے کہ ان سے بات بھی نہیں کرسکتی۔ لیکن عام لوگوں کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بار منافقین اور مسلم پرسنل لا بورڈ دونوں کی کینچلی اترگئی ہے۔
۵- ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نہرو خاندان گو کتنا ہی طاقت ور ہو لیکن بابر کے خاندان سے زیادہ طاقت ور تو نہیں ہوسکتا۔ ملک پر تین سو سال تک راج کرنے والے بابر کے خاندان کا آج اتہ پتہ نہیں ہے۔ جس دن نہرو خاندان کا چراغ گل ہوگا یا کانگریس کا خاتمہ ہوگا اسی دن بابری مسجد کے معاملے میں انصاف کے راستے کی دیواریں خود بخود منہدم ہوجائیں گی، ہمیں انتہائی سخت جانی کے ساتھ زمانہ بدلنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ ہار کسی حالت میں بھی نہیں ماننا ہے صبر اور نماز کو اپنی ڈھال بنا کر مسجد کی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔
۶- منافقین کی بیان بازیوں سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ دور رسالت میں بھی یہ مسلم آبادی کا کئی فیصد تھے آج تو یہ الحمد للہ مسلم آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہیں۔ یہ زیادہ تر دلی اور لکھنؤ میں ہی ملتے ہیں کیوں کہ ان پر من و سلویٰ۔۔۔ دلی اور لکھنؤ کے آسمانوں سے ہی نازل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لکھنؤ کے ٹیلو، عید و کبھی ملائم سنگھ یادو کے ٹکڑوں پر پلنے والے مشہور لوگوں میں ہوا کرتے تھے اب یہ مایاوتی کا درشن تو نہیں کرسکتے اس لیے ان کے ایک نمک خوار کے حلقہ بگوش ہوگئے۔ پچھلے دنوں ان کی ملاقاتیں دگ وجے سنگھ سے رہیں… بس ان کی اتنی ہی اوقات ہے اس لیے ان کی بیان بازیوں کو پیٹ سے خارج ہونے والی ریاح سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔
جو شخص زمانے کے خداؤں سے لڑا ہے
سقراط بنا ہے کبھی سولی پہ چڑھا ہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *