مظلوم مرسی کے نام

مکرمی! آپ کا اقتدار میں آنا باعث رحمت تھا۔ ایک طویل ابتلا و آزمائش کے بعد رب العالمین نے اخوان کو یہ نعمت عطاء فرمائی تھی۔ اس لیے کہ وہ ان آزمائشوں کی بھٹی سے سرخرو ہوکر نکلے تھے جو اس کے لیے لازمی ہوتی ہے۔
لیکن یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ اسلام اقتدار برائے اقتدار کا قائل نہیں ہے۔ اسلام میں اقتدار کسی عظیم مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ہوتا ہے کہ باطل کے ہر نقش کہن کو مٹادو۔ اس سمت میں آپ کے چند اقدام لائق تحسین تھے۔ آئین کو آپنے اسلامی بنایا، بھلے ہی باطل پرستوں نے اسے معطّل کردیا۔ شراب پر پابندی لگائی۔ بدعنوانی پر لگام لگانے کی کوشش کی۔ لیکن جو سب سے بڑی برائی تھی اور باطل پرستوں نے مصر پر تھوپ رکھی تھی، وہ تھا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ۔ اس کو آپنے اپنے ایک سال کے اقتدار تک کیسے برداشت کرلیا۔ یہ معاہدہ مصر اور اہل فلسطین کے لیے ذلت آمیز تھا۔ یہ معاہدہ تو اس قابل تھا کہ اسے جوتیوں سے مسل دیا جاتا۔ اگر آپ اس معاہدے کو مسترد کردیتے تو آپ کا ایک سالہ اقتدار بڑا قیمتی قرار پاتا۔ اور آپ فاتح مصر قرار پاتے۔ تاریخ میں آپ کا نام سنہرے لفظوں میں لکھا جاتا اور آپ صلاح الدین ثانی کہلاتے۔ لیکن افسوس کہ آپ اس کی جرأت نہ کرسکے۔ اور جس کے ساتھ آپ نے یہ رواداری دکھائی تھی۔ اسی نے آپ کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھادیا۔ جس پر ہمیں افسوس ہے۔
غاصب اور ظالم اسرائیل نے جس وقت اہل غزہ پر جنگ مسلط کی تھی، آپ صلح و صفائی میں لگ گئے۔ کیا یہ موقع نہیں تھا کہ آپ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ جنگ میں کود جاتے۔ اور اس گندگی (اسرائیل) کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے۔ اور اس کے آقا امریکہ کو بھی چیلنج کردیتے کہ تو اس ظالم اور غاصب اسرائیل کو بچا سکتا ہے تو بچا لے۔ اللہ رب العالمین کے سامنے تیری طاقت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔
اللہ رب العزت نے آپ کو یہ مواقع دیے تھے لیکن افسوس آپ نے گنوادیے۔ اور ایک بار پھر مظلوموں کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ اور اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارت کو ظالموں کی صف میں کھڑا کردیا۔ لیکن یہ قانون قدرت ہے کہ ظالم کو اس کے مظالم کی سزا مل کر رہتی ہے۔ ہر شب کی ایک صبح ضرور ہوتی ہے، بھلے ہی وہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *