موسیقی اور مذہب اسلام

غیر محرم سے موسیقی سننا ،غیر محرم کے سامنے گانا اور مروجہ بینڈ کی حرمت قرآن و احادیث کی روشنی میں علماء سے صراحتاًمنقول ہے۔جس میں کسی کا بھی کوئی اختلاف نہیں ۔قرآن و احادیث کے ذخیرے سے اس کی حرمت واضح طور پر معلوم ہوتی ہے ۔چنانچہ قرآن مجید میں مقام مذمت میں بیان فرمایا:مفہوم’’اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ان چیزوں کو اختیار کرتے ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے گمراہ کردیں(پ۲۱س،لقمٰن آیت ۶)اس آیت میں مذکور’’لھو الحدیث ‘‘کی تفسیر عبد اللہ بن مسعود ؓنے یوں کی ہےھوواللہ الغناء،خدا کی قسم اس (لھو الحدیث)سے مراد ’’گانا‘‘ہے(مصنف ابن ابی شیبہ)نیز بیہقی میں مشہور مفسر قرآن عبد اللہ ابن عباس ؓ سے بھی اس کی تفسیر یہی منقول ہے ’’ھو الغناء واشباھہ‘‘اس سے مراد گانا اور اس جیسی چیزیںہیں۔اسی طرح ابلیس کو راندۂ درگاہ کرنے کے بعد اس سے کہا گیا !مفہوم’’اور ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اپنی آواز سے اس کے قدم اکھاڑ دینا(بنی اسرائیل ،آیت ۶۴)آیت کریمہ میں ’’صوت شیطان‘‘یعنی شیطان کی آواز کی تفسیر مجاہد سے ’’گانا اور گانے کے آلات ہی مروی ہیں۔(روح المعانی،ج۱۵،ص۱۱۱)۔مقام زجرو تنبیہ میں پ۲۷،النجم،آیت ۶۱میں موجود’’سامدون‘‘کی تفسیر ابو عبیدہ نے ’’گانے والوں‘‘سے کی ہے اور عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ھو الغناء بالیمانیہ(روح المعانی ج۲۷،ص۷۲)قرآن کریم کے انیسویں پارہ میں رحمن کے نیک بندوں کی اہم صفات مں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے ’’لایشھدون الزور‘‘وہ بیہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے ہیں اور جب وہ بے ہودہ مشغلوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو سنجیدگی سے گزر جاتے ہیں(فرقان ،آیت ۷۳)یہاں ’’لغو ،بے ہودہ باتوں ‘‘کی تفسیر محمد ابن حنفیہ ،مجاہد ، امام ابوحنیفہ سے یہی گانا منقول ہے۔ذخیرہ ٔ احادیث میں بھی وضاحت کے ساتھ گانے اور آلات موسیقی کی حرمت موجود ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں ابو مالک اشعری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو جائز قرار دیں گے ریشم کو ،شراب کو اور گانے کے آلات کو(بخاری ،کتاب الاشربہ،ج۲،ص۸۲۷)،حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ نے دوآدمیوں کے گانے کی آواز سنی ،آپ نے فرمایا دیکھو!یہ کون لوگ ہیں ؟لوگوں نے عرض کیا، فلاں فلاں ہیں،آپ ﷺ نے بد دعا فرمائی اور کہا اے اللہ انہیں جہنم میں الٹ دے اور آگ میں ڈھکیل دے (مجمع الزوائد)حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:بلا شبہ میں بانسریاں توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہوں (نیل الاوطار )۔عبد اللہ بن عمرؓکی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ اللہ نے شراب ،جوا،ڈھولک کو حرام کیا ہے(ابو داؤد)عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دف حرام ہیں اور گانے کے آلات حرام ہیں اور ڈھولک حرام ہیں (جمع الجوامع)اس سے زیادہ حرمت پہ صراحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
اب ہمیں اپنے اس قول پر ،’’ارے بھائی نماز پڑھنے ،روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اگر دنیا کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ لڑکیاں ایسا کر ہی لیتی ہیں تو شریعت کا اس میںکیا نقصان ہے‘‘۔غور کر لینا چاہیے اور دل پہ ہاتھ رکھ کر بلکہ دبا کر پڑھ جانا چاہیے نبی ﷺ کی ان احادیث کو ،کتنی سخت وعید سنائی گئی ہے ،حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب میری امت کے کچھ لوگوں کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر اور خنزیر کی صورتوں میں بدل دیا جائے گا ،صحابہ نے پوچھا رسول اللہ ﷺ وہ مسلمان ہوں گے ؟فرمایا:ہاں!باجوں اور گانے والی عورتوںکے عادی ہوجائیں گے اور شراب پئیں گے (ابن حبان)سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے:اس امت میں زمین میں دھنسنے اور صورتوں کے بگڑنے کے واقعات ہوں گے ،عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ ایسا کب ہوگا؟فرمایا:جب گانے والیاں عام ہو جائیں گی اور شراب حلال سمجھی جائے گی (ابن حبان)محدثین نے چہروں کے خنزیر اور بندر کی طرح ہو جانے کی ایک تشریح یہ بھی کہ ہے کہ گانے سے دو خصلتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ایک بے حیائی ،دوسری نقالی۔بے حیائی خنزیر کی خصلت ہے اور نقالی بندر کی۔چنانچہ عام طور پر ان دو جانوروں کی عادتیں ا س گناہ میں ملوث رہنے والوں کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں ۔دوسرامطلب جو الفاظ سے ہی واضح ہے کہ حقیقتاً ایسے لوگوں کے چہرے خنزیر اور بندر بنا دیے جائیں گے ۔نبی ﷺ کا فرمان اپنی جگہ اٹل ہے ،چاہے ہمیں ابھی کچھ سمجھ میں نہ آتا ہو (اللہ ہم سبھوں کو محفوظ رکھے،آمین!)
ترمذی میں روایت ہے کہ جب میری امت پندر ہ کام کرنے لگے گی تو اس وقت اس پر بلائیں نازل ہوں گی ،منجملہ ان کے گانے والی لونڈیوں سے گانے کے آلات کے تیار کرنے کو بھی شمار فرمایا۔ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’گانا باجا سننا ‘‘گناہ ہے اور اس کے لیے بیٹھنا نافرمانی ہے اور اس سے لطف لینا کفر ہے(نیل الاوطار)حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایاـ’’گانے والی عورتوں کی اجرت اور اس کا گانا دونوں حرام ہیں‘‘(طبرانی ،ترمذی،ابن ماجہ)معجم الکبیر میں اس روایت پر یہ اضافہ ہے کہ گانے کی اجرت لینا اس طرح حرام ہے جس طرح کتے کی قیمت لینا(اندازہ لگائیے !جسے آج پورے معاشرہ میں کہ اسے ایک اہم پیشہ سمجھا جاتا ہے ۔اس کی آمدنی کو نبی ﷺنے کتے کی قیمت سے تشبیہ دی ہے)جابر ؓ کی روایت ہے کہ آپ نبی ﷺ نے فرمایاکہ گانا جماتا ہے نفاق کو قلب میں جس طرح جماتا ہے پانی کھیتی کو۔(مشکوۃ المصابیح،بیہقی )ابن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک رات کسی شخص کے گانے کی آواز سنی تو آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا:اس کی نماز قبول نہیں (نیل الاوطار)نیز سنن ابی داؤد ،ج ۲،ص۵۱۹اور مسند احمد ج۲،ص ۱۵۸پر عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت ،بیہقی ج۱،ص۱۲۱، اورابو داؤد شریف ج ۲،ص ۵۳۰میں ابن عباس کی روایت ،ترمذی ج ۲،ص۵۴میں ابو ہریرہ اور حضرت علی ؓکی روایت ،نیز ابن مسعود ،حضرت عمرؓ ،ابن عباسؓ،مسدد اور ابن حبان کے حوالہ سے ابو ہریرہؓ،صفوان بن امیہ ؓ،جابرؓ،ابو موسی اشعریؓ،انس بن مالک ؓ،عائشہ صدیقہ ؓ،زیدبن ارقم ؓ،ابوامامہ ؓکی کئی روایتیں با لترتیب نیل الاوطار ج۸،ص۱۰۴،طبرانی ،مسند ابن حنبل ج۵،ص۲۵۷،کنز العمال ج۱۱،ص۴۴۴،بیہقی ج۱،ص۲۲۳،دار قطنی،ابن ماجہ ص۱۸۷،بیہقی ،طبرانی ،دیلمی،کنز العمال ج۴،ص۱۵میں اس کی حرمت پہ دلالت کرنے والی روایتیں موجود ہیں ۔ ان کے علاوہ حرمت کے اتنے دلائل ہیں کہ ان کا بیان یہاں ممکن نہیں ،تفصیل کے لیے دفتر چاہیے۔اب کیا ان سب احادیث کو نظر انداز کر کے اس کی حرمت میں ذرہ برابر بھی شبہ کیا جا سکتا ہے؟ہر گز نہیں ۔اگر ہم مسلمان ہیں ،نبی ﷺ کی غلامی کا ہم نے کلمہ پڑھا ہے تو اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں کہ ہم دنیا سے ان محرمات میں کتنے پیچھے جا رہے ہیں ؟ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جس کے پیچھے ہم جا رہے ہیں کہیں یہ ہمیں نبی ﷺ کی نسبت سے دور تو نہیں کر رہے ہیں ؟کیوں کہ ایمان اور اسلام کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ قرآن اور احادیث میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے اس میں چوں و چرا کی کوئی گنجائش کسی صاحب ایمان کو نہیں رہنی چاہیے ۔انہیں ریسرچ ،مشاہدہ اور تجربات کے بغیر مان لینا ہی اہل ایمان کی شان ہے جیسا کہ سورہ بقرۃ کی ابتداء میں ہی کہا گیا ہے کہ ’’یؤمنون بالغیب‘‘بن دیکھے یقین کر لیتے ہیں‘‘۔
ہاں! اس سلسلہ میں صوفیاء کے یہاں اس کے رواج کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔تو موجودہ ہئیت کے ساتھ سماع ان کے یہاں ثابت ہونے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا؟۔مروجہ طریقہ پر عورتوں کی آواز اور رقص کے ساتھ اس وقت گانے بجانے اور بینڈ کاتصور اور اس کی تائید ان نفوسہ قدسیہ کے حوالہ سے کم ازکم ایک مسلمان نہیں کر سکتا۔
جو حدیثیں موسیقی وغیرہ کے جواز کے استدلال میں پیش کی جاتی ہیں ان کے بارے میں محدثین کی صراحت یاد رہنی چاہیے کہ وہاں نغمہ گانے والی نابالغہ اور چھوٹی بچیاں تھیں ،جو غیر مکلف ہوتی ہیں اور حضرت عائشہ ؓ کی صراحت کے مطابق ’’پیشہ ور گانے والیں‘‘نہیں تھیں،نیز یہ بھی کہ دف کا استعمال اس زمانہ میں کسی اہم موقعہ کے اعلان کے لیے ہوا کرتا تھا ،آلات موسیقی کے طور پر نہیں (فتح البیان ج ۲،ص۴۴۲)ساتھ ہی صحابیہ کی شادی والی روایت کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ جنگ بدر میں شہید ہونے والے ان صحابیہ کے رشتہ داروں کی یاد میں رزمیہ نظمیں چھوٹی بچیاں گا رہی تھیں جو جہاد کے لیے حوصلہ افزاء تھیں۔نیز یہاں گانا بغیر آلات مراد ہیں جیسا کہ ابن ماجہ میں بھی اس کی صراحت موجود ہے (فتح الباری،ج۹،ص۲۲۶)اور پردہ وغیرہ جیسے احکام ،مدینہ میں مشروع ہوئے ہیں ،مکہ میں نہیں ۔لہذا مطلقاًموسیقی کے جواز میں آپ کے مدینہ میں نابالغہ لڑکیوں کے ذریعہ دف بجا کر استقبال کرنے والی روایت کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔اسی کو ’’پڑھے لکھوں کی زبان میں قیاس مع الفارق‘‘کہتے ہیں ۔جہاں تک ان لڑکیوں کے صوفیانہ کلام پیش کرنے کی بات ہے تو یہ واضح رہے کہ عورتوں کے لیے غیر محرم کے سامنے زور سے تو قرآن مجید کی تلاوت بھی ممنوع ہے۔کیوں کہ ان کی آوازکا بھی پردہ ہے ۔معاذ بن جبل ؓ کی قیاس کی اجازت سے متعلق روایت کی جہاں تک بات ہے تو قیاس صرف حکم کو ظاہر کرتا ہے ،ثابت نہیں کرتا ۔جس کے خود اہم اور نازک اصول قرآن و احادیث سے مستفاد ہیں ۔زیر بحث مسئلہ میں ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے قیاس کر کے اس کو جائز قرار دیا جا ئے۔
یہاں علماء کرام کے اقوال کوبھی ملاحظہ فرمائیے اور مختار میں امام ابو حنیفہ سے یہ منقول ہے کہ اس شخص کی گواہی معتبر نہیں ہوگی جو مجمع میں گائے اس لیے کہ وہ شخص لوگوں کو گناہ پر مجبور کرتا ہے۔محیط میں ہے کہ گانا سننا حرام ہے اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا فتقی موجود ہے کہ جس نے جائز قرار دیا گانے کو وہ فاسق ہو گیا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *