اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے!

2014میں دہلی کے تخت کی جنگ مظفرنگر سے شروع ہو گئی ہے۔ اس جنگ کو فتح کرنے کے لیے عرصہ سے پلاننگ اور کوشش کی جارہی تھی۔ ذات برادری اور مذہب وزبان ہر اعتبار سے سماج میں تقسیم کو خونی کشمکش میں بدلنے کی پوری تیاری ہے۔ اور NDTV کے مشہور اینکر رویش کمار کے مطابق ’مظفرنگر میں سب کچھ ویسا ہی ہورہا ہے جیسا کہا جا رہا تھا‘۔ غلط فہمیاں، پروپگنڈہ اور دہشت پیدا کرنے والی افواہیں پھیلانے کا کام عرصہ سے چل رہا تھا۔ کم سے کم گذشتہ ایک سال سے لگاتار اکسانے والی کارروائیاں شرپسند عناصر خصوصاً دیوبند اور اطراف میں کر رہے تھے۔ جس طرح سے داڑھی ٹوپی والوں یا دیوبند کے طلبا کو ٹارگٹ کرکے ٹرینوں اور بسوں میں مارپیٹ کا شکار بنایا جاتا رہا اور اس کی باقاعدہ شکایت ریلوے اور ضلع کے حکام سے ذمہ داران دیوبند و دیگر سماجی نمائندے کرتے رہے وہ سب ریکارڈ پر موجود ہے۔ یہ سب صرف لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ میڈیا میں تاثر دیا جارہا ہے۔ راقم الحروف کو ریل سے سفر کے دوران اس زہرآلود اور سماج دشمن نفرت انگیز مہم کا ذاتی تجربہ ہے۔ کہ مظفرنگر اور سہارنپور کے درمیان کسی چھوٹے اسٹیشن پر طلبا موبائل پر اشتعال انگیز تقاریر گروپ کی شکل میں سن رہے تھے۔ دوسرے سفر میں اسی علاقہ میں 15منٹ کا سفر کا ٹنا محال ہو گیا جب کہ کچھ ادھیڑ عمر اور کچھ نوجوان لگاتار ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ انہیں ایک بار سبق سکھانا ہے، یہ ہمارے نیتا ووٹ کے چکر میں میل ملاپ کی بات کرنے لگ جاتے ہیں ورنہ ہم تو اب تک انہیں آرپار کی لڑائی لڑ کر ٹھیک کر دیتے۔ اتنی زبردست برین واشنگ اور نفرت کی فصل ایک دن میں نہیں بوئی گئی۔ اس کے لیے بڑا وقت اور منظم کوشش کی گئی ہے۔ جو روزنامہ دی ہندو دہلی کے 11/9/13کے شمارہ سے بھی ظاہر ہے کہ کتنا منظم کام جھوٹے اور بے بنیاد پروپگنڈہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ہندو کے نامہ نگار پرشانت جھاؔ نے وشو ہندو پریشد کے مغربی زون کےذمہ دار چندر موہن شرما سے کھتولی میں بات چیت کی اور لکھا کہ ’مسٹر شرما کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے لو جہاد love jehadشروع کر رکھا ہے۔ اس کے لیے انہیں مدرسہ میں تربیت دی جاتی ہے۔ وہ خوبصورت نوجوان لڑکوں کو تلاش کرکے ان کے سونو، مونو،راجو جیسے مشترک نام رکھتے ہیں انہیں موبائل، موٹر سائیکل دیتے ہیں۔ وہ اسکولوں کے باہر کھڑے ہو کر ہماری لڑکیوں کو اپنی جانب پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ راغب کرتے ہیں۔ پہلے ہماری لڑکیاں منع کرتی ہیں پھر وہ دھیرے دھیرے پھنس جاتی ہیں۔ 100میں سے 95کیس گھر سے بھاگنے والے معاملات میں لڑکیاں ہندو ہوتی ہیں۔ یہ سب ہندو لڑکیوں سے مشین کی طرح بچہ پیدا کراتے ہیں تاکہ علاقہ سے ہندئووں کی اکثریت ختم ہو جائے۔ یہ تقریر مہا پنچایت میں بھی کی گئی۔ بجرنگ دل کے یوپی چیف بلراج سنگھ نے کہا ’کہ سازش بہت گہری ہے کہ کشمیر کی طرح وہ یہاں بھی ہم پر غالب آناچاہتے ہیں۔ وہ ہماری جائیدادوں اور خواتین کو قبضہ میں کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے love jehadکر رہے ہیں‘۔ میرٹھ میں VHPکے تنظیمی سیکریٹری سدرشن سنگھ نے نامہ نگار کو بتایا کہ مہا پنچایت کے بعد جو ہوا وہ گودھرا تھا اور اس کے بعد گاؤں میں جو ہو رہا ہے وہ post-Godhraہے۔ انہوں نے کہا جیت ہماری ہوگی۔ہم اپنے مندروں، عورتوں، گائے، گنگا اور مذہب کی حفاظت کریں گے۔ سب سے اہم اور پتہ کی بات سنگھ (Sangh)کے ایک ذمہ دار نے گمنامی کی شرط پر بتائی کہ ’پہلی بار مسلمان اور جاٹ لڑ رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ پہلی بار جاٹ اپنے آپ کو ہندو سمجھ رہے ہیں۔ اگر اور زیادہ ہندو برادریاں مسلمانوں سے لڑتی ہیں تویہ ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ مسلمانوں کو سبق سکھایا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ وہ ملائم کے ذریعہ یوپی پر حکومت کریں گے۔ ہر برادری سے پہلے مذہب ہے۔ آپ کو پہلے اپنے مذہب کی حفاظت کرنی ہے۔ ہمارا پیغام اچھی طرح لیا گیا ہے۔ بہت سالوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے‘۔(پرشانت جھا۔ دی ہندو، دہلی،11/9/13)
سبرامنیم سوامی نے کچھ دن پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ بی جے پی کو حکومت میں آنے کے لیے ہندووں کو متحد اور مسلمانوں کو منتشر کرنا ہوگا۔ ہندووں کو متحد کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی واحد قومی ذریعہ نہیں ہے، سوائے مسلمانوں سے نفرت و دشمنی کے۔ تبدیلئ مذہب(میناکشی پورم کے بعد)، پیٹرو ڈالر،گاؤکشی(سدا بہار مُدا)جلوس پر پتھر پھینکنا، خواتین سے چھیڑ چھاڑ وغیرہ ہندئووں کو متحد کرنے کے سارے طریقے مسلم اسلام دشمنی کے اردگرد ہی گھومتے ہیں۔ آزادی کے پہلے بھی اور بعد میں بھی یہی صورتحال ہے۔ آزادی کے بعد ایک خطرناک ذہنیت سیاسی جماعتوں میں یہ بن گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو الیکشن کے موقع پر (TINA)نفسیات there is no alternative(کوئی متبادل نہیں ہے) میں ان فسادات کے ذریعہ مبتلا رکھنا چاہتی ہیں۔ اس معاملہ میں سیکولر اور فرقہ پرست دونوں طرح کی صف بندیاں ایک خاموش معاہدہ(unterstanding)کے تحت بنی ہوئی ہیں اور اس پر عمل ہو رہا ہے۔ ورنہ یہ فرقہ وارانہ فسادات ایک منظم طریقہ سے مخصوص اوقات پر ضروت کے مطابق ہی کیوں ہوتے ہیں؟ حکومتوں نے آج تک دہشت گردی کے نام پرجیسا سخت رویہ اور قوانین بنائے ہیں ویسے فرقہ وارانہ فساد کے مرتکبین کے خلاف کیوں نہیں بنائے ہیں؟ پچھلے کئی سالوں سے فرقہ وارانہ فساد مخالف بل پاس کیوں نہیں ہوا؟ غذا کے حق کی طرح کا قانون بنوانے کی عجلت کا مظاہرہ اس قانون کے سلسلہ میں کیوں نہیں کیا گیا؟ کبھی بھی فرقہ پرست ہندو تنظیم پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے؟ گذشتہ ماہ مہاراشٹراکی کانگریس حکومت نے سناتن سنستھا (Sanatan Sanstha)کے خلاف پابندی لگانے کی تجویز مرکزی حکومت کو بھیجی مگر مرکز نے پابندی نہیں لگائی کہ اس تنظیم نے پچھلے 3سالوں میں کوئی سرگرمی نہیں کری ہے۔ مالیگاؤں دھماکہ میں ملوث ابھینو بھارت (کرنل پروہت والی) پر بھی پابندی ابھی تک نہیں لگائی گئی ہے۔ شاید دنیا بھر میں طریقہ یہ ہے کہ ہر نظام اور ملک اقلیت کے مسئلہ میں معاون حل کے طور پر ایک عدد لشکر طیبہ، English defence league، شیو شینا، Dot buster skinhead، کوپالتا پوستا ہے جسے وہ حسب ضرورت استعمال یا رد کرتا ہے۔ ورنہ پچھلے 65سالوں میں مذہبی فرقہ وارانہ معاملات میں انتظامیہ اور مقننہ کی بے عملی اور جانبداری کی وجہ کیا ہے؟ اب تک 25000فسادات میں دو چار کو چھوڑ کر کسی میں بھی سزا نہیں ملی۔ ممبئی فسادات پر شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ پر سردمہری اس کی سب سے مستند مثال ہے۔ اس ذہن کے سیاست دان یہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر انہیں ان کی اوقات میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ جو کام مایاوتی اسی متعصب انتظامیہ کے ذریعہ انجام دے سکتی ہیں وہ مولانا ملائم کیوں نہیں کرا سکتے؟ صرف ٹوپیاں اور عربی رومال پہن کر بیوقوف بنانے کا رواج ختم ہونا چاہیے۔

خود احتسابی

مگر یہاں رک کر اور پوری ایمانداری کے ساتھ ملت کو، اس کے رہنمائووں کو، سیاسی قیادت کو، سیکولر دانشوروں کو بے لاگ اپنا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اپنی تباہیوں میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے؟ ایک خدا، ایک رسول، ایک کتاب، ایک کعبہ کے دعویدار مگر کوئی بھی ملت کو متحد رکھنے کے لیے قربانی دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہر ایک اپنے آپ کو’الجماعت‘ بتا رہا ہے؛ ہر امیر جماعت ’واحد امیرالہند‘ بننے کے موڈ میں ہے ؛ہر دانشور تھنک ٹینک بنا گھوم رہا ہے۔ پھر سلفی اسلام، دیوبندی اسلام، صوفی اسلام، سیاسی اسلام والی تقسیم بھی ہم نے ہی پیدا کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اب اس کو ہوشیار دشمنوں نے اسپانسر کرنا شروع کر دیا ہے۔ نئے نئے پرسنل لاء بورڈ، علما بوڈیز، صوفی مشائخ بورڈ دشمنوں کے ذریعہ اسپانسر ہو رہے ہیں۔ مسجدوں پر قبضہ کی جنگ تمام غنڈہ گردیوں کے ساتھ دیندار لوگ کر رہے ہیں۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ مساجد میں اس کے علاوہ کسی کو بھی عمل دخل کی اجازت نہ ہو۔ تمام نیم سیاسی نیم مذہبی جماعتوں میں صاحبان اقتدار کا قرب یا ہول سول ڈیلر بننے کی بھوک بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ تمام لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ دوسرے کیساتھ ربط اور اشتراک نہیں کر سکتے توکفر اور ضلالت کے فتوے لگانے سے تو بچ سکتے ہیں۔ ہر جماعت جو کام کر رہی ہے وہ اہم اور ضروری ہے اس کو تقسیم کار کے طور پر اختیار کرکے دوسروں کے لیے گنجائش چھوڑنے میں کیا امر مانع ہے سوائے اناو لا غیری کے( ہمارے علاوہ کوئی اور نہیں) آج ہم بین الاقوامی پیمانہ پریہی دیکھ رہے ہیں کہ ا نسانیت کے دشمن ہرجگہ پوری یکسوئی کے ساتھ اسلام پسندوں کو شکست خوردہ دیکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مصر میں اخوان کے خلاف فوج کے مظالم کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ اسد کی فوج کی حمایت کر رہے ہیں کہ کہیں اسلام پسند حکومت نہ بنا لیں۔ وہ ہر جگہ اسلام پسندوں کو شکست دینے کے لیے متحد ہیں۔ شام پر حملہ نہ کرنے کے پیچھے کیا ذہن ہے؟

ہم کیا کر سکتے ہیں

ہمیں اپنا مقصد وجود اللہ کے دین کی دعوت اور بھلائیوں کو پھیلانا اور برائیوں کو روکنا پورے صدق دل اور ثابت قدمی سے اپنانا ہوگا۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے یہاں اخلاقی زوال، شراب نوشی، بے حیائی، زنا، نشہ، چوری تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہمارے ہاں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام ختم ہو گیا ہے۔ جس کی جو سمجھ میں آتا ہے وہ کرتا ہے اور پورا معاشرہ عذاب بھگت رہا ہے۔ ہم غیر مسلموں کو دین کی دعوت پہونچاتے نہیں اور دشمن ان کو دین کے بارے میں غلط پروپگنڈہ سے بھڑکاتے ہیں۔ ہمارے پاس مقامی میڈیا نہیں ہے۔ بڑی کل ہند جماعتوں کے پاس بھی قومی زبان یا انگریزی کا اخبار نہیں ہے۔ ہم خود اپنی خبروں کے لیے مسلم دشمن میڈیا کے محتاج ہیں۔ میڈیا کی طاقت کو ہم اپنی تباہی اور بربادی کی قیمت پرہی نظر انداز کر سکتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کو ترجیحی بنیاد پر ایک ہندی روزنامہ یا ہفتہ وار جاری کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی دارالعلوم اور عام بڑے مدارس کو اپنے آس پاس آبادیوں میں عوامی ربط مضبوط کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ خدمت خلق کے چھوٹے موٹے کام موبائل ڈسپنسریاں، شراب نوشی، نشہ، جہیز وغیرہ کے خلاف مستقل عوامی بیداری کے کم وسائل کے کام کرکے شک و شبہ کی فضا کو ختم یا کم کیا جا سکتا ہے۔غیر مسلم عوام تک سیدھا دعوتی، مخلصانہ اور اصلاحی ربط وقت کا اہم تقاضہ ہے۔
حکومتوں کے ذریعہ پرورش کی گئی نفرت کی پرچارک فرقہ پرست تنظیموں کو عدالت میں لایا جانا ضروری ہے۔ ان کے زہریلے بے بنیاد پروگنڈہ سے ہی نوجوان غیر مسلم ذہن مسموم ہو رہا ہے۔ جس طرح دہشت گردی کے نام پر فرضی انکاؤنٹر اور گرفتاریوں میں عدالتی کارروائی ہو رہی ہے اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت شر پسندوں کے اس طرح کے منافرت پھیلانے والے بیانوں کے خلاف میمورنڈم دینے کے بجائے ہائی کورٹ و سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن تک کارروائی کرنی چاہیے۔ اس سلسلہ میں کل 11/9/13کو دہلی میں وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی سرپرست اشوک سنگھل نے ایک بار پھر ’ لو جہاد‘ کو مسئلہ کی جڑ اور خلیجی ممالک سے امداد نیز اس کے ختم نہ ہونے پر اور معاملات پر تشدد کی دھمکی دی ہے۔ ثبوت کے طور پر بتایا ہے کہ ہم ایک کتابچہ جلد شائع کریں گے۔ (ہمارا سماج، نئی دہلی12/9/13)
گذشتہ سال کیرالہ میں بھی اسی طرح کا ہنگامہ ’لوجہاد‘ کے نام پر کیاگیا تھا۔ جس پر کیرالہ ہائی کورٹ نے تحقیقات کرائی تھی اور اس کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔ اسی طرح کی پٹیشن اشوک سنگھل کے خلاف دہلی میں فوری ہونی چاہیے تا کہ وہ ثبوت پیش کریں، نہیں تو ہائی کورٹ سے قانونی سزا کی مانگ کی جائے۔ پورے فرقہ کو نشانہ بنا کر دیے گئے شر انگیز بیانوں پر کسی ایک تنظیم کی طرف سے قانونی کارروائی کیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح پرنٹ میڈیا کی افواہ بازیوں پر پریس کونسل میں چارہ جوئی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملی قیادت کو اس حکومت کے جانے سے پہلے فرقہ وارانہ فساد مخالف بل پاس کراکر قانون بنانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ بلکہ جب تک مانگ منظور نہ ہو مسلسل دھرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ ایک طرف ملک کی ترقی اور اندرونی سیکورٹی کی بات کی جاتی ہے دوسری طرف نفرت، قتل، تشدد کو روکنے کے انتظامات نہیں کیے جاتے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
راقم الحروف سیکورٹی کا ماہر نہیں ہے مگر سائنس کے اس دور میں ہم گھسی پٹی روایتوں اور وسائل کو ہی استعمال کر رہے ہیں۔ مظفر نگر فساد میں 150کلو میٹر کے علاقہ میں بیک وقت تشدد ہو رہا ہے اس چیلنج سے نپٹنے کے لیے ریاستی سرکار ایک دو ہیلی کاپٹر لگا دیتی تو ٹائم فیکٹر جو فسادیوں کی مدد کر رہا تھا اس پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ ہیلی کاپٹر صرف نیتاؤں کے دورہ کے لیے نہیں مختص ہونے چاہیے ایسی ایمرجنسی صورتحال میں ان سے جلد سے جلد مدد کی جگہ پہنچنے میں آسانی رہتی۔ ایسے حالات میں صبر، اللہ پر بھروسہ، آخرت کی جزا وسزا پر یقین اور ہر ممکنہ قانونی و اخلاقی طریقہ سے اپنے جان، مال، عزت،آبرو کی حفاظت کرنا ہی اہل ایمان کا شیوہ اور انبیاء و شہداء کا طریقہ رہا ہے۔ چیخ وپکار، بے صبری اہل ایمان کو زیب نہیں دیتی۔ اللہ ظالموں کو صرف مہلت دیتا ہے اور دنیا وآخرت دونوں میں ان کو ذلیل کرنے والا دردناک عذاب دے گا۔ کوشش یہ ہو کہ ہم خود ظالموں میں سے نہ ہوں اور اللہ کی زمین پر امن، انصاف، برائیوں کے خاتمہ اور بھلائیوں کے فروغ کے لیے کام کرتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہوں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *