بی جے پی،کانگریس اور مسلمان

ہندوستان میں آزادی کے بعد دو بڑی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ایک کانگریس اور دوسری بھارتیہ جنتا پارٹی۔ان دونوں پارٹیوں کا مقصد ایک ہی تھا ،وہ یہ کہ مسلمانوں کو ہر لحاظ سے تباہ و برباد کرنالیکن دونوں کا طریقہ کار الگ ہے۔بی جے پی جہاں مسلمانوں کی کھلی دشمن ہے وہیں کانگریس بھی اس سے کسی لحاظ سے کم نہیں ہے البتہ اس نے سیکولرزم کا پرفریب مکھوٹا پہن رکھا ہے۔اسی وجہ سے کچھ سادہ لوح مسلمان بی جے پی کو اپنا دشمن اور کانگریس کو ہمدرد سمجھتے ہیں۔دونوں میں فرق بس اتنا ہے کہ اول الذکر پارٹی اسلام مخالف دشمنوں کا ایک منظم گروہ ہے جو کھلم کھلا مسلمانوں کی مخالفت کرتی ہے اور ان کے نزدیک مسلمانوں کے لیے صرف د و ہی راستے ہیں ۔
اول یہ کہ وہ دوبارہ ہندو مذہب میں لوٹ آئیں۔ دوم یہ کہ مسلمان خود کو مکمل طور سے ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اوران کے کسی بھی ظالمانہ عمل پر نہ تو منہ کھولیں اور نہ ہی کوئی عملی اقدام کریں۔ اس کے لیے ان کی سب سے فعال تنظیم ’آرایس ایس‘ پورے ملک میں سرگرم ہے اور ہندوستان کو’ ہندو راشٹرا‘ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ ثانی الذکر پارٹی بھی یہی کام کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی رفتار سست ہے۔اس کی مختلف وجوہات اور مصلحتیںہیں ۔پھر یہ کہ اس کے بانیوں میں انگریزوں کا خون دوڑ رہا ہے جو اپنی عیاری و مکاری کے لیے مشہور ہیں ۔علاوہ ازیں ان میں ہندوستان کے’شدت پسندوں‘ کا خون شامل نہیں ہے۔
۲۰۱۴ ءکا الیکشن قریب ہے ۔دونوں مذکورہ بالا پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے مسلمانوں کو لبھانے اور ان کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔بی ۔جے۔پی تو اپنا الگ ہی مخصوص راگ الاپ رہی ہے ۔اس کو مسلمانوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔آزادی کے بعد صرف ایک بار اقتدار میں آئی اور اس نے اپنی ذہنیت کے مطابق ـ’گجرات فساد‘کی شکل میں ہندوستان کو تحفہ دیا،جس کے کرتا دھرتا گجرات کے وزیرِ اعلی نریندر مودی تھے اور حال ہی میں انھوں نے مسلمانوں کو ’کتے کاپلاّ‘ کہہ کر اپنی سطحی ذہنیت کا ثبوت دے دیا ہے لیکن تب بھی ہمارے بعض ’معصوم‘ علماء اور قائدین اس کے گن گاتے ہیں اور ان سے ملاقات کر کے’ موسیٰ کی طرح پیغام‘ پہنچاتے ہیں۔
جہاں تک کانگریس کی بات ہے تویہ پارٹی (پچھلے)نو سال سے برسرِاقتدار ہے لیکن اتنی لمبی مدت پانے کے باوجود اس نے مسلمانوں کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا ہے۔مسلمان تعلیمی،معاشی ،سماجی لحاظ سے دلتوں سے بھی بدتر ہیں۔سچر کمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن وغیرہ پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے صرف کاغذی نمائش بنی ہوئی ہے۔وزیر امور اقلیت کے رحمٰن خاں صاحب کے بقول ۷۶ اقلیتی سفارشات میں سے ۶۹ پر عمل کیا جا چکا ہے،غالبا موصوف کی مراد’ کاغذی عمل‘ تھا ورنہ ابھی تک تو کوئی کام دکھائی نہیں دے رہا ہے اور موصوف نے ہندوستان میں ۵ اقلیتی یونیورسٹیاں کھولنے کا خواب دکھایا ہے مگر جو پہلے سے مسلم یونیورسٹیاں ہیں ان کو اقلیتی درجہ نہیں دلا سکے ہیںاور نہ دلا پائیں گے۔
وزیر خارجہ سلمان خورشید صاحب نے بھی ایک لولی پاپ مسلمانوں کو دیا ہے کہ اقلیتوں کو نوکریوں کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے جلد ہی ایک کمیشن قائم کیا جائے گا،اب لوگ خود ہی سمجھ لیں کہ صرف کمیشن ہی ’قائم ‘ہوگا۔اس کے علاوہ یہ پارٹی پارلیمنٹ میں انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل منظور کرنے میں ناکام رہی ہے۔جب کہ آزادی کے بعد سے فرقہ وارانہ فساد ہوتے آرہے ہیں جس میں مکمل طور سے نقصان مسلمانوں کا ہوتا ہے۔
آئندہ تین ماہ میں کئی ریاستی اسمبلیوں کے اور پھرآئندہ سال لوک سبھا کے جنرل الیکشن کی آمد کے پیشِ نظر فسطائی طاقتیں اپنے ووٹ اور انتخابی سیاست کے لیے فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یوپی بہار کو خاص طور سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسی لیے یہ دونوں ریاستیں فرقہ وارانہ آتش فشاں بنی ہوئی ہیں۔یوپی میں ۲۰۱۲ء میں ۱۱۸ فرقہ وارانہ فساد ہوئے جس میں ۳۹ کی موت اور ۵۰۰ سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ۲۰۱۳ء میں بھی ۲۸ سے زائد فسادات ہو چکے ہیں۔بہار میں کھگڑیا،جموئی،بتیااور نوادہ میں فسادات ہو چکے ہیں،جس میں اقلیتی فرقہ کا ہی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
فرقہ وارانہ فساد وہ ہوتا ہے جس میں مختلف قومیں آپس میں لڑتی مرتی ہیں اور کمزور قوم زیادہ نقصان اٹھاتی ہے،مگر یہاں پر تو درحقیقت مسلمانوں کو حکومت کی پولس اور فوج سے لڑنا پڑتا ہے اور غیروں کو ان کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے،اس لیے اس کو فرقہ وارانہ فساد کہنا خالص بکواس ہے۔
فسادات کی وجہ کیا ہے؟عام لوگوں کا یہ گمان ہے کہ یہ ان جگہوں پر ہوتے ہیں جہاں مسلمان معاشی طور پر مستحکم ہوں یا تجارتی میدان میں ترقی کر رہے ہوں تو اس کو اکثریتی طبقہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور پھر وہ کسی نہ کسی بہانے سے فساد برپا کراتا ہے تاکہ مسلمان معاشی،تجارتی،سماجی بلکہ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے ہو جائیں اور مسابقت کے قابل نہ رہیں ۔ اس تھیوری میں سچائی ضرور ہے لیکن سب کچھ یہی نہیں ہے ۔
آخر ملک گیر سطح پر یا اتنے بڑے پیمانے پرفساد ہونے کے پیچھے صرف یہ سوچ تو نہیں ہو سکتی ہے۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومتی سطح پر بھی مسلمانوں کے خلاف ایک خاموش پالیسی اپنائی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن کر ان کے رحم و کرم پر رہیںاور بڑی بڑی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔کبھی خواب میں بھی یہ خیال نہ آئے کہ وہ بھی کبھی اس ملک کے حکمراں تھے۔اس لیے ضروری ہے کہ ان پر ہمیشہ خوف کی حالت طاری رکھی جائے، ان کو ہر لمحہ اپنی جان ومال عزت و آبرو کے لٹ جانے کا خطرہ ہو اور ایک سمجھ دار اقلیت کی حیثیت سے جینا قبول کر لیں ورنہ اگر ان کو اپنی تعداد کا صحیح اندازہ ہو گیا اور خوف سے نکل کر مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی کرنے لگے توکایا ہی پلٹ جائے گی۔ غور کیا جائے تو یہ لوگ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہیں ۔مسلمانوں کی اکثریت اب صرف اپنے تحفظ و بقا کی کوشش میں مصروف ہے اورخود سے اوپر اٹھ کر ملت اور اسلام کے لیے کچھ کرنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔
مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی کوئی اپنی ایسی قیادت نہیں ہے جو سیاست میں اہم کردار ادا کر سکے ۔کہنے کو تو بہت ساری سیاسی پارٹیاں ہیں ویسے بھی یہ قوم دو کام میں بہت ماہر ہے۔اول سیاسی پارٹی بنانا اور دوم انجمنیں یا کمیٹیاں قائم کرنا۔لیکن ان کا نہ تو کوئی مقصد ہے اور نہ ہی عزم و ارادہ۔اگرچہ مسلمانوں کے مسائل پر بحث ومباحثہ ،کانفرنس اورسیمینار وغیرہ بڑی تعداد میںہوئے ہیں لیکن ا س سے اصل مقصد حاصل نہیں ہو سکا ہے ،ہاں البتہ’ مرغ مسلم ،بریانی ،کولڈڈرنک اور کافی‘ وغیرہ کی فروخت میں اضافہ ضرور ہوا۔ اسی لیے ان سے مسلمانوں کوکوئی خاص فائدہ نہ ملا۔حالات کل بھی تشویش ناک تھے اور آج بھی ہیں اور اس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ہر آنے والے دن میں مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مسلمانوں سے فی الحال سیاسی قیادت کی توقع کی بھی نہیں جا سکتی ہے ۔جب یہ لوگ ایک ’چھوٹی تنظیم،مدرسہ،اکیڈمی ،مساجد اور یتیم خانے‘ نہیں سنبھال پاتے ،ان میں بھی گروپ بندی ،آپسی اختلافات ،ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش اور اقتدار حاصل کرنے کی پوری دوڑ لگی رہتی ہے تو ایک ملک کی قیادت کیسے کر سکتے ہیں؟عموماً مدرسہ جس نے قائم کیا،اسی کے خاندان کے صدریاناظم ہوتے رہیں گے،ایسا لگتا ہے کہ گویا ان کے علاوہ ذہین لوگوں کاقحط الرجال پڑ گیا ہو۔ فرض کریں کہ اچانک سے ایک معجزہ ہو جائے اور ملک کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ آجائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ چند دنوں میں حالات موجودہ صورتِ حال سے زیادہ خطرناک ہو جائیں ۔ اسی انتشار کی وجہ سے آج ہماری یہ حالت ہے ۔ ہم نے جتنے بھی منصوبے بنائے سب کے سب ناکام ہوئے۔اردو زبان محفوظ رکھنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ملی بلکہ خود اپنی نئی نسل میں منتقل نہیں کر سکے۔اسی طرح سے وقف بورڈ،پرسنل لا بورڈ کی تحریکیں،مسجدوں کی شہادتیں،فسادات،جھوٹے مقدمے،فرضی انکاؤنٹراور دہشت گردی کے جھوٹے الزامات اور گرفتاریوں پر روک لگانے میں بھی ناکام رہے۔ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ہماری نہ تو کوئی منزل ہے اور نہ ہی کسی بڑی جدوجہد کے لیے قربانی دینے کا جذبہ۔
اگر کچھ کرتے ہیں تو بس چند جلسوں کا انعقاد،کچھ رسمی قرار داد وں کی منظوری یا زیادہ سے زیادہ چند گھسے پٹے اور سالوں سے چلے آرہے مطالبات کو لے کر وزیر اعظم تک جانا اور فوٹو کھینچا کر واپس آجانا۔ہماری قیادت صرف زبانی مطالبات اور خوشامدوں کے ذریعہ تمام مسائل کا حل چاہتی ہے ۔اسی لیے برسرِاقتدار حکومت سے جی بھر کر اور دل کھول کر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے یا ویسا نہ کرے،فلاں فیصلہ واپس لے،مسلمانوں کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے،الیکشن میں سبق سکھا دیں گے وغیرہ وغیرہ۔
ظاہر سی بات ہے کہ جب حکومت ایک سوچی سمجھی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت مسلمانوں میں بے بسی اور لاچاری کا احساس پیدا کرنے کے لیے ہر طرح کی چال چل رہی ہو اور اس کے لیے پالیسیاں بنا کر نافذ کر رہی ہو تو وہ بھلا خالی خولی ان بے جان مطالبات سے کیوں مان جائے گی؟؟اس کی تو پالیسی ہی یہی ہے کہ پہلے مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کرو او ر جب مسلمان احتجاج کریں تو اس میں کچھ کو حل کر کے ان کی ساری ہمدردیاں سمیٹ لواور سیکولرزم کے پرفریب مکھوٹے میں راج کرتے رہو۔
بے چارے بھولے بھالے مسلمان ان پارٹیوں کے دکھائے ہوئے سیکولرزم کے خواب میں اس طرح سے مگن ہیں کہ اچانک سے ایک دن ان میں سے ایک’ فرشتہ صفت انسان‘ اٹھے گا اور دستورِ ہند جس کی بنیاد سیکولرزم پر رکھی گئی ہے ،اسی کے مطابق حکومت کرنے لگے گا اور مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے،ہر طرف امن و سکون قائم ہو جائے گامگر آخر وہ فرشتہ صفت انسان کب اور کیسے وجود میں آئے گا؟کیوں کہ سیکولرزم میں تو مذہب کا دخل ہے نہیں اور اگر ہوتا بھی تو ہندو مذہب میں اسلام کی طرح منصفانہ باتیں اور تعلیم تو ہے نہیںکہ وہ اس کے مطابق حکومت چلائے گا؟جو کچھ تھوڑی بہت ہیں بھی تو جب مسلمان قرآن و حدیث کے ہونے کے باوجوداپنے کردار و عمل میں اس کے مطابق نہیں ہیں تو بھلا ہم غیرو ں سے کیوں اور کیسے امید رکھ سکتے ہیں؟؟
مسلمانوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ حکمراں پارٹی ہو یا کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو سب مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ان کو دیکھنا نہیں چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ انھیں کے سامنے اپنی جان و مال کی خاطر حاضری دیں ۔یہ ایک ایسی بھول بھلیاں ہے جس میں مسلمان ۶۶ برس سے بھٹک رہے ہیں۔آزادی کے بعد سے وہی سارے مسائل اور پھر اس کو حل کرنے کے لیے ملی قائدین اور علماء کرام کا وہی انداز،وہی جلسے جلوس ،نعر ےبازی اور تقاریر میں وہی گھن گرج رہتی ہے۔حاصل کچھ نہیں ہوتاہے ۔
ہمارے سیاسی مسلمان جو وزیر ہوں یا پارلیمنٹ کے رکن ہوںیا پھر بڑے بڑے عہدے پر فائز لوگ ،ان کی اہمیت پارٹی میں بڑھا چڑھا کے دکھائی جاتی ہے مگر حقیقت میں ان کے ہونٹ سل دیے جاتے ہیںاور یہ اپنی مرضی سے اف بھی نہیں کر سکتے۔اب اگر کوئی ان سے یہ گمان رکھے کہ یہ لوگ پارلیمنٹ یا اسمبلی میں مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں گے تو یہ ان’ معصوم غریبوں‘ کے ساتھ بھیانک مذاق ہوگا۔اسی وجہ سے یہ لوگ ہمیشہ دفاعی انداز سے لکھتے اور بولتے ہیں،خواہ دہشت گردی کا معاملہ ہو یا مسلم نوجوانوں کی فرضی گرفتاری ،مساجد کی شہادت ،وقف بورڈاور فسادات کا مسئلہ ہو۔عاجزی سے کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر ظلم نہ کریں ، بس آزادی سے رہنے دیں ،جنگ آزادی میں ہم لوگوں کا بہت تعاون رہا ہے تو اس ملک میں ہمارا بھی حق ہے،آپ لوگ ہمیں بس جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیں ،بس پھر ہم نہ صرف آپ کے ساتھ ہیں بلکہ ہمارا ووٹ،جان اور ایمان سب آپ کا ہے۔(الا ماشاء اللہ)
اوپر سے مسلمانوں کا اس بات کا رونا کہ پارلیمنٹ اور وزارت میں ہماری تعداد کم ہے اور مناسب نمائندگی نہیں مل رہی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں تو مسلمانوں کی نمائندگی ہے ہی نہیںاور جن کی تعداد گھٹ بڑھ رہی ہے وہ تو انھیں کے نمائندے ہیں تو بھلا ان کی تعداد میں کمی بیشی ہونے سے امت کی’ صحت‘ پر کیا اثر پڑے گا؟نقصان تو ان پارٹیوں کا ہی ہو گا کہ ان کے وفاداروں کی تعداد کم ہو گئی۔اس نظام میں مسلمان پارلیمنٹ میں رہیں یا سڑک پر جھاڑو لگائیں ،اسلام اور مسلمانوں کے حالات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،سوائے اس کے کہ سیاسی غلامی کا احساس تھوڑا کم ہو جائے گا۔اصلاً تو ان پارٹیوں کو فائدہ ہوتا ہے کہ وفاداروں کی ایک جماعت ہاتھ آجاتی ہے،اس میں ان کا کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا کیوں کہ سب کچھ تو ان ہی کے کنٹرول میں ہوتاہے اور ان لوگوں کو غیر اہم عہدے دے دیے جاتے ہیں،وہ بھی حقیقت میں انہیں کے تصرف میں ہوتا ہے ،بس مسلمانوں کے ماسک اس پر لگے ہوتے ہیں۔اگرغور کیا جائے کہ پارلیمنٹ میں مسلم اراکین اور وزراء نکال دیے جائیں تو امت مسلمہ پر کون سی’ نئی آفت‘ آجائے گی؟؟زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہوگا کہ نکلنے والے لوگ اس آسائش و آرام کی زندگی سے محروم ہو جائیں گے،جس میں فی الحال گلے تک ڈوبے ہوئے ہیں۔
آج ہم اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں لیکن اس کے لیے نہ تو ہمارے ذہنوں میں کوئی واضح منصوبہ ہے اور نہ ہی عملی اقدام اور ہم نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے بھی غافل ہیں جس میں آپﷺ نے فرمایا یا غلام احفظ اللہ یحفظک۔(اے نوجوان! اللہ کو یاد رکھ وہ تہماری حفاظت کرے گا)اگر ہمارے دلوں میں یہ خیال ہے کہ وزیر اعظم،وزراء یا حکمراں پارٹی کے لیڈروں کی خدمت میں درخواست پیش کرنے اور ملی تقاریب میں ان لوگوں کو بلانے سے مسائل حل ہو جائیں گے اور ظلم و ستم کا سلسلہ بند ہو جائے گا تو ایک طرح سے ہم نے خود کو اللہ تعالی کی حفاظت سے نکال کر شیطان کے حوالے کردیا۔اسی لیے قرآن نے بار بار تاکید کی کہ اپنے مددگار اور ساتھی کفار اور مشرکین میں نہ تلاش کریں۔ارشادِ ربانی ہے :
ائے لوگو جو ایمان لائے ہو،یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو،یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے،یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے۔(المائدۃ:۵۱)
ہم لوگوں کی یہ کیسی اسلامی زندگی ہے کہ پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں گزر جائے اور جسم میں ایک کانٹا بھی نہ چبھے؟اگر ایسے ہی ٹھنڈا ٹھنڈا راستہ جنت کی طرف جاتا ہو تو اللہ تعالی نے جان ومال کی قربانی کیوں مانگی تھی؟اگر صرف ذکر و تسبیح ، وظائف اور کمروں میں بیٹھ کر ’میٹنگ‘ کرنے سے ہی جنت کا حصول ممکن ہوتا تو یہ کیوں کہا جاتا کہ جنت تلواروں کی چھائوں میں ہے؟؟اسلام نہ ہوا، لولی پاپ ہو گیاجس پر عمل کرنا میٹھا بھی اورآسان ہے۔مسلمان بھی خوش اور غیر بھی خوش۔ ’بٹر اسکاچ مسلمان‘ سمجھ رہے کہ ہمیں جنت مل رہی اور کفار بھی خوش کی ہمیں اسلام سے کوئی خطرہ نہیں۔
ہمارے پاس دو راستے ہیں ،یا تو حالات کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے باقاعدہ نئی منصوبہ بندی کریںاور مسلمانو ں کو اس بات کا احساس دلائیں کہ ان کی حفاظت کا کام ان حکمرانوں کا نہیں بلکہ اللہ تعالی کا ہے،اس لیے کہیں جانے ،فدویانہ بیانات دینے،گڑگڑا کر اپنے مقدمے پیش کرنے کے بجائے خود اپنی بنیادوں پر حالات کو بدل ڈالنے کی جدوجہد کریں اور اس بات کا یقین رکھیں کہ اللہ تعالی کی غیر معمولی مدد ساتھ ہوگی۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہلِ ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ‘‘(المائدۃ:۵۶)
ورنہ پھر یہی شکل رہ جاتی ہے کہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں، بی جے پی یا کانگریس کو اپنا مسیحا سمجھتے رہیں، سیکولرزم کی حمایت کرتے رہیں اوران کا ووٹ بینک بنے رہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *