تم میراثِ ابراہیم ؑکے امین ہو

اللہ پاک نے مسلمانانِ عالم کو دو عظیم خوشی کے دن دئیے ہیں، ’ عید الفطر ‘جو ماہ ِ رمضان کے روزوں کی تکمیل پر بطور انعام کے ملتا ہے اور دوسرا خوشی کا دن عید الاضحی جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ کی جانب سے اللہ کے حضور پیش کی گئی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لئے ملتا ہے۔ اس دن مسلمانانِ عالم اللہ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں، خوشی کے ان دونوں مواقع پر ( عید الفطر اور عید الاضحیٰ )روزہ رکھنا حرام ہے۔
ان رسول اللہﷺ قد نھا کم عن صیام ھذین العیدین اما احد ھما فیوم فطرکم من صیامکم و اما الاخر فیوم تا کلون من نُسوککم (بخاری شریف کتاب الاضاحی ۵۳۵)
رسول پاکﷺ نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرما یا ہے، ایک تو وہ دن ہے جس دن تم رمضان کے روزے پورے کرکے افطار کرتے ہو، اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔
آپﷺ عید گاہ کیلئے نہ نکلتے تھے عید الفطر میں جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے تھے اور نہ کھاتے تھے عید الاضحی میں جب تک کہ نماز نہ پڑھ لیتے تھے۔ (ترمذی شریف جلد اول باب فی الاکل یوم الفطر قبل الخروج )
آپﷺ نے یہ بھی تاکید فرمائی کہ جس کا قربانی کا ارادہ ہو وہ بال اور ناخون نہ ترشوائے، حضرت ام سلمیٰؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس آدمی کے پاس قربانی کا جانور ذبح کرنے کیلئے ہو تو جب وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے تو وہ اس وقت تک اپنے بالوں اور اپنے ناخونوں کو نہ کٹوائے جب تک کہ قربانی نہ کر لے۔ (صحیح مسلم کتاب الاضاحی ۵۱۲۱)
اس حدیث کے حاشیہ میں یہ مذکور ہے ’ آپﷺ کا یہ حکم استحباب کے درجے میں ہے اگر آدمی اس پر عمل کر ے تو یہ عمل حجاج کرام کے مشابہ ہوگا، جس طرح حاجیوں کے لئے احرام کی صور ت میں ناخنوں اور بالوں کو کٹوانے کی اجازت نہیں ہے اور اس حالت میں ان پر اللہ کی طرف سے جو رحمتیں برستی ہیں تو اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ ان کی مشابہت اختیار کرنے کے نتیجہ میں ان لوگوں کو بھی جو سرزمین حج نہ پہنچ سکتے ہوں اور وہ حجاج کی طرح صرف مشابہت اختیار کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی اپنی رحمت میں شامل فرمالے۔ ‘
آپﷺ عید کی نماز سے فراغت کے بعد عید گاہ میں ہی مینڈھے کی قربانی اپنے ہاتھ سے کرتے، آپﷺ نے تاکیداً فرمایا کہ ’جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے لیے جانور ذبح کر تا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوئی، وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الاضاحی ۵۲۰)
ان ایام قربانی میں قربانی کی اس قدر اہمیت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قربانی کی سکت رکھنے کے بعد بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ)
قربانی کے دنوں میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے افضل کوئی نیکی نہیں ہے۔
’عَنْ عَائشَۃ اَنَّ رَسُوْلﷺ قال مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ مِنْ عَمَلِ یَومِ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلٰی اللّٰہِ مِنْ اِھرَاقِ الدَّمِ اِنَّہُ لَیَاتِیَ یَومَ الْقِیٰمَۃِ بِقُرُو نِھَا وَ اَشْعَارِھَا وَ اَظْلَا فِھَا وَ اِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکاَنٍ قَبْلَ اَن یَّقَعَ مِنَ الْارْضِ فطیبو ابھا نفساً۔ (ترمذی شریف ابواب الاضاحی باب ماجاء فی فضل الاضحیۃ)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’ نہیں کیا آدمی نے کوئی عمل نحر کے دن زیادہ درست اللہ کے نزدیک خون بہانے سے، یعنی قربانی ذبح کرنے سے اور جانور قربانی کا آوے گا قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں، اور کھروں سمیت اور خون گرتا ہے اللہ تعالیٰ کے آگے مکانِ قبولیت میں اس سے پہلے کہ زمین پر گرے، سو خوش دل ہو تم اس بشارت سے۔ ‘
ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی سیرت کو جس کو اللہ نے بہترین اسوہ قرار دیا ہے ’ بے شک تمہارے لئے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کی زندگیوں میں بہترین نمونہ ہے۔ ‘(سورۃ ممتحنہ)اپنی زندگیوں کو انہیں کے اسوہ کی روشنی میں ڈھالنا ہے تاکہ میراثِ خلیل کے سچے وارث بن سکیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہ پجاریوں کے مہنت کا گھر تھا، شرک و بت پرستی کا گہوارہ تھا، ورثے میں حضرت ابراہیم ؑ کو وہی گدی ملنے والی تھی، لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے اس شرک و بت پرستی سے برأت کا اعلان کر دیا ہے۔ اِنِّی بَرِیئ مِماَّ تُشرکونْ (الانعام ۷۸) اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السمٰوٰتِ و الْاَرْض حنیفاً وَّما انا من المشرکینo (الانعام ۷۹) اور سب سے کٹ کر صرف ایک اللہ کے بندے ہونے کا اعلان کر دیا، اور اپنے والد کو بت گری اور بت پرستی سے روکنے کی کوشش کی۔
وَ اِذْ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰذَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَاماً اٰلھۃً اِنِّی اَرَاکَ وَ قَوْمَکَ فِی ضَلالٍ مُّبین (انعام ۷۴)
’ابراہیم کے واقعے کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ آذر سے کہا تھا کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمرہی میں پاتا ہوں۔ ‘ پھر کیا تھا پروہت کے گھر میں زلزلہ آگیا، باپ نے دھمکی دی کہ ابراہیم اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو میں تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا۔ قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یَا اِبْرَاھِیْمَ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمنَّکَ وَا ہْجُرْنِی مَلِیاًo (مریم ۴۶)
’ان کے باپ نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے، اگر تو باز نہ آیا تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا۔ بس تو ہمیشہ کیلئے مجھ سے الگ ہوجا۔ ‘
ان تمام تر دھمکیوں کے باوجود بھی حضرت ابراہیم ؑ نے بہت ہی پیارے انداز میں اپنے والد کو دعوت دی، ’ ابا جان آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں، ابا جان میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ہے، آپ میرے پیچھے چلیں میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا، ابا جان آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمن کا نا فرمان ہے، ابا جان مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں۔ (سورۃ مریم ۴۲۔۴۵)
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو بڑے ہی پیارے اور مدلل انداز میں دعوت دی ’حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے پوچھا یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں، اور ان ہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں، انہوں نے پوچھا کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں۔۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے، اس پر ابراہیم نے کہا کبھی تم نے آنکھیں کھول کر ان چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا کرتے رہے ہیں ؟ میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی رہنمائی فرماتا ہے، جو مجھے کھلاتا ہے، پلاتا ہے اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے اور جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ مجھے زندگی بخشے گا، اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔ (الشعراء ۷۰۔ ۸۲)
حضرت ابراہیم ؑ نے دعوتی حکمت عملی کے تحت بتوں کو پاش پاش کر ڈالا تاکہ بت پرستوں کے دلوں سے بتوں کا احترام ختم ہو۔ فَرَاغَ اِلٰی اٰلِھَتِھِمْ فَقَالَ اَلَا تَاکُلُوْنْ، مَالَکُمْ لَا تَنْطِقُوْن فَرَاغَ عَلَیْھِمْ ضَرْبًا بِالْیَمِینْ(الصافات ۹۱ تا ۹۳)
’حضرت ابراہیم ؑ چپکے سے ان کے بت خانے میں گھس گئے اور تمسخر کے انداز میں فرمایا کھاتے کیوں نہیں؟ ارے کچھ بولتے بھی نہیں ؟ اس کے بعد وہ ان بتوں پر پل پڑے اور سیدھے ہاتھ ساتھ خوب ضربیں لگائیں ‘ دعوتی حکمت عملی کے عین مطابق بادشاہِ وقت کے سامنے دعوت حق پیش کرنے اوربتوں کی بے وقعتی واضح کرنے کا موقع ہاتھ آگیا حضرت ابراہیم ؑ سے پوچھا گیا کہ ہمارے ان بتوں کی یہ درگت تم نے بنائی ہے؟ حضرت ابراہیم ؑ تو اسی کے منتظر تھے، جواباً کہا بَلْ فَعَلَہُ کَبِیْرُھُمْ ھٰذا فَسْئَلُوھُمْ اِنْ کَانُو یَنْطِقُوْن۔ (الانیاء ۶۳) ’بلکہ یہ سب کچھ ان کے سردار نے کیا ہے، انہیں سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں۔ ‘ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ جواب بت پرستوں کیلئے کاری چوٹ ثابت ہوا، اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ’پھر کیا تم اللہ کو چھو ڑ کر ان چیزوں کو پوج رہے ہو، جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں، نہ نقصان، تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر، جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے۔ ‘ (الانبیاء ۶۶۔۶۷)
اور اس دعوت حق کے نتیجے میں حق و باطل کی مبینہ کشمکش اور شدید ہو گئی، بادشاہ وقت اور پوری قوم نے بیک زبان ہو کر کہا حَرِّقُوْہُ وَ انْصُرُوْا اٰلِھَتِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِیْنْ (الانبیاء ۶۸) ’جلا ڈالو اسکو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔ ‘
شرک سے برأت اور بتوں کو ان کی اوقات بتانے کی پاداش میں حضرت ابراہیم ؑ کیلئے نار نمرود دہکائی گئی قَالُوْ ابْنُوْ لَہُ بُنْیَانًا فَاَلْقُوہُ فِی الْجَحِیْمِ (الصّٰفّٰت ۹۷)
’انہوں نے آپس میں کہا کہ اس کیلئے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو۔‘
وہ اللہ جس نے زمین کو روئیدگی بخشی۔ سبزوں کو تازگی دی۔ سورج کو تمازت اور چاند کو حلاوت دی۔ جس نے آگ کو جلانے کی صفت اور پانی کو طراوٹ دی اسی اللہ نے اپنے خلیل کیلئے آگ سے اس کی جلانے کی خاصیت ختم کرکے گلزار بنادیا۔ آگ کی لپٹیں اور شعلے براہیمی ایمان کو متزلزل نہ کر سکے، البتہ ابراہیم ؑ کی عشق کی آگ نے نار نمرود کو سرد کر دیا۔
اس حق کے شیدائی کیلئے آزمائش کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا، گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی۔ ہجرت کرنا، گھر بار، گاؤں علاقہ چھوڑ کر نکلنا بڑا مشکل کام ہے لیکن اس بندۂ خدا نے اللہ کی خاطر اللہ کی طرف ہجرت کرنے کا اعلان کر دیا۔ اِنِّی مُھَاجِرٌ اِلیٰ رَبِّی اِنَّہُ ہُوَا الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم (عنکبوت)
’ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ ( یعنی اپنی رب کی خاطر گھر اور وطن چھوڑ رہا ہوں)وہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔ ‘
خون آجائے گا آنکھوں میں جو گھر چھوڑوگے
عام انسانوں کے بس کا نہیں ہجرت کرنا
اللہ کی خاطر اللہ کی زمین پر پھرتے رہے، عراق سے ملک شام گئے، فلسطین گئے، مصر گئے، عرب گئے اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہے اور جب ۹۰؍برس کے ہوئے تو فکر ہوئی کہ اس کام کیلئے کوئی جانشین ہو اس غرض سے وہ اللہ سے اولاد کے آرزو مند ہوئے۔
رَبِّ ھَبْ لِی مِنَ الصّالِحیْن فَبَشَّرنَا ہٗ بِغُلاَمٍ حَلِیْم۔ (الصافات ۱۰۱)
’ اے پروردگار مجھے ایک صالح بیٹا دے، تو اس کو ہم نے حلیم بیٹے کی بشارت دی‘ دعا قبول ہوئی اور بڑھاپے میں اللہ نے اولاد دی۔
اللہ کی سنت ہے کہ اللہ جس سے محبت کرتا ہے اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے، امتحان لیتا ہے، ہوس پرست کہاں، امتحانِ عشق کہاں جو با وفا ہیں وہی آزمائے جاتے ہیں
اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ اپنی ذریت کو میرے گھر کے پاس لا بساؤ، حضرت ابراہیم ؑ رب کا اشارہ پاتے ہی تیار ہو گئے، ’اپنی بیوی حضرت ہاجرہ کو ساتھ لیا، گود میں ننھے اسمٰعیل کو اٹھایا، کھجوریںلیں، مشکیزہ میں پانی لیا، چل پڑے، دور بہت دورصحرا وبیابان عبور کرتے ہوئے ایک بالکل چٹیل جگہ پر اپنی بیوی کو بٹھایا بچہ کو گود میں دیا، کھجوریں دیں، پانی کا مشکیزہ حوالے کیا اور چل پڑے، حضرت ہاجرہ نے جاتے دیکھا تو پکار اٹھیں فقالت یا ابراھیم اینَ تَذْھَبُ وَ تَتْرُکُنَا فِی ھَذا الوادِی الذی لیس فیہ اِنْسٌ وَلا شَئْیٌ فقالت لہ ذالک مراراً ۱؎ ’اے ابراہیم کہاں جارہے ہیں آپ اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر جہاں کوئی بھی متنفس موجود نہیں ہے۔ آپ ہمیں اکیلا چھوڑ کر کہاں جار ہے ہیں، لیکن حضرت ابراہیمؑ نے ان کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا، بالآخر تھک ہار کر حضرت ہاجرہ نے پوچھا آاللّہُ الَّذِیْ اَمَرَکَ بِھَذا قَالَ نَعَمْ ۲؎ کیا ایسا آپ اللہ کے حکم سے کر رہے ہیں، حضرت ابراہیم ؑ نے پیچھے مڑے بغیر جواب دیا ہاں۔۔ اس عظیم خاتون نے فورا ًکہا اِذن لّاَ یُضَیّعناَ اللّٰہ ثُمَّ رَجَعَتْ۔ ۳؎ تب تو اللہ ہمیںضائع نہیں کریگا۔ پھر لوٹ آئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے مقام ثنیہ پر پہنچ کر جہاں سے یہ لوگ آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے، بیت اللہ کی طرف رخ کرکے بڑی رقت آمیز دعا کی جس کے لفظ لفظ میں محبت، سوز، تڑپ اور وارفتگی ہے۔
رَبَّنا اِنِّی اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَتِی بِوادٍ غَیْرِ ذِیْ ذَرعٍٍ عِندَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمْ رَبَّنَا لِیُقِیمُو الصَّلٰوۃوَاجْعَل اَفْئِدَۃً مِنَ النَّاس ِتَھْوِی اِلَیْھِمْ وَارْزُقْہُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْن ( ابراہیم ۳۷) پر وردگار میں نے اپنی ذریت کو بے آب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے، پروردگار یہ سب میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ نماز قائم کریں، لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے شاید کہ یہ شکر گذار بنیں۔۔۔۔ بے آب و گیاہ چٹیل میدان ایک عورت اور شیر خوار بچہ پانی ختم ہو گیا۔۔۔ ماں سے بچے کا تڑپنا دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔ وہ پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا پہاڑی پر چڑھ گئیں کہ شاید کہیں پانی کا سراغ مل جائے پھر دفعتاً بچے کا خیال آیا۔۔۔ دیکھوں بچہ کس حال میں ہے، بچہ کو دیکھا تو۔۔ کَاَنَّہُ یَنْشَغُ لِلْمَوْتِ ۴؎ بچہ قریب المرگ تھا۔۔ برداشت نہیں ہوا تو بھاگ کر مروہ پہاڑ پر گئیں ایسا انہوں نے سات مرتبہ کیا۔۔ پھر انہوں نے ایک آواز سنیں۔۔ کہا اے آواز دینے والے کیا تو ہماری کوئی مدد کر سکتا ہے۔۔۔ حضرت ہاجرہ نے بچہ اسمٰعیل کے پاس ایک فرشتہ دیکھا۔ فرشتہ نے زمین پر ضرب لگائی۔۔۔ حضرت اسمٰعیل جہاں ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔۔ چشمہ ابل پڑا۔۔ حضرت ہاجرہ ڈر گئیں۔۔ فَقَالَ لَھَا الْمَلَکُ لَا تَخَافُوا الضَّیْعَۃَ فَاِنَّ ھٰھُنَا بَیْت اللّٰہ یَبْنِی ھٰذَا الغُلامْ وَ اَبُوہ و اِنَ اللّٰہ لَا یُضَیِّعُ اَھْلَہٗ۵؎۔۔ فرشتہ نے کہا ڈرو نہیں۔۔ ضیاع کا خوف ہر گز نہ کرناکیوں کہ یہیں خدا کا گھر ہے جسے یہ بچہ اور اس کے والد یہیں تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا۔ (۱،۲،۳،۴،۵ بخاری شریف کتاب الابنیاء باب قولہ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً)
حضرت ابراہیم ؑ جنہوں نے اللہ کی خاطر گھر بار چھوڑا اپنی ذریت کو صحرا میں لا بسایا، یہ قربانی کچھ کم نہ تھی، کہ اس بڑی قربانی۔ اطاعت و فرمانبرداری کا نقطۂ عروج عظیم قربانی کا مطالبہ کیا گیا۔ خواب میں یہ اشارہ ہوا کہ راہِ خدا میں اپنے جواں سال بیٹے کی قربانی کرو۔ ہاں وہی بیٹا جسے ابراہیمی مشن کا علمبردار ہونا تھا، بڑھاپے کا سہارا ہونا تھا، اسی کو راہِ خدا میں قربان کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھ کو اللہ کی راہ میں ذبح کرتا ہوں۔۔۔ سعادت مند بیٹا فوراً رب کا اشارہ سمجھ گیا۔۔ پکار اٹھا:
قَالَ یَا اَبَتِ افْعَلْ مَا تُومَرُ سَتَجِدُنِی اِنْ شَاءَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْن (الصافات ۱۰۲)
ابو جان وہ کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے۔
بیٹے کی سعادت، مندی دیکھئے، حلم اور بردباری دیکھئے کہ اشارہ کے اندر پوشیدہ حکم رب کو پالیا یہ فیضان ِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی
باپ اور بیٹے دونوں فوراً تیار ہوگئے۔ چشم فلک نے ایسا نظارہ نہیں دیکھا تھا۔۔ باپ نے اپنے جواں سال بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور اللہ کی محبت کے بیچ کسی محبت کو حائل نہیں ہو نے دیا اور محض چودہ سال کا نو عمر بیٹا بھی پوری سعادت مندی کے ساتھ اپنی حلقوم کو چھری کے حوالہ کرنے پر رضامند ہوگیا۔
’ اور جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا۔۔ اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیتے ہیں یقینا یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی، اور ہم نے ایک بڑی قربانی دے کر اس بچے کو چھڑا لیا اور تمام آنے والی امتوں میں اس واقعۂ عظیم کے ذکر کو قائم کر دیا۔ پس سلام ہو راہِ خدا میں قربانی دینے والے ابراہیم خلیل پر ‘
(الصٰفٰت۔ ۱۰۹)
اللہ نے اس قربانی کو ذبح عظیم قرار دیا اسے بڑی قربانی قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کیلئے اللہ نے یہ سنت جاری کر دی کہ اس تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھرمیں جانور قربان کریں اور وفا داری و جانثاری کے اس عظیم الشان واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔
( ترجمہ قرآن مع مختصر حواشی مولانا مودودی ؒ)
حضرت ابراہیم ؑ ہر آزمائش میں کھرے اترے تو اللہ نے مہر تصدیق ثبت کر دی و َاِبْرَاہِیْمَ الّذِیْ وَفّیٰ او ر ابراہیم جس نے حق وفا ادا کر دیا تو اللہ نے انہیں دنیا کا امام بنا دیا:
اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَاماً۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ توحید خالص کے علمبردار تھے، ایثارو و فا کے پیکر تھے اور راہِ خدا میں ہر طرح کی قربانی دی، ہمیں میراث خلیل کا وارث بننا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
فَاِنَّکُمْ عَلٰی اِرْثٍ مِّنْ اِرْثِ اِبْراھْیْمَ ’تم میراثِ ابراہیم کے امین ہو۔‘
(ترمذی شریف ابواب الحج باب ماجاء فی الوقوفِ بعرفات والدعاء فیھا)
ہمیں کامل اسوئہ ابراہیمی کا اتباع کرنا ہے، ہم عمل قربانی کے ذریعہ جذبہ قربانی کو جلا دیں، صرف جانوروں کو پچھاڑ کر ذبح کر دینا کافی نہیں ہے، قربانی کی نیت اور حلقوم پر چھری کسی اور نے پھیر دی، کسی مذبح میں جانور ذبح ہو گیا، بوٹیاں قصاب نے بنادیں، چمڑا مدرسے والے لے گئے اور گوشت ہم نے کچھ تقسیم کیا اور کچھ کھالیا، آخر ہم نے قربان کیا کیا، اور جذبہ قربانی بھلا اس طرح کیسے پیدا ہوگا۔ ’قربانی جو اسلام کو مطلوب ہے یہ وہ قربانی ہے جس کی یاد آج دنیا بھر کے مسلمان جانوروں کی قربانیاں کر کے مناتے ہیں، اس یاد کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر قربانی کی وہی روح، اسلام و ایمان کی وہی کیفیت اور خدا کے ساتھ محبت و وفاداری کی وہی شان پیدا ہو جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی پوری زندگی میں کیا ہے۔ اگر کوئی شخص محض ایک جانور کے گلے پر چھری پھیرتا ہے اور اس کا دل اس روح سے خالی رہتا ہے تو وہ ناحق ایک جاندار کا خون بہاتا ہے ‘۔
(مولانا مودودی ؒ سہ روزہ دعوت ۱۹؍اکتوبر ۲۰۱۲ء؁)
خوب جان لیں کہ اللہ کو ہماری قربانیوں کا گوشت، خون، چمڑا نہیں چاہیے، اس کو تو بس دلوں کا تقویٰ مطلوب ہے۔ دل کی وہ کیفیت جو قربانی کے جانور کی حلقوم پر چھری پھیرتے وقت دل میں پیدا ہوتی ہے۔ ’ نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں، نہ خون مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ‘ (سورۃ حج ۳۷)
ذرا ہم جانور کی قربانی کے وقت کا پورا منظر تازہ کر لیں کہ ایک بے عیب جانور ہم ڈھونڈھ کر لائے، کھلایا، پلایا، اپنے سے مانوس کیا، نماز ِ عید الاضحیٰ سے فارغ ہو کر جانور کو قبلہ رو پچھاڑا اور جانور کے شانہ پر پیر رکھ کر اس دعا کے ساتھ اِنیِّ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضَ حَنیِفاًوَّماَاَنا منَ الْمُشْرِکِینْ۔اِنَّ صَلاَ تیِ وَنُسُکیِ وَمَحیاَیَ وَمَمَاتیِ لِلَّہِ رَبِّ الْعاَلَمِیِنْ۔لاَشَریِکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَأَنا اول الْمُسْلِمیْنَ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَ مِنْکَ…. میری ساری توجہ کا مرکز، میری ساری قبولیت کا قبلہ اے قبلہ ٔ حاجات صرف آپ ہیں، زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے مجھے اور کسی سے غرض کیا، میں اپنا رشتہ سب سے تو ڑے ہوئے ہوں اور صرف آپ سے جوڑے ہوئے ہوں، بے شک میری نماز، میری قربانی،میرا جینا، میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کیلئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلم فرمانبردار ہوں، خدایا یہ تیرے ہی حضور پیش ہے اور تیرا ہی دیا ہوا ہے بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرْ
ذرا ٹھہر کر ہم قربانی کی دعا پر غور کریں، قربانی تو ہم جانور کی کرتے ہیں اور دعا اپنی قربانی کی کرتے ہیں۔ اصلاً ہم اللہ کے حضور جانور کا خون بہا کر یہ عہد کرتے ہیں کہ اے اللہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ تیرے لئے ہے، ابھی تو جانور قربان کیا ہے، لیکن وقت آنے پر ان شاء اللہ ہم اپنی گردنیں کٹانے اور اپنا خونِ جگر تیری راہ میں بہانے سے گریز نہیں کریں گے۔ اللہ کی راہ میں خون دینے کے جذبے کو مہمیز کرنے کیلئے ہی عید قرباں ہے۔
ہمیں چاہیے کہ عمل قربانی کے ذریعے اپنے اندر، اپنے بیوی بچوں کے اندر جذبۂ قربانی کو بڑھائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز قربانی دیکھئے کہ آپﷺ کی خدمت میں موٹا تازہ دنبہ لایاگیا تاکہ آپ اس کی قربانی کریں آپﷺ نے حضرت عائشہ سے کہا چھری لاؤ۔۔ اس چھری کو پتھر پر رگڑ کر تیز کرو۔۔ پھر آپ نے چھری پکڑی اور دنبہ کو ذبح کیا۔ (صحیح مسلم ۵۰۹۰) قربانی کا یہ انداز کتنا پیارہ ہے، اپنی بیوی سے چھری مانگی، بیوی سے ہی کہا کہ رگڑ کر تیز کرو اس کے بعد جانور کو پچھاڑا اور اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔۔ ہم بھی قربانی کے اس پورے عمل میں اپنی بیوی بچوں کو شامل کریں تاکہ ان کے اندر جذبہ قربانی پیدا ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری تو قربانی کے جانور اپنی بیٹیوں سے ذبح کراتے تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں سے فرمایا کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں۔
( بخاری شریف باب ۳۳۶)
آج ہر طرف نار نمرود دہکائی جارہی ہے، پوری دنیا میں امت مسلمہ کے عشق کا امتحان ہے، جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کے لئے نار نمرود کی شکل میں، ہجرت کی شکل میں اور حضرت اسمٰعیل کو راہ خدا میں قربان کرنے کیلئے پچھاڑ دینا امتحانِ عشق تھا، آج سنت براہیمی ؑ کا اتباع کرنے والوں کو جلد باز، جذباتی، آتنک وادی کہا جا رہا ہے، شریعت اور شعائر اسلام پر حملے ہو رہے ہیں، مصر میں اسلام پسندوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، بنگلہ دیش میں اسلام کے نام لیواؤں کو مستحق دارٹھہرایا جا رہا ہے، ہمارے ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی جان و مال اور آبرو پامال کی جا رہی ہے، گوپال گڑھ، راجستھان۔ پرتاپ گڑھ، ایستھان۔ کوسی کلاں، متھرا، کوکرا جھار، آسام، فیض آباد کے مضافات یا مظفرنگر کے دیہات روتے، بلکتے، سسکتے، اپنے ہی ملک میں تقریباً ایک لاکھ کی تعداد میں ریلیف کیمپ کے پناہ گزیں۔۔۔
آج ضرورت ہے
٭ براہیمی ایمان کی
٭ براہیمی نظر کی
٭ براہیمی جذبہ ٔ قربانی کی
٭ براہیمی جرأت کی کہ۔۔ اللہ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
آئیے عہد کریں کہ ہمیں توحید کا علمبردار بن کر، دعوت حق کا فریضہ انجام دینا ہے اور راہِ خدا میں ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار رہنا ہے، اور اسی جذبہ کو تازہ کرتے ہوئے ہمیں جانور قربان کرنا ہے۔ ہم قربانی اسی جذبہ کی آبیاری کیلئے کریں کہ جب مسئلہ اسلام کی آن کا آئیگا، کعبۃ اللہ کی حرمت کا آئے گا، انبیاء ؑ کی عصمت کا آئیگا، شعائر اللہ و رسول اللہﷺ کی شانِ اقدس کا آئیگا تو ہم اپنی جانوں کی قربانی دیں گے۔ ہم اللہ کی راہ میں اپنا وقت، سرمایہ، حتیٰ کی جان دے دیں گے۔ ہم ظلم و جبر کے خلاف ثابت قدم رہیں گے کیوں کہ اللہ کی مدد پیٹھ پھیر کر بھاگنے والوں کے ساتھ نہیں آتی۔ ہم اپنی قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کریں گے۔ ہم اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو عمل قربانی میں شامل کریں گے تاکہ راہِ خدا میں خون دینے کا داعیہ ان کے اندر بھی پیدا ہو۔ ہم قربانی کیلئے استعمال ہونے والی چھریوں کو سنبھال کر سلیقے سے رکھیں گے تاکہ قربانی کا جذبہ باقی اور موجزن رہے۔ ہم تمام نمرودی سازشوں کا مقابلہ براہیمی جرأت کے ساتھ کریں گے۔ انشاء اللہ
صنم کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *