سنگھ پریوار: راہ زن کو قافلے کا رہنما کس نے کیا؟

عوام کی ایک بڑی اکثریت اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ نریندر مودی صرف مسلمانوں کیلئے خطرناک ہے یا کم از کم سنگھ پریوار کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس خوش فہمی کے شکار لوگوں کو چاہئے کہ وہ گجرات کے سابق وزیر داخلہ ہرین پنڈیا کا عبرتناک انجام دیکھ لیں۔ ہرین براہمن تھا اس کا گہرہ تعلق نہ صرف ہندو سماج بلکہ سنگھ پریوار سے تھا۔ وہ کیشو بھائی کی بی جے پی سرکار میں وزیر داخلہ رہ چکا تھا مگر نریندرمودی کی مخالفت اسے لے ڈوبی۔ ہرین پنڈیا چونکہ مودی کے لئے خطرہ بن گیا تھا اس لیے سویم سیوک ہونا اس کے کسی کام نہ آیا۔ نریندر مودی نے اقتدار کی باگ ڈورسنبھالنےکے بعد ہرین پنڈیا کو وزارت سے محروم کرکے سب کو چونکا دیا تھا۔ سنگھ پریوار کے اور اعلیٰ کمان کے دباؤ میں توسیع کے وقت اسے وزیر محصول بنایا گیا۔
نریندر مودی نے اس سے قبل انتخاب نہیں لڑا تھا اس لئے اس کی نگاہِ بد ایلس برج کے حلقے پر پڑی جہاں سے ہرین پنڈیا نے مسلسل تین بار کامیابی حاصل کی تھی اور آخری مرتبہ ۵۵۰۰۰ہزار کے فرق سے جیتا تھا۔ ہرین پنڈیا نے جب مودی کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کردیاتو ان کی ان بن کئی گنا بڑھ گئی۔ ہرین پنڈیا نے گودھرا ٹرین میں جلنے والے کارسیوکوں کی لاشوں کو احمدآبادلانے کی مخالفت اس بنیاد پر کی تھی کہ اس سے فرقہ وارانہ آگ پھیلے گی لیکن اسے ڈانٹ کر خاموش کردیا گیا۔ اس کا اندیشہ درست ثابت ہوا، گجرات فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا گیا لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ سابق چیف جسٹس کرشنا ائیر کی سربراہی میں تفتیش کرنے والے آزاد عوامی ٹریبونل کے سامنے ہرین پنڈیا نے مودی انتظامیہ کو فساد کیلئے قصوروار ٹھہرا دیا۔ اس بیان کی آڈیو کیسٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جاچکی ہے۔
ہرین پنڈیا کی حق گوئی کا انعام اسےیہ ملا کہ پارٹی ہائی کمان کے دباؤ کے باوجود ایلس برج سے ہرین پنڈیا کے بجائے بھاوین شاہ کو ٹکٹ دیا گیا۔ بی جے پی کے اندر اس حوالے سے کافی بے چینی تھی۔ گجرات بی جے پی کا نگراں سنجیو جوشی نے ہرین کو قومی سکریٹری بنانے کی سفارش کی جو منظور ہوگئی مگر اس سے پہلے کہ ہرین پنڈیا اپنی نئی ذمہ داری کو سنبھالنے کیلئے دہلی جاتا احمدآباد میں اس کو قتل کردیا گیا۔ ہرین پنڈیا قتل کی بابت سی بی آئی نے یہ جھوٹ گھڑا کہ اسے لاء گارڈنس کے باہر ماروتی گاڑی کے اندر جیش اور لشکر کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے ہلاک کردیا۔ اس پر عزیز بگھروی مرحوم کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
گمراہ کن ہیں سارے بیانات ان دنوں خبریں فریب، جائزے نامعتبر تمام
اس گمراہ کن فریب کے خلاف کئی ثبوت موجود تھے مثلاً قتل سے ایک ہفتہ قبل احمدآباد میونسپلٹی کے ذریعہ پھیری والوں پر پابندی جسے بعد میں اٹھا لیا گیا۔گاڑی کے اندر یا باہر خون کے نشان کا ندارد ہونا۔ آس پاس سے گولی کا چھرا ّبرآمد نہ ہونا۔پنڈیا کو ٹانگوں کے درمیان فوطے میں گولی ماری گئی تھی جو اوپر کی طرف چلتی چلی گئی۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے فرد کو اس طرح نہیں مارا جاسکتا۔ گجرات ڈی جی پی شری کمارکی تصدیق کہ ہرین پنڈیا دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ مودی کے پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا کا ۷ جون۲۰۰۲ء کو شری کمار سے پوچھنا کہ عوامی کمیشن کے سامنے کس وزیر نے بیان دیا۔ ۱۲ جون۲۰۰۲ ءکوشری کمار نے ہرین پنڈیا کا نام بتایا اس طرح گویا پنڈیا کانام مودی کی ہٹ لسٹ میں چڑھ گیا۔ ان شواہد کے باوجود مودی کےدباؤ میں پوٹاعدالت نےفورنسک رپورٹ مسترد کرکےسی بی آئی کے جھوٹ کو تسلیم کرلیا۔ ہرین پنڈیا کے والد نے اسے سیاسی قتل قرار دیا لیکن مودی کے راج میں اس سویم سیوک کی حالتِ زار پر عزیز بگھروی کے اس شعر کے مصداق تھی ؎
فریاد لے کے جائیں بھی تو جائیں کس کے پاس ہیں بے ضمیر مسند انصاف پر تمام
مودی کا پنڈیا کے قتل میں ملوث ہونا اس وقت اس قدر عام بات تھی کہ جب مودی اسپتال پہنچا تو وہاں موجود بی جے پی کارکنان نے نریندرمودی ہائے ہائے کےنعرے لگائے اور ہرین کے والد اور بہن نے دھکے دے کر اسے بھگا دیا۔ ہرین کے جنازے میں عوام کی غیر معمولی تعداد نے شرکت کی مگر اس کے تیسرے دن جب تعزیت کے لئے لوگوں کوآنا تھا، مودی نے ایک پارٹی میٹنگ رکھ کر لوگوں کو روکا۔ ہرین کا مجسمہ نصب کرنے کی مخالفت کی بلکہ اس کی صفائی کیلئے زینہ تک نہ دیا۔ ڈاکٹر یونس بھاونگری کے ذریعہ پنڈیا پر فساد میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا جسے پنڈیا کے والد نے مودی کی مذموم حرکت قرار دیتے ہوئے اس قتل میں مودی کےملوث ہونے کا الزام دوہرایا اورکہا سی بی آئی عوام کو گمراہ کررہی ہے اس کے باوجود سی بی آئی نے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے ایک مسجد کے امام سمیت ۱۲ افراد کو آندھرا پردیش سے گرفتارکرلیا۔
سی بی آئی کے افسر شرما نے اصغرعلی کو اصل مجرم قراردیا اور اعلان کیا کہ اس کے کشمیری دہشت گرد تنظیم سے تعلقات ہیں۔ اس نے پاکستان میں تربیت حاصل کی ہے اور پاکستان بھاگنے کی تیاری کررہا تھا کہ گرفتار کرلیا گیا۔اس کے پاس سے اسلحہ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔۲۰۰۷ء کے اندر ایک مفرورملزم جنید نے اپنے آپ کو پراسرار انداز میں پولس کے سپرد کیا جبکہ اسے ایک مرتبہ گرفتار کرکے رہا کیا جاچکا تھا۔ اس کی شہادت پر پوٹا عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قتل۲۰۰۲ء کے فسادات کا بدلہ لینے کی خاطر کیا گیا تھا اس لئے بارہ میں سے نو کو عمر قید کی سزادو کو سات اور ایک کو پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔۲۰۰۹ میں عدالت نے ان میں سے تین کی ضمانت کردی اس لئے کہ ان پرصرف یہ الزام تھا کہ اصغر علی نے ان کے گھر پر قیام کیا تھا۔اس جرم کی سزاسات سال تھی جس میں پانچ سال وہ جیل میں گزار چکے ہیں انہیں ضمانت نہ دینا بلامقدمہ سزا دینے کے مترادف ہے۔
اگست۲۰۱۱ءمیں سب کے سب بارہ ملزمین کو گجرات ہائی کورٹ نے بری کردیا لیکن اس وقت تک ان میں سے کئی آٹھ سال کی سزا بھگت چکے تھے۔ عدالت کے مطابق سائنسی شواہد اور عینی گواہوں کے درمیان تفاوت تھا۔جسٹس واگھیلا اور اپادھیائے نے تفتیش کو لاپرواہی سے کی گئی پیوندکاری اور اندھیر نگری قرار دیا۔ اس طرح کی تفتیش پر عوامی فنڈ کے ضیاع کا الزام بھی لگایا لیکن جن بے گناہوں کی زندگی تباہ کردی گئی اس پر کسی افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ گجرات کی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اس نے ایک سال بعد اس مقدمے سے رہا ہونے والے اشرف ناگوری کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کردیا۔ کیا کوئی ذی شعور انسان اس طرح کی غلطی کرسکتا ہے لیکن مودی کی بے شعور حکومت یہ کرگزری۔ بقول حفیظ الرحمن احسن رہزن کو رہنما بنانےکا یہی نتیجہ ہوتا ہے
اس دورِ زیاں کار نے کیا کچھ نہ دکھایا رہزن تھے جو وہ راہنما ہو گئے کیسے؟
حیرت کی بات یہ ہے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نہ صرف گجرات کی ریاستی حکومت بلکہ سی بی آئی نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا حالانکہ اب وہ کانگریس کے تحت تھی لیکن جب سپریم کورٹ نے سی بی آئی کوناقص تفتیش پر پھٹکار لگائی تو اس نے ہرین پنڈیا کے معاملے پر ازسرنو تفتیش کے لئے اپنےصدر دفتر سے اجازت طلب کی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے اندر معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کا حلفیہ بیان موجود ہے جس کے مطابق سہراب الدین کے ساتھی پرجا پتی تلسی رام نے پنڈیا پر گولی چلائی۔۲۰۰۳ءمیں جب اصغر علی سابرمتی جیل میں تھاتو اس نےجیل سپرانٹینڈنٹ سنجیو بھٹ کو بتایا کہ سہراب الدین نے اس سے پنڈیا کے قتل کیلئے رابطہ کیا اور ابھے چڈاسمہؔ اسے قتل کیلئے پستول دینے والا تھا لیکن وہ خوفزدہ ہوگیا اور حیدرآباد واپس چلا گیا۔اس کے بعد اسے پتہ چلا کہ تلسی رام نے ہرین کا کام تمام کردیا۔ بھٹ نے اس کی تحریری اطلاع امیت شاہ کو دی تو وہ گھبرا گیا اور اس نے بھٹ کو رازداری برتنے کی تاکید کی۔ آگے چل کر سنجیو بھٹ کا تبادلہ کردیا گیا۔
سنجیو بھٹ کے بیان کی تصدیق۲۰۱۰ء میں سہراب الدین کے ساتھی اعظم خان نے بھی کی۔ اعظم خان کا نام سی بی آئی کی فردِ جرم میں چوتھے نمبر کے گواہ کی حیثیت سے موجود ہے۔اعظم خان نے سی بی آئی کو بتایا کہ خود چڈاسمہ نے اس سے کہا تھاکہ میں سہراب الدین کا بہت اچھا دوست تھا اور میں نے اس کو ہرین پنڈیا کے مرڈر کیس میں الجھنے سے بچایا تھا۔ یہ بات چڈاسمہ نے۲۰۰۹ء میں ہمت نگر کے اندر ایک مشترک دوست احمد جابر کے گھر پر بتلائی تھی۔ اصغر علی، اعظم خان کے بیانات اور بھٹ و ونجارہ کی تصدیق بقول سابق وزیر قانون بھارت بھوشن آسمان میں اڑنے والے نریندر مودی کو زمین پر لانے کیلئے کافی ہیں۔ کانگریس نے اس چال کو مہارت سے کھیلا تو نریندر مودی کی حالت ڈاکٹر انورسدیدکے اس شعر کی مانند ہو جائیگی

جو کل تک اڑ رہا تھا آسمانوں کی بلندی پر وہ چلتا ہے زمیں پر اب مگر آہستہ آہستہ
ہرین پنڈیا کے قتل کواس کے والد ولبھ پنڈیا اور بیوی جاگرتی کے علاوہ سابق وزیر داخلہ گوردھن زڑاپیا و سابق وزیراعلیٰ کیشو بھائی پٹیل نے بھی سیاسی سازش قراردیا ہے۔ ان سب کا تعلق سنگھ پریوار کے ساتھ ہے۔ مودی کے راج میں ایلس برج سے منتخب ہونے والے ہرین پنڈیا کے دوست بھاوین شاہ پر بھی ۲۰۰۵ء میں قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے جس میں وہ بال بال بچ گیا۔ مودی کے مخالف سنجے جوشی کو ذلیل کرکے بن باس میں بھیج دیا گیاہے۔ اسے بھی جان سے مارنے دھمکیاں ملیں اور اس سویم سیوک کو کانگریس سرکارکے آگے تحفظ کی جھولی پھیلانے پر مجبور ہونا پڑا۔ مودی اپنے سنگھی مخالفین کے ساتھ اسی طرح کا حسنِ سلوک روا رکھتاہے۔
اڈوانی جی کیلئے اس میں پیامِ ِ عبرت ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب کیلئے وہ کوئی محفوظ حلقۂ انتخاب تلاش کرلیں ورنہ گاندھی نگرتو کجا گجرات کی کسی بھی سیٹ سے ان کی ناکامی مشکوک ہی نہیں بلکہ یقینی ہو جائیگی۔ آر ایس ایس سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مودی کے عتاب کا شکار ہونے والے مذکورہ بالا لوگ مسلمان نہیں بلکہ سنگھ پریوار کے ارکان ہیں۔ جب تک ان لوگوں نے مودی کی حمایت کی وہ ان کی پشت پناہی کرتا رہا لیکن جب مخالف ہوئے تو وہ ان کی جان کا دشمن ہوگیا۔اس لئے اگر مستقبل میں انہوں نے اس عفریت کو آنکھ دکھانے کی جرأت کی تو ان کا بھی وہی حشر ہوگا جوہرین پنڈیا کا ہوا ہے لیکن اس صورتحال کیلئے وہ خود ذمہ دار ہوں گے لوگ ان سے سوال کریں گے ؎
لٹ کے راہِ آرزو میں دل سے کہتی ہے نظر راہ زن کو قافلے کا رہنما کس نے کیا ؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *