فقہ الاقلیات دل میں لندن کی ہوس لب پہ ہے ذکرحجاز

علامہ اقبالؒ نے ایک بار کہاتھا
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
اسی طرح ایک دوسرے موقعہ پر کہا؎
ان غلاموں کا مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں یہ ان کو غلامی کے طریق
علامہ اقبالؒ جس دور میں موجود تھے وہ مسلمانوں کے ادبار کا دور تھا۔ نو آبادیاتی نظام جس کی باگ ڈور برطانیہ، فرانس، اٹلی وغیرہ عیسائی یورپی ممالک کے ہاتھ میں تھی، انہوں نے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنی کالونی بنا لیا تھا۔ مسلم دنیا کے بڑے حصہ کی انہوں نے آپس میں بندربانٹ کر رکھی تھی۔ اور فوجی وسیاسی تسلط کے بعد انہوں نے تہذیبی تسلط(Cultural & civilizational Occupation)پر بھرپور توجہ دی۔ اہل علم کے جبری قتل، درس گاہوں اور اوقاف پرaquisition lawکے ذریعہ غاصبانہ قبضہ اور اپنے ہمنواؤں کی ایک فوج تیار کر کے ایک ایسی فکری یلغار برپا کی جس نے اسلامی تہذیب کی چولیں ہلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ سر سید احمد خان مرحوم جیسا قوم پرست اور مسلک اہل حدیث جیسے مضبوط فکری مسلک سے منسلک ہونے کے باوجود اپنے آقاؤں کے اتباع میں نیچری بن گیا۔ صحیح الفکر و العقیدہ علماء کرام یا تو کالا پانی بھیجے گئے یا سیکڑوں کی تعداد میں پھانسی پر لٹکا دیے گئے یا پھرگوشہ نشین ہو گئے۔ مفاد پرست اور چڑھتے سورج کے پجاری جن کے لیے سامراج نے خود آگے بڑھ کر مواقع فراہم کیے، انہوں نے یا تو راست قرآن و سنت کی مقتدرانہ حیثیت کو چیلنج کیا یا پھر تاویل بے جا کےذریعہ اس کے معانی میں تحریف کی کوشش کی۔
اس تاریک دور میں بھی قرآن نے اپنے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت دیا۔ اورشپرہ چشموں (چمگادڑ کی سی آنکھوں والوں )کی خیرہ نگہی کے باوجوددلائل و براہین کے ذریعہ باطل کے ہر وار کو خالی کر دیا اور اپنی حقانیت، عالمگیریت اور ابدیت کو اس طرح ثابت کر دیا کہ دلیل و برہان کے میدان میں اب کسی کی جرأت نہ رہی کہ وہ قرآن و حدیث کی authenticityکو چیلنج کر سکے۔ اپنے عملی واعتقادی فسق کے اس دور میں بھی سوا دِامت قرآن و حدیث سے جذباتی طور پر اس طرح وابستہ ہے کہ اس کے خلاف کسی حرف گیری اور انگشت نمائی کو برداشت نہیںکیا جا رہا ہے۔
اب شیطان نے پینترا بدلا اور دوسری سمت سے ایک ایسا وار کیا جس کی زہرناکی کا احساس اب بھی بہت سارے لوگو ںکو نہیں ہو سکا ہے۔ یہ وہ زہر کی sugar coatedپڑیا ہے جس کی راست زد تو قرآن و حدیث پر ہی پڑتی ہے مگر قرآن و حدیث کا براہ راست نام نہیں لیے جانے سے عام لوگ پس پردہ مقاصد کو سمجھ نہیں پاتے۔اس بار ان کا نشانہ فقہ اسلامی تھا۔جسے روایت پرستی اور کہنہ فکری کے لیبل لگا کر اور زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے نام پر ختم کر دینے کا نعرہ لگایا گیا۔ حالانکہ فقہ اسلامی قرآن و حدیث کی ترجمانی کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن چونکہ عام لوگ اس قابل نہیں، نہ انہیں اتنی فرصت ہے کہ وہ قرآن وحدیث سےراست استفادہ کر سکیں اس لیے انہوں نے فقہاء پر انحصار کیا جو علم کے بحر بیکراں تھے۔ آیت و احایث کے نزول، ان کے مدلولات، ان کی تفصیل ،ان کے نواقض اور حالات پر ان کے انطباق کے سلسلہ میں مہارت رکھنے کی بنا پر اور عملی میدان میںان کے کارآمد ثابت ہونے کے بعد ہی امت نے ان کو قبولیت کا درجہ دیا۔ یہ قبولیت مراجع کے درجہ میں تھی نہ کہ نص و اصل کے درجہ میں۔ مگر یہی وہ شاخیں تھیں جو اصل تک پہنچنے کا ذریعہ تھیں۔ جب شیطان تنے اور جڑ کو اپنے تیشے سے نہ کاٹ سکا تو اس نے ان شاخوں پر وار کر دیا جو امت کو جڑوں سے جوڑے ہوئے تھی۔ اصل مقصد جڑوں سے کاٹ کر زندگی کو ختم کرنا تھا مگر بہانہ شاخوں سے توڑ کر جڑوں سے جوڑنے کا تھا۔ اس کے لیے خوش نمادلائل تراشے گئے۔ حالانکہ ان دلیلوں کی حیثیت اسی دلیل کی طرح تھی جس میں اسجدوالآدم (تم سب آدم کو سجدہ کرو)کے حکم ربی کو شیطان نے ااسجد لمن خلقتہ طینا (کیاآپ نے جس کو مٹی سے بنایا اسےسجدہ کروں ) کہہ کر بڑےتمرد سے ٹھکرا دیا تھا۔ نتیجتاً وہ خود راندۂ درگاہ ہوا اوراب پوری ذریت کو زندہ درگور جہنم کرنے کے در پے ہے۔
فقہ اسلامی کوبھی راست نشانہ بنانے کے بجائے یہ عذر تراشا گیا کہ ملت کا ایک بہت بڑا طبقہ اقلیت کی حیثیت سے موجود ہے۔ آج کے اس جمہوری دور میں اقلیت اپنے لئے کچھ زیادہ مراعات حاصل نہیں کر سکتی اور لازمی طور پر وہ اکثریت کی تابع محض ہوتی ہے اس صورت میں اسلام کے بہت سارے احکام پر عمل درآمد ان کے لئے مشکل ہے۔ اسی وجہ سے ایک ایسی فقہ ترتیب دینےکی ضرورت ہے جس پر عمل کرکے اقلیتیں تکثیری سماج کا حصہ بن سکیں اور ٹکرائو کے بجائے یگانگت کا ماحول برقرار رہے۔
البتہ ہم اقلیت یا اکثریت پر مبنی فقہ کے لیے دیے جانے والے مزعومہ دلائل سے قبل اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ اسلام میں اقلیت و اکثریت کا کس درجہ اعتبار ہے اور اس کی بنا پر احکام واصول میں تبدیلی کے لیے کیا گنجائش ہے؟
اس سلسلہ میں جب قرآن کریم پر نظرڈ الی جاتی ہے تو مندرجہ ذیل آیات میں ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔
کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ (البقرۃ-249 )
کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ اقلیتی گروہ اکثریتی گروہ پر غالب آگیا اللہ کے حکم سے۔
یہ آیت جس ضمن میں آئی ہے اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اسلامی لشکر پہلےسے اقلیت میں تھا بلکہ ایک طبقہ نے نافرمانی کرکے حضرت طالوتؑ کے حکم کے خلاف ایک چشمے سے پانی پی لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں وہ مقابلہ کی ہمت کھو بیٹھے تھے۔ اب جو تھوڑی سی تعداد بچ گئی تھی، وہ دشمن کے مقابلہ میں بہت تھوڑی تھی۔حضور پاک ؐ کے ایک فرمان کے مطابق جنگ بدر کی طرح اس روز بھی مسلمان تین سو کی تعداد میں تھے۔لیکن چونکہ پیٹھ پھیرنا حرام تھا اس لیے انہوں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جالوت کے لشکر سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالی نے بھی انہیں نامراد نہیں کیا۔ نہ صرف جالوت اور اس کے لشکر کو شکست ہوئی بلکہ اس کشمکش سے ابھر کر حضرت داؤد علیہ السلام کی شخصیت سامنے آئی اور ان کے بعد سلیمانؑ نے ہوائوں کے دوش پر سفر کرکے ایک عظیم الشان سلطنت کی حکمرانی کی تاریخ رقم کی۔
ایک اور آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا:
اے نبیؐ! آپ مومنین کو جہاد پر ابھاریے۔(اور قلیل تعداد کی پروا مت کریے کیونکہ) اگر آپ کے ساتھی بیس ہی ہو ںگے اور وہ ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو کو ڈھیر کرلیں گے اور اگر آپ کے سو ساتھی ثابت قدم ہوں گے تو وہ ہزارکافروں پر غالب آ جائیں گے۔۔۔۔(الانفال : 65 )
اس آیت میں ایک اوردس کا تناسب ہے۔ یعنی مسلمان ایک ہے تو وہ دس کافر پر بھاری پڑے گا بشرطیکہ وہ صابر ہو۔ اس آیت میں ایک لطیف نکتہ صبر کے مفہوم میں بھی ہے۔ عام طور سے صبر کے معنی ظلم و جبر کے مقابلہ میں سپر اندازی کے لیے جاتے ہیں مگر یہاں صابرۃ کے معنی بالاتفاق میدان جنگ میں ڈٹ جانے او رپیٹھ نہ پھیرنے کے ہے۔
لیکن بعد میں خود اللہ تعالی نے اس تناسب کو کم کردیا اور فرمایا:
الآن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفاء فان یکن منکم مائۃ صابرۃ بغلبوا مائتین و ان یکن منکم الف یغلبوا الفین باذن اللہ(الانفال: 66)
یعنی اللہ تعالی نے اب تمہا رے بوجھ کو کم کردیا ہے۔ اب اگر تمہارے سوثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دوہزار پر غالب رہیں گے۔
اس آیت کے ذریعہ ایک اور دو کا تناسب قائم کیا گیا ۔ یعنی اگر 1/3مسلمان ہیں تو دو تہائی پر غالب ہوں گے۔
ان دونوں آیتوں سے ہمارا مدلول یہ ہے کہ خواہ تناسب ایک اور دس کا ہو یا ایک اورتین کا ہر حالت میں مسلمان اقلیت میں ہوتے ہوئے اکثریت سے دست و گریباں ہونے پر مامور ہیں۔
ان آیات پر یہ اشکال وارد ہو سکتا ہے کہ یہ تو جہاد وقتال کے میدان میں عدد ی تناسب ہے اور اس کا عملی زندگی میں موازنہ صحیح نہیں ہے تو اس کے جواب میں ہم یہ آیت پیش کرتے ہیں:
الم تر الی الذین خرجوا من دیارہم وہم الوف حذر الموت فقال لہم اللہ موتوا۔۔۔الخ(البقرۃ: 243)
ذرا دیکھو تو ان لوگوں کو جو ہزاروں کی تعداد میں تھے لیکن (جب دشمن ان پر چڑھ آئے اور حکم جہاد ہوا) تو موت کے خوف سے اپنے گھر چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔(اس پر اللہ تعالی ان سے سخت ناراض ہوا اور عتابا ان سے کہا )یہیں کے یہیں مر جاؤ۔
اس آیت پر سابق امام مسجد اقصی سے خاکسار کی گفتگو ہوئی تھی۔وہ بتانے لگے ’’میں سری لنکا گیا تو دیکھا کہ مسلمان انتہائی مقہوریت و مجبوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کتنی تعداد ہے۔ بتایا گیا لاکھوں میں۔۔۔ میں نے یہ آیت تلاوت کی اور کہا جب تم ہزاروں کی تعداد میں ہو کر موت کے خوف سے فرار نہیں ہو سکتے ورنہ خدا کے غضب کے حقدار ہو جاؤگے تو پھر لاکھوں میں ہوتے ہوئے بھی اس مظلومانہ زندگی کا جواز بالکل نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد یہ آیت پڑھی :
ان الذین توفاہم الملئکۃ ظالمي انفسہم قالوا فیما کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتہاجروا فیہا(النساء: 97)
وہ لوگ جن کی جانیں فرشتوں نے اس حالت میں نکالیں کہ وہ (ایما ن والے ہونے کےباوجود مشرکین کے ساتھ ملے ہونے کے سبب) اپنےاوپر ظلم کررہے تھے۔ فرشتے پوچھیں گے : یہ تم نے اپنی کیا درگت بنا رکھی ہے۔ وہ جواب دیں گے (کیا کریں) ہم زمین میں کمزور (ا قلیت) بنادیےگئےتھے۔فرشتے کہیں گے کہ کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم ہجرت کرجاتے۔ایسے لوگوں کا (اقلیت پسندوںکا) ٹھکانہ تو بس جہنم ہے۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان نہ صرف اقلیت میں تھے بلکہ ظلم و جبر کا ایسا دور تھا کہ بحیثیت مسلمان ان کا جینا دوبھر ہو گیا تھا۔ اور وقت وفات ان کی حالت ایسی ہوئی تھی کہ دیکھ کر بھی پہچان میں نہیں آرہے تھے کہ آیا یہ مسلمان ہیں یا کچھ اور۔ پوچھنے پر جب انہوں نے یہ جواب دیا کہ ہم کمزور تھے بے زور تھے تو ان کی دلیل فرشتوں کے ذریعہ (باذن اللہ) یہ کہہ کر رد کر دی گئی اگر یہاں حالات تنگ تھے تو کیا خدا کی زمین تنگ تھی۔۔۔ اور اس کے بعد ان کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اعاذ نااللہ منہ
اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ تو الگ بات ہے خود مسلمان کا ذاتی طور پر اسلام پرقائم رہنا بھی تعداد سے ماورا ہے۔ یعنی اگر فرد کا ایمان چھن جائے تو ا س سے بہتر ہے کہ وہ ہجرت کر جائے۔ اپنا وطن چھوڑ دے ،مال و اسباب چھوڑ دے لیکن ایمان پر آنچ نہ آنے دے۔
چنانچہ اصحاب کہف گنتی میں پورے دس بھی نہیں تھے۔ مگر جب انہوں نے حق کا آوازہ بلند کیا تو ہر طرف سے ان کی جان کے لالے پڑ گئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کی خاطر اپنے وطن کو خیر باد کہا اور ا یک غار میں جا بسے۔ جب سیکڑوں سال بعد وہ بیدار ہوئے اور بھوک سے مجبور ہو کر اپنے ایک ساتھی کو حلال و طیب کھانے کے لیے شہر بھیجا تویہ ہدایت بھی کر دی:
ولیتلطف ولا یشعرن بکم احدا انہم ان یظہروا علیکم یرجموکم اویعیدوکم فی ملتہم ولن تفلحوااذا ابدا(الکہف: 19،20)
چپکے سے جانا کسی کو کانوں کان خبر نہ لگے۔ ورنہ اگر انہو ں نے تم کو پا لیا تو پتھر سے مار مار کر ہلاک کر دیں گے یا تمہیں اپنے دین میں پلٹا کر لے جائیں گے۔ اور اس صورت میں تو ہرگز بھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔
اسی طرح شعیبؑ اور ان کے چند متبعین کو ملأ قوم (قوم کے نیتاؤں) نے دھمکی دی کہ اگر تم ہماری امت میں پلٹ کر نہیں آئے تو ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ملک بدر کر دیں گے اس پر حضرت شعیبؑ کا جواب تھا:
او لو کناکارہین قدافتریناعلی اللہ کذبا ان عدنا فی ملتکم بعد اذ نجنا اللہ منہا۔۔۔الخ(الاعراف: 88،89)
کیا ہماری مرضی کے خلاف تم ہمیں زبردستی اپنے دین میں لوٹاؤگے۔ ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ جائیں بعد اس کے اس نے ہمیں(اس ظالم و کافر) ملت سے نجات دی۔۔۔
ظاہر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ نجات ملنے کےبعد بھی ہم کسی وجہ سے پلٹ جائیں تو اللہ تعالی ہمیں جہنم میں ڈال دیںگے۔
اسی تناظر میں جب مندرجہ ذیل آیت کو دیکھا جائے تو اس کا مطلب صحیح سمجھ میں آتا ہے۔ فرمایا:
من کفر باللہ من بعدایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان۔۔۔فعلیھم غضب من اللہ۔۔الخ ( النحل:107, 106)
یعنی جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعدپھر اس سے کفر اختیار کیا پورے شرح صدر کے ساتھ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اور اس کے لئے سخت عذاب ہے ۔ ایسا اس لئے ہے کہ ان (کم بختوں )نے دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر آخرت کو پس پشت ڈال دیا۔ البتہ جس کو مجبور کیا جائے (کفریہ کلمات پر) لیکن اس کا دل مطمئن ہو ایمان پر (اس کے لئےگنجائش ہو سکتی ہے)۔
عام طور سے اقلیت و اکثریت کی بحث ہی اس لیے اٹھائی جاتی ہے کہ اکثریت سے،بر سرِ اقتدار طبقہ سے کشمکش سے بچتے ہوئے جینے کی راہ تلاش کی جائے۔ جب کہ اسلام کی تعلیمات تویہ ہیں کہ انسان اگر تنہا ہو تب بھی اس کو شرح صدر کے ساتھ اسلام کو چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ کبھی جان پر بن جائے تو عارضی اور وقتی طور پر اور بغیر کسی دلی آمادگی کے ایک آدھ جملہ نکل جائے تو وہ شاید معاف ہو جائے۔ لیکن یہاں تو پورے کا پورا ایمان گروی رکھ کر اس کے عوض زندگی کی بھیک مانگنے والوں کے لیے ایک الگ فقہ بنانے کی جستجو ہے تا کہ ؎
رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی
لیکن اللہ تعالی نے اپنے دین کو بینات یعنی کھلی نشانیوں پر مبنی رکھا ہے۔ اور اہم و ضروری چیزوں کو اس طرح کھول کر بیان کیا ہے کہ کسی مرحلہ پر سالک کو پریشانی اور الجھاؤ نہ ہو۔ ہاں جو خود ہدایت سے آنکھیں موند لے تو اس کو تو اللہ تعالی بھی ہدایت نہ دے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس طرح کا ذہن رکھنے والوں کے لیے ابراہیمؑ کی مثال پیش کی ہے ۔فرمایا:
ملت ابیکم ابراہیم (الانعام: 161)
اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے پیروکار بنو۔
دوسری جگہ ارشاد ہوا :
ان ابراہیم کان امتا قانتا للہ حنیفا (النحل : 120)
یقیناً ابراہیم ایک یکسوئی سے اللہ کے آگے جھکنے والی امت تھے۔
تنہا ابراہیم کو ملت اور امت کا لقب دیا گیا اور ان کی پیروی پر ابھارا گیا۔ حالانکہ پوری قوم سے صرف تین لوگ ایمان لائے تھے۔ مگر اس بلند رتبے کی وجہ انکا وہ ایمان و ایقان بنا جس کی بنا پر انہوں نے شرک کی آندھیوں میں بھی اپنے آپ کو ثابت کیا۔ اور علی الاعلان کہا:
ولا اخاف ما تشرکون بہ الا ان یشاء ربی شیئاً۔۔۔الخ(الانعام: 80)
اور میں تمہارے جھوٹے خداؤں سے نہیں ڈرتا۔ البتہ میرے رب نے کچھ فیصلہ فرما یا ہے تو وہ تو ہو کر رہے گا۔
مزید فرمایا:
وکیف اخاف مااشرکتم ولاتخافون انکم اشرکتم باللہ مالم ینزل بہ علیکم سلطانا ۔۔۔الخ(الانعام: 81)
اور بھلا میں کیسے ڈروں ان جھوٹے خداؤں سے جب کہ تم نے اللہ کے ساتھ جھوٹے خداؤں کو شریک کیا اورپھر بھی بالکل بے خوف ہو۔۔۔
یہ ویسی ہی دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
ولا تھنوافی ابتغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون4: 104
اور دشمن پر شب خون مارنے میں کمزور ی نہ دکھائو۔ تمہیں اگر زخم لگ رہے ہیں تو انہیں بھی تو زخم پہونچ رہے ہیں۔ جب کہ (اس کے عوض) تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جو ان کے تصور سے بھی پرے ہے۔
یعنی مشرکین خدا سے مخالفت کرکے بھی بے خوف ہیں اور اپنے پست مقاصد کے حصول کے لیے بھی سینہ سپر ہیں اور تم ہو کہ خدا پر ایمان رکھتے ہوئے بھی زمینی اور جھوٹے خداؤں سے کانپ رہے ہو اور زخم لگنے کے ڈر سے میدان سے فرار اختیار کر رہے ہو۔
یہاں یہ واضح رہے کہ ملت ابراہیم کوئی اختیاری optionalرویہ نہیں ہے۔ بلکہ کسی بھی شخص کے لیے کسی بھی مرحلہ پر ایمان سے انحراف یا میدان جنگ سے فرار (الا یہ کہ کوئی جنگی حکمت ہو) سیدھے سیدھے جہنم کا حقدار بنانے کے لیے کافی ہے۔
یہ اور اس طرح کی مثالوں سے پورا قرآن شریف بھرا پڑا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر قائم رہنے اور اس پر عمل در آمدگی کے لیے اقلیت و اکثریت بے معنی ہے۔ خاص طور سے اس وقت یہ بات بالکل ہی بےوزن ہو جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آخرت میں جوابدہ فرد ہوگا، جماعت نہیں۔
اس کے علی الرغم محض عددی اکثریت کی جابجا ہمت شکنی کی گئی ہے۔ فرمایا:
و ان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ (الانعام: 116)
اور اگر تم زمین میں رہنے والی اکثریت کی بات مانوگے تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔
پھر بھی اگر بحث برائے بحث ہی کی خاطر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اقلیت و اکثریت کے مسائل اور احکام میں فرق لازمی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوگا کہ اقلیت کی تعریف کیا متعین کی جائے۔ کیا 49فیصد اقلیت قرارپائے گی۔ اور51 فیصد اکثریت۔ اس لحاظ سے تو مسلما ن آج تک اکثریت میں نہیں پہنچا۔ پھر اسلام کیسے غالب آگیا۔
یا پھر آیۂ جہاد کے مطابق یعنی 1/3سے کم کو اقلیت مانا جائے۔ کیونکہ ایک تہائی کی صورت میںcombatمقابلہ لازم ہے۔ پھر 1/3سے کتنے کم پر اقلیت شروع ہوگی؟ ان میں بھی کتنے درجاتcategoriesبنانے ہوں گے۔ مثلاً,1/5,1/6وغیرہ۔ ویسے اتفاق سے جب یہ مضمون لکھا جا رہا تھا اس وقت راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں متعلقہ وزیر نے کہا کہ دستور ہند میں اب تک اقلیت کی کوئی تعریف متعین نہیں کی گئی۔ پھر اگر اقلیت کی متعین تعریف آ بھی جائے تو اس میں عملی سوال یہ پیدا ہوگا کہ موجودہ شریعت میں سے ان پر کون سی چیز لاگو ہوگی اور کس سے انہیں exemptionدیا جائے گا۔
مثلاً یہ کہ ان کی نمازیں کم کی جائیں گی یا روز ے کم کیے جائیںگے یا حج ساقط ہو جائےگا یا زکوۃ میں ملکی ٹیکس کے اعتبار سے کمی کر دی جائے گی۔ یا جہاد کرنا تو دور کی بات ان کے لیے لفظ جہاد کا استعمال بھی ساقط ہو جائے گا یا نکاح و طلاق کے مسائل بدل جائیں گے۔ یورپ میں رہ کر عیسائی اور یہودی اور ہندوستان میں رہ کر ہندو لڑکوں سے اپنی لڑکی کو بدرجہ مجبوری بیاہنا جائز ہو جائے گا؟!! آپ اسے طنز پر محمول نہ کریں۔ چونکہ فقہ الاقلیات کے نام سے ایک متوازیparellalشریعت یا فقہ کی تدوین کی بات کی جا رہی ہے تو پھر ہر ایک مسئلہ کے تعلق سے جوابدہی کرنی ہوگی۔ پھر یہ بھی طے کرنا پڑے گا کہ شریعت میں (یا فقہ میں) اس تبدیلی کا پیمانہ کیا ہوگا۔ مثال کے طور پر ایک صاحب جو شاہ فیصل ایوارڈ یافتہ ہیں اور اب امریکہ میں مقیم ہیں اور سہولت کی خاطر پورے دین کو بدلنا چاہتے ہیں انہوں نے ایک نکتہ پیدا کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اہل کتاب عورتوں پر قیا س کرکے اہل کتاب مرد سے بھی نکاح کی اجازت کا جواز پیداکرنا چاہیے۔ شریعت مطہرہ تواس باب میں بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔ مشرک مردوں اور عورتوں سے نکاح مت کرو۔ البتہ استثناء مشرک عورتوں میں سے کتابیہ عورتوں کا ہےجو محصنات (پاک دامن) ہوں۔ مگر کتابی مردوں سے بالاتفاق نکاح حرام ہے۔ اب اگر ا سکو بھی جائز کرنا ہو تو قرآن وحدیث کے علاوہ کوئی دوسرا پیمانہ بنانا پڑے گا۔ وہ ہ پیمانہ کیا ہوگا یہ اہم سوال ہے؟
پھر یہ بھی بتانا ہوگا کہ جن احکامات کے لیے قرآن وسنت کے علاوہ کسی اور چیز کو بنیاد بنا کر احکام متعین کیے جائیں گے ان کی حیثیت کیا ہوگی۔ فرض، سنت، نفل یا مباح۔ موقت ہوگی یا غیر موقت۔ مشروط ہوگی یا غیر مشروط۔ مقید ہوگی یا غیر مقید۔ نیز یہ احکامات شرعی ہوں گے یا غیر شرعی۔
پھر کیا اس صورت میں امت اس فتنہ کا شکار نہ ہوگی جس کا شکار پچھلی امتیں ہوئی تھیں کہ :
ا فتومنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذلک منکم الا خزی فی الحیاۃ الدنیا و یوم القیامۃ یردون الی اشد العذاب ۔۔۔الخ(البقرۃ :85)
تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر تو ایمان رکھتے ہو(اس پر عمل پیرا ہوتےہو) اور دوسرے حصہ سے کفر کرتے ہو(اور ترکِ عمل کرتے ہو)۔ توجو کوئی (ایسا دوغلہ) رویہ اختیار کرے اس کی سزا اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا میں وہ ذلیل ہواور آخرت میں بد ترین عذاب سے دوچار ہو۔
پھر کیا اس کے نتیجے میں شریعت کے سارے بندھن ڈھیلے نہ پڑ جائیں گے کہ جب ذرا سی تکلیف پہنچی فوراً اس رکن کو چھوڑ دیا یا اس میں حسب مرضی آقا ردوبدل کر دیا!
پھر کیا دین کے کسی بھی امر یا نہی کے لیے جان کا نذرانہ دینا جائز قرار پائے گا؟
اور پھر کیا دین خود باقی رہ جائے گا!!!!!
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین میں کسی طرح کی کوئی لچک نہیں کہ احوال و کوائف کی تبدیلی سے بھی احکام میں کوئی تغیر و تبدل ممکن ہی نہ رہے۔ اس طرح تو دین وقت کے تقاضوں پر پورا نہ اترنے کے باعث عملاً ختم ہو جاتا۔ نعوذ باللہ
لیکن یا د رہے کہ یہ دین تو اللہ کا ہے اور اللہ نے انسانی فطرت کے مطابق ہی اس کو بنایا ہے۔ اور اس قدر لچک دار اور عملی طور پر اس کی تشکیل کی گئی ہے کہ زمانہ تھک جائے مگر اس کے ذخائر کم نہ ہوں گے۔ نماز میں چھوٹ بیمار کے لیے، مسافر کے لیے، جنگ کرنے والے کے لیے۔ روزہ میں چھوٹ بیمار کے لیے، مسافر کے لیے۔ زکوۃ میں چھوٹ تنگ دست کے لیے، قرض دار کے لیے۔ حج میں چھوٹ جس کےپاس خرچ نہ ہو یا راستہ محفوظ نہ ہو۔ سور تک کھانے کی اجازت بشرطیکہ صرف جان بچانے بھر ہو۔ کپڑا نہ میسر ہو تو ننگے بدن نماز کی اجازت وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سب مستثنیات ہیں۔ بیمار جیسے ہی اچھا ہو اس کی چھوٹ ختم۔ جیسے ہی خرچ میسر آئے اور راستہ محفوظ ہو حج فرض، جیسے ہی رقم آئے، قرض ختم ہو، سال گزر جائے زکوۃ واجب وغیرہ۔
گویا احکام وفرائض انسانی حالات کی رعایت سے تو ضرور ہیں لیکن غیر باغ و لا عاد۔ محض جان بچانے کے لیے۔ کسی استثناء کو استقلال حاصل نہیں۔ اضطرار کی حالت میں دی گئی چھوٹ کو اگر مستقل کر دیا جائے تو وہ رخصت ختم ہو جائے گی اور اصل حکم بحال ہو جائےگا۔ مثلاً کسی نے جان بچانے کی خاطر سور کھا لیا، اب جیسے ہی اس کے اندر توانائی آئی وہ فوراً حلال کی تلاش میں نکل کھڑا ہو۔ نہ یہ کہ اب حرام خوری کا عادی ہو جائے۔ کسی نے پانی کی عدم دستیابی کے باعث تیمم کرلیا۔ لیکن جیسے ہی پانی میسر ہوا، تیمم خود بخود زائل ہوجائے گا اور وضو کرنا پڑے گا۔ مشہور قول ہے: آب آمد تیمم برخواست
جب کہ فقہ الاقلیات کے دعوے دار انہیں مستثنیات کو مستقل دین بنا کر باغی اور عادی کے زمرے میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور دین کو مسخ کرکے ایک نیا دین الٰہی تراشنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب ہم ان لوگوں کی دلیلوں پر نظر ڈالتے ہیں جو بزعم خود دین کو’’عملی‘‘ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اس کے لئے فقہ الاقلیات کا جال بن رہے ہیں۔(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *