وی ڈی ساورکر: گاندھی جی کا قاتل

20جنوری 1948کو مدن لال پاہوا ؔنے گاندھی جی کو قتل کرنے کی پہلی ناکام کوشش کی۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ اس جرم کے پیچھے وی ڈی ساورکرؔ کا دماغ کام کر رہا تھا۔ تحقیقات نے الزام کی مزید تصدیق کر دی۔ ٹرائل کورٹ میں پیش کردہ شہادتوں سے پتہ چل گیا کہ ساورکرؔ اس میں شامل تھے۔تاہم وہ صاف بری ہو گئے۔
نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل کو یقین ہو گیا تھا کہ وہی مجرم ہے۔ 22مارچ 1965کو ایک انکوائری کمیشن قائم کیا گیا جو سپریم کورٹ کے ایک جج جے کے کپور پر مشتمل تھا۔ 1969میں اس کمیشن نے بھرپور تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ’ان سارے شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد صرف ایک ہی تصویر بنتی ہے کہ ساورکر اور اس کا گروپ گاندھی جی کے قتل کی سازش میں ملوث تھا۔‘
لیری کولنسؔ اور ڈومنک لوپیرسؔ کے ذریعہ لکھی ہوئی کتاب ’فریڈم ایٹ میڈ نائٹ‘ (1976) ان شواہد سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے اس وقت تک زندہ اور معاملہ میں ملوث ہر شخص سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ اور انہیں پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کے ریکارڈ تک رسائی بھی حاصل تھی۔ مدن لال پاہواؔ نے گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے واردات سے قبل ویر ساورکر سے ملاقات کی تھی اور اس نے ساورکر کے حلیہ سے لے کر انکی شخصیت پر کھل کر روشنی ڈالی تھی، مدن لال کے ساتھی جو اس کی ناکامی کے بعد موقع سے فرار ہوئے تھے، انھوں نے اپنے پیچھے ایک تولیہ چھوڑا تھا جو ساورکر سے ان کے تعلق کا ایک کھلا ثبوت تھا۔پولیس کے لیے اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا تھا۔
مگر کتاب کے مصنف یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ ’وہ تفتیش جو اتنے مؤثر انداز میں شروع ہوئی تھی، اچانک ہی وہ ایسی سرد مہری کا شکار ہوئی کہ آج تین دہائی کے بعد ایک بار پھر وہ تنازع کا سبب بن گئی ہے۔‘ ایک طرف دہلی کے اعلی ترین افسران کی نا اہلی تھی تو دوسری طرف بمبئی پولیس کی چابکدستی تھی۔ دونوں ایک متضاد تصویر پیش کر رہے تھے۔ مدن لال کی گاندھی جی کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد بمبئی کے وزیر داخلہ مرار جی دیسائی نے 32سالہ بمبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر جو سی آئی ڈی کی خصوصی برانچ کے انچارج تھے، معاملہ کی تفتیش ان کے حوالہ کر دی۔ نگن والاؔ(مذکورہ پولیس افسر) کو پورا یقین ہو گیا کہ ساورکر ہی اس سازش کے پس پردہ تھے۔ مدن لال کے اقبالی بیان کی بنیاد پر اس نے مرارجی دیسائی سے ساورکر کی گرفتاری کی اجازت مانگی۔ مرار جی دیسائی نے انتہائی غصہ سے اسے منع کر دیا۔
(تاہم) نگن والاؔ کی ٹیم نے ساورکر کے گھر کی نگرانی جاری رکھی۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد22فروری1948کو انہوں نے پولیس کو تحریری حلف نامہ دیا کہ بغیر اجازت وہ کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔
ان پر مقدمہ بھی چلا۔ ان کے خلاف سب سے اہم شہادت وعدہ معاف گواہ دگمبر بڈگے ؔکی تھی۔ جس کی تصدیق دوسرے دو گواہوں نے بھی کی کہ وہ ساورکر کے گھر آتا جاتا رہتا تھا۔ جج آتما چرن کے نزدیک بھی بڈگے کی گواہی صداقت پر مبنی تھی۔
بڈگے کی شہادت کے تقریباً تمام نکات کی تصدیق آزاد ذرائع سے کر لی گئی۔ لیکن اس کی گواہی کے اس حصہ پر کوئی تصدیق نہیں پیش کی گئی جس میں اس نے بتایا تھا کہ ملزمان گوڈسےؔ اور آپٹےؔ نے 14اور 17جنوری 1947کو ساورکر سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی۔ دونوں بار بڈگے کو (کمرۂ ملاقات سے) باہر ہی روک دیا گیا تھا۔ دوسری بار اس نے ساورکر کے منہ سے گوڈسے ؔاور آپٹےؔ کے لیے یہ تشجیعی کلمات بھی سنے۔’کامیاب لوٹو۔‘ دیگر دو گواہوں نے اس کی تصدیق تو کرد ی کہ وہ تینوں ساورکر کے گھر کے پاس اترتے تھے۔ مگر اس کے بعد کی گواہی کی تصدیق دوسرے ذرائع سے نہ ہو سکی۔ اور اسی لیے ساورکر کو بری کر دیا گیا۔
تاہم ساورکر کی موت کے ایک یا دو سال بعد ان کے بوڈی گارڈ آپٹےؔ رام چندرن کاسرؔ اوران کے سیکریٹری گجانن وشنو داملےؔنے کپور کمیشن کے سامنے اس قانونی کمی کو پورا کر دیا۔ جج نے تحریر کیا:
’ان دونوں گواہوں کے بیانات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ آپٹے اور گوڈسے دونوں ہی ساورکرؔ سے بمبئی میں بار ہا ملاقات کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مختلف کانفرنسوں اور تقریبا ہر اجتماع میں دونوں ساورکر کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔۔۔ ان شہادتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرکرےؔ سے بھی ساورکر خوب واقف تھے اور وہ بھی اکثر ان سے ملاقات کرتا تھا۔ بڈگے بھی ساورکر سے ملتا جلتا تھا۔ ڈاکٹر پرچورےؔ بھی ان کے ملاقاتی تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تمام لوگ جو بالآخر گاندھی جی کے قتل میں ملوث پائے گئے وہ سب کے سب ساورکر سدن میں کسی نہ کسی موقعہ پر اکٹھے ہوتے رہے۔ اور کئی باران کی ساورکر سے طویل ملاقاتیں اور گفتگو بھی رہی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کرکرے اور مدن لال نے دہلی روانہ ہونے سے قبل ساورکر سے ملاقات کی تھی اور آپٹے اور گوڈسے نے بھی دہلی روانگی سے قبل ساورکر سے ملاقات کی تھی۔ ناکام بم حملہ اور قاتلانہ حملے میں ملوث ان چاروں افراد کی ساورکر سے واقعہ سے پہلے خوب طویل گفتگو ہوئی تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپٹےؔ اور گوڈسےؔ مختلف جگہوں پر 1941سے 1947تک مختلف عوامی پروگرام میں ان کے (ساورکرؔکے) ساتھ دیکھے جاتے رہے۔‘
اگر ان دونوں (بوڈی گارڈ اور سیکریٹری) نے کورٹ میں گواہی دے دی ہوتی تو ساورکر کو لازما ًمجرم قرار دیا جاتا۔14اور17جنوری1948کو گوڈسے اور آپٹے کی ساورکر سے ملاقات میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ ساورکر کے بوڈی گارڈ کا سرؔ نے کمیشن کو بتایا کہ بم کانڈ کے بعد یہ لوگ 23اور 24جنوری کو ساورکر سے ملے تھے۔ ساورکر کے سیکریٹری نے بیان دیا کہ آپٹے اور گوڈسے وسط جنوری میں ساورکر سے ان کے گھر میں ملے اور گھر کے باغیچے میں بیٹھ کر انہوں نے گفتگو کی۔
ناگروالا نے اپنی کرائم رپورٹ نمبر ۱ میں تحریر کیا تھا کہ ساورکر ہی اس پوری سازش کا پشت پناہ ہے۔ اور وہ بیماری کا صرف بہانہ بنا رہا ہے۔31جنوری1948کو گاندھی جی کے قتل کے ایک روز بعد ہی ناگر والا نے اپنے خط میں یہ ذکر کیا تھا کہ د ہلی روانگی کے دن گوڈسے آپٹے اور ساورکر میں چالیس منٹ تک میٹنگ ہوئی۔‘
یہ بات اس نے کاسرؔ اور داملےؔکے ان بیانات کی بنیاد پر تحریر کی تھی جو ان دونوں نے اس کے سامنے بیان کیے تھے۔ ’یہ دونوں گوڈسے اور آپٹے بلا روک ٹوک ساورکر کے گھر میں آتے جاتے تھے۔‘مختصراً یہ کہ آپٹے اور گوڈسے بڈگے کے ساتھ 14اور17جنوری کو ساورکر سے ملنے کے علاوہ اس کے (بدگے) کی عدم موجودگی میں بھی ساورکر سے ملے تھے۔ ان دونوں کو (بوڈی گارڈ اور سیکریٹری) بطور گواہ کورٹ میں کیوں پیش نہیں کیا گیا، یہ ایک سربستہ راز ہے۔
ولبھ بھائی پٹیل کی بات صحیح نکلی۔ انہوں نے 27فروری1948کو نہرو کو لکھا تھا:’ میں نے تقریبا روزانہ باپو کے قتل کی تفتیش کے تعلق سے رابطہ رکھا ہے۔‘وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ’یہ پوری سازش اور اس پر عمل در آمد ہندو مہاسبھا کی ایک شدت پسند تنظیم کا کارنامہ ہے جو براہ راست ساورکر کے ماتحت ہیں۔‘
(ان سب شواہد کے علی الرغم) کئی دہائیوں کے بعد بی جے پی (گاندھی کے قاتل) ساورکر کی تصویر پارلیامنٹ ہاؤس میں آویزاں کرانے میں کامیاب رہی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *