’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘

(مظفر نگر فساد کے بعد وحدت اسلامی کے وفد نے امیر محترم مولانا عطا الرحمن وجدی کی قیادت میں علاقے کا دورہ کیا۔ بالخصوص تھانہ بھون، شاملی، کاندھلہ، جولہ، شاہ پور کے پناہ گزیں عارضی کیمپ کا مشاہدہ کیا، ذمہ داران کیمپ سے تفصیلی گفتگو رہی، ضرورتوں اور ترجیحی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس پر مشتمل ایک رپورٹ)

’’لوگوں نے ایک ساتھ ہی حملہ کر دیا، گھر کو آگ لگا دی، تلواروں ڈنڈوں بھالوں سے حملہ کیا۔ امی، باجی، باؤجی سب کے سب خون میں نہائے ہوئے تھے۔ میرے چہرے پر بھی حملہ کیا۔‘‘ یہ دیکھو! سوجے ہوئے چہرے،بجھی ہوئی آنکھوںسے 10 سالہشعیب اپنی دکھ بھری کہانی سنا رہا تھا۔ نہ جانے کتنی کہانیاں مظفر نگر،شاملی کے ان دونوں اضلاع کے دیہی علاقوں میں دفن ہو چکی ہیں۔ یہ داستان ہے ان لوگوں کی جو جان بچا کر مسلم اکثریتی علاقوں میں دوڑ آئے اور جہاں جہاںسے موقع ملا چلے آئے، لیکن کتنے ایسے تھے جنہیں صبح کے سورج کی کرن نصیب نہ ہوئی۔
اب تک یعنی 17ستمبر2013تک ان دیہاتوں میں جانے والا کوئی نہیں اور نہ ان کے حالات کا علم رکھنے والا۔۔۔چشم دیدوں، اخبارات کی خبروں، کیمپوں کے ذمہ داروں سے ملی معلومات کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 300سے زائد مسلمان جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان کے پیچھے ان کا بچا ہوا خاندان بکھر کر ادھر ادھر ہو گیا ہے۔
مولوی ابو الحسن ارشد کاندھلوی انچارج کیمپ کاندھلہ کے مطابق 40کیمپوں میں 70-75ہزار پناہ گزیں ہیں خود کاندھلہ کے کیمپ میں 12600 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح تھانہ بھون میں 580، شاملی میں 2348، جولہ میں7000، شاپور 2500، ملک پور18000، جلال آباد200، کیرانہ8000، بسئی700، تاولی300، حسین پور1200، شکارپور780، لوئی10000لوگ مختلف کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ میں خود ریاست نے 40,000سے زائد کیمپوں میں پناہ گزیں کو تسلیم کیا ہے۔ روز نامہ ہندوستان کے مطابق 54دیہات فسادات سے متاثر رہے ہیں۔ اور 100سے زائد گاؤں سے لوگ بھاگ کر دوسرے علاقوں میں پناہ گزیں ہیں۔
فسادات کا پس منظر
تقریبا گزشتہ 2سالوں سے اس پورے علاقے میں چھوٹی چھوٹی وارداتیں ہوتی رہی ہیں۔ اخبارات میں جو واقعات خبروں میں جگہ پا سکے ان میں دیوبند کے طلبہ سے پسینجر گاڑی میں مارپیٹ، ایک برقعہ پوش خاتون کی بے عزتی، ٹوپی کرتا پاجامہ پہننے والے نوجوان کا جواب نہ دینے پر ٹرین سے پھنکوانا، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی وارداتیں ،سیاسی پارٹیوں کی مقابلہ آرائیاں، انتظامیہ کی فرقہ پرستوں سے ساٹھ گانٹھ، امِت شاہ کو یوپی کا پربھاری بنوایا جانا، گجرات ماڈل کی در آمد، جاٹوں اور مسلمانوں کے ووٹ بینک کو جدا جدا کرنا۔ ان تمام امور کے پس منظر میں مظفر نگر کے دیہات کا منظر سیاہ رات میں بھی اجلا نظر آتا ہے۔قریب کی وجوہات سلسلہ وار واقعات ہمیں بہت کچھ سکھلاتے ہیں۔
27اگست 2013بروز جمعہ کوال گاؤں ضلع مظفر نگر میں شاہنواز عارف نامی مسلم نوجوان کا قتل ہوا۔ اس قتل کے پیچھے دو کہانیاں الگ الگ روپ سے جنم لیتی ہیں۔ یا تو سب غلط ہے یا پھر ایک صحیح ہے۔ ٹرالی کو راستے سے ہٹانے کو لے کر جھگڑا ہوا۔ اور یہ اتنا بڑھا کہ سچین اور گورو جو جاٹ نسل سے تعلق رکھتے تھے دونوں نے مل کر مسلم جوان کا قتل کر دیا۔ قتل پر مشتعل مسلمانوں نے دونوں جاٹوں کو مار ڈالا۔ دوسری کہانی وہ ہے جو اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نے چلائی ہے وہ یہ کہ مسلم جوان نے جاٹ لڑکی کو چھیڑا ۔اس پر مشتعل ہو کر اس کے دونوں بھائیوں سچین و گورو نے شاہنواز کا قتل کر دیا۔ اس پر کوال کے لوگوں نے سچین و گورو کو مار ڈالا۔پولیس نے دفعہ 144لگا دی تھی۔
30اگست کو کھالاپور میں مسلمانوں کی بڑی ریلی ہوئی جس میں قدیر رانا (ایم پی)، سلیم رانا(ایم ایل اے) سمیت بہت سے مقررین نے شرکت کی۔ اسی کے جواب میں 31اگست کو جاٹوں نے پنچایت بلائی۔
31اگست2013جاٹوں نے منگلا مانڈور نامی گاؤں میں پنچایت بلائی۔ یہ جماوڑا دفعہ144کے باوجود کیا گیا۔جس میں اشتعال انگیز بھاشن بازی ہوئی۔
5ستمبر2013:وزیر داخلہ شندے نے ملک کی 6ریاستوں میں الرٹ جاری کیا۔
7ستمبر 2013کو دوبارہ مہا پنچایت منگلا مانڈور گاؤں میں ہوئی۔ دفعہ144کے باوجود ہزاروں کا جماؤڑ ا ہوا۔ لوگ شراب پیتے ہوئے، بھالے، تلواریں اور ڈنڈےاور پھاوڑے لئے پنچایت میں شریک ہوئے تھے۔ اس میں علاقے کے بی جے پی کے سابق ایم پی اور موجودہ ایم ایل اے وغیرہ نے بھی تقریریں کیں اور عوام کو بھڑکایا۔
7ستمبر2013 ءکومرکزی حکومت کی ایڈوائزری فون کے ذریعہ دوبارہ توجہ دلاتی رہی کہ مظفر نگر کے حالات انتہائی خراب ہوئے جا رہے ہیں۔ لیکن ریاستی حکومت سوتی رہی۔
ڈی جی پی ریاست اترپردیش اپنے عملے کےساتھ مظفر نگرمیں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وہی ڈی جی پی ہے جو کچھ برس پہلے مالیگاؤں کے بلاسٹ میں مسلم نوجوانو ںکو پھنسانے کے لیے جو سازشیں کی گئی تھی اس کی چارج شیٹ جناب موصوف کی تیار کردہ تھی جس کی وجہ سے مسلم نوجوان این آئی اے کی رپورٹ داخل عدالت ہونے کے باوجود اب تک بری نہیں ہو سکے ہیں۔
7ستمبر2013 کی مہا پنچایت میں جاتے جاتے مسلم اقلیتی آبادی والے گاؤں میں جاٹوں نے مسلمانوں کو گالیاں دیں، ان کے خلاف نعرے لگائے۔ سارے گاؤں کی یہ شکایت ہے۔ واپسی پر بھی وہی انداز اپنایا لیکن اب کی بار زیادہ اشتعال دلانےوالا تھا کیونکہ انہوں نے زعفران میں ڈوبی ہوئی نصیحتیں مہا پنچایت میں سن رکھی تھیں۔ بسئی گاؤں میں آتے ہی انہوں نے مسلمانوں کے گھرو ںپر حملہ بول دیا۔ مسلمانوں نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کی دو تین ٹرالیاں توڑ کر نہر میں ڈال دیں۔
بتلایا جاتا ہے کہ 6جاٹوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔اس کے جواب میں جاٹوں نے پورے علاقے کے دیہاتوں میں مارکاٹ، لوٹ پاٹ اور آگ وخون کا کھیل کھیلا۔
ویب اخبار مسلم مرر کے مطابق 500سے زائد مسلمانوں کو مار ڈالا گیا۔ وہیں غازی محمد عارف، چیرمین شاہ پور کے مطابق سرکاری آنکڑے40سے بہت زیادہ اموات ہیں۔
٭مفتی محمد ذاکر مدرسہ امدادیہ رشیدیہ شاملی کے مطابق 5فیصد مسلمانوں والے دیہاتوں کونشانہ بنا گیا۔
٭جناب اجمل صاحب مظفر نگر کے مشہور سماجی کارکن ہیں ان کے مطابق مظفر نگر کے دو دیہاتی تھانوں میں ہی خون خرابہ ہوا ہے بقیہ ضلع محفوظ ہے۔ ان تھانوں میں 38-40دیہات آتے ہیں۔
٭سب سے زیادہ جہاں خون خرابہ لوٹ پاٹ اور آگ زنی ہوئی ہے، وہ دیہات رساڑ، بھوگانہ، کھڑر لاک اور بہاوڑی ہے۔
٭عمر الدین پیشے سے مزدوربستر سےاٹھنے کے قابل نہیں، پیٹ اور ہاتھوں پر بے اتنہا زخم ہیں۔ اسی طرح بڑود کےشعیب اور لیاقت کے چہرے سوجے ہوئے اور زخموں سے بھرے ہوئے تھے۔ افسانہ 20سالہ، روبینہ10سالہ انکے چہروں کو پہچان پانا مشکل ہے ایسے زخم تیز دھار دار ہتھیاروں سے ہی کیے جا سکتے ہیں۔
٭محمد شوکت لاک عمر 40سال دونوں ہاتھوں پر بھاری زخم لیے ہوئے ہیں ان پر بھی اسی رات حملہ ہوا تھا۔
٭فوٹو جرنسلٹ اسرار احمد کو بھی مارا گیا۔ اسی طرحIBN7کا نامہ نگار راجیش شرما جاٹوں کی گولیوں کا نشانہ بنا، اب تک راجیش شرما کا خاندان35لاکھ compensationپاچکا ہے لیکن اسرار احمد کا خاندان ہنوز انتظار کر رہا ہے کہ سرکاری مدد کب آئے گی۔
٭حسن پور رساؤکے یٰسین احمد عمر60سال کا کہنا ہے کہ انہیں اور پورے خاندان کو پڑوسیوں نے یقین دلایا کہ تمہیں کچھ نہ ہوگا۔ ہم نے اعتمادکیا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی ہجوم نے تلواروں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا اور ہم گھر بار چھوڑ کر یہاں جولہ کے کیمپ میں چلے آئے۔
٭کڈبی شاہ پور کے غیور علی عمر 45سال کہتے ہیں کہ گاؤں میں ہمارے 200گھر ہیں اور جاٹوں کے 3000۔ جیسے ہی حالات بگڑے انہوں نے سارے گھروں کو آگ لگا دی۔ مسجدیں جلا ڈالیں، جانور اور سامان لوٹ لیا، ہم سب جان بچا کر بھاگ آئے۔ اب ہم وہاں جانا نہیں چاہتے۔
٭کاکڑے کے محمد جمیل والا منگل خان عمر60سال ان کی کہانی بھی وہی ہے، گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ مدرسہ و مسجد جلادی گئی۔ گھروں کے سامان و جانور لوٹ لیے گئے۔ اور ہم بھاگ کر جان بچا پائے۔
٭محبوب ولد میدھو علی عمر 40سال نے بتلایا کہ جیسے ہی گھروں پر حملہ ہوا ہم بھاگے اور انہو ںنے ہمیں گھیر کر مارا ہے۔ اپنی قمیص اٹھا کر انہوں نے اپنے زخم دکھلائے۔
کیمپوں کی صورت حال
کیمپوں میں کھانے، پینے اور آرام کے سارے سامان قریب کے مسلمانوں کے مہیا کردہ ہیں۔ مزید انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ کپڑوں کے انبار میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ میڈیکل کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔
لیگل ایڈ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بعض جگہوں پر FIRہی نہیں کی گئی کیونکہ کوئی وکیل ہی نہیںہے اور بعض جگہوں پر کی گئی لیکن نامزد نہیں ہے۔ یہ ایسی خامیاں ہیں جس سے مجروموں کو فائدہ ملتا ہے۔ پورے علاقے سے 10-15ہی کیس جو مضبوط ہوں تو مجرموں کو سزا مل سکتی ہے۔ FIRپر جلد گرفتاریاں ہونی چاہیے فاسٹ ٹریک کورٹ سےخاطیوں کو سزا جلد دینی چاہیے۔
وزیر اعلی نے مقتولین میں سےہر ایک کو دس لاکھ، وزیر اعظم فنڈ سے ہر ایک کو دو لاکھ اور مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ایک کو تین لاکھ سب ملا کر 15لاکھ compensation (معاوضہ) کا اعلان کیا ہے۔ لیکن کب ملے گا معلوم نہیں۔ لاشوں کو گاؤں میں جاٹ ٹھکانے لگا رہے ہیں۔ اور کسی کو بھی وہاں آنے نہیں دیا جا رہا ہے۔
جنینا گاؤں میں ایک خاندان بچھڑ گیا ہے۔ جب ایک شخص واپس آیا تو پڑوسیوں نے اسے مار بھگایا۔ شہادتیں مٹائی جا رہی ہیں۔
مستقل آباد کاری کا کام ریاستی حکومت کو کرنا ہوگا اور جلد از جلد عارضی کیمپ سے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں منتقل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اتنا بوجھ تنہا ایک علاقے کے لوگ کیسے اٹھا سکتے ہیں۔
یہ ایسا موقعہ ہے کہ امت یہ سوچے کہ جاٹوں نے صرف مسلمانوں پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ نہیںسوچا کہ یہ شیعہ تھے یا سنی، جماعتی تھے یا بدعتی، بریلوی تھے یا دیوبندی، اہلحدیث تھے یا حنفی، جماعت اسلامی کے تھے یا تبلیغی جماعت کے ، دعوت اسلامی کے تھے یا وحدت اسلامی کے۔ انہیں زعفرانی آقاؤں نے جو سبق پڑھایا تھا اس پر انہوں نے عمل کیا ۔ وقت ہے ہمیں سوچنے کا ہم ان دائروں سے اوپر اٹھ کر امت مسلمہ، امت وسط، امت واحدہ ہونے کا ثبوت فراہم کریں۔ الحمد للہ مظفر نگر میں تمام ہی جماعتوں ،مدرسوں، مسلکوں سیاسی جماعتوں کے تمام لوگ مل جل کر ان حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
مظفرنگر، شاملی، تھانہ بھون یہ وہ علاقے ہیں جہاں 1857ءکی پہلی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے علما کی سرپرستی میں انگریزوں کے خلاف کئی معرکوں میں لوہا لیا ہے۔بہادر و جری علاقہ برسوں انگریزوں کی بلیک لسٹ پر رہا ہے۔ تقسیم ہند 1947ءجیسے حالات میں یہا ںاتنے لوگ کیمپوں میں نظر نہیں آئے، لیکن لیل و نہار کی گردش اسی علاقے کو کون سا منظر دکھلا رہی ہے۔ان علاقوں میں ہمت و حوصلہ کی داستانیںاور بہادری وشجاعتیں حاجی امداد اللہ صاحب مہاجرمکیؒ، حافظ ضامنؒ شہید، مولانا جعفر تھانویؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ(بانی دار العلوم دیوبند) غازی عنایت اللہؒ جیسےسورماؤں کے قدم چومتی رہی ہے۔
انگریزی توپوں کا جس نسل نے نہتے رہ کر مقابلہ کیا ہے، آج وہی نسل جان بچانے اور عافیت سے رہنے کے لیے کسی کے ہاتھوں میں گردن ڈال کر آنسو بہا رہی ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کی مظلومیت کی ایک تصویر اسلم نامی شخص کا ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے چہرہ نظروں میں ابھر رہا ہے۔ تو وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ہاتھوں میں سردے کر بلکتا ہوا جوان، مظفر نگر وشاملی کے بہادروں کی عصمت رہن رکھ چکا ہے۔ دونوں تصویروں میں قدر مشترک مظلومیت ہے۔
لیکن ہم بھول جاتے ہیں ،جہاں ہاتھ پکڑنا اور حق کہنا ضروری ہوتا ہے وہاں ہم بلکتے ہیںاور جہاں جس در پر بلکنے کی ضرورت ہے وہاں حضوری ہی عنقا ہے!!!
اللہ ہمیں عزت و وقار، ہمت و حوصلہ سے بھر پور زندی عطا فرمائے۔ آمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *