اسلام میں عورت کا مقام

قبل طلوع اسلام عورت کی تاریخ مظلومی اور محکومی کی تاریخ تھی۔ اسے سماج میں کم تر اور فرو تر سمجھا جاتا تھا۔ اسے سارے فساد کی جڑ سمجھا جاتا تھا۔ سانپ و بچھو کی طرح اس سے بچنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ بازاروں میں جانوروں کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ اس کی مستقل کوئی حیثیت نہ تھی، وہ مرد کی محکوم و تابع تھی۔ اس کا کوئی حق نہ تھا وہ مرد کے رحم و کرم پر جیتی تھی۔
یورپ ہو کہ برطانیہ، یونان ہو کہ روم یا ایشیا ہر جگہ عورت مظلوم، مقہور، مجبور و محبوس رہی ہے۔ قدیم عرب میں قبل اسلام عورتوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورتوں کے وجود کو ذلت و عار کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ عورت کی کھلونے سے زیادہ اہمیت نہ تھی۔ نہ میراث و جائداد میں اس کا کچھ حصہ تھا نہ اسے کسی مسئلہ میں رائے دینے کا حق تھا۔ سوتیلی ماں کو باپ کے بعد بیوی بنا لیا جاتا تھا۔ لڑکی پیدا ہو جانا اتنی عیب کی بات تھی کہ باپ اپنے ہاتھوں اسے زندہ دفن کر دیتا۔ اور ایسے باپ کو سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور اس کی اس حیوانیت بلکہ حیوانیت سے بھی گئی گزری حرکت کی تعریف کی جاتی۔ خود قدیم ہندوستان میں عورت کو جو حیثیت حاصل تھی وہ تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ اس سلسلہ میں منو اسمرتی کا ایک مختصر اقتباس پیش نظر ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آزادی نسواں کے نام نہاد علمبرداروں، مساوات اور حقوق کی دہائی دینے والوں نے عورت کو کیا درجہ سماج میں دے رکھا تھا۔
منو اسمرتی میں ہے:
’’عورت کے لیے قربانی کرنا، برت رکھنا گناہ ہے وہ صرف شوہر کی خدمت کرے، اس کے مرنے کے بعد دوسری شادی کا نام تک نہ لے، کوئی زینت اختیار نہ کرے، تھوڑی غذا کھا کر زندگی گزارے۔‘‘
اس پربس نہیں بلکہ چانکیہ برہمن جو ہندو مذہب کا ایک مستند رہنما ہے، کہتا ہے:
’’جھوٹ بولنا، فریب دینا، حماقت کرنا، ناپاکی، بے رحمی وغیرہ عورت کے فطری عیوب ہیں۔‘‘(چانکیہ نیتی، باب ۲)
حیرت ہے کہ ان مذاہب کے پیرو، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچنے والے، قرآنی دستور پر آوازیں کسنے والے، حقوق نسواں کے علمبردار، آزادی نسواں کا نعرہ بلند کرنے والے، عصبیت کا چشمہ لگائے یورپین مفکرین اور ان کی نقالی کرنے والے تشدد پسند اور جاہل مسلمہ حقائق اور تاریخ سے آنکھیں بند کرکے اسلام میں عورتوں کے مقام و مرتبہ پر اعتراضات کی ایک طویل فہرست لیے نظر آتے ہیں اور جن امور کو انہوں نے آزادی نسواں اورعورتوں کو مردوں کی طرح بازاروں، دفتروں ، ایوان حکومت کے اعلی عہدوں، سینما تھیٹر اور کلبوں میں مردوں کے برابر حقوق کا نام دے رکھا ہے۔ اس کے ذریعہ عورت کی عفت و عصمت سےکس طرح کھلواڑ اور اپنی شہوانی خواہشات کا آلہ عورت کو بنا کر سماج کو بدکاری، بے حیائی اور بے راہ روی و فحاشی کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔
اب ذرا دیکھیے اسلام نے اس صنف نازک کو کس مقام اور مرتبہ پر فائز کیا ہے۔ اسلام نے اس تصور کو ہی جڑ سے کاٹ دیا ہے کہ مرد محض مرد ہونے کی وجہ سے باعزت اور باعث شرف و سربلند ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے فروتر اور ذلیل ہے۔ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد دونوں برابر ہیں اور ازلی اور ابدی طور پر نہ کوئی کم تر ہے نہ بدتر۔ جو بھی ایمان و اعمال صالحہ سے آراستہ ہوگا وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب وکامران ہوگا۔ اور جس کا دامن ان اوصاف حمیدہ سے خالی ہوگا وہ دنیا و آخرت میں ناکام و نامراد ہوگا خواہ وہ عورت ہو یا مرد۔
چنانچہ قرآن کا اعلان ہے:
’’جو نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اگر وہ مومن ہے توہم اسے دنیا میں اچھی زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں ایسوں کو ضرور ان کے اچھے کاموں کا بدلہ عطا کریں گے۔‘‘
(ترجمہ سورۃ النحل:97)
اسلام نے بتایا کہ عورت ذلت نہیں رحمت ہے۔ اسلام نے نہ صرف عورت کو بیٹی کی حیثیت سے والدین کی آنکھوں کا تارا بتایا بلکہ بخاری و مسلم کی حدیث ہے:
’’جو ان لڑکیوں کے ذریعہ کچھ آزمائش میں ڈالا گیا اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔‘‘
عورت کو ماں کا وقار بخش کر اولاد کے لیے اس کے پیروں کے نیچے جنت بتلائی۔ ماں کی فرماں برداری اور اطاعت پر جنت کی خوش خبری دی، اس کے سامنے کندھا جھکا کر چلنے کی اور اس کی آواز پر آواز بلند نہ کرنے کی تاکید فرمائی۔ اسکے سامنے اُف کرنا بھی حرام، اس کے خلاف بے ادبی، بے احترامی، ناراضگی اور بے زاری کاادنی سا شائبہ بھی ناجائز قرار دیا۔ حاضر و غائب ہر جگہ اس کے لیے دعا ہمدردی و حمایت، خیر خواہی اور خبر طلبی کا حکم دیا۔ عورت اگر بہن ہے تو اس کے حقوق بھی اسی طرح کے ہیں جیسے بیٹی کے ہیں۔ یہ بتلا کر بھائیوں کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے ،ان کی تعلیم و تربیت اور ان کی خبر گیری کی ہدایت کی۔ اسی طرح اسلام نے عورت کو بیوی کا درجہ دے کر اس سے تعلقات قائم کرنے کا شرعی ضابطہ بنایا۔ شوہر کا راز دار، غم گسار اور رنج و غم کا ساتھی، خوشی و مسرت کا شریک، ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا، عزت و حرمت کی حفاظت کرنے والا بتا کر بدکاری اور فحاشی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔
ادیان سابقہ کے مقابلہ میں عورت کو شوہر اور باپ کی جائداد میں وارث قرار دے کر اس کے حقوق کی حفاظت کی او راس کی اہمیت اس درجہ بڑھائی کہ تقسیم میراث میں مرد کے بجائے عورت کو معیار بنایا اور کلام ربانی میں یہ اعلان کر دیا:
’’مذکر کو دو مؤنث کے حصہ کے بقدر میراث ملے گی۔‘‘ (ترجمہ سورۃ النساء :11)
اور یہ اعلان کرکے قیامت تک کے لیے عورت کے مقام و مرتبہ کی گارنٹی دے دی۔ غرض اسلام میں عورت ماں کی حیثیت سے بھی قابل تکریم، بہن و بیٹی کی بھی حیثیت سے بھی قابل تکریم اور بیوی کی حیثیت سے بھی قابل تکریم ہے۔
قرآن و حدیث میں جا بجا ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عورت کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے پر جنت کی نیز اللہ و رسول کی رضا وخوشنودی کی بشارتیں دی گئیں ہیں ان سب کا احاطہ کرنا تو محال ہے۔ مثال کے طور پر ایک دو آیات قرآنی اور احادیث کا ترجمہ پیش ہے:
’’ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے بود و باش رکھو گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالی اس میں بہت ہی بھلائی کر دے۔‘‘ (ترجمہ سورۃ النساء:19)
’’بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنیوالے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان(سب) کے لیے اللہ تعالی نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کیا ہے۔‘‘
(ترجمہ سورۃ الاحزاب:35)
اسی طرح حدیث مقدسہ میں ارشاد ہے:
’’اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا حرام ٹھہرایا ہے۔‘‘
’’لڑکیوں سے نفرت مت کرو وہ تو غم خوار اور بڑی قیمتی ہیں۔‘‘
’’جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، ان کی تعلیم و تربیت کی، ا نکی شادی کی اور ان کے ساتھ بعد میں بھی حسن سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔‘‘
اسلام نے حدود شرعیہ میں رہتے ہوئے کسی شعبہ زندگی میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے سے نہ صرف یہ کہ عورت کو روکا نہیں بلکہ اسے اجازت دی اور علمی اور عملی حیثیت سے اس کو سراہا بھی۔ چنانچہ قرن اول سے آج تک اسلامی خواتین نے مختلف شعبہ ہائے حیات میں چاہے وہ علم حدیث و تفسیر و فقہ ہو، خواہ علم نحو، عروض، حساب اور خطاطی یا یہ کہ طب و تصوف وتاریخ ہو اور چاہے اجتماعی اور رفاہی خدمات ہوں ایسے ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو مسلمان عورتوں کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور جن کا انکار کرنے والا کوئی احمق و جاہل ہی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایسی ایسی خواتین کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مختلف شعبہ زندگی میں اپنے کارناموں کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ عورت شرعی حدود میں رہ کر بھی مردوں سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ، زینت بنت عثمان، امتہ انوار اسماء بنت عبرت، حلیمہ بنت صادق، سیدہ بنت عبدالغنی، حضرت خنسا، عاتکہ بنت زید، فاطمہ ام ایمن، ام یوسف، ام حکیم، ام رومان، زلیخا بنت اسماعیل، امت الولابنت الحسین، امتہ اتواز، امۃ الخالق، دہما بنت یحییٰ، عائشہ بنت علی بن محمد، جمیلہ بنت ملک، خلیفہ ہارون رشید کی بیگم زبیدہ خاتون وغیرہا عالم اسلام کی وہ مایہ ناز خواتین ہیں کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں جن کے ناقابل فراموش کارناموں کی پوری ملت اسلامیہ علی الخصوص اور پوری انسانیت علی العموم مرہون منت رہے گی۔ اور تاریخ انہیں کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتی۔
ہاں اسلام عورت اور مرد کی وہ برابری کسی طرح بھی تسلیم نہیں کرتا جو اس صنف نازک کو چراغ خانہ کے بجائے شمع محفل بنا دے۔ عفت و پاکیزگی کے اس آبگینے پر معمولی ٹھیس کا لگنا بھی اسلام کو گوارا نہیں ہے چنانچہ اس سلسلہ میں جو حدود قائم کی گئی ہیں وہ عورت کے مقام و مرتبہ کو گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ بڑھانے کے لیے ہیں اور اس کی خلقی کمزوری، اس کے جذبات، اس کی نزاکت جسمانی، اس کی نفسیات کو سامنے رکھ کر قائم کی گئی ہیں۔ شریعت اسلامیہ نے عورت کے حقوق و فرائض کے ذیل میں جو قوانین وضع کیے ہیں اور جو ہدایات اس ضمن میں اپنے پیروؤں کو دی ہیں اگر دوسرے ادیان ومذاہب اور اقوام و ملل عصبیت کی عینک اتار کر دیانتداری کے ساتھ غور کریں اور اس پر عمل پیرا بھی ہوں تو نہ صرف و ہ اس سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوں گے کہ اسلام نے عورت کا جو مقام و مرتبہ متعین کیا ہے وہی موزوں ترین ہے اور اس میں کسی ادنی سی ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ دنیا سے آدھی سے زیادہ برائیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *