سیکولرزم ،انصاف اور مسلمان

دور حاضر کے شیطانوں نے پروپگنڈہ کے بل بوتے پر ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ اور ’’جہادی اسلام‘‘ جیسی اصطلاحیں وضع کرکے اپنے انسانیت سوز مظالم، جبر اور ہر طرح کے استحصال پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ نئی دہلی میں 29ستمبر کو راجندر بھون میں شام کی ظالم حکومت کی حمایت میں ایک کانفرنس ’’یواکرانتی سنگٹھن‘‘ کی روداد روزنامہ جدید میل دہلی کی30/9/13کی اشاعت میں شائع ہوئی ہے۔لاکھوں انسانوں کو قتل، زنا، تباہی و بربادی سے دوچار کرنے والی قاتل ظالم حکومت کی نمائندگی کرنے والےشامی سفیر ریاد کامل عباس نے بھی اس سکۂ رائج الوقت کی مدد سے اپنی ظالم حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو دہشت گردوں کا خطاب دیا۔ کانفرس میں بڑی بڑی متقی شخصیات نظر آتی ہیں۔ مگر ان لاکھوں مظلوم شامی مسلمانوں کے لیے ایک حرفِ ہمدردی بھی ’’کرانتی کاری‘‘ کے منھ سے نہیں نکلا اور سب سے افسوس ناک اور شرم ناک بات یہ ہے کہ ہندوستان میں سیکولرزم کے سب سے بزرگ علمبردار (ان کے مخفی سیکولرزم کی حقیقت ایک دوسری خبر کے حوالہ سے آگے آرہی ہے) جناب کلدیپ نیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے خبر کی حد تک مظلوم سنی مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہابلکہ ظالم بعثی Bathistحکومت کی ان الفاظ میں تعریف کی ’’شام ہمیشہ سے ایک امن پسند ملک رہا ہے اور اپنے عوام کی ترقی و حقوق کی رعایت کرتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں عالمی طاقتوں کی دوغلی پالیسی قابل مذمت ہے۔‘‘( جدید میل 30/9/13) اب یہ کلدیپ نیر صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ حافظ الاسد اور اسکے قاتل بیٹے بشار الاسد نے کس طرح لاکھوں شامیوں کو قتل کرنا، قید و بند ، ایذا و تعذیب، مہاجرت و دربدری کے ذریعہ حقوق کی ادائیگی کی ہے۔ دوسری خبر بھی دہلی سے ہی انہیں بزرگ ’’سیکولرسٹ‘‘ کلدیپ نیر صاحب کی ہے۔ جماعت اسلامی کے انگلش ہفت روزہ کے پچاس سال پورے ہونے والی تقریب میں نیر صاحب نے کچھ اس طرح کے ڈپلومیٹک انداز میں نصیحت اور دھمکی مسلمان اقلیت کو دی ہے’’ملک میں سیکولرزم کی برقراری کو ساتھ لے کر چلیں اور سکیولرزم کا چراغ روشن کریں۔‘‘(ہمارا سماج، دہلی 30/9/13ٌ) بظاہر بہت خیرخواہانہ نصیحت ہے مگر اس کی منطق بالکل سنگھ پریوار والی ہے جیسا کہ پریوار والے کہتے ہیں کہ مسلمان ذرا سی قربانی بابری مسجد کی دے دیں تو مسئلہ حل ہو جائے۔ سوال نیر صاحب اور پریوار دونوں سے یہی ہے کہ کیا چھوٹے بھائی اور کمزور بھائی سے قربانی مانگنا ہی انصاف اور انسانیت کا تقاضہ ہے؟ بڑا بھائی کیوں نہیں بڑپن کا مظاہرہ کرتا؟ سیکولرزم کو برقرار رکھنے کی زیادہ ذمہ داری اقلیت پر ڈالنے کی بات کہنا سیدھا اس بات کی دھمکی ہے کہ ہم تو اکثیرت میں ہیں یہ تو آپ کی ضرورت ہے کہ آپ کو بھی اپنے اعتقادات پر عمل درآمدگی کی آزادی ملی رہے۔ اس کے لیے آپ جھک کر compromiseکرکے اکثریت کی مرضی کا خیال کرکے زندگی گزارئیے۔ اگر یہی سب کچھ ’سیکولرزم‘ ہے تو پھر آزادی اور یکساں مواقع و حقوق کی جھوٹی دعویداری کیوں ہے؟ حالانکہ سچر کمیشن اور رنگا ناتھ کمیشن ان پہلوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ اور حکومت ہند کی آنے والی ہر رپورٹ چاہے حالیہ فسادات میں مارے جانے والے مسلمانوں کی رپورٹ ہو ، بنکوں سے ملنے والے اقلیتی قرض کی رپورٹ ہو، فی کس سالانہ خرچ کی رپورٹ ہو، جیلوں میں بند زیر سماعت قیدیوں کی رپورٹ ہو، سب مسلمانوں کو ملنے والے انصاف، یکساں حقوق اور اب تو تشٹی کرن کی پول کھول رہی ہے۔ اور نیر صاحب اس ظلم و نا انصافی کے نظام کو بھی بہت غنیمت بتا کر اس کی لاش کو کندھے پر ڈھونے کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہی ڈال رہے ہیں۔ شام سے متعلق جس قرارداد کی بات آ رہی ہے اس پر ذرا سا غور کرنے پر ساری دنیا خصوصا ۵ بڑوں کی اصل نیت سامنے آ جاتی ہے۔ یہ طاقتیں حتی المقدور تمام دنیا کو اپنا غلام اپنے اپنے دائرہ اثر میں بنا کر رکھنا چاہتی ہیں۔ جیسے شہروں میں غنڈوں اور موالیوں کے علاقہ ہوتے ہیں۔ شام میں کیمیاوی اسلحہ کے استعمال سے 1500بچے، عورتیں اور بے گناہ مرد شہید ہوگئے جو فیصلہ ہوا اس میں ان بے گناہ شہدا کے لیے انصاف کیا ہے؟ کیمیاوی اسلحہ ضائع ہونے سے فائدہ اسرائیل اور امریکہ کا ہے۔ اور چین و روس کے مفاد بھی سلامت رہیں گے۔ یعنی شام کے مظلوم سنی مسلمان دو طرفہ ظلم کا شکار ہوتے رہیں گے اور ان کی لاشوں اور کھنڈروں پر اسرائیل، امریکہ، روس اور چین اپنے مفادات کی روٹیاں سینکتے رہیں گے اور ان 5بڑوں کے دو چھوٹے ’’چھٹ بھیے‘‘ ایران اور سعودی عرب امت مسلمہ کی سرداری کے زعم میں مبتلا ہو کر اپنے ہتھیاروں اور ریال سے ظلم کی آگ کو دھیمی مستقل آنچ سے جلاتے رہیں گے تاکہ شام کے مظلوم عورتوں بچوں کی نہاری بن سکے۔ یہ ہے 21ویں صدی کے سکیولرزم کا نمونہ۔
سیکولر لابی دعوی کرتی ہے کہ وہ بہت روادار، روشن خیال، انصاف پسند اور ایڈجسٹ کرنے والی تہذیب ہے۔ جب کہ تاریخ میں پہلی جنگ عظیم بلکہ اس تحریک کی پیدائش سے لے کر ہی اس نے جتنا ظلم ا ور غارت گری دنیا بھر میں کی ہے اور آج بھی جاری ہے اس کا تازہ ترین نمونہ مصر میں دیکھنے کو ملا۔ جہاں ان سیکولر وں نے ملاؤں اور نام نہاد ریڈیکل کے ساتھ مل کر منتخب حکومت کو ملٹری کی طاقت سے بے رحمی سے کچل دیا اور اسے عوامی مرضی کا نام دیا۔ عوامی سرخی تو ان کی بھی تھی جو لاکھوں کی تعداد میں ایک ماہ سے اپنی مرضی کی حکومت کی بحالی کی مانگ کر رہے تھے۔ مگر ان پر ان سیکولر ظالموں نے ٹینکوں مشین گنوں اور ہیلی کاپٹر گن شپ اور اپنے غنڈوں کے چھرے چاقو سے حملہ کر دیا۔ یہی حربہ یہ سیکولر ظالمین تیونس میں اپنے مغربی اسلام دشمن آقاؤں سے مل کر آزما رہے ہیں۔ وہاں کی اسلام پسندالنہضۃکی حکومت کے خلاف بین الاقوامی صہیونی میڈیا سے مل کر مہم چلائی جار ہی ہے۔ یہاں پر بھی غزہ کی حماس کی طرح اسلام پسندوں نے ہی اتحاد کے لیے قربانی دی او رحکومت سے انتخاب تک دست بردار ہو کر کارگزار بغیرپارٹی کی سرکار کی دیکھ ریکھ میں الیکشن کو راضی ہو گئی ہے۔ مگر یہی مانگ بنگلہ دیش کی سیکولر کلدیپ نیر صاحب کی ڈارلنگ سرکار نہیں کر رہی ہے۔ بنگلہ نیشنلسٹ پارٹی حسینہ واجد کی سیکولر سرکار سے یہی مانگ کر رہی ہے کہ وہ ماضی کی طرح کارگزار سرکار Care taker govt.بنا کر سرکار اس کے حوالہ کردے اور وہ الیکشن کرائے۔ مگر حسینہ کی سیکولر، روادار، روشن خیال، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی حامی سرکار اس مانگ کو نہیں مان رہی ہے جس کو تیونس کے اسلام پسند مان گئے ہیں۔ ترکی میں بھی یہ سیکولر بے رحم خدا بیزارلابی دن رات مسئلہ کھڑے کرکے وہاں کی اسلام پسند حکومت کو گرانا چاہ رہی ہے اور اس کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنا رہی ہے۔ جب کہ ان سیکولرسٹوں نے مصر اور ترکی میں 80سال حکومت کی ہے اور وہاں مغرب کی نقالی کے سوا کوئی ترقی زراعت، صنعت، حرفت، میڈیا، تعلیم اور صحت کے میدان میں نہیں ہوئی، سوائے مغرب سے در آمد شدہ مال کی چمک دمک اور شاپنگ مالز اور بیش قیمتی گاڑیوں کے۔ مگر ان ممالک کی ترقی کی ویسی ملکی بنیادیں نہیں رکھی گئیں جو کام ترکی اور مصر میں اسلام پسند بہت تیزی سے کر رہے ہیں۔ مغرب کی ان سے ناراضگی کی اصل وجہ یہی ہے۔ مگر اس کو ظاہر کرنے کے بجائے طرح طرح کے مکروہ پروپگنڈہ کرکے وہاں کی حکومتوں کو گرا کر ’’سیاسی اسلام‘‘ کی ناکامی کا اعلان کرنا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا شیطانوں کے لیے نوالہ تربنی رہے۔ اور ان سرمایہ داروں کے ایجنٹ اپنے اپنے ملکوں میں روشن خیالی،’’کھلا پن‘‘ اورلبرلزم کے نام پر عوام کو باہم لڑا کر کروڑوں اربوں ڈالر کمیشن کھاتے رہیں اور اپنی اپنی فوج کے جرنیلوں کو بھی لوٹ کا مال کھلا کر ان کے ذریعہ اپنی عوام پر جبر و تشدد کا بازار گرم رکھیں۔ سیکولرزم کے نام پر پوری مسلم دنیا میں پچھلے 80سالوں سے یہی خونی، شیطانی کھیل جاری ہے۔ جس کی تائید کلدیپ نیر نے بھی کی ہے جو کہ عموماً مسلم دوستی کا مکھوٹا لگائے رہتے ہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *