فقہ الاقلیات دل میں لندن کی ہوس لب پہ ہے ذکرحجاز

پچھلے شمارے میں میں نے فقہ الاقلیات پر اصولی گفتگو کی تھی اور اپنی حد تک یہ ثابت کر دکھایا تھا کہ دین میں اس طرح کی خصوصی اور مستقل فقہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب ذیل میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب، چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم کے خیالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے جن کی تحریر پڑھ کر ہی میرے دل میں اس موضوع پر قلم اٹھانے کا خیال پیدا ہوا تھا۔ مولانا کی یہ تحریر ’’دینی جامعات اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان سے موقر جریدے ’ماہ نامہ افکار ملی‘ کے اپریل ۲۰۱۳ء؁ کے شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ اس مضمون سے ہم نے وہ حصہ لیا ہے جو ہمارے حالیہ موضوع سے متعلق ہے۔ صفحہ ۳۶ کالم نمبر دو کے وسط سے کالم نمبر ۳ کے وسط تک فرماتے ہیں:
’’فقہ دور ِ عباسی میں مرتب ہوا جو ہماری قوت و طاقت اور دنیا بھر پر حکمرانی کا دور ہے، دورِ عباسی کے بعد بھی ہم صدیوں تک دنیا بھر میں غالب و حکمراں ملت اور سپر پاور امت کے طور پر تھے اس لئے ہمارے فقہی ذخیرہ میں قوت و طاقت اور حکمرانی کے دور کے لئے لائحۂ عمل پوری تفصیل کے ساتھ ملے گا لیکن بے بسی اور کمزوری کے دور میں جب ایک تہائی مسلمان اقلیت میں دوسروں کے رحم و کرم پر ہوںاور باقی مسلم حکومتیں بھی دنیا کی باطل و دجالی قوتوں کے سامنے بے بس و مجبور ہوں ایسے دور کے لئے لائحۂ عمل اور مکمل رہنمائی جسے ہم فقہ الاقلیات یا بے بسی کے دور کا لائحۂ عمل کہہ سکتے ہیں، ہمارے فقہی ذخیرہ میں بہت کم ملے گا۔ کیوں کہ جس دور میں فقہ مرتب ہوئی اس کے بعد صدیوںتک فقہاء کرام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی دنیا میں ایسا دور بھی آ سکتا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان کفرکے سامنے ایسے بے بس و لاچار، مجبور و مظلوم بن کر زندگی بسر کررہے ہوں، اس کمزوری اور ضعف کے دور کے لئے زندگی کے ہر شعبہ کا مکمل اور تفصیلی لائحۂ عمل قرآن اور سیرت میں ملے گا۔ آنحضرتﷺ کی تقریباً پوری زندگی اور نزول قرآن کا سارا دور مسلمانوں کی بے بسی اور کمزوری کا دور تھا۔ صلح حدیبیہ کی شرائط پر ایک نظر ڈالنے سے آٹھ ہجری تک کی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس صلح نامہ میں ہمارے عصر حاضر کے مسائل و مشکلات میں بہت کچھ رہنمائی اور بصیرت ہے۔ اگرچہ فتح مکہ پورے جزیرۃ العرب کی فتح کے ہم معنی تھی مگر اطراف کی قوتوں ، ایرانی امپائر اور رومن امپائر کے عزائم کو سامنے رکھا جائے اور غزوۂ تبوک اور جیشِ اسامہؓ کا پس منظر سامنے ہو تو سمجھا جا سکتا ہے کہ بالکل آخری دور تک دشمنانِ اسلام کی طاقت و قوت کا دور ہے۔ مسلمانوں کو حقیقی اور صحیح معنی میں قوت دورِ فاروقی میں حاصل ہوئی۔ اس لئے پورا قرآن اور پوری سیرت گویا ہمارے آج کے دور کے لئے لائحۂ عمل ہے۔مگر ہم ہیں کہ فقہ میں اشتغال کے ذریعہ اپنے غلبہ و قوت اور دنیا بھر پر حکمرانی کا دور سامنے رکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے عصری مسائل میں اپنے لئے نہ کوئی راہِ عمل متعین کر پارہے ہیں نہ اپنے مسائل کا حل نکال پا رہے ہیں۔آج کے دور میں ہمیں فقہ کے متعدد ابواب جیسے کتاب الرقاق، کتاب الغنیمہ بے جوڑ اور ناممکن نظر آتے ہیں۔ بندہ کے نزدیک اپنے غلبہ کے دور میں مرتب ہونے والے فقہ پر ساری توجہ دینے کی وجہ سے نہ ہم آج کا دور سمجھ پارہے ہیں نہ موجودہ حالات میں اسلام کی غلبہ کی راہیں تلاش کرپارہے ہیں۔ لگتا ہے کہ گویا ہم پر سارے دروازے بند ہیں، مجبوری اور معذوری میں زندگی بسر کرنا ہی ہمارا مقصدہے۔ یہ ساری مصیبت فقہ القرآن اور فقہ السیرت سے ناواقفیت اور غفلت کی وجہ سے ہے ورنہ سیرتِ پاک اور قرآن حکیم آج کے دور کی رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔‘‘
اس تحریر کو پڑھ کر مجھے اپنا ایک ذاتی مشاہدہ یاد آگیا۔ بات ۱۹۹۳ء؁ کی ہے جب میں شکاگو میں زیرِ تعلیم تھا۔ ان دنوں وہاں ایک ٹی وی چینل پر سنیچر کے روز صبح دس بجے ایک ’اسلامی‘ Talk Showنشر ہوا کرتا تھاجسے ہم سب بڑی عقیدت سے دیکھا کرتے تھے۔ ایک دن مذاکرہ کا عنوان تھا Generation Gap۔ ہجرت کرکے امریکہ پہونچنے والے والدین اور ان کی امریکہ میںپیدا ہونے والی نسل کے درمیان تباعد نسلیGeneration Gapکی وجوہات پر روشنی ڈالی جارہی تھی کہ Anchorدرمیانی رو میں بیٹھی ایک دوشیزہ کے پاس مائیک لئے پہونچ گیا۔ ایک دلنشیں انداز سے وہ لڑکی کھڑی ہوئی تو اس کا سراپا نظر آیا۔ ۱۷؍۱۸سال کی اس لڑکی نے چست جینز پہن رکھی تھی، بلاوز نما شرٹ جس کا ایک آدھ بٹن کھلاہوا تھا، دوپٹہ کے تکلف سے مبراکندھوں تک ترشے ہوئے بال اور چہرہ پر ضروری و غیر ضروری غازہ و سفیدی۔ جب گویا ہوئیں تو ایسا لگا کہ آج حکمت تمام ہوگئی۔ فرمایا:
’’ دراصل ہمارے والدین جو برصغیر سے یہاں آتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک روایتی دین لے کر آتے ہیں جو انہوں نے تہذیب کے نام پر گلے سے لگا رکھا ہوتا ہے۔ جبکہ ہم راست قرآن و سنت سے دین سیکھتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری دینی فکر اور ان کی تہذیبی فکر میں ٹکراؤ واقع ہوتا ہے اور باہمی افہام و تفہیم اور adjustmentکے بجائے رسہ کشی اور ٹکراو کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘
مولانا منصوری صاحب بھی کہیں نہ کہیں اسی نفسیات کا شکار معلوم ہوتے ہیں۔ فقہ اسلامی کو دورِ عروج کی پیداوار بتاکر، فقہ القرآن اور فقہ السیرت کی غیر علمی اصطلاحات کا استعمال کرکے اور پوری سیرت طیبہ میں اکیلی صلح حدیبیہ کے حوالہ سے اپنے عالمی (پلیٹ) فارم سے اسلام کی ایک ایسی جدید تشریح و تعبیر پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ساری اقدار کو پامال کرکے محض قرآن وسنت کا نام لے کر بے غیرتی، کمزوری، سپر اندازی، مداہنت، چاپلوسی، کف گیری وغیرہ مذموم صفات کو بھی عین اسلام ثابت کیا جاسکے اور پندرہ صدیوں سے نگہبان اس کی حفاظت کے قلعوں کو دقیانیوست اور قدامت پسندی کا حوالہ دے کر یک قلم مسترد کیا جاسکے تاکہ نئے معذور و بے کس مسلمان کو باطل کے زیر سایہ سانس لیتے رہنے کی مہلت مل سکے۔
ذیل میں ہم ان کی تحریر کا علمی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ قارئین کو اندازہ ہوسکے کہ کس طرح قرآن وسنت کے نام پر فقہ سے بے زاری اور درحقیقت قرآن وسنت کی اصل روح سے دوری پیدا کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔سہولت کی خاطر ہم نے منصوری صاحب کی تحریر کا خلاصہ پانچ نکات میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے:
۱۔ فقہ دور عباسی میں مرتب ہوئی جو اسلام کا دور عروج ہے۔ لہذا دنیا بھر کے مسلمان جو آج کفر کے سامنے بے بس و لاچار اور مجبور بن کر زندگی گذار رہے ہیں ایسے دور کے لئے لائحۂ عمل اور مکمل رہنمائی فقہی ذخیرہ میں بہت کم ملے گی۔ بقول منصوری صاحب:’’ جس دور میں فقہ مرتب ہوئی اس کے بعد صدیوںتک فقہاء کرام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی دنیا میں ایسا دور بھی آ سکتا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان کفرکے سامنے ایسے بے بس و لاچار، مجبور و مظلوم بن کر زندگی بسر کررہے ہوں‘‘۔
۲۔ فقہ الاقلیات دراصل بے بسی کے دور کا لائحۂ عمل ہے۔
۳۔ اس کمزوری اور ضعف کے دور کے لئے زندگی کے ہر شعبہ کا مکمل اور تفصیلی لائحۂ عمل قرآن اور سیرت میں ملے گا۔ آنحضرتﷺ کی تقریباً پوری زندگی اور نزولِ قرآن کا سارا دور مسلمانوں کی بے بسی اور کمزوری کا دور تھا۔ صلح حدیبیہ کی شرائط پر نظر ڈالنے سے آٹھ ہجری تک کی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس صلح نامہ میں ہمارے عصر حاضر کے مسائل و مشکلات میں بہت کچھ رہنمائی اور بصیرت ہے۔
۴۔ اگرچہ فتح مکہ پورے جزیرۃ العرب کی فتح کے ہم معنی تھی مگر اطراف کی قوتوں ، ایرانی امپائر اور رومن امپائر کے عزائم کو سامنے رکھا جائے اور غزوۂ تبوک اور جیشِ اسامہؓ کا پس منظر سامنے ہو تو سمجھا جا سکتا ہے کہ بالکل آخری دور تک دشمنانِ اسلام کی طاقت و قوت کا دور ہے۔
۵۔کتاب الرقاق اور کتاب الغنیمہ جیسے ابواب (آج کے دور میں) بے جوڑ اور ناممکن العمل ہیں ۔(عروج کے دور کی) فقہ میں اشتغال کے باعث ہم جدید دور سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے ہیں۔
ہم منصوری صاحب کی تحریر کے خلاصہ کا نمبر وار جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ مولانا کی پہلی دلیل کہ’ فقہ دورِ عباسی یعنی دور عروج میں مرتب ہوئی‘ ایک عامی کے لئے خواہ کتنی ہی بھاری بھرکم ہو، مگر تاریخ اسلامی سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی اس کی سطحیت کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ صرف فقہ ہی نہیں سارے علوم اسلامی بشمول قرآن و حدیث سے متعلق علوم، سب کے سب دورِ عباسی میں ہی مرتب ہوئے۔ اسلامی علوم و فنون کے اعتبار سے جن تین صدیوں کو قرن الذہب (سنہری دور)کہا جاتا ہے اس میں ایک صدی خلافت راشدہ اور خلافت بنو امیہ پر مشتمل ہے اور باقی دور خلافت عباسیہ پر مشتمل ہے۔ تفسیر، حدیث، اسماء الرجال، اصول الفقہ، روایت، درایت، صرف و نحو، تاریخ، سیرت وغیرہ تمام علوم کی ترتیب و تدوین اسی دور میں ہوئی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نکالنا کہ وہ اس دور کی پیداوار ہیں، بالکل بچکانہ بات کہلائے گی۔ خود علم فقہ کی بنیا د قرآن مجید ہے۔ نزول قرآن سے لے کر آج تک قرآن و سنت کے مدلولات کو سمجھ کر عملی زندگی پر اس کے نفاذ کا نام ہی فقہ ہے۔ سخت نادانی ہوگی اگر فقہ اسلامی کو قرآن و سنت سے الگ اور دورِ عروج کی پیداوار قرار دیا جائے۔ دورِ عباسی میں جو کچھ ہوا وہ بس اتنا ہی ہے کہ پہلے سے موجود بکھری ہوئی چیزوں کو چند مجلدات میں مرتب کرکے محفوظ کردیا گیا۔ خود صحابۂ کرامؓ میں مفسر صحابہ، محدث صحابہ، اور فقیہ صحابہ کی تقسیم یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ تدوین وترتیب خواہ بعد کے دور میں ہوئی ہولیکن بنیاد و تفصیلات بہت پہلے واقع ہوگئی تھیں۔ بلکہ فقہ کی تدوین احادیث کی تدوین کے شانہ بشانہ ہوئی۔ امام مالکؒ دورِ اموی کے فقیہ و محدث امام تھے؛ امام احمدبن حنبلؒ دورِ عباسی کے فقیہ و محدث امام تھے؛ امام اعظم ابو حنیفہؒاور امام شافعیؒ نے دونوں ادوار دیکھے۔ جبکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف کی تدوین تو خالص عباسی دور میں ہوئی۔
گویا فقہ اسلامی کے سلسلہ میں ’ترتیب در دورِ عباسی‘ کا شگوفہ قبول کرلیا جائے تو دیگر علوم بھی اسی بنیاد پر بآسانی متروک قرار پائیں گے۔ اور بشمول فقہ اسلامی کے علوم تفسیر و حدیث اور سیرو تاریخ کو بھی نئے سرے سے ترتیب دینا پڑے گا اور بالآخر بات وہیں پہونچے گی جس کا اظہار علامہ اقبالؒ کے شعر کی صورت میں مضمون کی ابتداء میں کردیا تھا کہ ؎
ان غلاموں کا مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب کہ سکھاتی نہیں یہ ان کو غلامی کے طریق
چنانچہ اسی قبیل کا ایک فتنہ بزعمِ خود دعوت کا خبط رکھنے والے ایک سید صاحب نے رام پور میں برپاکررکھا ہے۔ ان کا فرمانا ہے کہ:’ دنیا میں اصل حالت میں صرف صحیفۂ عثمانی پایا جاتا ہے۔ جبکہ صحف عثمانی کو صحیفۂ حفصہؓ سے نقل کیاگیاتھا جو آج دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اس لئے اب صحف عثمانی کا موازنہ صحیفۂ حفصہؓ سے ممکن نہیں ہے اور بریں بنا قرآن کا تحفظ(خاکم بدہن، نقلِ کفر کفر نہ باشد) حتمی اور یقینی نہیں کہا جاسکتا‘۔یہ بات نہ صرف جھوٹ اور جہالت پر مبنی ہے بلکہ یہ اعدائِ اسلام کی سازش کا حصہ بھی محسوس ہوتی ہے۔ قرآن کریم صحیفہ کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ تواتر سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوا ہے اور صحیفۂ عثمانی کی تدوین کے بعد اس وقت موجود صحابۂ کرام ؓ کی اجماعی تصدیق کے بعد ہی نہ صرف صحف عثمانی کو عام کیا گیا بلکہ کسی بھی طرح کے اشتباہ سے بچنے کے لئے بحکم خلیفہ دیگر تمام نسخوں کو نذرِ آتش کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور و متعصب مستشرق مونٹگمری واٹ انیسویں صدی میں یہ شہادت دینے پر مجبور ہوگیا کہ ـ: گرچہ ہم اس بات کی تو تصدیق نہیں کرتے کہ قرآن محمد(ﷺ) پر اللہ کی طرف سے بواسطہ جبریلؑ نازل ہوا۔ البتہ ہم اس بات کی تصدیق ضرور کرتے ہیں کہ آج جو کچھ قرآن میں ہے وہ وہی ہے جو محمد(ﷺ) کی زبان سے ادا ہوا تھا۔
لیکن اگر منصوری صاحب کی زمانۂ ترتیب والی منطق استعمال کی جائے تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ صحیفۂ حفصہ موجود ہوتا تو بھی اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی۔ کیونکہ اسے دور صدیقی میں ترتیب دیا گیا تھا اور اس وقت تک حضور اکرمﷺ دنیاسے پردہ فرما چکے تھے۔اور اس طرح صحیفۂ حفصہ کی تصدیق حضور پاک ﷺسے ثابت نہیں ہوتی۔ و نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا
رہی بات بے چارے فقہاء کرام کی کم فہمی کی کہ وہ صدیوں بعد اسلام کے ادبار اور مسلمانوں کے زوال اور بے بسی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، تو یہ محض منصوری صاحب کی خام خیالی اور شپرہ چشمی ہے۔ حضور پاک ﷺ نے بہت واضح انداز میں بے بسی کے اس دور کی اطلاع دی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ قومیں تم پر اس طرح پلِ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر۔ صحابہؓ نے حیرت و استعجاب سے عرض کیا کہ ایسا کیسے ہوجائے گا، کیا ہم اقلیت میں آجائیں گے۔ جواباً عرض کیا گیا کہ اقلیت تو دور کی بات ہے تمہاری تعداد سمند ر کے جھاگ کی طرح ہوگی جس کی گنتی ممکن نہیں ہے۔ مگر تمہیں وہن نام کی ایک بیماری لگ جائے گی۔ جس کی جدید تشریح بندے کے نزدیک یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرنے لگو گے اور اس پر وارے جائوگے، کیرئیر اور اقتدار وقت کی چاپلوسی کے ذریعہ بھی اپنا اسٹیٹس بنا نا پڑے اور دین میں مداہنت کرنی پڑے تو اس سے بھی بعض نہ آئوگے۔ غرض کہ دنیا کے لئے اپنا دین بھی سستے داموں بیچ دوگے۔ دوسری جانب دین کی خاطر قربانی دینے، اس کی حفاظت کے لئے جان دینے سے ایسے بھاگوگے جیسے چوہا بلی کو دیکھ کر بھاگتا ہے یا گدھا شیر کو دیکھ کر۔ کانھم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ۔۔۔ مولانا کی اطلاع کے لئے یہ عرض ہے کہ یہ حدیث شریف حضورپاکﷺ نے کسی سے خواب میں آکر بیان نہیں کی بلکہ انہیں فقہاء اور محدثین کی زبانی ہم تک پہونچی جن کے بارے میں آپ کا گمان ہے کہ انہیں اس کا گمان بھی نہیں رہا ہوگا۔ چونکہ ابھی یہ ہمارا موضوع نہیں ہے اس لئے محض اظہار حقیقت پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ضرورت ہوئی تو ان شاء اللہ اس حدیث پر مزید تفصیلی گفتگو کی گنجائش موجودہے۔
۲۔ ایک ہی ضرب میں فقہ اسلامی کومتروک العمل قرار دینے کے ساتھ ہی اصل مدعاقلم سے ادا ہوگیا۔یعنی بے کسی اور بے بسی کی زندگی کے لئے الگ شریعت(فقہ) کا تقاضہ یا صریح الفاظ میں کہا جائے تو فقہ الاقلیات کا سازِ بے سوز۔ ظاہر ہے اس خلا کو پُر کرنا ضروری تھا جو فقہ کو زمیں بوس کرنے کے بعد پیدا ہوگیا تھا۔حالانکہ منصوری صاحب نے بعد میں جو کچھ فرمایا اوراس سے پہلے جو کچھ فرماچکے تھے اس کی روشنی میں یہ نکتہ آفرینی بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ مولانا منصوری صاحب کے مطابق حضور پاکﷺ کی پوری زندگی اور نزول قرآن کا سارا دور بے بسی اور بے کسی کا دور تھا اور قرآن و سیرت میں بے کسی کے دور کے لئے رہنمائی ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فقہ الاقلیات کی الگ سے کیا ضرورت آن پڑی؟ آپ ’فقہ القرآن‘ اور ’فقہ السیرت‘ پر ہی کیوں اکتفا نہیں کرلیتے۔ آخر آپ اشاروں کنایوں ہی میں نہیں، واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیںکہ فقہ اسلامی قرآن و سنت سے الگ چیز ہے اور اسی لئے موقت اور محدود ہے اور غلبہ کے دور کی فقہ آج کے دور میں ناقابلِ عمل ہے، تو پھر کسی دوسری ایسی چیز کوکیوں جنم دیا جائے جو بے کسی کے زمانے کے گذرنے کے بعد غلبہ کے دور میں پھر سے ساقط ہوجائے۔ کیونکہ ان شاء اللہ جب دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے گا، جیسا کہ خود مولانا منصوری صاحب کی بھی خواہش ہے، تو اس دور میں فقہ الاقلیات لازماً ختم ہو جائے گی۔ گرچہ اس ترتیب سے غور کرنے پر ایک اور پے چیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دورِ عباسی یا عروج کے دور کی فقہ سے پہلے بے بسی کے دور میں کوئی فقہ موجود تھی یا نہیں؟ اگر تھی تو کب ساقط ہوگئی اور نہیں تھی تو اب کیوں ضرورت آن پڑی؟
۳۔ فقہ اسلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اسے دورِ عروج کی پیداوار کہا گیا تو اس سے پہلے کے دور کو خصوصاً حضورپاکﷺکی زندگی اور دورِ صدیقی کو بے بسی اور کمزوری کا دور قرار دے دیا۔ اور اس کمزور دور کی سب سے کمزور کڑی یعنی صلح حدیبیہ کو فقہ الاقلیات کا مدار بنا دیا گیا۔ اسے کہتے ہیں ایک ٹھوکر ہزار ٹھوکروں کو جنم دیتی ہے ۔ یا ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سوجھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ (پھر بھی حقیقت چھپی نہیں رہ سکتی)
ہجرت کے بعد حضور اقدسﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی۔ میثاقِ مدینہ کے تحت یہودیوں تک نے آنحضرتؐ کوسربراہِ مملکت تسلیم کیا۔ جنگ بدر میں عظیم فتح نصیب ہوئی۔ احد میں ہلکی سی لغزش کے باوجودبالآخر کفار کو ہی بھاگنا پڑا۔ پھر جنگ احزاب میں حضور پاک ﷺ (فداہ ابی وامی) نے صحابہؓ کے شانہ بشانہ پیٹ پر دو دو پتھر باندھ کر مدینہ کے گرد حصار قائم کیا۔ اور نہ صرف قریش بلکہ اس کے سارے حلیف اس طرح خائب و خاسر ہو کر بھاگے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرکےفرمایا کہ آج کے بعد تم اقدام کروگے۔ اسی سلسلہ کی پہلی کڑی ۱۴۰۰ صحابہؓ کے ساتھ عمرہ کا وہ سفر تھا جو صلح حدیبیہ کا پس منظر بنا۔ آپؐ جب عمرہ کے لئے نکلے تو کفار قریش میں کھلبلی مچ گئی کہ محمد(ﷺ) مع لائو لشکر مکہ پر حملہ کرنے کے لئے آرہے ہیں۔ حضور پاکﷺ نے حضرت عثمانؓ کو اپنا ایلچی بناکر اہلِ مکہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ یہ کوئی لشکر کشی نہیں بلکہ عمرہ کا سفر ہے۔ ابھی عثمانؓ مکہ میں ہی تھے کہ کسی طرح یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمانؓ شہید کردئے گئے۔ آپﷺ نے غیرت و حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے کسی تحقیق کی ضرورت سمجھے بغیر تمام صحابہؓ کو اکٹھاکیا اور اس خبر کو سناکر تمام سے مطالبہ کیا کہ وہ سب آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کریں کہ یاتو قاتلین عثمانؓ سے بدلہ لیں گے یا اسی راہ میں اپنی جان دے دیں گے۔ حضرت سلمہ ؓ بن اکوع سے تو آپ نے دو دو بار اسی بات پر بیعت لی اور تمام صحابہ ؓ نے اپنی جان دے کر بھی اپنے ساتھی کے خوں بہا لینے پر عہد کیا تو آسمان سے ان سب کے لئے ایک تمغہ رضا و بخشش آیا کہ لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ۔۔۔۔الخ اور تاریخ میں اسے بیعت رضوان کے نام سے ثبت کردیا گیا۔ جب کفار کو اس بیعت کی اطلاع پہونچی تو ان کےحواس فاختہ ہوگئے اور خوف ان کی ہڈیوں میں سرایت کرگیا۔فوراً ایک وفد بھیجا، حضرت عثمانؓ کی زندگی کی ضمانت پیش کی اور صلح کی درخواست کی۔ حضور پاکﷺ نے کمال دانش مندی سے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا اور بظاہر کفار کی شرائط پر ان سے معاہدہ کرلیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہی شرائط کفار کے لئے وبال جان بن گئیں اور بالآ خر فتح مکہ پر منتج ہوئیں۔ پہلی بار نہ صرف کفار نے مسلمانوں کو اہمیت دی بلکہ ان کو برابر کا فریق تسلیم کیا۔ حضور پاکﷺ نے اس طرف سے جنگ بندی کا معاہدہ ہوتے ہی دوسرے شر کو خیبر میں جا دبوچا اور یہود کا سرزمینِ حجاز سے ہمشہ کے لئے قلع قمع ہوگیا۔ اس موقعہ پر صلح حدیبیہ ہی کی بدولت یہود چاہ کر بھی مشرکین کی مدد نہ لے سکے اورکفار مکہ بھی اپنا دل مسوس کررہ گئے۔ دل کی یہ جلن صرف دو یا تین سال میں ہی ایسے ظاہر ہوگئی کہ انہوں نے اپنے ہی ہم مذہبوں کوجوصلح حدیبیہ کے نتیجہ میںہی مسلمانوں کے حلیف بن گئے تھے انہیں خانۂ کعبہ میں ڈھاٹا لگا کر قتل کر دیا۔ حضور اقدسﷺ نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پوری خاموشی سے ایک لشکر جرار تیار کیا اور اہلِ مکہ کو اس طرح بے خبری میں جالیا کہ وہ اپنی تلواریں بھی نیام سے نہ نکال سکے اور مکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اسلام کا محفوظ و مامون مرکز بن گیا۔ یہی وہ سبب تھا کہ صلح حدیبیہ کو اللہ رب العزت نے ’فتح مبین‘ قرار دیا تھا اور جسے منصوری صاحب جیسے لوگ کمزوری کا لائحۂ عمل بتاتے ہیں۔
آج دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے ہر معاہدے کی نیویارک و واشنگٹن سے لے کر تل ابیب و نئی دہلی تک کھلے عام دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ منصوری صاحب نشاندہی فرمائیں کہ ان خلاف ورزیوں کے تعلق سے مسلمان کیا رویہ اختیار کریں۔ کمزوری اور بے بسی کا تقاضہ ہےکہ مزید عہد شکنیوں پر بھی پیہم صبر کیا جائے۔ جبکہ واقعۂ صلحِ حدیبیہ کا تقاضہ ہے کہ معمولی خلاف ورزی پر بھی گوشمالی کی جائے۔
دس سال کی قلیل مدت میں ۲۷؍ غزوات اور ۷۲؍ سرایہ کی تاریخ رکھنے والے نبی الملحمۃ ؐ کو کمزوری اور بے بسی کی تصویر بتاکراورفتح مبین کو مسلمانوں کو دب کر رہنے کی مثال بنانے والے آخر دین حنیف کی کون سی خدمت کرنا چاہتے ہیں اس کو سمجھنے سے یہ عاجز قاصر ہے۔ حالانکہ منصوری صاحب نے صلح حدیبیہ کی تشریح نہیں کہ وہ کس اعتبار سے لائحۂ عمل ہے۔ مگر کمزوری اور بے بسی کی تصویر میں بے بس ہاتھوں سے معاہدوں پر دستخط کے علاوہ اور کیا تشریح ذہن میں ہوسکتی ہے۔ یہی وہ موقعہ جہاں اس ناچیز کو منصوری صاحب اور شکاگو والی دوشیزہ تقریباً ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔ اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے، کفر سے آنکھیں ملا نہیں سکتے تو پھر کفر کے رنگ میں رنگ کر اسلام کے نام لیوا بن جائو۔ نئے نظام (کمزوری کا لائحۂ عمل) کی راہ میں حائل ہر نقش کہن کو مٹا دو۔روایت پرستی کو ختم کرکے نصوص کی پابندی سے بھی آزاد ہو جائو۔
۴۔ اس دور میں سمندر کے جھاگ کی طرح کثیر التعداد ہونے کے باوجود باطل کے طوفان سے گھبرا کر کمزوری کا لبادہ اس قدر اوڑھ لیا ہے کہ جس رومن اور ایرانی امپائر کو مجاہدین نے اپنے گھوڑوں کی سموں تلے روند کر ہمیشہ کے لئے در گورِ جہنم کر دیا، ان کے خوف سے مولانا کے پائوں اب تک لرز رہے ہیں۔ جنگ تبوک اور جیش امامہ کے واقعہ کو مہمیز کے بجائے خوف کی علامت بتا رہے ہیں۔ جنگ تبوک میں رومی لشکر دُم دباکر بھاگا جب کہ دنیا سے رحلت کرتے وقت آپ ﷺ نے ایک بالکل نوخیز اور ناآزمودہ سالار کی قیادت میں سُپر پاور کو روندنے کے لئے ایک لشکر روانہ فرمادیا۔ کیا یہ بتانے کے لئے کافی نہیں کہ قوت و طاقت کا تعلق قلت و کثرت تعداد سے نہیں بلکہ مقصد زندگی کی بلندی اور خیر کے غلبہ کے لئے جانبازی و جاں فروشی کا جذبہ ہی وہ قوت ہے جو کتنی ہی بار قلیل تعداد کو کثیر تعدا پر غالب کر چکی ہے۔ اگر تعداد ہی سب کچھ ہے تو مسلمان آج بھی عددی اعتبار سے عیسائیوں سے کم ہیںتو گویا غلبہ تو کبھی میسر ہوا ہی نہیں۔ اور اگر تعداد ہی سب کچھ ہے تو دورعباسی میں مسلمانوں کا تناسب آج کے مقابلہ میں بہت کم تھا۔البتہ رعب و دبدبہ کے اعتبار سے دورعباسی سے بھی بہت پہلے واقع ہونے والی جنگ تبوک اور جیش امامہ کا تذکرہ آج بھی دشمن کی ریڑھ میں سرسراہٹ پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔ دوسری جانب کس مپُرسی، بے بسی، قلت تعداد، قلت وسائل کے باوجود دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے کی جو اسپرٹ ان نادر مواقع نے پیدا کی ہے ان کا اثر آج تک موجود ہے۔ اور الحمد للہ شیطانی حربوں کے اس دور میں جب کہ ساری ملتیں مغرب کے سامنے سجدہ ریز ہوچکی ہیں، تنہا ملت اسلامیہ ہی ایک ایسی ملت ہے جو باطل سے نبرد آزما ہے ۔
افسوس کہ مولانا جس دور کو بے بسی اور کمزوری کا دور کہہ رہے ہیں وہ نہ صرف ہمارے عروج اور قوت کا دور تھا بلکہ یہ وہ دور تھا جو تقوی اور خلوص و للہیت سے بھرپور تھا اور اسی کے نتیجہ میں قلت تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود قیصر روم نے کہا تھا کہ بہت جلد میرا تخت ان کے قدموں تلے ہوگا۔
اصل میں قصور مولانا کا نہیں بلکہ اس سرمہ کا ہے جو یوروپ اور جدید ترکی کے اسفار کے دوران مولانا کی آنکھ میں جھونک دیا گیا ہے۔ ورنہ علامہ اقبالؒ کی طرح انہوں نے خاکِ مدینہ و نجف کو آنکھوں کا سرمہ بنایا ہوتا تو فقیری میں شہنشاہی اور بے کسی میں بھی اقتدار نظرآجاتا۔
۵۔ مولانا منصوری صاحب نے کتاب الرقاق اور کتاب الغنیمہ کو آج کے دور میں irrelevantکہا ہے اور اسی بنا پر پوری فقہ کو بے جوڑ قرار دے دیا ہے۔ گرچہ ہم ان کی اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ لیکن اگر ان کی یہ بات صحیح بھی مان لی جائے تو اس سے پوری فقہ کی مناسبت ختم نہیں ہوجاتی۔ ہندوستان کے دستور میں ۲۵۰ سے زیادہ ترمیمات صرف ۶۰ سال کے قلیل عرصہ میں ہوچکی ہیں مگر اس کے باوجود دستور کی افادیت ختم نہیں ہوئی۔ خود برطانیہ میں سیکڑوں دستوری روایات کو تبدیل کیا گیا مگر آج بھی تاریخی طور پر قانون کے طالب علموں کو اسے پڑھایا جاتا ہے اور اس سے دستورکی افادیت کو مزید اجاگر کیا جاتا ہے۔ فقہ کے چند ابواب شخصی طور پر کسی ایسے شخص کے لئے جو فقہ کی تاریخ سے بھی ناواقف ہو، بے جوڑ ہوں اوراس وجہ سے اگر پوری فقہ کی تنسیخ جائز تسلیم کر لی جائے تو ان قرآنی احکامات کے بارے میں کیا کہا جائے گا جن کو نزول قرآن کے دوران ہی منسوخ کردیا گیا مگر اب تک قرآن میں وہ موجو دہے، مثلاً حضورﷺ سے تخلیہ میں گفتگو سے قبل آپؐ کی جناب میں تحفہ پیش کرنا؛ یا وہ قرآنی احکامات جنہیں غلبہ کے دور میں وقتی طور پر معطل کر دیا گیا جیسے حضرت عمرؓ کے ذریعہ مؤلفۃ القلوب کی مد کاوقتی طور پر ساقط کر دینا وغیرہ۔ تو کیا اس کی بنا پر تمام احکام پر خط تنسیخ پھیرنے کی جسارت کی جا سکتی ہے؟؟
مولانا منصوری صاحب کو یہ شکایت ہے کہ عروج کے دور کی فقہ میں اشتغال کی وجہ سے ہی ہم جدید دورسے ہم آہنگ نہیں ہوسکے ، نہ ہی اس کے مسائل کا حل نکال سکے۔ گرچہ فقہ میں ضرورت سے زیادہ اشتغال کے ہم بھی شاکی ہیں لیکن صرف اسی کو سارے فساد کی جڑ قرار دینایک رخی سے حالات کےتجزیہ کی دلیل ہے۔ جدید دور میں جب کہ پوری دنیا نے مغربی تہذیب کے آگے سپراندازی کر دی ہے، یہاں تک کہ خود عیسائیت اپنی کثرت تعداد کے باوجود اس ننگی تہذیب کے آگے سپر انداز ہوتی چلی گئی ہے اور چرچوں میں عورتیں پادری بن رہی ہیں اور ہم جنسی کی اجازت چرچوں سے جاری کی جارہی ہے ، ایسے میں اسلام ہی ایک واحد دین ہے اور امت مسلمہ ہی ایک واحد امت ہے جنہوں نے دین کو نظام زندگی کے حیثیت سے نہ صرف فکری طور پر منوایا ہے بلکہ عملی طور پر دور حاضر کے تقاضوں سے نہ صرف اس کی ہم آہنگی کو عملاً ثابت کیا ہے بلکہ دور جدید کی ملحدانہ فکر کی پیدا کردہ متعفن تہذیب کی خرابیوں کی نشاندہی کرکے اس کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اور آج دنیا میں دہشت گردی کے نام پر اسی دین کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جارہی ہے جو اپنی افادیت ثابت کرچکا ہے اور جو اس کرۂ ارض پر سب سے زیادہ زندہ و تابندہ و مناسب حال ہے۔
پھر بھی مولانا کی شکایت برقرار ہے تو مولانا سے ہماری مؤدبانہ گذارش ہے کہ آپ تو عروج کے دور کے حصار سے باہر نکل آئے ہیں۔ آپ ہی اقدام فرمائیے۔ جدید دور سے ہم آہنگی کی بنیادیں پیش فرمائیے۔ کچھ اپنے مسائل کا حل بھی نکال کردکھائیے۔ ماشاء اللہ آپ کے پاس تو ورلڈ اسلامک فارم کا عالمی اسٹیج ہے۔ کم از کم فقہ الاقلیات مع اپنے مکمل لوازمات ترتیب دے کر شائع کرائیے۔ ورنہ ہم تو یہی سمجھیں گے بالواسطہ طور پر آپ ان دشمنان اسلام کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں جنہوں نے لندن میں دینی مدارس کو سڑاند کا اڈہ اور ائمہ کو سڑی ہوئی ذہنیت کے لوگوں سے تعبیر کیا ہے(ڈیوڈکیمرون، وزیر اعظم برطانیہ) اور ان اداروں اور مدرسوں میں ایسے لوگوں کو لابسانے کا عزم کیا ہے جو اُس ملک کے مزاج سے ہم آہنگ ہوں اور کسی فقہ الاقلیات کی روشنی میں اسلام کے نام لیوا بن کر ہمیشہ ان کے دست نگر بن کر رہیں۔
میں نے مولانا عیسی منصوری صاحب کے مضمون کے مذکورہ حصہ پر ہی تبصرہ کیا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ فقہ اسلامی کی طرح مولانانے اسلام کے قلعوں یعنی مدارس اسلامیہ پر جو تیشہ چلایا ہے اس کا اہلِ مدارس کو سنجیدگی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنہ عوام کالانعام اس سے بڑے دھوکہ میں پڑسکتے ہیں۔ واللہ الموفق و المستعان

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *