نہ سمجھوگے تومٹ جاؤگے ( ۲)

آنحضورﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔اس حقیقت کو مزید اس طرح واضح فرمایا گیا ہے: ’’ مومن کی فراست سے ڈرو، بلاشبہ وہ اللہ کے عطاکردہ نورِ بصیرت سے غوروفکر کرتا ہے‘‘۔
‘……………………………..
مومن کی فراست کا ایک طرف یہ اعلیٰ معیار ہے، دوسری طرف آج کے مسلمانوں اور ان کےامراء کا یہ حال ہے کہ وہ ایک ہی سوراخ سے سو سو بار ڈسےجاتے ہیں۔ایک طرح کے حالات سے باربار سابقہ پڑتا ہے۔ ناقابلِ فراموش حادثات کا سامنا ہوتا ہے مگر وہ ان سے کوئی درسِ عبرت حاصل نہیں کرتے بلکہ چند مہینوں میں سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔
‘……………………………..
گذشتہ مہینے ہندوستان کے اُس علاقہ میں بے قصور مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، ان کی عزت لوٹی گئی جو ان کی کثیر آبادی کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔ اتر پردیش (یو پی) کے متعدد مقامات میں مسلم آبادی چالیس فیصد تک اور اس سے بھی زیادہ ہے۔ انتخابی سیاست کی زبان میں انہیں مسلم غلبہ Muslim Dominationوالی ایک سو سے زائد مسلم نشستوں کی حیثیت سے شمار کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ہندوستان کی کل آبادی کا چوتھائی حصہ یوپی میں رہتا ہےاور یوپی کی کل مسلم آبادی کا کم و بیش آدھا حصہ اس علاقہ میں آباد ہے جسے مغربی یو پی کہا جاتا ہے۔
تقسیمِ ملک کی مخالفت میں یہاں کے مسلمان پیش پیش تھے۔ اس علاقہ کے علماء دین نے بڑی تعداد میں مسلم لیگ کی مخالفت اور انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ یہیں وہ مشہورِ عالَم دینی تعلیمی مرکز دارالعلوم قائم ہے جس کے سرخیل شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے ملکی قیادت کو زبردست قوت عطا کی تھی اور ان کے جانشین مولانا ابوالکلام آزادؔ اور مولانا حسین احمد مدنیؔؒ نے اپنا روحانی اور سیاسی وقار کانگریس کے دامن میں ڈال دیا تھا۔
‘……………………………..
ان ساری خدمات کا صلہ آزادی ملتے ہی اس طرح دیا گیا کہ خاتمۂ زمینداری اور محکمۂ کسٹوڈین کے ذریعہ مسلم معیشت کی کمر توڑ دی گئی۔ علماء کے سارے احسانات اور خدمات کو بھلاکر دارالعلوم دیوبند میں غیر قانونی اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی کے شبہ میں تلاشی لی گئی۔ قانونی دراندازی کے ذریعہ اردو زبان کو کاروبارِ زندگی سے بے دخل کر دیا گیااور ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان نقلِ وطن پر مجبور ہوگئے۔ اس سارے ہنگامۂ رست و خیز کی یہ تعبیر کی گئی کہ یہ سب کچھ تقسیمِ ملک کے ناکردہ گناہ کی سزاہےجسے بہر طور برداشت کرنا پڑے گا اور وقت گذرنے پر حالات معمول پر آجائیں گے۔ قابلِ افسو س ہی نہیں باعثِ شرم بات یہ ہے کہ اس گمراہ کن تعبیر سے اتفاق کرنے والے کچھ مسلمان بھی تھے جن کے نام بتانے کا یہ موقعہ نہیں ہے۔
‘……………………………..
آج چھیاسٹھ سال گذرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے دین و تہذیب اور اُن کے جان و مال کو درپیش نقصانات اور خطرات میں کوئی کمی نہیں آسکی۔ بلکہ ان کی سنگینی میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اس کڑوے سچ کا انکار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو حالات سے یکسر ناواقف ہوں یا نفرت و تعصب نے ان کے عقل و ضمیر کو سلب کر لیا ہو۔
‘……………………………..
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کا دستورِ مُلکی اپنی متعدد خامیوں کے باوجود ہندوستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق اور دستوری آزادی کے لئے ایک واضح موقف کا حامل ہے۔ اور ملک کی عدلیہ اس بات کی مجاز و ذمہ دار ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کی راہ روک دے حتی کہ سب سے بڑے قانون ساز ادارے (پارلیامینٹ)کو بھی کسی ایسی قانون سازی سے روک سکتی ہے جس سے ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق اور دستوری آزادیوں کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ رہی انتظامیہ تو وہ عدلیہ اور مقننہ دونوں کے تحت کام کرنے کی پابند ہے۔ اس طرح دین و مذہب، جان و مال، عزت و آبرو اور دیگر بنیادی حقوق کے بارے میں ملک کے سیاسی نظام کی جو تصویر ابھرتی ہےوہ بڑی نظر افروز اور پُرکشش ہے۔ مگر یاد رہے کہ دستور و قانون کی اصل قدر و قیمت اس کے الفاظ اور عبارات سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کامدار اس کے عملی نفاذ پر ہوتا ہے اور اسی پیمانے سے اس کی اہمیت و افادیت کو ناپا جا سکتا ہے۔
‘……………………………..
مسلمانوں اور دوسرے مظلوم طبقات اور سچے ہمدردوںکے لئے ضروری ہے کہ وہ درپیش مسائل اور حالات پر سنجیدگی اور گہرائی سے غور کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جو ملک جمہوریت کی سب سے بڑی تجربہ گاہ کہلاتا ہےوہ سارے تحفظات اور باوقار عدالتی نظام کے باوجود ظلم وتشدد، معاشی استحصال، فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت پر مبنی روح فرسا واقعات کے خاتمہ میں کیوں ناکام ہے؟ اخلاقی زوال اور جرائم پیشگی کا دائرہ کیوں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے؟ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی قیادت کے سامنے بھی مزید اضافوں کے ساتھ ایسے متعدد سوالات ہیں جن کا جواب درکار ہے۔ اور ایسے بہت سے مسائل ہیں جو ترجیحی بنیادوں پر اپنا حل طلب کرتے ہیں۔ ان سوالات کے واضح جواب (نہ تلاش کرنا)اور ان مسائل کے حل سے اعراض و چشم پوشی اختیار کرنا درحقیقت طوفان کو دیکھ کر ریت میں سرچھپانے کے مصداق ہے، جس کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ ؎
فطرت افراد سےاغماض تو کر لیتی ہے پرنہیں کرتی ہے ملت کے گناہوں کو معاف
‘……………………………..
سطور ھٰذا میں چند اشارات پر اکتفا کرتے ہیں۔ مسلمانوں پر ہونے والےمظالم و زیادتی کا سب سے بڑا محرک ان سے نفرت و دشمنی کا وہ جذبہ ہے جسے ہندو سماج کی قیادت بڑی محنت اور عیاری کے ساتھ پرورش کرتی چلی آرہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی جو تصویر تسلسل کے ساتھ ہندو سماج کو دکھائی جاتی رہی ہے وہ ظالموں اور غاصبوں کی تصویر ہے۔ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ تاریخ کے حوالہ سے اور تعلیم کے راستہ سے ہر قیمت پر مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی کا زہر پلاتے رہیں گے چاہے اس کے لئے کتنا ہی جھوٹ بولنا پڑے۔ ہندو سماج کا ایک حصہ انگریزی دور سے ہی اس کارِ خاص کو انجام دیتا چلا آرہا ہے۔ اس میں زبردست اضافہ اب یوں بھی ضروری سمجھ لیا گیا ہے کہ ہندوستانی قومیت کی جگہ ہندو قوم پرستی کا جو تصور عام کیا جارہا ہےاس کی بنیاد بھی مسلمانوں کی دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ یہ تصور قوم پرستی اپنی حقیقت میں ایک منفی اور جارحانہ تصور ہے جسے نشو و نما دینے کے لئے دوستوں سے زیادہ دشمنوں کی تلاش رہا کرتی ہے۔ جب تک نفرت و دشمنی کا یہ پودا پرورش پاتا رہے گا ، مسلمانوں کے لئے جان و مال کا تحفظ اور انصاف کا حصول ایک ارمان بنا رہے گا۔ اور نہ صرف یہ کہ یہ ارمان پورا نہیں ہوسکے گا بلکہ مزید حسرتوں سے واسطہ پڑتا رہے گا۔ پولیس اور پی اے سی سے مسلم کش فسادات کے موقعوں پر جس جارحانہ جانبداری کا مسلسل اظہار ہوتا ہےوہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فرقہ وارانہ منافرت صرف شر پسند حملہ آوروں تک محدود نہیں ہے۔
‘……………………………..

روزمرہ کی زندگی میں مسلمان اور دیگر مذاہب کےپیروکار مل جل کررہتے ہیں۔ ان کے درمیان خرید و فروخت اور کاروبار کا تعلق بھی قائم ہے۔ ان کی دوکانیں اور کھیت ایک دوسرے سے ملحق ہوتےہیں۔ اچانک کچھ اتفاقی نزاع ہوتا ہے تو اکثر جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مگر جب سیاسی اغراض کے تحت یا مذہبی منافرت کی بنا پر کوئی منصوبہ بند کارروائی ہوتی ہےتو صورتِ حال بہت بگڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف کرنے والے بے انصافی پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور امن قائم کرنے والے بد امنی پر اُتر آتے ہیں۔ ۔۔اور وہ سب کچھ ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔ مظفر نگر، شاملی او ر باغپت کے ایک بڑے علاقہ میں ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔۔۔وہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی گئی اور اُسے بھڑکنے دیا گیا۔
‘……………………………..
علاوہ ازیںملک کے موجودہ سیاسی نظام میں پائی جانے والی دیگر خرابیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے خیال میں اس کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ بالفعل ملکی سیاست میں کوئی اصول و معیار قائم نہیں رہا۔ سیاسی مفاد کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے اور کیا جارہا ہے۔ قانون کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس کاعمل کی دنیا سے برائے نام واسطہ رہ گیا ہے۔اب بات صرف اتنی نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں جرائم پیشہ عناصر پائے جاتے ہیں بلکہ پوری طرح سیاست پر سماج دشمن عناصر کا قبضہ ہے۔ الیکشن لڑنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہ گئی ہےجب تک وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کا مرہونِ منت نہ بن جائے۔ اس ماحول میں صحیح رائے پیش کرنا ہی مشکل ہوگیا ہےچہ جائیکہ اس کے مطابق کردار ادا کیا جاسکے۔ اسی سے ملتا جلتا حال معاشی ذرائع پر قابض عناصر کا ہے۔ مسلمانوں کے تئیں صرف مذہبی منافرت ہی نہیں پائی جاتی بلکہ معاشی نظام پر جن لوگوں کا تسلط ہے وہ بھی مزدور اور کاریگر کی حیثیت سے زیادہ مسلمانوںکو معاشی درجہ دینے کے سخت مخالف ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ لڑتے نہیں، لڑنے والوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہ ان کے جذبۂ زرپرستی کا تقاضہ بھی ہے اور فسطائی عناصر سے دوستی کا مطالبہ بھی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *