وَکَذٰلِکَ اَخذُ رَبِّکَ ایسی ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ!

کرۂ ارض پر انسان اشرف المخلوقات ہے ، یہ شجر و حجر ،دریا و پہاڑ، جنگلات و سمندر، ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے، یہ دلفریب مناظر ، سرد ہوا کے جھونکے، یہ تمام اللہ کی نعمتیں ہیں، یہ اس لئے ہیں کہ انسان ان نعمتوں سے مستفید ہو اور اللہ کا شکر ادا کرے ۔ ۔۔ اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب تک بندہ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ شکر ادا کرتا ہے تو اللہ ان نعمتوں سے استفادے کی مدت اور افادیت بڑھا دیتا ہے ۔ لَئِن شَکَرْ تُمْ لَازِیدَنَّکُمْ اگر تم شکر ادا کروگے تو میں تمہارے لئے اور زیادہ کروں گا ۔
یہ اونچے اونچے پہاڑ جو صرف انسانوں کی خدمت کے لئے مامور و مسخر ہیں ان پہاڑوں کے پیدا کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا وَ اَلْقیٰ فِی الْاَرضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُم وَ اَنْہٰرًاوَّ سُبُلاً لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ وَ عَلٰمٰتٍ ط وَ بِالنَّجْمِ ہُمْ یَھْتَدُوْن ۔ (النحل ۱۵۔۱۶)
اور اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لیکر ڈھلک نہ جائے ، اس نے دریا جا ری کئے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ اس نے زمین میں راستہ بنانے والی علامتیں رکھ دیں اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں ۔ ’’ سطح زمین پر پہاڑوں کے ابھار کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین کی گردش اور اس کی رفتار میں انضباط پیدا ہوتا ہے، پہاڑوں کے تمام دوسرے فوائد ضمنی ہیں، اصل فائدہ یہ ہے کہ حرکت زمین کو اضطراب سے بچاکر منضبط کرنا ہے ‘‘۔ (تلخیص تفہیم القرآن حاشیہ النحل ۱۵)
اَلَمْ نَجْعَلِ الاَرْضَ کِفَاتًا oاَحْیَائً وَّ اَمْواتاًo وَّ جَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسقَیْنٰکُمْ مَاءً فُراتًاo وَیْلٌ یَّومَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ o (المرسلات۲۸)
’’کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا ، زندوں کیلئے بھی، مردوں کیلئے بھی ۔ اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے اور تمہیں میٹھا پانی پلایا ۔اور تباہی ہے اس روز جھٹلانے وا لوں کیلئے ۔‘‘
جگہ جگہ پہاڑی سلسلے اور فلک بوس پہاڑ قائم کئے گئے ہیں، جن کا موسموں کے تغیرات میں ، بارش کے برسنے میں، دریاؤں کی پیدائش میں، زرخیز وادیوں کے وجود میں قسم قسم کی معدنیات اور طرح طرح کے پتھروں کی فراہمی میں بہت بڑا دخل ہے ۔ ۔ ۔ مذکورہ آیت قرآنی سے پہاڑوں کی افادیت ، ان کے پیدا کئے جانے کی غرض و غایت واضح ہو تی ہے ، حق تو یہ ہے کہ بندہ سر سبز و شاداب اونچے اونچے پہاڑوں سے جاری چشمے دیکھنے کے بعد پکار اٹھے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذا بَاطِلاًoاے ہمارے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بیکار نہیں پیدا کیا ۔ اور دل کی گہرائیوں سے اعلان کر دے سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارْ oتو پاک ہے پس ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے ۔
اگر انسان ایسا کرنے کے بجائے اللہ کے ساتھ شرک کرے ۔۔ ۔شرکیہ افعال انجام دے ۔۔۔ اور انہی پہاڑوں پر شرک کے اڈے قائم کرنے لگے تو یہ خود رب ِرحیم کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
اللہ نے کائنات میں ایک میزان قائم کر رکھی ہے وَالسَّمَاءَ رَفَعَھَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَان o اَلَّا تَطْغَوْا فِیْ الْمِیزَان o(الرحمن ۷۔۸) آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دیا اس کا تقاضہ یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو۔ ’’اللہ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے یہ بے حد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں، اور یہ لا تعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہان میں پائی جاتی ہیں ان سب کے درمیان اگر کمال درجے کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کا رگہِ ہستی ایک لمحہ کے لئے بھی چل نہ سکتی تھی۔ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم کیا گیا ہے ، اس لئے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے ۔جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اس میںا گر تم بے انصافی کرو گے تو فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہوگی ۔ ‘‘ (تلخیص تفہیم القرآن )
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے اس آیت کی تشریح میں درج کیا ہے کہ ’’اکثر سلف نے وضع میزان سے اس جگہ عدل کا قائم کرنا مراد لیا ہے ، یعنی اللہ نے آسمان سے زمین تک ہر چیز کو عدل کی بنیاد پر توازن و تناسب کے ساتھ قائم کیا ہے ۔ اگر عدل و حق ملحوظ نہ رہے تو کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے ، لہذا ضروری ہے کہ بندے بھی عدل و حق کے جادہ پر مستقیم رہیں اور انصاف کے ترازو کو اٹھنے یا جھکنے نہ دیں ، نہ کسی پر زیادتی کریں، نہ کسی کا حق دبائیں، حدیث میں ہے کہ عدل ہی سے زمین و آسمان قائم ہیں‘‘۔
جب کوئی بھی انسان اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو اصلاً وہ اللہ پر ظلم کرتا ہے، اللہ کا حق مارتا ہے اور اس کے شرکیہ عمل سے کائناتی میزان میں خلل واقع ہوتا ہے۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَیٰ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِایٰتِہٖ اِنَّہُ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنo(الانعام ۲۱)
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔اس آیت کی تشریح میں مولانا مودودی ؒ لکھتے ہیں کہ ’’یہ اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ دعویٰ کرے کہ خدا کے ساتھ دوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں ، خدا وندانہ اختیارات رکھتی ہیں ،اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیت کا رویہ اختیار کرے ۔ یعنی اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں ، یہ ساری نشانیاں ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں، یعنی یہ کہ موجودات عالم میں خدا صرف ایک ہے باقی سب بندے ہیں ، اب جو شخص ان تمام نشانیوں کے مقابلے میں کسی حقیقی شہادت کے بغیر، کسی علم ، کسی مشاہدے اور کسی تجربے کے بغیر مجرد قیاس و گمان یا تقلید آبائی کی بنا پر دوسروں کو الوہیت کی صفات سے متصف اور خدا وندی حقوق کا مستحق ٹھہرا دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے بڑاظالم کوئی نہیں ہو سکتا ، وہ حقیقت و صداقت پر ظلم کر رہا ہے ۔اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہے اور کائنات کی ہرچیز پر ظلم کر رہا ہے ، جس کے ساتھ وہ اس غلط نظریہ کی بنا پر کوئی معاملہ کر تا ہے ‘‘۔ (تلخیص تفہیم القرآن )
اللہ نے زمین پر انسانوں کو مہلت دے رکھی ہے ۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کون ہے جو ان نعمتوں کو پانے کے بعد اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور کون ہے جو سرکشی کرتا ہے۔ پھر اللہ نے ہر ایک کے لئے ایک میعاد متعین کر رکھی ہے ، جب وہ میعاد پوری ہو جاتی ہے تو اللہ اس قوم کو پکڑتا ہے ۔ وَمَا اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا وَ لَھَا کِتَاب ٌمَعْلُومٌ o(الحجر ۴) ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی ۔ یعنی ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ہم ہر قوم کے لئے پہلے سے طے کر لیتے ہیں کہ اس کو سننے ، سمجھنے اور سنبھلنے کیلئے کتنی مہلت دی جائیگی۔ (تفہیم القرآن )
اللہ اس قوم کو ہلاک و تباہ نہیں کرتا جو رب کی نعمتوں پر شکر ادا کرتی ہے ۔
مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ وَ کَانَ اللّٰہُ شَاکِراً عَلِیْمًا o( النساء ۱۴۷)
’’آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ عذاب دے اگر تم شکر گذار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان اور سب کے حال سے واقف ہے ۔ ‘‘
اللہ کی یہ سنت نہیں ہے کہ اللہ کسی بستی کو ہلاک کر ے جب کی اس بستی میں اصلاح کا کام کرنے والے موجود ہوں ۔ وہیں زمین پر اہل حق کی بھی یہ ذمہ دار ی ہے کہ وہ زمین پر اصلاح کیلئے کوشاں رہیں ، زمین پر شر و فساد کو بڑھنے نہ دیں ۔
وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہْلِکَ الْقُرَیٰ بِظُلْمٍ وَّ اَہْلُھاَ مُصلِحُوْن (سورۃ ہود ۱۱۷) تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ ’’ ان آیات میں عذاب کی گرفت میں آنے والی قوموں کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر فساد برپا کرنے لگے اور ان کا اجتماعی خمیر اس قدر بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے ، یا اگر کچھ لوگ ایسے نکلے بھی تو وہ اتنے کم تھے اوران کی آواز اتنی کمزور تھی کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رک سکا ۔ یہی چیز ہے جس کی بدولت آخر کاریہ قومیں اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہوئیں ،ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ وہ تو بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ ان کو خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے ، اس ارشاد سے یہاں تین باتیں ذہن نشین کرنے کی ہیں ایک یہ کہ ہر اجتماعی نظام میں ایسے لوگوں کا موجود رہنا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دینے والے اور شر سے روکنے والے ہوں ، اس لئے کہ خیر ہی وہ چیز ہے ، جو ا صل میں اللہ کو مطلوب ہے ، اور لوگوں کے شرور کو اگر اللہ برداشت کرتا بھی ہے تو اس خیر کی خاطرکرتا ہے جو ان کے اندر موجود ہے ، اور اس وقت تک کرتا ہے جب تک ان کے اندر خیر کا امکان باقی رہے ، مگر جب کوئی انسانی گروہ اہل خیر سے خالی ہو جائے اور اس میں صرف شریر لوگ ہی باقی رہ جائیں یا اہل خیر موجود ہوں بھی تو کوئی ان کی سن کر نہ دے اور پوری قوم کی قوم اخلاقی فساد کی راہ پر بڑھتی چلی آئے ، تو پھر خدا کا عذاب اس کے سر پر اسی طرح منڈلانے لگتا ہے جیسے کہ پورے دنوں کی حاملہ کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کب اس کا وضع حمل ہو جائے ، دوسرے یہ کہ جو قوم اپنے درمیان ایسے لوگوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہو جو اسے برائیوں سے روکتے اور بھلائیوںکی دعوت دیتے ہوں تو سمجھ لو کہ اس کے برے دن قریب آگئے ہیںکیوں کہ وہ خود ہی اپنی جان کی دشمن ہو گئی ہے ۔ تیسرے یہ کہ قوم کے مبتلائے عذاب ہونے یا نہ ہونے کا آخری فیصلہ جس چیز پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں دعوت خیر پر لبیک کہنے والے عناصر کس حد تک موجود ہیں، اگر اس کے اندر ایسے افراد اتنی تعداد میں نکل آئیں جو فساد کو مٹانے اور نظام صالح کو قائم کرنے کیلئے کافی ہو تو اس پر عذاب عام نہیں بھیجا جاتا بلکہ ان صالح عناصر کو اصلاح حال کا موقع دیا جاتا ہے ، لیکن اگر پیہم سعی و جہد کے باجود اس میں سے اتنے آدمی نہیں نکلتے جو اصلاح کیلئے کافی ہو سکیں اور قوم اپنی گود سے چند ہیرے پھینک دینے کے بعد اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیتی ہے کہ اب اس کے پاس کوئلے ہی کوئلے باقی رہ گئے ہیں تو پھر زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ بھٹی سلگا دی جاتی ہے جو ان کوئلوں کو پھونک کر رکھ دیتی ہے ۔ (تلخیص تفہیم القرآن)
اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ
در حقیقت تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے ۔جو اللہ کے ذکر سے منھ موڑے گا ، سر کشی کرے گا اللہ اسے عذاب دے گا۔ اللہ اپنی عطا کردہ نعمتیں اس وقت تک نہیں چھینتا جب تک کہ وہ اس کے سزاوار نہ ہو جائیں ۔
اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ جو لوگ استغفار کر رہے ہیں انہیں عذاب میں ڈالے ۔
وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ o(انفال ۳۳) ’’ اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے۔ ‘‘
اللہ نے ظالموں کو ڈھیل دے رکھی ہے ۔ وَلَقَدِ اسْتُھْزِئَی بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاَ مْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْ ثُمَّ اَخَذْ تُھُمْ فَکَیْفَ کَا نَ عقاب (الرعد ۳۲)
یقینا آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا اور میں نے بھی کافروں کو ڈھیل دی تھی اورپھر میں نے انہیں پکڑ لیا تھا ، پس میرا عذاب کیسا رہا ؟
حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِیْ لِلظَّالِمِ حَتّٰی اِذَا اَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ ( مسلم کتاب البر، باب تحر یم الظلم) اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دئیے جاتا ہے حتیٰ کہ جب اس کو پکڑتا ہے تو پھر چھوڑ تا نہیں ۔اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، وَ کَذَالِکَ اَخْذُ رَبَّکَ اِذَا اَخَذَ الْقُرَیٰ وَھِیَ ظَالِمَۃٌ اِنَّ اَخْذَ ہُ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ o(سورۃ ہود ۱۰۲) اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے ۔ یقینا اس کی پکڑ بہت ہی المناک اور سخت ہے ۔
’’یعنی جس طرح گذشتہ بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے تباہ و برباد کیا آئندہ بھی وہ ظالموں کو اسی طرح گرفت کرنے پر قادر ہے ۔ (تفسیر ی حاشیہ مولانا صلاح الدین یوسف)
فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَ صْبَحُوا فِی دَارِھِمْ جَاثِمِیْنَ (۷۸ ، اعراف) آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔
رجفہ : اضطراب انگیز ، ہلا مارنے والی اور دوسرے مقامات پر اسی کیلئے صیحۃ یعنی چیخ، صاعقہ ( کڑاکا)، طاغیہ یعنی سخت زور کی آواز کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ اللہ نے قوم ثمود کو ہلاک کر دیا حالانکہ اللہ نے قوم ثمود کو خوب نوازا تھا لیکن اس قوم نے طغیان اور سرکشی کا راستہ اختیار کر لیا تو اللہ نے قوم ثمود کو مبتلائے عذاب کیا ۔ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِی وَ نُذُرِ اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَانُو کَھَشِیْمِ الْمُحْتَظر o(القمر ۳۰۔۳۱)
’’دیکھو تو کیسا میرا ڈرانا ہے!ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی ، پس ایسے ہو گئے جیسے باڑھ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس۔‘‘
اللہ نے قوم عاد کو جو قوم دراز قد ، قوی ھیکل، سخت اور مضبوط جسم کی حامل تھی لیکن اللہ کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنے لگی تو اللہ نے قوم عاد کو پکڑا ۔
کَذَّبَتْ عَادٌ فَکَیْفَ کَانَ عَذابِی وَ نُذُرْo اِنَّا اَرْسَلْنَاعَلَیْھِمْ رَیْحاً صَرْ صَراًفِی یَومِ نَحْسٍ مُسْتَمِر تنزع النَّاسَ کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِر۔ ( سورۃ القمر ۱۸۔۲۰) ’’ قوم عاد نے بھی جھٹلایاپس کیسا رہا میرا عذاب اور کیسی رہی میری ڈرانے والی باتیں ۔ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی ہوا ، ایک پیہم، منحوس دن بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی گو یا کہ وہ جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہوں ۔ ‘‘
تیز و تند شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا ، سات راتیں آٹھ دن تک مسلسل ہوا چلتی رہی، یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑ سے الگ ہو جاتے ، ’’نَخْلٍ مُنْقَعِرْ ‘‘یہ درازی قد کے ساتھ ساتھ ان کی بے بسی اور لاچارگی کا بھی اظہار ہے کہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کر سکے ، درآں حالانکہ اپنی طاقت اور قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔
منقعر: اپنی جڑ سے اکھڑ جانے اور کٹ جانے والا۔ یعنی کھجور کے ان تنوں کی طرح جو اپنی جڑ سے اکھڑ اور کٹ چکے ہوں۔ان کے لاشے زمین پر پڑے ہوئے تھے ۔ (تفہیم القرآن )
کسی کو کرخت و تیز آواز سے ،کسی کو زوردار آندھی سے اور قوم نوح کو زوردار بارش سے ہلاک و برباد کیا ۔
اللہ ایسے ہی لوگوں پر عذاب نازل کرتا ہے جو اپنے اعمال سے یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ ان کے اندر اب خیر کا مادہ اور قبول حق کا داعیہ نہیں رہا ۔
قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین سر سبز و شاداب گھنے جنگلات ، صاف و شفاف چشمے جھیلیں ، حسین و دلکش عالی شان محلات ، ہوٹل دھرم شالائیں کشادہ سڑکوں کا جال ، زائرین و عقیدت مندوں کا ہجوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک ۱۵۔۱۶جون کو مسلسل موسلا دھار بارش ،زوردار تیز چلنے والی ہوا، دھماکہ ، گڑگڑاہٹ کے ساتھ اچانک پانی کا طوفان کہ جس سے وہاں وہی بچ سکا جسے اللہ نے زندہ رکھا کہ وہ گواہ رہے اس عذاب کا ، اس کی سختیوں اور ہولناکیاں کا، تباہی کس قدر ہولناک تھی کہ ہفت روزاہ انڈیا ٹوڈے ہندی کے مطابق ’’ 11775 فٹ بلندی پر واقع کیدار ناتھ مندر کے خاص پجاری ۴۳ سالہ باگیش لنگا چاریہبتاتے ہیں کہ ۲۷؍جون کو سویرے پونے پانچ بجے جب نیچے مندر میں آرتی کیلئے آئے تو کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔اچانک بادل پھٹنے سے کان کے پردے پھاڑ دینے والی آواز آئی ، کچھ ہی پل میں برف جیسا ٹھنڈا پانی ان کے پیروں کو چھونے لگا۔ لنگاچاریہ کہتے ہیں کہ جب تک میں مندر میں پہنچتا پانی میری گردن تک آ گیا ، جیسے جیسے پانی کی سطح بڑھتی گئی وہ مندر کی ایک دیوار سے لگ کر کھڑے ہو گئے، پورے مندر کا ڈھانچہ ہلنے لگا ، لگ رہا تھا کہ مندر گر جائے گا، انہوں نے دیکھا کہ مندر کا پچھمی دروازہ جو عرصہ سے بند تھا چرمرا کر ٹوٹ گیا اور چند ہی ساعتوں میںپَوِِِترکیدار ناتھ دھام قبرستان میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ ‘‘ (انڈیا ٹوڈے ۱۰ ؍جولائی ۔)
اِنَّ فِی ذَالِکَ لَاٰیَۃً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَۃ (سورۃ ہود ۱۰۳) حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے جو عذاب آخرت کا خوف کرے ۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس تباہی کا رقبہ چالیس ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلاہوا ہے۔
کل نقصانات کا تخمینہ : 12000بارہ ہزار کروڑ کا ہے۔ 1307 ایک ہزار تین سو سات سڑکیں تباہ ہو گئیں ۔ 258پل بہہ گئے ۔
400 گاؤں پوری طرح صاف ہو گئے ۔ یہ تباہی اتنے بڑے پیمانے پر تھی کہ ہفتہ روزہ تہلکا اس تفصیل میں مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھتا ہے :
پتھورا گڈھ، اتر کاشی، ردر پارک، چمولی، ۱۶؍لاکھ لووگوں کو متاثر کیا ، کیدار ناتھ پورہ پوری طرح سے تہس نہس ہو چکا ہے ۔برسارام باڑا شہر تو نقشہ سے ہی مٹ گیا ہے ، جب کہ یہ سب سے بھیڑ والا پڑاؤ تھا، مسافر، زائرین یہاں زیادہ بڑی تعداد میں رہتے تھے، ندی نے راستہ بدل دیا، چندہ پوری گاؤں، سوڑی گاؤں کو ندی نے بالکل صاف کر دیا، یہ بالکل انہونی کی طرح تھا۔ (تہلکہ جولائی)
قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْہِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَ اَ تٰھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْن (النحل۲۶)
’’ان سے پہلے بہت سے لوگ حق کو نیچا دکھانے کیلئے ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں ، تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی، اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی اور ایسے رخ سےان پر عذاب آیا جدھر سے ان کو آنے کا گمان نہ تھا ۔ ‘‘
اس قیامت صغریٰ کا مرکز کیدار ناتھ گھاٹی تھی گو کہ تباہی کا دائرہ 40000 مربع کلو میٹر تک پھیلا علاقہ ہے ۔ پورب سے پچھم تک تقریبا 360 کلومیٹر لمبائی میں پھیلی ہے تباہی، کیدار گھاٹی کے ۱۷۲ گاؤں اور پچاس ہزار کی آبادی بری طرح سے متاثر ہے ۔ ’’گوری کنڈ سیکڑوں گاڑیاں تنکوں کی طرح بہہ گئیں ، اس قیامت صغریٰ میں کتنے لوگ مرے ہیں اس کا حساب ہی نہیں ہے ۔ ‘‘میگزین Out Look ہندی کے الفاظ دیکھیں :
’’ در اصل اس آپدامیں مارے گئے لوگوں کی صحیح تعداد کبھی بھی ودت (معلوم)نہیں ہو سکے گی کیونکہ سرکار کے پاس کیدار ناتھ (تینوں تیرتھوں میں جانے کا )کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے ۔ ‘‘
(آؤٹ لُک اگست ۲۰۱۳)
مزید آگے لکھتا ہے ’’ ۱۵؍۱۶؍جون کی رات سے شروع ہوئی اس پرلے(قیامت) کی شدت کا ۳؍۴؍دن تک صحیح پتہ ہی نہیں چلاکہ اصل میں ہوا کیا ہے ۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ نے ۵ویں دن ہوائی سفر کے ذریعہ حالات جاننے کی کوشش کی ۔ ‘‘
یہ تباہی اپنے ساتھ کتنے دھرمشالاؤں اور دھام کو بہا لے گئی اس کا اندازہ تہلکہ ۱۵؍جولائی کی رپورٹ سے لگائیں ۔
’’۱۶؍جون کی رات قریب ساڑھے ۸ بجے مندر کے لگ بھگ ۵۰۰ میٹر پیچھے بائیں طرف پہاڑی سے سرسوتی گنگا میں ڈھیر سارا پانی اور ملبہ آیا یہ اپنے ساتھ مندر کے پیچھے شنکرآچاریہ سمادھی، لوک نرمان وبھاگ، بھارت سیوا آشرم کے ساتھ اس علاقہ کی بڑی دھرم شالاؤں کو بہا لے گیا، ان میں موجود سارے لوگ بہہ گئے ۔ ‘‘ (تہلکہ ۱۵؍جولائی)
تہلکہ کی حرف حرف رپورٹ کے ساتھ ہی اللہ کے اس فرمان پر غور کریں ۔
اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُریٰ اَنْ یَّا تِیَہُمْ بَاسُنَا بَیَاتاً وَ ہُمْ نَائِمُوْن o اَوَاَمِنَ اَھْلُ الْقُریٰ اَن یَّا تَیَہُمْ بَاسُنَا ضُحیً وَّہُم ْیَلْعَبُون (الاعراف ۹۷۔۹۸)
’’پھر کیا بستیوں کے لوگ اس پر بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت آجائیگی ، جب کہ وہ سوئے پڑے ہوں ، یا انہیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکا یک ان پر دن کے وقت نہ پڑیگا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں ۔ ‘‘
صرف کیدار ناتھ گھاٹی میں انسانی جانوں کی تباہی کس قدر ہوئی ، ’’ ۱۶؍جون کی صبح پوری گھاٹی میں زائرین اور عقیدت مندوں کی کافی چہل پہل تھی، بابا کیدارناتھ کی زیارت کے لئے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، ایک اندازہ کے مطابق 43000ہزار سے بھی زیادہ لوگ تھے ، تباہی کے بعد کتنے لوگ زندہ بچے ، اور کتنے لوگ تباہی کے گھاٹ اتر گئے اندازہ کر پانا مشکل ہے ۔ ‘‘
(۱۵؍جولائی ہندی ہفت روزہ ہلچل)
نقصانات کے اندازے کے اوپر ہندی میگزین شکر وارکا تبصرہ ’’ کیدار ناتھ مندر کا جتنا نقصان ہوا ہے وہ 200 کروڑ کے آس پاس ہے ، مگر ان لاشوں کا مول کیا ہے جو ملبے میں دب گئیں، یا محض جنگلی جانوروں کی خوراک ، درجنوں مندر ایسے ہیں جنکا اب نام و نشان نہیں ہے، جن میں کالی مٹھ کاپورانک مندر بھی ہے ۔ ‘‘ (شکروار ۱۸؍جولائی ۲۰۱۳ء)
عالیشان ہوٹلوں کی تباہی، کیدار ناتھ سے گوری کنڈ تک تقریبا 250 ہوٹل ہیں، کیدار ناتھ میں موجود ہوٹلوں میں تقریباً 4000 لوگوں کے رکنے کا بندو بست ہے، گوری کنڈ میں ۸ ہزار مسافر ہوٹلوں میں ٹھہر سکتے ہیں، سیزن ہونے کے سبب سب فل تھے، تباہی کی نذر ہو گئے ۔
کیدار ناتھ گھاٹی کیدار ناتھ مندر اس قیامت صغریٰ کا خاص محور تھی۔’’کیدار ناتھ گھاٹی ۸۰؍فیصد تباہ ہوگئی، جب کی پوری گھاٹی میں ۱ہزار سے زائد جگہوں پربھو سکھلن(زمین کا دھنسنا) ہوا‘‘۔
( ہندی میگزین پردہ فاش ٹوڈے اگست۲۰۱۳ء)
کیدار ناتھ مندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بچا رہا ۔حالانکہ مندر کے اندر تقریباً ۵؍فٹ ملبہ بھر گیا ، مندر کے داہنی حصے میں دراڑیں بھی دیکھی گئیں ۔ (وگیان پرگتی ، ستمبر)
’’۱۶؍۱۷؍جون کو کیدار ناتھ گھاٹی میں ۳۰۰ سے لیکر ۶۰۰ ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، اس بھاری بارش کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد جگہوں پر زمین دھنس گئی۔‘‘
(پردہ فاش ٹوڈے اگست ۲۰۱۳ء؁)
تباہی کا اندازہ ہم اس سے لگائیں کہ ۸۰ دنوں کے بعد کیدارناتھ دھام میں ہیلی کاپٹر سے پجاریوں اور سرکاری عہدیداران کو پوجا کیلئے لے جایا گیا اور حکومتی سطح پر یہ اعلان کیا گیا کہ کیدارناتھ میں پوجا شروع ہونے سے پورے صوبے کے رہنے والوں کا مورل بڑھے گا اور اس پوجا کے عمل پر اپوزیشن کا رد عمل یہ رہا ۔’’سرکار کو اگر ایسی ہی پوجا کرانی تھی تو یہ تو قیامت صغریٰ کے دوسرے دن بھی ہو سکتی تھی، اس کیلئے اتنا انتظار کیوں کیا گیا ‘‘۔ (ہندی میگزین ہلچل ۳۰؍ستمبر)
’’اتراکھنڈ کی سب سے بڑی مصیبت کے اتنے دنوں بعد پورا بھارت ملبے کے ڈھیر میں پچاس ہزار مقامی لوگوں اور زائرین کو ڈھونڈھ رہا ہے جو بدری ناتھ، کیدار ناتھ، گنگوتری،یمنوتری چاردھام یاترا اور ہیم کنڈ صاحب میں ماتھا ٹیکنے نکلے تھے ‘‘۔ ( انڈیا ٹوڈے ۱۰ جولائی)
عذاب الٰہی جس کا مرکز و محور کیدار ناتھ گھاٹی تھی، آسمان سے لگاتار بارش کی وجہ سےبادل ہی پھٹ گئے، ایک ہزار سے زیادہ جگہوں پر زمین پھٹ گئی، آسمان سے مسلسل برسنے والی بارش کی وجہ سے ندیوں میں سیلاب اور سیلاب کی وجہ سے تباہی ، جھیلوں اور دریاؤں پر باندھے گئے باندھ ٹوٹ گئے ۔ نتیجے میں اچانک اس قدر بھیانک تباہی آئی کہ اس سے بچ پانا اور نکل پانا ممکن نہ تھا ۔ ’’ اترا کھنڈ میں صرف دو دنوں میں اتنی موسلا دھار بارش ہوئی جو سو سال میں کبھی نہیںہوئی تھی، موسم کے لحاظ سے انتہائی حساس اترا کھنڈ میں ۳۴۰؍ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جو معمول سے ۳۷۵؍فیصد زیادہ تھی ۔ ‘‘
(انڈیا ٹوڈے جولائی ۲۰۱۳)
کیدار ناتھ کے اوپر ہیمکنڈ جھیل ۱۵؍۱۶؍دن کی مسلسل بارش سے اس جھیل میں پانی بھرنے لگا، جھیل بڑھے ہوئے پانی کے دباوٌں کو سہنے کے لائق نہیں تھی اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہیں تھا اس لئے جھیل کے کنارے پھٹ نے کی وجہ سے پانی کی بڑی مقدار ایک ساتھ اچانک نچلے علاقوں میں بہنے لگی اور اس پانی کے ساتھ ملبوں اور چٹانوں کے ہونے کی وجہ سے تباہی اور بڑھ گئی ۔ندیوں کے سیلاب کی وجہ سے تباہی اور جھیل کے کنارے پھٹ گئے ، ندیوں میں بنائے گئے بندھ ٹوٹ گئے۔’’۱۶؍۱۷؍جون کی تباہ کن بارش کے ساتھ بدری ناتھ کی الکھنندا پر بنا جے۔پی ۔ کمپنی کا باندھ دروازہ نہ کھولنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا، پھر ندی کے نیچے والے علاقے میں خوفناک تباہی آئی ۔ ‘‘
(ہندی چوتھی دنیا)
’’ قدرت کا قہر اس بار اتراکھنڈ پر ٹوٹا، اتنی بڑی تباہی جس کا اندازہ لگا پانا ممکن نہیں، جس نقصان کی کوئی تلافی ممکن نہیں ، ندیوں کے راستے آئے اس سیلاب نے ایک دو کروڑ کا نقصان نہیں کیا بلکہ پانی کے اس طوفان نے تباہی کی مکمل داستان لکھ دی، سبھی سڑکیں یا تو ٹوٹ چکی ہیں، یا بہہ گئی ہیں، انفراسٹرکچر پوری طرح تہس نہس ہو چکا ہے جسے اپنی حالت میں لوٹنے کیلئے کم از کم ڈھائی سال لگیں گے‘‘۔ (ہندی میگزین کٹگھرا جولائی ۲۰۱۳)
اس حادثے کی شروعات کیدار گھاٹی کی شمال مشرق میں واقع چودہ ہزار دو سو فٹ پر واقع گلیشیر جھیل کے پھٹنے سے مانی جارہی ہے ، جس سے بے قابو پانی نیچے کیدار گھاٹی کی طرف تیزی سے آیا اور اس نے اس مذہبی مقام کو … تباہی کے کنکریلے پتھر یلے میدان میں تبدیل کر ڈالا۔
کئی جگہوں سے پانی کا سیلاب الکنندا، منداکنی، اور بھاگیرتھ سے ہوتے ہوئے نچلے علاقوں میں پہنچ گیا، اپنے راستے میں پڑنے والے مکانوں اور لوگوں کو نگلتے ہوئے پانی ردر پریاگ کی اور بڑھا، باندھ سے نکلا پانی اور ساتھ میں اوپر سے آئے پانی نے وناش پھیلا دیا ۔ ‘‘
(انڈیا ٹوڈے ۱۰؍جولائی )
عبرتناک مناظر کی حرف حرف داستان پڑھنے کے بعد اللہ کا فرمان پڑھئیے ۔
فَفَتَحْنَا اَبْوَابَ السَّمَاء ِ بِمَائٍ مُنْھَمِرْ۔ وَ فَجَّرْ نَا الْاَرْضَ عُیُوناً فَالْتَقَی الْمَائُ عَلیٰ اَمْرٍ قَد قُدِر(القمر ۔ ۱۱ تا ۱۲)
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کیلئے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا یعنی آسمان و زمین کے پانی نے مل کر وہ کام کر دیا جو قضاء و قدر میں لکھ دیا گیا تھا یعنی طوفان بن کر سب کو غرق کر دیا ۔
’’سٹلائٹ سے لی گئی تباہی سے پہلے اور تباہی کے بعد کی تصویروں میں یہ بھی صاف ہے جن مقامات پر کبھی آشیانے ہوتے تھے ، آج وہاں صرف بنجر ندی نظر آرہی ہے ۔ ‘‘
(پردہ فاش ٹوڈے اگست ۲۰۱۳ٖء؁ )
اللہ جب کسی بستی پر عذاب نازل کرتا ہے تو معذب بستیاں ایسی ہو جاتی ہیں کہ گویا وہاں کبھی آباد ہی نہ تھیں ۔
وَ اَخَذَا لَّذَیْنَ ظَلَمُوْا الصَّیْحَۃُ فَا صْبَحُوا فِی دِیَارِہِمْ جَاثِمِیْن کَاَنْ لَّمْ یَغْنَو فِیھَا ۔ (سورہ ہو د ۶۸) ’’ رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے انہیں دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکرت پڑے رہ گئے گویا وہ وہاں بسے ہی نہ تھے ۔
اللہ کے اس عذاب کو انسان نے خود اپنے عمل سے دعوت دی ہے۔
اس سر زمین پر کیسے لوگ بستے تھے، ان کا کردار کیسا تھا، اتنے بڑے عذاب کے بعد بھی زندہ بچ رہنے والے مکین کتنے بے رحم ، ڈھیٹ اورسنگ دل تھے ان کے کردار کی جھلکیاں دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ ان معذب بستیوں کے بسنے والے کیسے تھے ۔ان کے اعمال خود عذاب الٰہی کو دعوت دینے والے تھے ۔
’’ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر کھا ہے ، ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب ہی کہیں نازل ہوتی ہے، یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ ‘‘ (الرعد ۳۱)
کیسے تھے اس معذب بستی کے مکین اور سادھو سنت ، اتنے بڑے عذاب کے باوجود بچ رہنے والے بھگوا دھاری اور گاؤں کے باشندوں کی سنگ دلی کے مظاہرے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے مکینوں نے اپنے ارزل عمل سے اللہ کے عذاب کو دعوت دی ۔ ان کے کردار کی چند جھلکیاں لفظ بہ لفظ ملاحظہ فرمائیں ۔
’’ہاں مت آنا…… کسی کو بچانے مت آنا، کچھ سادھو پاگل ہو گئے ہیں… وہ لاشوں اور ادھمرے لوگوں کا سامان لوٹ رہے ہیں، میرے بیٹے کو مار ڈالا اور ……… فون کٹ گیا۔‘‘ یہ اکیلا فون نہیں تھا، اتراکھنڈ کے حادثہ کے بعد ایسی انگنت کہانیاں سامنے آرہی ہیں جسے سن کر یقین نہیں آتا کہ ایسے گھناؤنے کام بھی اس دنیا میں ہو رہے ہیں ۔ ’’ ایک شخص مری ہوئی عورت کی انگلی سے انگوٹھی نکال رہا ہے ، کیونکہ لاش پھول چکی ہے انگوٹھی نکل نہیں رہی ہے ، اخیر میں وہ شخص انگلی کاٹ کر انگوٹھی نکال لیتا ہے … ’’اترا کھنڈ کی اس قدرتی آفت میں بھگوا لباس زیب تن کرنے والوں نے نہ صرف لاشوں کے پاس بچے سامان اور پیسے کی لوٹ مچائی بلکہ کئی معاملوں میں ادھمروں کو مار کر ان کا سامان لوٹ لے گئے ۔ ‘‘
’’پولس نے جب سادھؤں کے کمنڈلوں سے سونا ، اور ان کے پھٹے جھولوں سے نوٹوں کی گڈیاں برآمد کیں تو سمجھ میں آگیا کہ صرف گروا لباس پہننے سے مال و دولت کی حرص ختم نہیں ہوتی۔‘‘
(انڈیا ٹوڈے ۱۰؍جولائی)
یہ جھلکیاں تھیں ان لوگوں کی جو سادھو تھے، گروا لباس پہنے ہوئے تھے ، لیکن اس معذب بستی کے زندہ بچ جانے والوں کے کردار کی جھلکیاں دیکھیں کہ کس قدر ان کا اجتماعی خمیر بگڑ چکا تھا کہ عذاب الٰہی کو کھلی آنکھوں دیکھنے کے بعد بھی ان کی حالت نہیں بدلی۔ دل نرم نہیں ہوا، ان کے کردار کی جھلکیاں دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کس طرح کے لوگ بستے تھے جن پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا، انڈیا ٹوڈے کا تبصرہ پڑھیں اور ان مصیبتوں سے گذرے لوگوں کی :
’’ایسا نہیں ہے کہ صرف بھگوا دھاری ہی قہر برپا رہے ہوں، مصیبت میں پھنسے انسانوں کی جیب سے پائی پائی نکالنے کے لئے مقامی لوگوں نے بھی کمر کس لی تھی ۔‘‘ (انڈیا ٹوڈے ۱۰؍ جولائی )
آپ بیتیاں :
’’کیدارناتھ کی تباہی میں اپنے اہل خانہ سے ۹ افراد کو کھو چکے کان پور کے چالیس سالہ سدھیر کمار گپتا نے بتایا کہ ۳؍دن بعد تھوڑی سی کھچڑی اور گھونٹ بھر پانی حاصل کرنے کیلئے اس نے ایک مقامی پریوار کو اپنا پندرہ ہزار کا موبائل دیدیا۔‘‘
مقامی لوگوں کی اخلاقی گراوٹ کی اس سے بھی دردناک داستان سدھیر کمار گپتا ہی سناتے ہیں کہ ’’رات میں تیز بارش سے بچنے کیلئے گوری گاؤں ایک مکان کے چھجے کے نیچے ہم لوگ کھڑے ہو گئے تھے تو گاؤں کے لوگوں نے ڈنڈے سے مار کر بھگا دیا اور عورتوں کے ساتھ بدتمیزیاں بھی کیں ۔‘‘
’’اپنی بیوی کسم اور دوسال کے بچے آروش کو حفاظت سے گھر واپس لانے کیلئے لکھنؤ کے پردیپ کمار کو پچاس روپئے کی ایک چائے ، ایک سو پچاس روپئے کا ایک پراٹھا کھا کر آگے بڑھنا پڑا اور جب جیب بالکل خالی ہوگئی تو بیوی کی کان کی بالیاں بیچنی پڑیں۔‘‘ (انڈیا ٹوڈے ۱۰؍جولائی)
مقامی لوگوں نے مسافروں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پانچ سو کرایہ کی جگہ پانچ ہزار روپئے، پانچ روپئے کی چائے پچاس روپئے میں فروخت کی ، پانچ روپئے والا بسکٹ کا پیکٹ ۱۰۰؍روپئے میں بیچا، ایک روٹی ۱۸۰؍روپئے میں فروخت کی، اور پانی کی ایک بوتل کے عوض ایک ہزار روپئے لیا۔ یہی نہیں مدد کا ہاتھ بڑھا کر مصیبت زدہ خواتین کو اپنی حوس کا شکار بنا ڈالا ۔ ‘‘
’’یمنوتری سے بچا کر لائی گئی آسام کی تیرتھ یاتری بینا منٹری برمن جب ہیلی کاپٹر سے باہر آئیں تو بلک بلک کر رو پڑیں اور روتے ہوئے انہوں نے ان لوگوں کو کوسا جو مصیبت میں پھنسے عقیدت مندوں کو لوٹ رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے نہ صرف ان کا سامان لوٹا بالکل ان کے ایک رشتہ دار کی عصمت دری کرکے ندی کے تیز بہاؤ میں پھینک دیا ۔ ‘‘ (عالمی سہارا ۶؍جولائی ۲۰۱۳ء) یہ چند جھلکیاں ہیں وہا رہنے ، بسنے والے سادھؤں کے بھیس میں ایسے راچھسوں کی جو اس عبرتناک مقام پر سیاہ کارناموں میں ملوث تھے، اندازہ کریں کہ ان لوگوں کے کردار نے ہی عذاب الٰہی کو دعوت دی ۔
بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاس
اس عذاب الٰہی کی شدت کو بڑھانے میں انسانی کرتوتوں کا بہت بڑا دخل ہے ۔
ظَھَرَ الفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ البَحْرِبِمَا کَسَبَت اَیْدِی النَّاس (سورۃ الروم ۴۱)
’’خشکی و تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کی اپنی ہاتھوں کی کمائی سے ۔ ‘‘
بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاس سے مراد فسق و فجورہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کر دینے سے لازماً انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن)
انسان نے جاہ اور مال و دولت کی حرص میں ایسے حساس اور نازک پہاڑی علاقوں میں محلات تعمیر کئے ، اور توڑ پھوڑ کی جہاں اونچے مکانات بنانا تباہی کو دعوت دینا تھا وہاں عالیشان محلات، ہوٹل، لاج ، پکنک کے مقامات و عشرت کدے تعمیر کئے جا رہے تھے ۔
’’دنیا میں کہیں بھی بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر کوئی بستی نہیں ہے سوائے کیدارناتھ کے۔ یہاں ایک پورا شہر آباد ہو چکا ہے ۔ جس کی تعمیر سے لے کر نظم و انصرام تک کا پورا دباؤماحولیات پر پڑتا ہے ، مرکزی حکومت نے اس پورے گنگوتری علاقے کو حد درجہ حساس قرار دیتے ہوئے یہ طے کیا تھا کہ ان قدرتی ذرائع وسائل کا کوئی بھی کاروباری استعمال نہیں کیا جا سکتا ، یہاں بڑے ہوٹل، باندھ یا پتھر توڑنے والی مشینیں نہیں چلائی جا سکتیں ۔‘‘ (آؤٹ لوک اگست ۲۰۱۳ء ، ۱۲۔۱۳)
لیکن اتراکھنڈ صوبہ بننے کے بعد یہاں ندی کو پاٹ کر آٹھ منزلہ دھرم شالائیں تک بنا دی گئیں ۔یہی حال ہوٹل اور پارکنگ کا بھی تھا ، گوند گھاٹ میں بیشتر ہوٹل اور پارکنگ ندی کے گھاٹ کو پاٹ کر بنائے گئے تھے ۔ پانڈو کیشور ، گووند گھاٹ اس گاؤں کا آدھا حصہ ، گووند گھاٹ کا گردوارا، ہوٹل اب یہ تمام الک نندا ندی میں سما گئے ۔ (تہلکہ ۱۵؍جولائی ۲۰۱۳ء)
بڑے بڑے ڈیم بنائے جا رہے تھے، پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکا جا رہا تھا ، جگہ جگہ بجلی پیدا کرنے کے نام پر بندھ تعمیر کئے جا رہے تھے اور سرنگیں کھودی جا رہی تھیں، اور ان تمام کیلئے پہاڑوں کو ہی کھودا جا رہا تھا، اور سارا ملبہ انہیں دریاؤں کے منھ پر ڈال دیا جاتا تھا، ان ڈیموں ، سرنگوں کی کھدائی اور تعمیرات نے تباہی کو مزید بڑھایا ۔
پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر سڑکیں بنانے کیلئے بڑے بڑے دھماکےمسلسل کئے گئے ، ریاست کی تشکیل کے محض دس سال کے اندر ۱۷؍ہزار کلومیٹر تک سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں، جس کیلئے اندھا دھند دھماکہ خیز مادے استعمال کئے گئے ، جوشی مٹھ میں پہاڑ کاٹنے کیلئے ۲۰۰۶ سے ۲۰۱۱ء تک 20632 کلوگرام دھماکہ خیزا مادہ استعمال ہوا ۔ 171235ڈیٹونیٹر کا استعمال کیا گیا ۔ ہلدوانی، رام نگر، رانی کھیپ، ٹنک پور، علاقوں میں پچھلے پانچ سالوں میں ۳؍ہزار کلوگرام سے زیادہ دھامکہ خیز مادہ استعمال کیا گیا ۔
زمین پر انسانوں کو ایک خاص مدت تک مہلت ملی، اس مہلت کا صرف یہی مطلب ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کر یں ، اللہ سے ڈرتے رہیں ، کسی بھی بستی کی فلاح و کامرانی کیلئے لازم ہے کہ اہل قریہ اللہ پر ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کریں ۔
ایک اللہ پر ایمان لائیں اور تابع امر رب بن جائیں ، یاد رکھیں کہ سر پر عذاب منڈلاتا دیکھ کر ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دیگا ، اللہ پاک خود فرماتے ہیں،وَلَویَرَی الَّذیْنَ ظَلَمُوْ اِذْ یَرَوْنَ العَذَابَ اَنَّ الْقُوّ ۃَ لِلّٰہِ جَمِیعاًوَ وَ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیدُ العَذاب (سورۃ بقرۃ ۱۶۵) ’’ کاش جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سوجھنے والا ہے وہ آج ہی ان ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہے اور یہ کہ اللہ عذاب دینے میں بہت ہی سخت ہے ۔‘‘
اچانک اللہ کا عذاب آیا ، سب کچھ بہہ گیا، مکانات، محلات تاش کے پتوں کی طرح بکھرگئے، آرام دہ گاڑیاں ماچس کی ڈبیوں کی طرح بہتی چلی گئیں، انسان کی حیثیت ایک تنکے سے بھی کم تھی ۔ بیشک اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے ، جو مر گئے ان کی مہلت عمل ختم ہو گئی لیکن باقی بچ رہنے والوں کیلئے عبرت ہے کہ آخر آنکھ کب کھلے گی، کب تک گمرہی میں رہیں گے، کیا اب بھی وقت نہیں آیا ؟ زمین پر رہنے بسنے والے انسانوں کی کامیابی اور خوشحالی کی ضمانت صرف اسی میں ہے کہ وہ صرف ایک اللہ پر ایمان لائیں اور اسی کی اطاعت کریں ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *