الٰہی! بھیج دے محمود کوئی..

۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء سے کافی پہلے کی بات ہے۔ ابھی بابری مسجد کو شہید نہیں کیا گیا تھا۔مگر دشمن کے عزائم اس قدر عریاں تھے کہ کوئی اندھا بھی نوشتۂ دیوار پڑھ سکتا تھا۔ یہ دور ہمارے طالب علمی کا تھا۔ گرم خون، پرشور خیالات، مضبوط عزائم اور اللہ کی راہ میں کچھ کر گزرنے کا عزم ایسا موجزن تھا کہ آج اس کیفیت پر رشک آتا ہے۔ اس زمانے میں ہمارے ایک تجوید کے استاذ تھے جن کے ساتھ ہم نے پرسنل لاء والے معاملہ میں گاؤں گاؤں کا دورہ کیا تھا۔ پورے ملک میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ایک زبردست عوامی تحریک چل پڑی تھی۔اس کے دباؤ میں آکر بالآخر راجیو گاندھی کی سرکار نے قانون سازی کے ذریعہ سپریم کورٹ کےفیصلہ کوبدل دیا۔ مگر مسلمانوں کو ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے بہت کچھ لے لیا گیا۔ پرسنل لاء بورڈ کی تحریک میں ملت نے جن بزرگ عالم دین کو قیادت کی امانت سونپی تھی انہوں نے عوامی تائید کو اپنی کمائی سمجھتے ہوئے ایک مداہنت بھرا سمجھوتہ کیا جس کا خمیازہ ملت نے بعد میں بڑے پیمانے پر بھگتا۔ نہ صرف بابری مسجد شہید ہوئی بلکہ ہزارہا ہزار جانیں تلف ہوئیں، عصمتیں لٹیں، گھر برباد ہوئے اور مسلمانوں کی پورے طور سے ہوا اکھڑ گئی۔ راجیو گاندھی نے پرسنل لاء بورڈ کے مطالبہ کو اسی شرط پر مانا کہ بابری مسجد کے معاملہ میں وہ قیادت کچھ نہیں بولے گی۔ چنانچہ اس کے معاً بعد بابری مسجد کو پوجا کے لیے کھول دیا گیا۔ شیلانیاس ہوا۔ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا، پورے ہندوستان کو سرخ رنگ لہو سے رنگ دیا گیا۔ مگر ملت سے اس سمجھوتہ کو خفیہ رکھنےوالی وہ قیادت کانگریس سے کیے ہوئے وعدے میں اتنی پختہ نکلی کہ مرتے مرگئی مگر بابری مسجد کے تعلق سے ایک لفظ نہیں کہا۔ اور اب ان کی ذریت بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔ اصل میں ملت کا المیہ یہی ہے کہ اس کی قیادت ہیروں کے بدلے سنگریزے خریدتی ہے اور ہیروں کی قلت اور سنگریزوں کی کثرت دکھا کر عوام الناس کو یہ تاثر دیتی ہے کہ دیکھو ہم نے کتنا کم دے کر کتنا زیادہ خرید لیا۔
یہ اسی زمانے کی بات ہے۔ مسلمان پرسنل لاء کی بحالی پر ابھی پوری طرح خوش بھی نہ ہونے پائے تھے کہ سیکولر ڈیموکریسی کا اکثریتی ناگ اپنے پھن پھیلا کر کھڑا ہوگیا۔ سرکاری میڈیا(جو اس وقت واحد الیکٹرانک میڈیا تھا) نے پورے ملک کو بھگوارنگ میں رنگ دیا۔ اور مسلمانوں پر ایک خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہوگئی۔ ایک طرف سنگھ پریوار نے علی الاعلان کہنا شروع کیا کہ رام جنم بھومی پر ہم کسی تاریخی ثبوت کے قائل نہیں۔ یہ آستھا کا معاملہ ہے۔ ہم عدالت کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے۔ تو دوسری جانب کچھ دغے ہوئے کارتوسوں کے ذریعہ مسلمانوں کے منھ میں یہ بیان ڈالا گیا کہ ہم ہر حال میں عدالت کا فیصلہ مانیں گے(ان کی بھی ذریت پوری تندہی سے اپنا فرض نبھا رہی ہے اور بلا شرط کورٹ کے فیصلہ کو ماننے کا اعلان کررہی ہے)۔ ایسے میں کچھ لوگ جو حساس دل اور دیدۂ بینہ رکھتے تھے،انہوں نے معاملہ کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا ،اکثریت کی دھاندلی اور مسلمانوں کی بے بسی کا احساس انہیں ہو چلا تھا۔ دلوں میں اتھل پتھل مچی ہوئی تھی اور آئندہ کی ہولناک تصویر انہیں لمحہ لمحہ ڈس رہی تھی۔ انہیں حالات میں ہمارے تجوید کے ان استاد نے ایک ایسا قطعہ کہا جو نہ صرف ان کے اور مسلمانوں کے جذبات کا آئینہ دار تھا بلکہ وہ سچائی کا ایسا اظہار تھا جس کی بنا پر علامہ اقبالؒ نے شاعر کو دیدبان قوم کہا ہے۔ استاذ محترم ڈاکٹر تابش مہدی صاحب مدظلہ العالی کا وہ قطعہ کچھ یوں تھا:
ہمیں پھر آزمایا جا رہا ہے
خدا کے گھر کو ڈھایا جا رہا ہے
الٰہی! بھیج دے محمود کوئی
بتوں کو سر چڑھایا جا رہا ہے
گویا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بابری مسجد کی شہادت کی تحریک مسلمانوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے تھی۔ بعض مداہنت پسندوں نے اس وقت یہ بات اڑا رکھی تھی کہ بابری مسجد میں برسوں سے نماز نہیں ہورہی تھی اس لیے عذاب الٰہی کے طور پر اس سے ہم کو چھینا گیا۔ مگر ڈاکٹر صاحب چونکہ تحریک اسلامی کے رکن رکین تھے اور انہیں تاریخ سے بھی و اقفیت تھی اسی بنا پر انہوں نے جڑ سے ہی اس خیال کو رد کر دیا۔ او رکہا کہ یہ ملت کی آزمائش ہے۔ اور ملت کا مرکز ومحور چونکہ اللہ کا گھر ہوتا ہے اور مومن کا دل مسجد ہی میں اٹکا رہتا ہے اس لیے مسلمانوں کی آزمائش کے لیے خدا کا گھر چنا گیا ہے۔ اب تک تو یہ ہوتا رہتا تھا کہ مسجدوں کے آگے شور مچا کر، اس میں کوڑا کرکٹ یا ناپاک جانور کا گوشت پھینک کر’’چند شر پسندوں‘‘ کے ذریعہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ لیکن اب چونکہ ملت نے اس پر صبر کرنا سیکھ لیا یا ان کی غیر ت کو کسی قدر ٹھنڈا کر دیا گیا تو اب ملت کو بڑا ڈوز دے کر آزمایا جائے۔ یعنی اب سرے سے مسجد کے وجود کوہی ختم کر دیاجائے اور دیکھا جائے کہ ملت اپنے دل کے اس درد پر کتنا تڑپتی ہے۔ اسی حساب سے آئندہ کی رن نیتی(لائحہ عمل) مرتب کی جائے۔ چنانچہ اس کے لیے ایک لمبی مدت تک مرحلہ وار منصوبہ بندی کی گئی اور بعد کے حالات نے بتا دیا کہ کس طرح مسلمانوں کو خود انہیںکی نام نہاد دینی وسیکولر قیادت کے ذریعہ ہی مختلف مواقع پر سلایا جاتا رہا یہاں تک کہ بابری مسجد شہید کر دی گئی اور پھر اس کے ملبہ پر ایک مندر بھی تعمیر ہو گیا اور پھر یوپی کی ہائی کورٹ نے اس کی بندر بانٹ بھی کر دی۔
پیر کا کانٹا بعض مضبوط اعصاب لوگ ایڑی رگڑ کر ہی مسل دیتے ہیں۔لیکن دل کا کانٹا تو مضبوط سے مضبوط تر آدمی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اور فوری طبی امداد نہ ملے تو موت سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف معاملہ کی سنگینی کو سمجھا تھا بلکہ اس کے ممکنہ حل کی طرف بھی متوجہ فرما دیا تھا۔
دیکھنے والا بآسانی دیکھ سکتا تھا کہ بابری مسجد کا مسئلہ انگریزوں کے ذریعہ برپا کردہ نفرت کا وہ بیج تھا جو انگریزوں نے جھوٹ کی بنیاد پر بویا تھا۔ آزادی کے فوراً بعد پنڈت نہرو کی قیادت میں جب کانگریسی پرچم ہر طرف لہرا رہا تھا اس وقت انتظامیہ اور عدالت کی ساز باز سے اسے متنازعہ قرار دے کر اس پر تالا ڈال دیا گیا۔ اس کا تالا بھی کانگریسی حکومت اور قیادت نے ہی کھولا۔تالا کھولنے سے پہلے پورے ملک میں اس کے لیے فضاتیار کرنے کا کام بھی کانگریسی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بنگلے سے ہوا۔ ساری قانونی اور اخلاقی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد ایک ’’دھکا اور دو‘‘ کا کام اپنی بی ٹیم یعنی آر ایس ایس کو دے دیا گیا۔ انعام میں چند روزہ اقتدار بھی مل گیا۔ مگر دوبارہ اے ٹیم آگے آئی اور بابری مسجد کے ملبہ پر انصاف کی بلی دینے کا کام بھی اے ٹیم کے کپتان دگوجے سنگھ کے ذریعہ انجام پایا۔ اس دوران مسلمان قیادت کے ذریعہ کبھی اجودھیا مارچ، کبھی ۲۶؍جنوری کے بائیکاٹ کے شوشے چھوڑ کر باربار ملت کو دھوکا دیا گیا۔ اور ۲۰؍کروڑ کی ملت کی آنکھوں کے سامنے مظلومانہ طور پر مسجد شہید کرکے وہاں مندر تعمیر کر دیا گیا۔
ڈاکٹر صاحب کی جہاں دیدہ نگاہوں سے یہ حالات پوشیدہ نہیں تھے۔ شروع سے آخر تک انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ یہاں تک کہ غیر جانبدار عوام بھی اس معاملے میں جانبدار بن گئے تھے اور اقلیت پر اکثریت کا جبر واضح ہو چکا تھا۔ دوسری طرف ملت اسلامیہ بالکل اپاہج بن کر رہ گئی تھی۔ پہلے سیکولرزم کی آڑ لینے کی کوشش کی؛ پھر عدلیہ پر بھروسہ جتایا؛ پھر برادران وطن سے لو لگائی۔ اپنی قوت بازو پر کیا بھروسہ کرتی کہ اس کے تو بازو ہی نہیں تھے۔ آزادی کا سورج طلوع ہی اس حا ل میں ہوا تھا کہ اس کے بازو کٹے ہوئے تھے۔ ایک ایک کرکے سہاروں کے سارے بت گرتے چلے گئے۔ اور مسلمان اپنے بل بوتے پر مسجد کی حفاظت کرتاہوا نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں ڈاکٹر صاحب نے بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا؎
الٰہی! بھیج دے محمود کوئی
بتوں کو سر چڑھایا جا رہا ہے
یعنی ملت اسلامیہ ہنداپنے بل بوتے پر تیرے گھر کی حفاظت نہیں کرسکتی۔ اب تو کسی بیرونی مداخلت کے بغیر چارہ نہیں۔ بھیج دے کا لفظ اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ملت اسلامیہ ہند ایک بین الاقوامی ملت کا حصہ ہے۔ وہ اُن کے سکھ دکھ میں شریک ہے اور وہ اِس کے دکھ سکھ میں شریک ۔اوراب تو دنیا ایک گاؤں Global Villageہے ،اس دنیا میں یہ کوئی معیوب بات نہیں رہی۔ امریکہ عراق پر ۲۹ ساتھیوں کے ساتھ حملہ آور ہو رہا ہے تو ہندوستان اپنے ہی ملک کے مسلمان باشندوں کے خلاف دنیا کے ہر ملک سے دہشت گردی سے مقابلہ کے نام پر مدد لے رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کےسب سے بڑے دشمن اسرائیل سے بھارت نے سب سے زیادہ پینگیں بڑھا رکھی ہیں۔ خود بابری مسجد کی شہادت کے معاملہ میں اسرائیلی ایجنسیوں سے رابطے کے شواہد ملتے ہیں۔ اسی طرح جب چھوٹی عدالت کے خلاف بڑی عدالت اور اس کے خلاف سب سے بڑی عدالت اور اس کے خلاف بین الاقوامی عدالت موجود ہے تو مسلمان تو مسلمان کا دینی بھائی ہے۔ اسے پورا حق ہے کہ بالکل جائز، قانونی اور شرعی معاملات میں اپنے بھائیوں کی مدد حاصل کرے۔
ہندوستان کی حکومت آج ہر مسلمان ملک کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسلمان وزراء کو آگے کر رہی ہے۔ تو کیا ہندوستان کے مسلمان ان مسلمان ملکوں تک ہندوستانی جمہوریت کے حقیقی چہرے کو پہونچا کر ہندوستان کو صحیح راستہ احتیار کرنے کی تلقین نہیں کر سکتے۔ ایران، افغانستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، سوڈان، مالدیپ، پاکستان، بنگلہ دیش، قزاقستان اور نہ جانے کون کون سے مسلم ممالک ہیں جن کےوسائل پر ہندوستان کی معیشت کا انحصار ہے۔ لیکن اپنے اسٹراٹیجک معاملات میں وہ مسلم دشمن عناصر پر منحصر ہے اور اندرونِ ملک مسلمانوں پر قہر ڈھا رہا ہے جس کے نتیجہ میں آسام، گجرات، بہار، یوپی وغیرہ جیسے بڑے صوبوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی مسلمان مہاجرت کی زندگی گزار رہا ہے یا اچھوت سے بدتر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔
ان حالات نے ڈاکٹر صاحب کے زیرک و حساس ذہن سے یہی دعا ظاہر کی ہے ’’الٰہی‘‘ اب اندر سے کام نہیں چلے گا جب تک خارجی مدد نہیں آئے گی۔ لیکن کسی تمثیل یا تلمیح کا مطلب پوری طرح اس کے امتثال سے لینا صحیح نہیںہے۔ اس زمانے میں چونکہ بین الاقوامی عدالتیں، کمیٹی وغیرہ کا کوئی تصور نہیں تھا اس لیے جب برہمنی ظلم میں پسنے والی ہندو رعایا نے محمود غزنویؒ کو سومناتھ بلایا تو وہ اپنی فوج لے کر مظلومین کی مدد کو پہنچا۔
اس وقت سومناتھ بدترین انسانی ظلم اور حیوانیت کا مرکز بنا ہوا تھا۔ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اور تاریخی شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ کس طرح سومناتھ مذہبی عقائد کی آڑ میں لوگوں کی جان، مال، عزت وآبرو کو جہنم بنانے کا مرکز بن گیا تھا۔ محمود غزنوی نے سترہ بار پے در پے حملے کرکے اس نظام جبر کو تہس نہس کر دیا۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ آزاد ہندوستان کی مقننہ نے باقاعدہ قانون پاس کرکے اس مرکز ظلم و جبر کے احیا کا سرکاری فیصلہ کیا۔ محض یہی بات اس کی فسطائی ذہنیت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
جملہ معترضہ طویل ہو گیا۔ بات یہ کہنی ہے کہ آج چونکہ قانون وانصاف کا غلغلہ بلند کیا جا رہا ہے اوربین الاقوامی طور پر ایسی بہت سی ایجنسیاں اور عدالتیں ہیں جو ملکوں کے تصفیے کراتی ہیں یا اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں ان سے مدد لینے میں ملکی قانون بھی آڑے نہیں آ سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نکالنا صحیح نہیں ہے کہ ظالم و جابر ان ہتھکنڈوں سے قابو میں آئے گا۔ لیکن جب تک امت مسلمہ بزور اپنے حق کو لینے کے قابل نہیں ہو جاتی اسے اس محاذ پر بھی سرگرم رہنا ہوگا۔ ساتھ ہی ملک میں موجود حصولِ حق کے جائز اور معروف طریقوں کو بھی اپناتے رہنا ہوگا۔ محمود غزنویؒ کی تلمیح استعمال کرنے سے دیندار طبقہ بھی اب بھڑک اٹھتا ہے۔ حالانکہ محمود غزنویؒ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے اور صرف مردوں ہی کے نہیں بلکہ خواتین کے بھی بہت بڑے محسن ہیں۔ چونکہ موجودہ نظام حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کا مزاج ہی سومناتی ہے اس لیے اپنے آقاؤں کی جبین پر شکن پڑنے کے خوف سے وہ محمود غزنویؒ کا نام لینے سے بھی گھبراتے ہیں۔
اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے اس تلمیح کو یوں کہہ کر پورا کر دیا کہ؎
بتوں کو سر چڑھا یا جا رہا ہے
ہم تو گرچہ ادیب نہیں ہیں۔ مگر اس مصرعہ میں ایجاز و اعجاز کا ایسا حسین سنگم ہے کہ سمجھنے والا دیر تک محظوظ ہوتا رہتا ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ بتوں کوصرف پوجے جانے پر اعتراض نہیںہے۔ بلکہ ان کو سر چڑھانے پر محمود کو بلا رہے ہیں۔ سر چڑھانا اردو میں بہت معنی خیز محاورہ ہے۔ اور اس کامنفی پہلو بہت نمایاں ہیں۔ بادشاہ جب کسی درباری یا کسی رانی یاشہزادے کو دوسروں پر غیر ضروری ترجیح دیتا تھا تو اسے سرچڑھانا کہا جاتا تھا۔ بت تو ویسے بھی تراشے ہوئے صنم ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کو سر چڑھانا۔۔۔ کیا خوب استعارہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم، قانون کی حکمرانی، مذہب کی بے دخلی وغیرہ کے نعروں کے باوجود ہندوستانی سماج مختلف حیلے بہانوں سے جس تہدیب کو جنم دے رہا ہے اور شرک کے مکڑ جال میں دوبارہ سےہندوستانی عوام کو جکڑ رہا ہے، اس بات کو بتوں کو سر چڑھانے سے زیادہ اچھے استعارہ سےتعبیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جارحانہ قوم پرستی اور تہذیبی شرک کے اس جال کو مسجد کے میناروں سے اٹھنے والی اللہ اکبر کی صدا تار عنکبوت کی طرح چیرتی چلی جات ہے۔ اسی لیے یہ پورا نظام صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ تمام مسجدوں کا دشمن ہے اور اسی لیے یہ پور ی امت صرف بابری مسجد ہی نہیں ،ہندوستان کی ہر مسجد کو ہر قیمت پر بچانے اور جو بچ نہیں سکی اس کو دوبارہ قائم کرنے پر کمر بستہ ہے۔ بعض لوگ چیز کے چھن جانے کے بعد اس کی یاد کو احمقانہ بتاتے ہیں مگر یہی چنگاری کب شعلہ بن جاتی ہے اس کی ایک مثال دے کر اپنی گفتگو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
ابھی پچھلے ہی سال دہلی ہائی کورٹ کے حکم سے DDAنے رات کے اندھیرے میں جنگ پورہ نزد نظام الدین واقع ایک مسجد کو ڈھا دیا۔ وقف کی بہت بڑی اراضی کی پہلےہی بندربانٹ ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے ایک چھوٹے سے حصے پر مزدوروں کے ذریعہ قائم کردہ make shiftمسجد بھی ہائی کورٹ کے دل میں چبھ رہی تھی۔ جیسے ہی اس کی شہادت کی خبر پھیلی دلی کے مسلمان ٹوٹ پڑے۔ آناً فاناً متھرا روڈ جام ہو گیا۔ پورے ایک ہفتہ تک رسہ کشی جاری رہی۔ جم کر لاٹھیاں بھی برسیں مگر مسلمان پرُامن طریقہ سے اپنے موقف پر قائم رہے۔د ہلی حکومت کی نیند غائب ہو گئی۔ بالآخر ہائی کورٹ نے خود ہی وہاں نماز قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ پہلی جماعت شاہی امام احمد بخاری کی اقتدا میں ہوئی اور دوسری جماعت اسی جگہ پر وحدتِ اسلامی کے معتمد عمومی ضیا الدین صدیقی صاحب کی امامت میں ہوئی۔ معمولی تجزیہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ۶؍دسمبرو۳۰ /ستمبرکو جو زخم مسلمانوں کو دیے گئے تھے اس نے برادران وطن، انتظامیہ اور عدلیہ سے بھروسہ اٹھا دیا تھا۔ اور کورٹ کے حکم سے انہدام ہونے کے باوجود مسلمان اللہ تعالی کی ذات اور اپنے دست و بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے نہتے گلیوں میں نکل پڑے اور اللہ تعالی نے انہیں فتح مبین سے ہم کنار کیا۔
معمولی سا تاجربھی اپنے نقصان کو یاد رکھتا ہے اور موقعہ ملتے ہی اس کی بھرپائی کر لیتا ہے۔ ایک مسجد دجل و فریب سے چھین لی گئی تو کیا اس کے چھینے جانے کا احساس بھی دشمن چھین لے گا۔ اس احساس کو دل کاداغ بنا لو تا کہ نہ صرف یہ کہ آئندہ کوئی مسجد نہ چھینے بلکہ اللہ تعالی حالات کو ایسی کروٹ دے دے کہ بابری مسجد دوبارہ اللہ اکبر کی کفر شکن صداؤں سے گونج اٹھے۔
سجود سے تجھے اپنے سجائیں گے ایک دن (ان شاء اللہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *